Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۴(کتاب الطہارۃ)
69 - 2323
مسئلہ ۱۵۸ و ۱۵۹:    ازنجیب آباد مرسلہ حافظ محمد ایاز صاحب    ۲۶ جمادی الاخری ۱۳۲۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین مفتیانِ شرح متین مسائل ذیل میں موجب حکم قرآن مجید وحدیث شریف ارشاد فرمائیے اللہ تعالٰی اجرِ عظیم عطا فرمائے ایک شخص کو عرصہ سے مرض بواسیر تھا اب صرف اس قدر باقی ہے کہ مسّوں میں ہر وقت چپک سا رہتا ہے اور طرادت رہتی ہے جس کے باعث سے طہارت کُلّی حاصل نہیں ہے لہذا بوجہ اس کے وہ شخص ہو وقت پاجامے کے اندر لنگوٹ رکھتا ہے اور عملدر آماد اس کا اس صورت سے رہتا ہے کہ اول وقت صبح طہارت پانی سے کرکے لنگوٹ پاک باندھا اس کے بعد وضو کیا اور نماز پڑھی یعنی اتنی دیر بھی اگر لنگوٹ نہ باندھا جائے تو پاجامہ ناپاک ہوجائے بعد ازاں ظہر کے وقت پاخانہ گیا اور لنگوٹ کھول دیا بعد انفراغ طہارت وغیرہ کے لنگوٹ دوسرا پاک باندھ لیا اور وضو کرکے نماز پڑھ لی ازاں بعد عصر کے وقت بھی اسی طرح لنگوٹ بدلا گیا۔ اب مغرب وعشا کے وقت پاخانہ وغیرہ کی ضرورت ہوئی نہ لنگوٹ کھولنے کی ضرورت پڑی اُسی لنگوٹ سے جو عصر کے وقت باندھا تھا نمازِ مغرب وعشا خواہ وضو خواہ تیمم سے اداکرے۔

تو اب ان صورتہائے مذکورہ بالا میں پانچوں نمازیں اس شخص کی پورے طور پر ادا ہوگئیں یا نہیں اور حالاتِ مذکورہ پر نماز پڑھنا اور نماز کافی ہونا درست ہے یا نہیں؟

ایسا شخص جس کا بیان اُوپر گزرا جبکہ اُس کی نماز کامل متصور ہو تو ایسی حالت میں جب کوئی شخص امامت کے لائق نہ ہو یعنی مسجد میں سب لوگ جاہل ہوں تو یہ شخص مذکور امامت کرسکتا ہے یا نہیں؟ـ اور رمضان المبارک میں نمازِ تراویح پڑھا سکتا ہے یا نہیں اس وجہ سے کہ حافظ ہے۔ عنداللہ ارشاد کافی کہ جس سے اس عاجز معذور ومجبور کی تسلّی ہوجائے ارقام فرمادیجئے۔
الجواب: اگر(۱) وہ چپک صرف نم ہوتی ہے جس میں قوّتِ سیلان نہیں کپڑا لگ کر اُسے چھڑا لاتا ہے اگرچہ بار بار مختلف جگہ مس ہونے سے قدر درہم سے زائد آلود ہوجاتا ہو تو اُس سے نہ وضو جائے گا نہ کپڑا ناپاک ہوگا۔

اور(۲) اگر وہ رطوبت سیلان کرتی ہے اور لنگوٹ کے سبب غایت یہ کہ پاجامہ اُس کے تلوّث سے محفوظ اور اُس کا سیلان لنگوٹ تک محدود رہے تو اس صورت میں ضرور جتنی بار بہہ کر خروج کرے گی فی نفسہ حدث وناقض وضو ہے اور لنگوٹ اگر قدر درم سے زائد بھر جائے تو بذاتہٖ ناپاک ہے اور پاجامہ کا پاک ہونا اس کی پاکی کو کافی نہیں۔ 

ہاں(۳) اگر لنگوٹ باندھنا اس کے سیلان ہی کو منع کردیتا ہے تو ضرور اُس پر فرض ہے کہ لنگوٹ باندھے اور جب تک سیلان سے مانع ہوگا نہ وضو جائے گا نہ کپڑا ناپاک ہوگا۔

پہلی اور تیسری صورت میں اسے امامت کی بھی اجازت ہے اور دُوسری صورت میں اگر معذوری کی حد کو نہ پہنچا تو بے طہارت کاملہ خود اس کی اپنی نماز بھی نہ ہوگی اُس پر فرض ہوگا کہ جب سیلان ہو وضو کرے اور جب کپڑا ناپاک ہو بدلے یا دھوئے۔

ہاں اگر کبھی اسے یہ تجربہ ہولیا کہ ایک وقت کامل شروع سے آخر تک گزر گیا کہ اُسے وضو کرکے فرض پڑھنے کی مہلت نہ ملی تو اب دو۲ صورتیں ہیں اگر اس حالت کے بعد نماز کے پانچوں وقتوں میں یہ عارضہ برابر ہوتا رہا اگرچہ ہر وقت میں ایک ایک بار، تو معذور ہے، اس کی اپنی نماز ہوجائے گی مگر امامت نہیں کرسکتا مگر ایسے شخص کی جو اسی عذر میں مبتلا ہو اور اگر ایسا نہیں بلکہ اس کے بعد کوئی وقت کامل ایسا گزرا کہ وہ عارضہ بالکل نہ ہوا تو حکم معذور جاتا رہا پھر اگر شروع ہو تو دوبارہ معذور ہونے کے لئے وہی درکار ہوگا کہ ایک وقت کامل شروع سے آخر تک گزر جائے جس میں اُسے طہارت کرکے فرض کی مہلت نہ ملے ولہذا وہ اوقات جن میں وہ لنگوٹ نہیں بدلتا اگر پُوری طہارت کے ساتھ گزر جاتے ہیں تو اُن میں تو اُس کی اپنی نماز بھی صحیح ہے اور امامت بھی صحیح فرائض ہوں خواہ تراویح مگر صبح کو جو پھر عارضہ کا آغاز ہوگا ابھی معذور نہ ٹھہرے گا ہر بار عارضہ آنے پر وضو کرنا اور کپڑا ناپاک ہونے پر دھونا یا بدلنا پڑے گا جب تک وہی تجربہ ایک وقت کامل میں نہ ہوجائے کل کا تجربہ آج کیلئے کافی نہ ہوگا۔
ردالمحتار میں ہے : قال فی الفتح معناہ اذاکان بحیث لولاالربط سال لان القمیص لوتردد علی الجرح فابتل لاینجس مالم یکن کذلک لانہ لیس بحدث اھ ای وان فحش کمافی المنیۃ ۱؎۔
فتح القدیر میں فرمایا اس کا مطلب یہ ہے کہ جب اس صورت میں ہوکہ باندھنے کے بغیر جاری ہوجاتا ہو کیونکہ اگر قمیص زخم سے ٹکرا کر تر ہوجائے تو اس وقت ناپاک نہ ہوگی جب تک وہ (زخم) اس صورت میں نہ ہو (یعنی جاری ہونے کی صورت میں ناپاک ہوگی) کیونکہ وہ (نہ جاری ہونے والا) حدث نہیں اگرچہ زیادہ ہو جیسا کہ منیہ میں ہے۔ (ت)
 (۱؎ ردالمحتار ، مطلب نواقض الوضوء ، مطبوعہ مصطفی البابی مصر ،۱/۱۰۳)
اُسی میں ہے:فی البزازیۃ اذاقدر ذوجرح علی منع دم بربط لزم وکان کالاصحاء ۲؎۔ واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
  بزازیہ میں ہے اگر زخمی (زخم کو) باندھنے کے ذریعے خُون روکنے پر قادر ہو تو اس پر (باندھنا) لازم ہے اور وہ شخص غیر  معذور  لوگوں کی طرح ہوجائے گا واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
 (۲؎ تقریرات الرافعی علی حاشیۃ ابن عابدین ، قبیل باب الانجاس ، مطبوعہ مصطفی البابی مصر ، ۱/۲۲۵)
Flag Counter