Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۴(کتاب الطہارۃ)
68 - 2323
مسئلہ ۱۵۲: ازجنوبی افریقہ مقام بھوٹا بھوٹی برٹش باسوٹولینڈ مسئولہ حاجی اسمٰعیل میاں بن حاجی امیر میاں کاٹھیاواڑی۔

زید اگر ایامِ حیض میں عورت کی ران یا شکم پر آلہ کو مس کرکے انزال کرے تو جائز ہے یا نہیں اور زید کو شہوت کا زور ہے اور ڈر یہ کہ کہیں زنا میں نہ پھنس جاؤں۔
الجواب: پیٹ پر جائز ہے ران پر ناجائز کہ حالتِ حیض ونفاس میں ناف کے نیچے سے زانو تک اپنی عورت کے بدن سے تمتعّ نہیں کرسکتا کمافی المتون وغیرھا (جیسا کہ (کتبِ) متون وغیرہ میں ہے۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم۔
سوال(۱۵۳) دوم: نکاح پڑھتے وقت عورت کو پانچ کلمے پڑھاتے ہیں اب وہ عورت حیض کی حالت میں ہے تو وہ پانچ کلمے اپنی زبان سے پڑھے تو جائز ہے یا نہیں؟
الجواب: حالتِ حیض میں صرف قرآن عظیم کی تلاوت ممنوع ہے کلمے پانچوں پڑھ سکتی ہے کہ اگرچہ اُن میں بعض کلماتِ قرآن ہیں مگر ذکر وثنا ہیں اور کلمہ پڑھنے میں نیتِ ذکر ہی ہے نہ نیتِ تلاوت، تو جواز یقینی ہے۔ کماصرحوا بہ قاطبۃ (جیسا کہ تمام فقہاء نے اس کی تصریح کی ہے۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم۔
سوال(۱۵۴) سوم : عمرو پر غسل جنابت یا احتلام کا ہے اور زید سامنے ملا اور سلام کہا تو اُس کو جواب دے یا نہیں؟ اور اگر اپنے دل میں کوئی کلامِ الٰہی یا درود شریف پڑھے تو جائز ہے یا نہیں؟
الجواب:  دل میں بایں معنی کہ نِرے تصوّر میں بے حرکت زبان تو یوں قرآن مجید بھی پڑھ سکتا ہے اور زبان سے قرآن مجید بحالتِ جنابت جائز نہیں اگرچہ آہستہ ہو، اور درود شریف پڑھ سکتا ہے مگر کلی کے بعد چاہے اور جوابِ سلام دے سکتا ہے اور بہتر یہ کہ بعد تمیم ہو کمافعلہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم (جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے کیا۔ ت)
تنویر میں ہے: لایکرہ النظر الیہ (ای القراٰن) لجنب وحائض ونفساء کادعیۃ ۱؎۔
جنبی، حائضہ اور نفاس والی عورت کے لئے دعاؤں کی طرح قرآن پاک کی طرف دیکھنا بھی مکروہ نہیں۔ (ت)
 (۱؎ دُرمختار،کتاب الطہارۃ، مطبوعہ مجتبائی دہلی    ۱/۳۳)
ردالمحتار میں ہے:نص فی الھدایۃ علی استحباب الوضوء لذکر اللّٰہ تعالٰی ۲؎۔
ہدایہ میں اللہ تعالٰی کے ذکر کیلئے وضو کے مستحب ہونے پر تصریح کی ہے۔ (ت)
 (۲؎ ردالمحتار ، کتاب الطہارۃ،   مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/۱۲۸)
اسی میں ہے:ترک المستحب لایوجب الکراھۃ ۳؎۔ واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
مستحب کو چھوڑنے سے کراہت ثابت نہیں ہوتی۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
 (۳؎ ردالمحتار     کتاب الطہارۃ  مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/۱۲۸)
مسئلہ ۱۵۵: از پچم گاؤں ضلع پترہ ملک بنگال مرسلہ سید عبدالاغفر    ۱۰۔ ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کسی اردو کتاب یا اخبار میں چند آیاتِ قرآن بھی شامل ہوں تو اُس کو بلاوضو چھُونا یا پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟
الجواب: کتاب یا اخبار جس جگہ آیت لکھی ہے خاص اُس جگہ کو بلاوضو ہاتھ لگانا جائز نہیں اُسی طرف ہاتھ لگایا جائے جس طرف آیت لکھی ہے خواہ اس کی پشت پر دونوں ناجائز ہیں باقی ورق کے چھُونے میں حرج نہیں پڑھنا بے وضو جائز ہے۔ نہانے کی حاجت ہو تو حرام ہے واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۶: از لکھنؤ محلہ محمودنگر مطبع مصطفائی مرسلہ مولوی ضیاء الدین صاحب    ۷۔جمادی الاولٰی ۱۳۱۳ھ

ما تقولون ایھا السادۃ العلماء فی من لایستطیع ان یصلی صلاۃ واحدۃ الابوضع القطن فی الاحلیل لمابہ من سلس البول وجریانہ فی کل وقت بحیث یبتل رأس احلیلہ وینجس ازارہ ھل ھو معذور عند الشرع ویجری علیہ احکام المعذورین من الوضوء فی کل وقت واداء الصلٰوۃ بذلک الثوب وعدم صلوحہ لامامۃ الناس وغیرھا من الاحکام ام لاوکیف یصلی فی الاسفار سیما اذاکان علی الوابور البری ای المرکب الدخانی الذی یجری فی کثیر من بلادنا فان فی وضع القطن ھناک فی الاحلیل تعذرا ای تعذر بینوا ھذا وفصلوا بمالامزید علیہ من الکتاب والسنۃ واقاویل السلف واستحقوا الثواب الجزیل من اللّٰہ سبحٰنہ وتعالٰی فی غدان شاء اللّٰہ تعالٰی۔
اے رہبری کرنے والے علماء کرام! آپ اس شخص کے بارے میں کیا کہتے ہیں جو آلہ تناسل کے سوراخ میں رُوئی رکھے بغیر ایک نماز بھی نہیں پڑھ سکتا کیونکہ وہ سلسل البول کا مریض ہے اور اس کا پیشاب ہر وقت اس طرح جاری رہتا ہے کہ عضو مخصوص کے سوراخ کا سر تر رہتا ہے اور اس کی ازار ناپاک رہتی ہے کیا وہ شرعی طور پر معذور ہے اور اس پر معذور کے احکام جاری ہوں گے کہ وہ ہر وقت کیلئے وضو کرے اور وہ اس ناپاک کپڑے کے ساتھ نماز پڑھ سکے نیز وہ لوگوں کی امامت کرانے اور اس طرح کے دیگر کی صلاحیت نہ رکھتا ہو، یا وہ معذور نہیں ہے۔ وہ سفر میں نماز کیسے پڑھے خصوصاً جب بھاپ سے چلنے والی گاڑی پر ہو جو ہمارے اکثر شہروں چلتی ہیں کیونکہ وہاں سوراخِ ذَکر میں رُوئی رکھنے میں کوئی نہ کوئی مشکل درپیش ہوتی ہے قرآن وسنّت اور اقوالِ سلف سے اس طرح تفصیل سے بیان فرمائیں کہ مزید گنجائش نہ رہے اور کل (بروز قیامت) اللہ سبحانہ، وتعالٰی کی طرف سے عظیم ثواب کے مستحق ہوں، اِن شاء اللہ تعالٰی۔ (ت)
الجواب: الحمدللّٰہ وحدہ اذاکان احتشاؤہ یردمابہ کماوصف فی السؤال فقدخرج عن حد العذر والتحق بالاصحاء یتوضأ لکل حدث ویغسل کل نجس ویؤم کل نفس ولایعذر فی ترک الاحتشاء بل ھو فریضۃ علیہ کفریضۃ الصلاۃ قال فی الدر یجب ردعزرہ اوتقلیلہ بقدر قدرتہ ولوبصلاتہ مؤمنا وبردہ لایبقی ذاعذر ۱؎ اھ ومثلہ فی البحر وغیرہ والمسألہ ظاھرۃ وفی الزبر دائرۃ اما تعسرہ فی العجلۃ الدخانیۃ فضلا عن تعذرہ فلا یظھرلہ وجہ فان من سافر فحمل معہ زادہ لایثقل علیہ القطن ان زادہ وان کان یزعم انہ یخرج بصدمات الحرکۃ فلیطولہ ولیسفلہ ولیربط العضو الی فوق ۔
تمام تعریفیں اللہ تعالٰی کے لئے ہیں جو یکتا ہے۔ اگر رُوئی رکھنے سے اس کے قطرے ٹپکنے بند ہوجاتے ہیں جیسا کہ سوال میں بیان کیا تو وہ عذر کی حد سے نکل گیا اور صحیح افراد کے ساتھ شامل ہوگا۔ ہر حدث (اصغر) کے بعد وضو کرے جہاں نجاست لگی ہو اسے دھوڈالے اور ہر ایک کی امامت کراسکتا ہے اس سے رُوئی نہ رکھنے کا عذر قبول نہ ہوگا بلکہ نماز کی طرح روئی رکھنا بھی اس پر فرض ہے۔ دُرمختار میں ہے:''حسبِ طاقت عذر کو دُور کرنا یا کم کرنا واجب ہے اگرچہ اشارے کے ساتھ نماز پڑھنے کے ذریعے وہ اور اس کو دُور کرنے کے بعد وہ معذور نہیں رہے گا اھ البحرالرائق وغیرہ میں بھی اسی طرح ہے مسئلہ ظاہر ہے اور (تمام) کتب میں موجود ہے بھاپ سے چلنے والی گاڑی میں مشکل پیش آنے نہ کہ متعذر ہونے کی بظاہر کوئی وجہ نہیں کیونکہ جو آدمی سفر کرتے ہوئے زادِ راہ لے جاتا ہے وہ اگر اس میں رُوئی کا اضافہ  کرلے تو کوئی بوجھ نہیں پڑتا۔ اور اگر اس کا خیال یہ ہے کہ گاڑی کی بار بار حرکت سے رُوئی نکل جائیگی تو وہ اسے لمبا کرکے نیچے کی طرف کرے اور اوپر کی طرف سے عضو کو باندھ دے۔
 (۱؎ درمختار    فروع من باب الحیض    مطبوعہ مجتبائی دہلی    ۱/۵۳)
وذکر العلامۃ الشامی فی ردالمحتار ان من کان بطئ الاستبراء فلیفتل نحوورقۃ مثل الشعیرۃ ویحتشی بھافی الاحلیل فانھا تتشرب مابقی من اثرالرطوبۃ التی یحاف خروجھا وینبغی ان یغیب فی المحل لئلا تذھب الرطوبۃ الی طرفھا الخارج وللخروج من خلاف الشافعی وقدجرب ذلک فوجد انفع من ربط المحل لکن الربط اولٰی اذاکان صائما لئلا ےیفسد صومہ علی قول الامام الشافعی رحمہ اللّٰہ تعالٰی اعلم اھ ۱؎۔
علّامہ شامی نے ردالمحتار میں ذکر کیا جس شخص کو تاخیر سے طہارت حاصل ہوتی ہو وہ جَو کے دانے برابر (روئی وغیرہ کا) پتّا وغیرہ بٹ کراسیعضو مخصوص کے سوراخ میں ڈالے وہ رطوبت کے باقیماندہ اثر کو جس کے نکلنے کا ڈر ہے جذب کرلے گا اور چاہے کہ اسے اندر غائب کردے تاکہ رطوبت اس کی باہر والی جانب نہ نکلے۔ امام شافعی رحمہ اللہ کے مسلک کے خلاف عمل کرنے سے بھی بچ جائے گا۔ اس کا متعدد بار تجربہ کیا گیا اور اسے باندھنے سے زیادہ نافع پایا لیکن جب روزہ دار ہو تو باندھنا زیادہ بہتر ہے تاکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے قول پر (بھی) اس کا روزہ نہ ٹوٹے اھ
 (۱؎ ردالمحتار    فصل الاستنجائ    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/۲۵۳)
اقول:  لکن مجرد الربط لایسد الخلۃ لصاحب السلس فھویجب علیہ الاحتشاء کماذکرنا ولامراعاۃ للخلاف فی اتیان الواجبات وعندی احسن من وضع المفتول ان یأخذو رقۃ لھاصلابۃ مع نعومۃ کورقۃ التمر الھندی فیطویہ طیا ویحتشی بہ بحیث یکون وسطہ داخلا ویبقی طرفاہ عندراس الاحلیل فانہ اجدی واحری لسد المجری فان خشی الخروج ربط المحل الٰی فوق کماوصفنا واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
اقول :(میں کہتا ہوں) سلسل البول والے کیلئے محض باندھنا سوراخ کو بند نہیں کرتا اس میں (رُوئی وغیرہ) داخل کرنا واجب ہے جیسا کہ ہم نے ذکر کیا اور واجب کی ادائیگی میں اختلاف (سے بچنے) کی رعایت نہیں کی جاتی اور میرے نزدیک بٹی ہوئی چیز رکھنا نہایت اچھّا ہے وہ یوں کہ ایک پتّا جو سخت ہونے کے ساتھ کچھ نرم بھی ہو، جیسے ہندی کھجور کا پتّا ہوتا ہے، لیا جائے اور خوب لپیٹ کر سوراخ میں اس طرح داخل کرے کہ اس کا درمیانی حصّہ داخل ہوجائے اور کنارے آلہ تناسل کے کنارے کے پاس رہ جائیں۔ جریان کو بند کرنے کیلئے یہ طریقہ نہایت نافع اور زیادہ مناسب ہے اگر نکلنے کا ڈر ہو تو اُوپر سے اس جگہ کو باندھ دے، جیسا کہ ہم نے طریقہ بیان کیا ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۱۵۷:مسئولہ مولوی مودود الحسن سہسوانی    ۲۲۔رمضان المبارک ۱۳۱۷ھ

زید کو اس قسم کا عارضہ ہے کہ دو۲ دو۲ تین۳ تین۳ منٹ کے بعد دُبر سے ایک قسم کے جانور جن کو چُنچنے کہتے ہیں نکلتے ہیں اور ان کا خروج بعد زوال تقریباً ایک بجے سے لے کر نصف شب تک عارض رہتا ہے اس درمیان میں ہر ہر نماز کے واسطے ایک ایک وضو کافی ہے یا نہیں، بینوا توجروا۔
الجواب: اگر اخیر شب میں بالکل انقطاع ہوجاتا ہے کہ ایک کِرم بھی طلوعِ شمس تک نہیں نکلتا جب تو یہ شخص روزانہ صحیح ہوجاتا ہے ہر روز اسے وہی تدبیر چاہیے جو اس قسم کے امراض میں پہلے دن کی جاتی ہے یعنی جبکہ شروع مرض بعد زوال ہوتا ہے ظہر میں آخر وقت تک انتظار کرے کہ شاید منقطع ہوجائے اگر منقطع ہوجائے فبہا ورنہ اخیر وقت وضو کرکے نماز پڑھ لے پھر اگر عصر میں مرض منقطع ہوجائے نماز باوضوئے صحیح پڑھ لینے کی مہلت ملے تو ظہر کی نماز کا بھی اعادہ کرے اور اگر عصر میں فرصت نہ پائے تو ظہر وعصر کی بھی صحیح ہوگئیں اور مغرب وعشا میں صرف وضوئے تازہ کافی ہے بشرطیکہ ایک ایک بار بھی خروج ہوتا رہے پھر جب صبح کا سارا وقت خروج سے خالی گزرے گا وہ حکم معذوری زائل ہوگا اور وقت ظہر یا جس وقت عارضہ عود کرے پھر وہی روزِ اول کا حساب کرنا پڑے گا اور اگر وقت صبح میں بھی انقطاع کُلی نہیں ہوتا خروج ہوتا رہتا ہے اگرچہ ایک ہی بار تو وہی پہلے دن کا امتحان اسے کافی ہے اگر ایک وقت کامل کبھی ایسا گزر چکا ہے کہ شروع وقت سے آخر تک وضو کرکے فرض پڑھ لینے کی مُہلت نہ ملی تو وہ معذور ہے جب تک ہر وقت میں کم سے کم ایک بار بھی عارضہ ہوتا رہے گا صرف پانچ وقت وضوئے تازہ کافی ہوگا۔
فی ردالمحتار لوعرض بعد دخول وقت فرض انتظر الٰی اٰخرہ فان لم ینقطع یتوضأ ویصلی ثم ان انقطع فی اثناء الوقت الثانی یعید تلک الصلوۃ وان استوعب الوقت الثانی لایعید لثبوت العذر حینئذ من وقت العروض اھ برکویۃ ونحوہ فی الزیلعی والظھیریۃ ۱؎ الخ وباقی المسائل معروفۃ متونا وشروحا واللّٰہ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
ردالمحتار میں ہے اگر فرض نماز کا وقت داخل ہونے کے بعد عذر پیش آیا تو آخر وقت تک انتظار کرے اگر منقطع نہ ہو تو وضو کرکے نماز پڑھ لے پھر اگر دوسرے وقت میں ختم ہوجائے تو اس (پہلی) نماز کو لوٹائے اور اگر دوسرے وقت کو گھیرے تو نہ لوٹائے کیونکہ اس وقت عذر ثابت ہوگیا جس کی ابتداء پیش آنے کے وقت سے ہوگی اھ برکویہ، زیلعی اور ظہیریہ میں بھی اسی طرح ہے الخ اور باقی مسائل متون اور شروح کے اعتبار سے معروف ہیں، واللہ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم (ت)
 (۱؎ ردالمحتار    باب الحیض    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/۲۲۳ )
Flag Counter