Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۴(کتاب الطہارۃ)
67 - 2323
اقول: قدعلمت کل ھذہ الروا یات وتخار یجھا الاروا یۃ الخمس وھو للدارمی ابن راھویہ وحسنہ خاتم الحفاظ عن عبدالحمید بن زید بن الخطاب قال کان لعمر بن الخطاب امرأۃ تکرہ الجماع فکان اذااراد ان  یاتیھا اعتلت علیہ بالحیض فوقع علیھا فاذاھی صادقۃ فاتی النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم فامرہ ان یتصدق بخمس دینار ۱؎ اھ۔
اقول: ن تمام روا یات کی تخریج معلوم ہوچکی البتہ دینار کے پانچویں حصے والی روایت امام دارمی اور ابن راہویہ نے نقل کی ہے اور خاتم الحفّاظ (علّامہ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ) نے اسے حسن قرار د یا ہے وہ حضرت عبدالحمید بن زید بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی ایک  لونڈی، جماع کو ناپسند کرتی تھی آپ جب بھی اس کے پاس جانے کا اردہ فرماتے وہ حیض کا بہانہ پیش کردیتی۔ ایک  مرتبہ آپ نے اس سے جماع کیا تو (واقعی) وہ سچی تھی، آپ بارگاہِ نبوی میں حاضر ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے دینار کا پانچواں حصّہ صدقہ کرنے کا حکم د یا اھ۔
 (۱؎ مرقات شرح مشکوٰۃ        الفصل الثانی من باب الحیض    مکتبہ امدادیہ ملتان    ۲/۱۰۱)
ووقع فی کنز العمال ومنتخبہ فامرہ ان یتصدق بخمسین دینارا ۲؎ ولااراہ الاتصحیفا واللّٰہ تعالٰی اعلم وذکر فیہ عاز یا للحارث فی مسندہ ورامز الابن ماجۃ ولم ارہ لم عن عمر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ انہ اتی جار یۃ لہ فقالت انی حائض فوقع بھا فوجدھا حائضا فوقع بھا فوجدھا حائضا فاتی النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم فذکر ذلک لہ فقال یغفراللّٰہ لک  یااباحفص تصدق بنصف دینار ۳؎
کنز العمال اور اس کے انتخاب میں ہے کہ آپ نے ان کو پچاس دینار صدقہ کرنے کا حکم د یا۔میرے خیال کے مطابق ان کو پڑھنے میں غلطی لگی ہے، واللہ تعالٰی اعلم۔ اس میں حارث کی طرف منسوب کرتے ہوئے کہ اُنہوں نے اپنی مسند میں لکھا اور ابن ماجہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ذکر کیا لیکن میں نے اس میں وہ روایت نہیں پائی وہ یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ اپنی ایک  لونڈی کے پاس تشریف لے گئے اس نے کہا میں حائضہ ہوں آپ نے اس سے جماع کیا تو اسے حائضہ پا یا پھر نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے فرما یا: اے ابو حفص! اللہ تعالٰی تمہاری مغفرت کرے نصف دینار صدقہ کرو۔
 (؎ کنز العمال    محظورۃ المباشرۃ حدیث ۴۵۸۸۸        مکتبۃ التراث الاسلامی بیروت    ۱۶/۵۶۵)

(۳؎کنز العمال    محظورۃ المباشرۃ حدیث نمبر ۴۵۸۸۹   مکتبۃ التراث الاسلامی بیروت        ۱۶/۵۶۶)
اقول:  ویبعد تعدد الواقعۃ فیرجع الی الترجیح فان کان ھذا اقوی سند اخرج الخمس من الاضطراب ثم اقول الاصوب ان اوللتنویع کمابینتہ الروایات الثلاث الاخیرۃ لکن العجب انہ جعلھا للشک ثم ادخلہ فی الاضطراب وکیف یسری الاضطراب الی المتن بشک بعض الرواۃ فی بعض الالفاظ ھذا لایقول بہ احدثم قدبقی علیہ من الروایات خمسا دینار فروی ابوداود مرسلا عن الحکم بترک المقسم وابن عباس وفیہ فامرہ ان یتصدق بخمسی دینار ۱؎ بصیغۃ التثنیۃ فی نسخہ الثلاث فعلی طریقتہ تمت سبعا
اقول:  واقعہ کا متعدد ہونا (سمجھ سے) بعید ہے پس ترجیح کی طرف رجوع کیا جائے اگر اس (نصف دینار والی روایت) کی سند قوی ہو تو خُمس (پانچویں حصّے) والی روایت اضطراب سے نکل جائے گی ثم اقول لفظ ''او'' تقسیمِ نوع کیلئے ہے جیسے آخری تین روایات سے واضح ہے لیکن تعجب کی بات ہے کہ انہوں نے اسے شک کے لئے قرار دے کر اضطراب میں داخل کیا (لیکن) بعض راویوں کے بعض الفاظ میں شک سے متن میں اضطراب کیسے ہوگا، اس بات کا کوئی بھی قائل نہیں۔ اس کے بعد روایات میں سے دینار کے دو خمس والی روایت باقی رہ گئی امام ابوداؤد نے حکم سے مرسلاً روایت کرتے ہوئے مقسم اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ذکر چھوڑ دیا ۲؎۔ اس روایت میں ہے ''پس آپ نے دو۲ خمس دینار صدقہ کرنے کا حکم فرمایا ان (امام ابوداؤد) کے تین نسخوں ۳؎ میں تثنیہ کے صیغے سے مروی ہے پس ان کے طریقے پر سات۷ روایات پُوری ہوگئیں۔
 (۱ سُنن ابی داؤد    باب فی اتیان الحائض    مطبوعہ مجتبائی لاہور پاکستان        ۱/۳۵)
۲؎ سُنن ابی داؤد میں یہ  روایت امام  ابوداؤد، امام اوزاعی سے مرسلاً روایت کرتے ہیں حَکم سے نہیں ۔ واللہ تعالٰی اعلم ۱۲ہزاروی

۳؎ سنن ابی داؤد کے تین نسخے ہیں: (۱) نسخہ لؤلوی     (۲) نسخہ ابن داسہ (۳) نسخہ ابن الاعرابی ۱۲ ہزاروی
اقول: ولیس ھذا اضطرابا قادحا فانہ مالایمکن جمعہ کماافادہ المحققان العسقلانی وابن الھمام والجمع ھھنا میسور فالخمس والخمسان لمن وقع فیہ خطأ کماھی واقعۃ الفاروق رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ والنصف والنصفان علی من تعمد کمایشیر الیہ لفظ من اتی والتوزیع باعتبار اٰخر الدم واولہ کمافی الروایۃ الثالثۃ والرابعۃ وفی اولہ ایضا باعتبار الواجد والفاقد کمافی الروایۃ الخامسۃ وھذا جمع جلی واضح وللّٰہ الحمد والتخفیف عن المخطئ ظاھر وعن اتی فی اخر الدم فزعم العلّامۃ فرشتۃ ان الصفرۃ مترددۃ بین الحمرۃ والبیاض فبالنظر الی الثانی لایجب شیئ وبالنظر الی الاول یجب الکل فینصف ۱؎ اھ
اقول: یہ اضطراب نقصان دِہ نہیں کیونکہ نقصان اس صورت میں ہوتا ہے جب روایات کے درمیان موافقت ممکن نہ ہو جیسے دو محققین علامہ عسقلانی اور ابن ہمام رحمہما اللہ نے بتایا لیکن یہاں روایات کے درمیان مطابقت ممکن ہے لہذا خُمس (۵/۱) اور دو خمس (۵/۲) کا حکم اس شخص کیلئے ہوگا جس نے غلطی سے جماع کیا، جیسے حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا واقعہ ہے، نصف اور پُورا دینار اس شخص پر ہوگا جس نے جان بُوجھ کر ایسا کیا جیسے لفظ ''من اتی'' (جو شخص عورت کے پاس جائے) سے اشارہ ہوتا ہے اور تقسیم خون کے آغاز واختتام کے اعتبار سے بھی ہے جیسا کہ تیسری اور چوتھی روایت میں ہے اور شروع میں دینار پانے والے اور نہ پانے والے کے اعتبار سے ہے جیسا کہ پانچویں روایت میں ہے یہ جمع نہایت روشن اور واضح ہے اور اللہ تعالٰی ہی کیلئے حمد وستائش ہے مخطی سے تخفیفہ کا ہونا تو ظاہر اور جو مرد حیض کے آخری ایام میں جماع کرے تو اس کے بارے میں علّامہ فرشتہ کا خیال ہے کہ زرد رنگ سُرخی اور سفیدی کے درمیان میں ہے لہذا دوسرے (سفید رنگ) کا اعتبار کرتے ہوئے کچھ بھی واجب نہیں ہوتا اور پہلے (سُرخ رنگ) کے اعتبار سے پُورا دینار واجب ہوتا ہے لہذا (زرد رنگ میں) نصف کردیا جائے گا اھ۔
 (۱؎ مرقات شرح مشکوٰۃ    الفصل الثانی من باب الحیض    مکتبہ امدادیہ ملتان    ۲/۱۰۱)
اقول: وفیہ مالایخفی فان الصفرۃ حیض قطعا لاتردد فیہ ثم التعبیر بالوجوب خلاف المذھب واستظھر القاری انہ تعبد محض لامدخل للعقل فیہ قال والاقرب ماقیل فیہ ان الحکمۃ فی اختلاف الکفارۃ بالاقبال والادبار انہ فی اولہ قریب عھد بالجماع فلم یعذر فیہ بخلافہ فی اٰخرہ فخفف فیہ ۲؎ اھ ۔
اقول: اس قول کی خرابی واضح ہے کیونکہ زرد رنگ قطعاً حیض ہے جس میں کوئی شک نہیں پھر وجوب سے تعبیر کرنا خلافِ مذہب ہے۔ مُلّا علی قاری رحمہ اللہ نے واضح طورپر فرمایا کہ یہ محض ایک تعبدی حکم ہے عقل کا اس میں کوئی دخل نہیں انہوں نے فرمایا اس سلسلے میں جو کچھ کہا گیا ہے اس میں اقرب بات یہ ہے کہ حیض کے آغاز واختتام میں کفارہ کے اختلاف میں یہ حکمت ہے کہ شروع میں وہ زمانہ جماع سے قریب ہوتا ہے، لہذا اس ضمن میں معذور نہیں سمجھا جائے گا بخلاف اختتام حیض کے، لہذا اس وقت کفارہ میں تخفیف ہوگی اھ۔
 (۲؎ مرقات شرح مشکوٰۃ    الفصل الثانی من باب الحیض    مکتبہ امدادیہ ملتان    ۲/۱۰۱)
اقول: اذاکان ھذا اقرب فکیف یکون کونہ تعبدیا اظھر ولاشک انہ نزع ظاھر ولایصار الی التعبد مالم ینسد باب العقل۔ واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
اقول: جب یہ بات اقرب ہے تو اس (مقدار) کا تعبدی ہونا کیسے اظہر ہوگا اس میں شک نہیں کہ یہ محض ظاہری نزاع ہے اور وہ اس وقت تک عبادت نہیں بن سکتا جب تک عقل کا دروازہ بند نہ کیا جائے۔ (ت) واللہ تعالٰی اعلم
بالجملہ حاصل جمع احادیث یہ ٹھہرا کہ جس سے نادانستہ ایسا واقع ہُوا اگر آخر حیض میں تھا (اور اسی میں حکماً وہ صورت داخل کہ خون دس۱۰ دن سے کم میں منقطع ہوا اور عورت نے ابھی غسل نہ کیا نہ کوئی نماز اس پر دَین ہُوئی) وہ ایک خُمس دینار کفارہ دے اور اگر شباب حیض میں تھا تو دو خمس اور جس نے دانستہ ایسا کیا اگر آخر حیض میں تھا نصف دینار دے اور اوّل میں تو ایک دینار، ہاں ایک کی طاقت نہ ہو تو نصف ہی دے۔ یہ سب حکم استحبابی ہے واجب نہیں مگر استغفار۔
اقول: دینار شرعی دس۱۰ درم ہے تو خُمس دینار کی جگہ دو۲ درم، دو۲ خُمس پر چار، نصف پر پانچ، کُل پر دس۱۰ ہوئے، اور درم شرعی اس انگریزی روپے سے ۲۵/۷ ہے تو ایک درم یہاں کے چار آنے ۵ ۲۵/۱۹ ؎ پائی ہوا اور دس۱۰ درم دو۲ روپے پونے تیرہ آنے ۵/۳ پائی، مگر عجب نہیں کہ یہاں سونا دینا ہی انسب ہوکہ ہر جگہ دینارہی کے حصے فرمائے گئے۔ دینار ساڑے چار ماشے ہے اور اس کا خمس سات رتی اور رتی کا پانچواں حصہ واللہ تعالیٰ اعلم ۔یہ سب دربارہ حیض تھا اور اس پر نفاس واضح القیاس مرقاۃ میں زیر  روایت ثالث
اذاکان دمااحمر
(جب حیض کا خون سرخ ہو۔ ت) ہے
 ای الحیض وقیس بہ النفاس ۱؎ اھ
 (یعنی حیض کا خون سُرخ ہو اور اسی پر نفاس کو قیاس کیا جائے۔ ت) واللہ تعالیٰ اعلم۔
 (۱؎ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ    الفصل الثانی من باب الحیض    مکتبہ امدادیہ ملتان    ۲/۱۰۱ )
مسئلہ ۱۵۱:  ازقصبہ میراں پور کٹرہ ضلع شاہجہان پور مرسلہ محمد صدیق بیگ    ۲۹ ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ۔

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بچہ پیدا ہونے کے بعد کب تک عورت ناپاک رہتی ہے کتنے یوم کے بعد غسل کرکے نماز پڑھے؟
الجواب:  بچّہ پیدا ہونے کے بعد جب تک خون آئے ناپاک رہے گی جس کی زیادہ سے زیادہ مدت چالیس روز کامل ہے اور کم کی کوئی حد نہیں، اگر پاؤمنٹ آکر بند ہوگیا اور چالیس۴۰ روز تک پھر نہ آیا تو اُسی پاؤمنٹ کے بعد پاک ہوگئی نہاکر نماز پڑھے اور اگر چالیس روز کامل تک آیا ےیا اُس سے کم، تو جس وقت بند ہوا اس وقت پاک ہوئی۔ بیس۲۰ تیس۳۰ چالیس۴۰ جتنے دن ہوں اور اگر چالیس دن سے زیادہ آیا تو اس سے پہلے ولادت میں جتنے دن آیا تھا اُتنا نفاس ہے اُس کے بعد پاک ہوگئی باقی استحاضہ ہے اُس کی نمازیں کہ قضا ہوئی ہوں ادا کرے۔ اور اگر پہلی دلادت ہے تو چالیس۴۰ دن کامل تک نفاس تھا باقی جو آگے بڑھا استحاضہ ہے اُس میں نہاکر نمازیں پڑھے روزے رکھے خون اگر پُورے چالیس دن پر بند ہو تو نہالے اور نماز پڑھے اور اس سے کم پر بند ہوتو اس سے پہلی ولالت پر جتنے دن آیا تھا اُتنے دن پُورے کرکے بند ہوا تو ابھی نہاکر نماز پڑھ سکتی ہے مگر بہتر یہ کہ نماز کے اخیر وقت مستحب تک انتظار کرے اور اگر عادت سابقہ سے کم پر بند ہوگیا تو واجب ہے اخیر وقت مستحب تک انتظار کرکے نہائے اور نماز پڑھے پھر اگر چالیس دن کے اندر آگیا تو پھر چھوڑدے پھر بند ہوجائے تو اُسی طرح کرے یہاں تک کہ چالیس دن پُورے ہوں وہو تعالٰی اعلم۔
Flag Counter