عــہ وعزاہ ایضا فی الجامع الکبیر لابی داود والنسائی لم ارہ لھما۔جامع کبیر میں ہے اس کو بھی ابو داؤد اور نسائی کی طرف منسوب کیا ہے میں نے یہ حدیث ان دونوں میں نہیں دیک ھی۔
(۴؎ جامع الترمذی باب ماجاء فی الکفارۃ فی ذلک ، مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱/۲۰)
طبرانی نے معجم کبیر اور حاکم نے بافادہ تصحیح اُنہیں سے یوں روایت کی رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرما یا:
من اتی امرأتہ فی حیضھا فلیتصدق بدینار ومن اتاھا وقدادبر الدم عنھا ولم تغتسل فنصف دینار ۵؎۔
جس نے اپنی عورت سے حیض میں صحبت کی وہ ایک اشرفی تصدق کرے اور اگر خون بند ہوچکا اور ابھی نہائی نہ تھی تو آدھی۔
( ۵ المعجم الکبیر للطبرانی عن عبداللہ بن عباس حدیث نمبر ۱۲۱۳۴ المکتبۃ الفضل یۃ بیروت ۱۱/۴۰۲)
مسند میں انہیں سے یوں ہے: تصدق بدینار فان لم تجد دینار فنصف دینار ۱؎۔
ایک اشرفی صدقہ کر اور نہ ہوسکے تو آدھی۔
(۱؎ مسند احمد بن حنبل عن ابن عباس رضی اللہ عنہ مطبوعہ بیروت ۱/۳۶۳)
درمختار میں ہے: یندب تصدقہ بدینار اونصفہ ومصرفہ کزکاۃ وھل علی المرأۃ تصدق قال فی الضیاء الظاھرلا ۲؎۔
ایک دینار یا نصف دینار صدقہ دینا مستحب ہے اس کا مصرف وہی ہے جو زکاۃ کا ہے۔ اور کیا عورت کو بھی صدقہ دینا واجب ہے؟ تو ضیاء (الضیاء المعنوی شرح مقدمۃ الغزنوی) میں فرما یا: ظاہر بات یہ ہے کہ اس پر (واجب) نہیں۔ (ت)
(۲؎ درمختار باب الحیض مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱/۵۲)
فتح القد یر میں ہے: یتصدق بدینار اوبنصفہ استحبابا وقیل بدینار انکان اول الحیض وبنصفہ ان وطئ فی اخرہ کان قائلہ رأی انہ لامعنی للتخییر بین القلیل والکثیر فی النوع الواحد ۳؎ اھ اقول لاعزا فی التخییر بین الفاضل والافضل فیکون المعنی یتصدق بنصف دینار وھذا ادنی مایندب الیہ کفارۃ لماوقع فان اکمل دینارا فاجود وایضا قدیکون التردید باعتبار المیسر ای بدینار ان تیسر والا فبنصفہ وقدروی فی الحدیث کمامر لکن الاظھر کماقال القاری فی المرقاۃ ان قائلہ اخذ التفصیل من الحدیث الاٰتی عن ابن عباس ۴؎ اھ ای مامر من الفصل بلون الدم فانہ یکون فی بدنہ احمر فاذا قارب الانقطاع یصفر۔
ایک دینار یا نصف دینار صدقہ کرنا مستحب ہے اور کہا گیا کہ اگر حیض کا آغاز تھا تو ایک دینار، اور آخری دنوں میں وطی کی تو نصف دینار دے، گو یا اس قائل کی رائے میں ایک ہی نوع میں قلیل وکثیر کے درمیان اختیار کا کوئی مطلب نہیں اھ۔
اقول: فاضل اور افضل کے درمیان اخت یار دینا قابل تعجب نہیں لہذا مطلب یہ ہوگا کہ نصف دینار صدقہ کرے اور یہ اس کے جُرم کا کم ازکم مستحب کفارہ ہے اگر پُورا دینا ر دے تو نہایت عمدہ ہے نیز کبھی اختیار میسر آنے والی چیز کے اعتبار سے بھی ہوتا ہے یعنی اگر میسر ہو تو ایک دینار اور میسر نہ ہو تو نصف دینار دے اور یہ بات حدیث میں مروی ہے جیسا کہ گزرچکا لیکن ز یادہ ظاہر بات وہ ہے جو حضرت ملّا علی قاری رحمہ اللہ نے بیان فرمائی کہ اس کے قائل نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما کی روایت سے جو آگے (مرقات میں) آرہی ہے تفصیل حاصل کی ہے (انتہی) یعنی خون کے رنگ کے اعتبار سے جو تفصیل گزری ہے، کیونکہ وہ شروع میں سُرخ ہوتا ہے اور ختم ہونے کے قریب زرد ہوجاتا ہے۔
(۳؎ فتح القد یر باب الحیض مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھّر ۱/۱۴۷)
(۴؎ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ الفصل الثانی من باب الحیض مکتبہ امدادیہ ملتان ۲/۱۰۰)
اقول : وبہ ظھر ضعف ماوقع فی البحر وتبعہ ش من جعل العبارتین قولین اذقال قیل ان کان فی الاول الحیض فدینار اواٰخرہ فنصفہ وقیل دینار لواسود ونصفہ لواصفر ۱؎ اھ قال فی البحر ویدل لہ مارواہ ابوداود والحاکم وصححہ ۲؎
اقول: اسی سے اس بات کی کمزوری ظاہر ہوگئی جو البحرالرائق میں ہے اور امام شامی نے بھی اس کی اتباع کرتے ہوئے دو عبارتوں کو دو قول قرار د یا جب انہوں نے کہا کہ کہا گیا ہے اگر حیض کے شروع میں (جماع کیا) تو ایک دینار اور آخر میں ہو تو نصف دینار ہوگا۔ اور ایک قول یہ ہے کہ اگر سیاہ رنگ ہو تو ایک دینار اور زرد رنگ ہو تو نصف دینار ہوگا ۲؎۔ البحرالرائق میں فرما یا اس بات پر امام ابوداؤد اور حاکم کی روایت دلالت کرتی ہے جسے انہوں نے صحیح قرار د یا ہے۔
۲؎ امام اہلسنت علیہ الرحمۃکا مطلب یہ ہے کہ حیض کی ابتدا میں خون کا رنگ سیاہ ہوتا ہے اور آخر میں زرد، لہذا آغازِ حیض اور س یاہ رنگ ایک ہی بات ہے جبکہ اختتامِ حیض اور زرد رنگ بھی ایک ہی چیز ہے گو یا ایک ہی قول کو صاحب البحرالرائق اور شامی نے دو قول قرار د یا ۱۲ ہزاروی
فذکر اللفظ الثالث الذی عزوناہ لاحمد والترمذی ولم ارہ لابی داؤد واللّٰہ تعالٰی اعلم ھذا وقال القاری قال المنذری قدوقع اضطراب فی ھذا الحدیث متناواسنادا رفعا ووقفا وارسالا واعضالا کذا نقلہ السید جمال الدین عن التخریج فقول ابن حجر وسندہ حسن غیر مستحسن ۱؎ اھ
(۱؎ مرقات شرح مشکوٰۃ الفصل الثانی من باب الحیض مکتبہ امدادیہ ملتان ۲/۱۰۱)
اور لفظ ثالث (سُرخ رنگ) ذکر کیا جسے ہم نے امام احمد اور ترمذی کے حوالے سے نقل کیا ہے لیکن میں نے اسے ابوداؤد میں نہیں دیکھا واللہ تعالٰی اعلم۔ اس (تقر یر) کو اپنائیے حضرت ملّا علی قاری رحمہ اللہ تعالٰی نے فرما یا: منذری نے کہا ہے کہ اس حدیث میں متن، سند، رفع، وقف،ارسال اور اعضال ۳؎ کے اعتبار سے اضطراب ہے سید جمال الدین نے تخریج سے اسی طرح نقل کیا ہے پس ابن حجر (عسقلانی) کا اس کی سند کو حسن قرار دینا غیر مستحسن ہے اھ۔
۳؎ تابعی سے اوپر کا راوی ساقط ہو تو یہ ارسال ہے اور حدیث کی سند سے دو یا زاید راویوں کا سقوط اعضال کہلاتا ہے ۱۲ ہزاروی۔
اقول: لایضر عندنا الارسال ولاالاعضال وقد یاتی الرادی بالسند تاما وقد یحذف فلا اضطراب وکذا الرفع والوقف ثم الوصل والرفع ز یادۃ ثقۃ فتقبل کماحققہ المحقق فی الفتح فی غیرما موضع قال القاری قال میرک ھذا بیان اضطراب الاسناد اما الاضطراب فی متنہ فروی(۱) بدینار اونصف دینار علی الشک وروی(۲) یتصدق بدینار فان لم یجد فبنصف دینار وروی(۳) التفرقۃ بین ان یصیبھا فی اقبال الدم اوفی انقطاع الدم وروی(۴) یتصدق بخمس دینار وروی(۵) بنصف دینار وروی(۶) اذاکان دما احمر فدینار وان کان دما اصفر فنصف دینار ۲؎ اھ
اقول: ہمارے نزدیک ارسال واعضال سے کوئی فرق نہیں پڑتا راوی کبھی پُوری سند لاتا ہے اور کبھی حذف کردیتا ہے لہذا کوئی اضطراب نہیں رفع اور وقف کا بھی یہی حال ہے پھر رفع اور وصل (راوی کے) اضافہ ثقاہت کے لئے ہیں لہذا اسے قبول کیا جائے جسے محقق نے فتح القد یر کے کئی مقامات پر اس کی تحقیق کی ہے۔ ملّا علی قاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں میرک نے کہا ہے کہ یہ اضطراب سند کا بیان ہے لیکن متن کا اضطراب یہ ہے کہ ایک روایت میں ایک دینار اور نصف دینار کا بطور شک ذکر کیا گیا۔ دوسری روایت میں ہے کہ ایک دینار صدقہ دے۔ تیسری روایت کے مطابق خون آنے اور نہ آنے کے دونوں میں جماع کرنے کا فرق ہے جبکہ چوتھی روایت میں ہے دینار کا پانچواں حصہ صدقہ کرے۔ پانچویں روایت میں ہے وہ نصف دینار صدقہ کرے۔ اور چھٹی روایت میں ہے اگر خُون سُرخ ہو تو ایک دینار دے اور زرد ہو تو نصف دینار دے اھ۔
( ۲؎ مرقات شرح مشکوٰۃ الفصل الثانی من باب الحیض مکتبہ امدادیہ ملتان ۲/۱۰۱)