Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۴(کتاب الطہارۃ)
65 - 2323
ورأیتنی کتبت علی قولہ ولیس الثیاب مانصہ ای المبیحۃ للصلاۃ ولورداء واحدا یسترھا من قرنھا الی قدمھا لان المقصود کون الصلاۃ دینا علیھا وذلک یحصل بھذا القدر ولذا استظھر العلامۃ الحلبی فی الغسل ان المراد قدر الفرض وھو ظاھر ۳؎ واللّٰہ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
اور میرا خیال ہے کہ میں نے اس (دُرمختار) کے قول ''ولیس الثیاب'' پر لکھا ہے کہ اس سے وہ کپڑے مراد ہیں جن کے ساتھ نماز جائز ہوجاتی ہے اگرچہ ایک  چادر ہو جو سر سے قدموں تک اسے ڈھانپ لے کیونکہ مقصد تو نماز کا اس کے ذمہ فرض ہونا ہے اور یہ اس مقدار سے حاصل ہوجاتا ہے اسی لئے علامہ حلبی نے غسل کے بارے میں بتا یا کہ اس سے فرض کا اندازہ مراد ہے اور یہی ظاہر ہے واللہ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ (ت)
 (۳؎ جدّ الممتار علی الدر المختار    باب الحیض    اللمجمع الاسلامی مبارکپور ہندوستان    ص۱۶۴)
سوال دوم: ا یامِ حیض میں اپنی عورت سے ران  یا پیٹ پر  یا کسی اور مقام پر فراغت حاصل کرنا جائز ہے  یا نہیں۔ بینواتوجروا۔
الجواب پیٹ پر جائز اور ر ان پر ناجائز۔ کلیہ یہ ہے کہ حالتِ حیض ونفاس میں ز یر ناف سے زانو تک عورت کے بدن سے بلاکسی ایسے حائل کے جس کے سبب جسم عورت کی گرمی اس کے جسم کو نہ پہنچے تمتع جائز نہیں یہاں تک کہ اتنے ٹکڑے بدن پر شہوت سے نظر بھی جائز نہیں اور اتنے ٹکڑے کا چھُونا بلاشہوت بھی جائز نہیں اور اس سے اوپر نیچے کے بدن سے مطلقاً ہر قسم کا تمتع جائز یہاں تک کہ سحق ذکر کرکے انزال کرنا۔
فی الدرالمختار یمنع حل قربان ماتحت ازار یعنی مابین سرۃ ورکبۃ ولوبلاشھوۃ وحل ماعداہ مطلقا ۱؎ اھ
دُرمختار میں ہے: ''ازار کے نیچے یعنی ناف اور گھٹنے کے درمیان کا قُرب جائز نہیں اگرچہ بلاشہوت ہو اور اس کے علاوہ مطلقاً جائز ہے۔ اھ'' ۔
	(۱؎ درمختار    باب الحیض   مطبوعہ مجتبائی دہلی        ۱/۵۱)
وفی ردالمحتار نقل فی الحقائق عن التحفۃ والخانیۃ یجتنب الرجل من الحائض ماتحت الازار عند الامام وقال محمد الجماع فقط ثم اختلفوا فی تفسیر قول الامام قیل لایباح الاستمتاع من النظر و غیرہ بمادون السرۃ الی الرکبۃ ویباح ماورائہ وقیل یباح مع الازار اھ ولایخفی ان الاول صریح فی عدم حل النظر الی ماتحت الازار والثانی قریب منہ ولیس بعد النقل الاالرجوع الیہ ۲؎ اھ واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
اور ردالمحتار میں ہے: ''حقائق میں تحفہ اور خانیہ سے نقل کیا گیا کہ ''امام اعظم رحمہ اللہ تعالٰی کے نزدیک  مرد کو حائضہ عورت کی ازار کے نیچے سے اجتناب کرنا چاہئے''۔ امام محمد رحمہ اللہ تعالٰی فرماتے ہیں: ''فقط جماع سے پرہیز کرے''۔ پھر امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے قول کی وضاحت میں فقہاء کرام کا اختلاف ہے۔ کہا گیا ہے کہ ناف سے گھٹنوں تک دیکھنے اور اس کے ساتھ نفع حاصل کرنا بھی جائز نہیں اس کے ماسوا جائز ہے۔ اور ایک  قول یہ ہے کہ ازار کے ساتھ جائز ہے (انتہی) مخفی نہ رہے کہ پہلا قول ازار کے نیچے (جسم) کی طرف دیکھنے کی حرمت میں واضح ہے اور دوسرا اس کے قریب ہے اور نقل کے بعد گنجائش نہیں اس کی طرف رجوع ہوتا ہے (انتہی) (یعنی قیاس نہیں کیا جاتا) واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
	(۲؎ ردالمحتار    باب الحیض    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/۲۱۴)
مسئلہ ۱۴۷:    از شہرکہنہ    ۱۰ جمادی الاولٰی ۱۳۱۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نفاس کی اکثر مدّت چالیس۴۰ روز ہے کمتر کی حد نہیں اگر نفاس کا پانی ہشت روز میں بند ہو اور نماز اور روزہ اور وطی کے بعد پانی پھر آ یا اس میں کیا حکم ہے؟
الجواب: پانی کوئی چیز نہیں وہ تو رطوبت ہے نفاس میں خون ہوتا ہے چالیس۴۰ دن کے اندر جب خون عود کرے شروع ولادت سے ختم خون تک سب دن نفاس ہی کے گنے جائیں گے جو دن بیچ میں خالی رہ گئے وہ بھی نفاس ہی میں شہار ہوں گے مثلاً ولادت کے بعد دو۲ منٹ تک خُون آکر بند ہوگیا عورت بگمانِ طہارت غسل کرکے نماز روزہ و غیرہ کرتی رہی چالیس۴۰ دن پُورے ہونے میں ابھی دو۲ منٹ باقی تھے پھر خُون آگیا تو یہ سارا چلّہ نفاس میں ٹھہرے گا نمازیں بیکار گئیں فرض  یا واجب روزے  یا ان کی قضا نمازیں جتنی پڑھی ہوں انہیں پھر پھیرے۔
فی ردالمحتار ان من اصل الامام ان الدم اذاکان فی الاربعین فالطھر المتخلل لایفصل طال اوقصر حتی لورأت ساعۃ دما واربعین الاساعتین طھرا ثم ساعۃ وماکان الاربعون کلھا نفاسا وعلیہ الفتوٰی کذا فی الخلاصۃ ۱؎ نھر، واللّٰہ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
ردالمحتار میں ہے: ''امام اعظم رحمہ اللہ کے ہاں ضابطہ یہ ہے کہ جب خون چالیس دنوں میں ہو تو طُہر متخلل فاصل نہیں ہوگا وقت ز یادہ ہو یا کم۔ حتی کہ اگر عورت نے ایک  ساعت خُون  دیکھا پھر دو ساعتیں کم چالیس دن پاک رہی پھر ایک  ساعت خون  دیکھا تو پُورے چالیس دن نفاس کے شمار ہوں گے اور اسی پر فتوٰی ہے۔ خلاصہ میں اسی طرح ہے نہر، واللہ تعالٰی اعلم وعلمہ مجدہ اتم واحکم۔ (ت)
 (۱؎ ردالمحتار    باب الحیض  مطبوعہ مصطفی البابی مصر  ۱/۲۱۹)
مسئلہ ۱۴۸ :   ۸ ذی القعدہ ۱۳۲۴ھ: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ حیض والی عورت کی روٹی پکی ہوئی کھانا جائز ہے  یا نہ، اور اپنے ساتھ اس کو روٹی کھلانا جائز ہے  یا نہ، اور اس عرصہ میں اگر مرجائے تو اس کا کیا حکم ہے، حیض کے  کتنے دن ہیں، بینواتوجّروا۔
الجواب: اس کے ہاتھ کا پکا ہُوا کھانا بھی جائز، اُسے اپنے ساتھ کھلانا بھی جائز۔ ان باتوں سے احتراز یہود ومجوس کا مسئلہ ہے۔
وقدکان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم یدنی راسہ الکریم لام المؤمنین الصدیقۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنھا وھی فی بیتھا وھو صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم معتکف فی المسجد لتغسلہ فتقول اماحائض فیقول حیضتک لیست فی یدک ۲؎۔
سرکارِ دوعالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اپنا سرمبارک دُھلوانے کےلئے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے قریب کرتے تھے اس وقت آپ گھر میں ہوتیں اور نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم مسجد میں معتکف ہوتے اُم المومنین عرض کرتیں: میں حائضہ ہُوں۔ آپ فرماتے: حیض تمہارے ہاتھ میں تو نہیں ہے۔ (ت)مَر جائے تو اس کے لئے ایک  ہی غسل کافی ہے کمانص علیہ علماؤنا وبہ قال جمہور الائمۃ (جیسا کہ ہمارے علماء نے اس کی تصریح فرمائی ہے اور جمہور ائمہ کا بھی یہی قول ہے۔ ت) حیض کم از کم تین رات دن کامل ہے اور ز یادہ سے زیادہ دس رات دن کامل۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
 (۲؎ جامع ترمذی ، باب ماجاء فی الحائض تتناول الشیئ من المسجد ، مطبع مجتبائی لاہور  ۱/۱۹)
مسئلہ ۱۴۹    ۹۔محرم الحرام ۱۳۲۵ھ: کیا فرماتے ہیں علمائے دے اس مسئلہ میں کہ ایک  عورت لڑکا جنے اور نفاس سے آٹھ دن میں فارغ ہوگئی اب اُس کے واسطے روزے نماز کا کیا حکم ہے اور چُوڑی و غیرہ چاندی  یا کانچ کی  یا وہ چارپائی  یا مکان پاک رہا  یا ناپاک  یا چالیس۴۰ دن کی میعاد لگائی جائے گی۔ بینوا توجروا۔
الجواب:  یہ جو عوام جاہلوں عورتوں میں مشہور ہے کہ جب تک چلّہ نہ ہوجائے زچہ پاک نہیں ہوتی محض غلط ہے خون بند ہونے کے بعد ناحق ناپاک رہ کر نماز روزے چھوڑ کر سخت کبیرہ گناہ میں گرفتار ہوتی ہیں مردوں پر فرض ہے کہ انہیں اس سے باز رکھیں نفاس کی ز یادہ حد کےلئے چالیس۴۰ دن رکھے گئے ہیں نہ یہ کہ چالیس دن سے کم کا ہوتا ہی نہ ہو اس کے کم کےلئے کوئی حد نہیں اگر بچّہ جننے کے بعد صرف ایک  منٹ خون آ یا اور بند ہوگیا عورت اُسی وقت پاک ہوگئی نہائے اور نماز پڑھے اور روزے رکھے۔ اگر چالیس۴۰ دن کے اندر اُسے خُون عود نہ کرے گا تو نماز روزے سب صحیح رہے گے۔ چُوڑ یاں، چارپائی، مکان سب پاک ہیں فقط وہی چیز ناپاک ہوگی جسے خون لگ جائے گا بغیر اس کے ان چیزوں کو ناپاک سمجھ لینا ہندوؤں کا مسئلہ ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۰ :   از فرخ آبادشمس الدین احمد    شنبہ ۱۸۔شوال ۱۳۳۴ھ :کوئی شخص اپنی بی بی سے حیض  یا نفاس کی حالت میں صحبت کرے تو اُس کا کفارہ کیا ہے؟
الجواب اگر ابتدائے حیض میں ہے تو ایک  دینار، اور ختم پر ہے تو نصف دینار، اور دینار دس درم کا ہوتا ہے اور دس درہم دو روپے تیرہ آنے کچھ کوڑ یاں کم۔ سُنن دارمی وابوداؤد وترمذی وابن ماجہ  عــہ  میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے ہے رسول اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذاوقع الرجل باھلہ وھی حائض فلیتصدق بنصف دینار ۱؎۔
جب آدمی اپنی عورت سے حالتِ حیض میں صحبت کرے تو چاہیے کہ نصف دینار صدقہ دے۔
عــہ: عزاہ فی المشکٰوۃ لاربعۃ وانما الذی رأیت للنسائی ما یاتی ۱۲ منہ (م)

مشکوٰۃ المصابیح میں اسے چاروں سنن کی طرف منسوب کیا ہے اور وہ جو میں نے نسائی کےلئے دیکھی ہے وہ ہے جو اس کے بعد آرہی ہے ۱۲ منہ (ت)
 (۱؎ جامع الترمذی    باب ماجاء فی کراہۃ ات یان الحائض،  مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور    ۱/۱۹)
سنن نسائی وابن ماجہ میں انہیں سے ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا: یتصدق بدینار اونصف دینار ۲؎ ایک   یا نصف دینار تصدق کرے ورواہ الدارمی فجعل التردید من شک الراوی حیث قال یتصدق بدینار ونصف دینار شک الحکم ۳؎
 (اسے امام دارمی نے روایت کیا اور تردید کو راوی کا شک قرار د یا کہ اس نے کہا ایک  دینار صدقہ کرے  یا نصف دینار، حکم (راوی کو) شک ہُوا۔ ت)
 (۲؎ سنن ابن ماجہ    باب کفارۃ من اتی حائضا        مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۴۷)

(۳؎ سُنن الدارمی    باب من قال علیہ الکفارۃ         مدینہ منورہ حجاز    ۱/۲۰۳)
Flag Counter