Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۴(کتاب الطہارۃ)
64 - 2323
باب الحیض
مسئلہ ۱۴۲ از وطن مرسلہ نواب مولوی سلطان احمد خان صاحب    ۲۔رمضان المبارک۱۳۱۰ھ
ماقولکم رحمکم اللہ تعالٰی ہٰذہ المسئلۃ دروسالہ طہارت کبرٰی نوشۃ است نونے نماز میگزاردہم دراثنائے صلاۃ حائضہ شد نماز قطع کندپس اگر نماز فرض بود بعد طہارت قضایش واجب نبود واگر نفل بود قضا واجب آید۔ بینوا توجروا۔
اللہ تعالٰی آپ کو اپنی رحمت سے نوازے، اس مسئلہ میں آپ کی کیارائے ہے، رسالہ ''طہارتِ کبرٰی'' میں لکھا ہے: ''کوئی عورت نماز پڑھ رہی ہو اور نماز کے دوران اسے حیض آجائے تو وہ نماز توڑدے پھر اگر وہ فرض نماز ہے تو حصولِ طہارت کے بعد اس کی قضا واجب نہ ہوگی اور اگر نفل نماز ہو تو واجب ہوگی۔ بیان کریں اجر پائیں۔ (ت)
الجواب:  دریں رسالہ اگرچہ بس یار جاخطا سرزدہ اماایں مسئلہ درست نوشتہ است فمثلہ فی البحر والدر و غیرہما من الاسفار الغرّ وجہش انچہ کہ ایں وقت بخیال میرسد آنست کہ نماز اگرچہ نفل باشد بشروع واجب گردد واگرقبل ازاتمام فسادےرونماید قضا لازم آید اما ایں حکم حکم شروع قصدی ست پس اگر کسے مثلاً نماز ظہر گزرا دہ فراموش کردوباز عقدش بربست پیش ازفراغ بیادش آمد ہمچناں بشکست قضا بردلازم نیست کہ ایں شروع بربنائے ظن غلط بودہمچناں چوں زن راحیض رسید پیداشد کہ نمازایں وقت برو واجب نبود وظن وجابے کہ بربنایش آغاز کردہ بود غلط برآمد ز یراکہ نزد مااعتبار مراآخر وقت راست کمانصوا علیہ پس قضا لازم نیا یدبخلاف نفل کہ شروع دروے نہ بظن وجوب بودونہ عروض حیض درآخر وقت مانع تنفل در اول ست پس شروع دروے صحیح بودچوں فاسد شدقضا واجب آمد۔ واللہ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
اس رسالے میں اگرچہ بہت جگہ غلطی واقع ہوئی ہے تاہم یہ مسئلہ صحیح لکھا گیا ہے اسی کی مثل البحرالرائق، درمختار اور ان کے علاوہ عمدہ کتب میں منقول ہے،اس کا سبب جو اس وقت خیال میں آرہا ہے یہ ہے کہ نماز اگرچہ نفل ہو شروع کرنے سے واجب ہوجاتی ہے اگر تکمیل سے پہلے کوئی فساد ظاہر ہو تو قضا لازم ہوگی لیکن یہ حکم اس نماز کا ہے جسے قصداً شروع کیا ہو۔ لہذا اگر کوئی شخص نمازِ ظہر اداکرکے بھُول گیا ہو پھر اس کی نیت کرلی لیکن فارغ ہونے سے پہلے  یاد آگیا اور اسی حالت میں نماز توڑدی تو اس پر قضا لازم نہیں ہوگی کیونکہ یہ شروع کرنا غلط گمان کی بنیاد پر تھا۔ اسی طرح جب عورت کو حیض آ یا تو اس وقت کی نماز اس پر فرض نہ تھی اس نے فرض خیال کرتے ہوئے شروع کردی تھی تو یہ خیال غلط ثابت ہوا کیونکہ ہمارے نزدیک  آخر وقت کا اعتبار ہے جیسے فقہاءِ کرام نے بیان فرما یا لہذا قضا لازم نہیں ہوگی بخلاف نفل کے کہ وہ نہ تو واجب سمجھ کر شروع کئے اور نہ ہی آخر وقت میں حیض کا شروع نفل پڑھنے سے مانع ہے لہذا نوافل کا شروع کرنا صحیح تھا جب فاسد ہوگئے تو قضا واجب ہوگئی۔ اللہ تعالٰی خوب جانتا ہے اور اس بزرگ وبرتر ذات کا علم سب سے ز یادہ مکمل اور مستحکم ہے۔ (ت)
مسئلہ ۱۴۳    ۴ صفر مظفر ۱۳۱۲ھ:  ایک  مسمّاہ کو بوجہ عارضہ چند سال سے حبس طمث تھا بالکل ادرار مسدود تھا اگرچہ مقتضائے عمر نہ تھا پھر جب دوا ہوئی باعانت دوا اجرائے دم ہوا ہے ایسی حالت میں نماز ترک کی جائے  یا ادا کی جائے۔ بینوا توجروا
الجواب: جب تک دم آئے نماز ترک کی جائے، ہاں اگر دس۱۰ روز کامل سے آگے بڑھے تو غسل کرکے پڑھنا شروع کریں اور وہ پچھلا طمث جس کے بعد احتباس ہوگیا تھا اگر دس۱۰ دن آ یا تھا تو خیر ورنہ جب یہ دن دس سے بڑھے تو وہ جتنا دس سے کم تھا اُتنے دنوں کی نماز قضا کی جائے مثلاً وہ چھ۶ روز کا تھا تو چار۴ دن کی نماز قضا کریں اور چار کا تو چھ کی وعلی ہذا القیاس واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۴۴ از جالندھر محلہ راستہ متصل مکان ڈپٹی احمد جان صاحب مرسلہ محمد احمد خان صاحب    ۲۔شوال ۱۳۱۴ھ۔

عورت حالت حیض اور نفاس میں مراقبہ جیسا کہ طریقہ نقشبندیہ میں دستور ہے کرسکتی ہے  یا نہیں اور اسی حالت میں بیٹھ کر مرشد سے توجہ لے سکتی ہے  یا نہیں؟ بحوالہ کتاب مع عبارت ارقام فرمائیں۔
الجواب: ہاں اُمّ المومنین صدیقہ بنت الصدیق رضی اللہ تعالٰی عنہما فرماتی ہیں:
کان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یذکر اللّٰہ علٰی کل احیانہ ۱؎ رواہ الامام احمد ومسلم وابوداو،د والترمذی وابن ماجۃ۔''
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت اللہ تعالٰی کا ذکر فرماتے تھے''۔ اس (حدیث) کو امام احمد، مسلم، ابوداؤد، ترمذی اور ابن ماجہ رحمہم اللہ نے روایت کیا ہے۔ (ت)
 (۱؎ سنن ابوداؤد    باب فی الرجل یذکر اللہ علٰی  غیر طہور    مطبع مجتبائی پاکستان    ۱/۴)
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان المؤمن لاینجس ۲؎ رواہ الستۃ عن ابی ھر یرۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ۔
''مومن ناپاک نہیں ہوتا'' اسے چھ ائمہ حدیث (اصحابِ صحاح ستّہ) نے حضرت ابوہر یرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔ (ت)
(	۲؎ جامع ترمذی ، باب ماجاء فی مصافحۃ الجنب ،طبع مجتبائی پاکستان    ۱/۱۷)
دُرمختار میں ہے:لاباس لحائض وجنب بقراء ۃ ادعیۃ ومسھا وحملھا ۳؎ واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
حائضہ اور جنبی کے لئے دُعاؤں کے پڑھنے، انہیں ہاتھ لگانے اور اٹھانے میں کوئی حرج نہیں۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
 (۳؎ درمختار،  باب الحیض، مطبع مجتبائی پاکستان    ۱/۵۱)
مسئلہ ۱۴۵     از علی گڑھ    ۵۔ رمضان المبارک ۱۳۱۵ھ :کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں:

سوال اوّل: ایک  عورت کو آٹھ دن سے کم حیض ہوتا ہے سپیدی آجانے کے بعد بے نہائے اس سے صحبت کرنا جائز ہے  یا نہیں؟ بینوّا توجّروا۔
الجواب جو حیض اپنی پُوری مدّت یعنی دس دن کامل سے کم میں ختم ہوجائے اس میں دو۲ صورتیں ہیں  یاتو عورت کی عادت سے بھی کم میں ختم ہوا یعنی اس سے پہلے مہینے میں جتنے دنوں آ یا تھا اُتنے دن بھی ابھی نہ گزرے اور خُون بند ہوگیا جب تو اس سے صحبت ابھی جائز نہیں اگرچہ نہالے اور اگر عادت سے کم نہیں مثلاً پہلے مہینے سات۷ دن آ یا تھا اب بھی سات  یا آٹھ روز آکر ختم ہُوا  یا یہ پہلا ہی حیض ہے جو اس عورت کو آ یا اور دس۱۰ دن سے کم میں ختم ہوا تو اُس سے صحبت جائز ہونے کےلئے دو۲ باتوں سے ایک  بات ضرور ہے  یا(۱) تو عورت نہالے اور اگر بوجہ مرض  یا پانی نہ ہونے کے تیمم کرنا ہو تو تیمم کرکے نماز بھی پڑھ لے خالی تیمم کافی نہیں  یا(۲) طہارت نہ کرے تو اتنا ہوکہ اس پر کوئی نمازِفرض فرض ہوجائے یعنی نماز پنجگانہ سے کسی نماز کا وقت گزر جائے جس میں کم سے کم اس نے اتنا وقت پا یا ہو جس میں نہاکر سر سے پاؤں تک ایک  چادر اوڑھ کر تکبیر تحریمہ کہہ سکتی تھی اس صورت میں بے طہارت کے بھی اُس سے صحبت جائز ہوجائے گی ورنہ نہیں مگر یہ کہ عورت کتابیہ یہودیہ  یا نصرانیہ ہو تو اُس سے مطلقاً بے نہائے صحبت جائز ہے جبکہ انقطاع حیض ا یام عادت سے کم میں نہ ہوا ہو۔
فی الدر المختار یحل وطؤھا اذا انقطع حیضھا لاکثرہ بلا غسل وجوبا بل ندبا وان انقطع لاقلہ فان لدون عادتھا لم یحل (الوطؤ وان اغتسلت لان العود فی العادۃ غالب بحر) وان لعادتھا فان کتاب یۃ حل فی الحال (لانہ لااغتسال علیھا لعدم المطالب) والالایحل حتی تغتسل اوتتیمم بشرطہ (ھو فقد الماء بہ والصلٰوۃ بہ علی الصحیح کمایعلم من النھر و غیرہ وبھذا ظھر ان المراد التیمم الکامل المبیح للصلاۃ مع الصلاۃ بہ ایضا) اویمضی علیھا زمن یسع الغسل ولبس الث یاب والتحریمۃیعنی من آخر الوقت لتعلیلھم بوجوبھا فی ذمتھا حتی لوطھرت فی وقت العید لابد ان یمضی وقت الظھر کمافی السراج ۱؎ اھ مزیدا من ردالمحتار ۲؎۔
درمختار میں ہے: اگر عورت کا حیض، ز یادہ دنوں کے بعد ختم ہو تو اس کے ساتھ غسل واجب بلکہ مستحب غسل سے بھی پہلے وطی کرنا جائز ہے اور اگر کم از کم مدت میں ختم ہو تو (دیکھیں گے) اگر عادت سے کم میں ختم ہو تو جماع جائز نہیں اگرچہ غسل کرلے کیونکہ عادت کی طرف لَوٹنا غالب ہے (بحرالرائق) اگر عادت کے مطابق ختم ہوا تو کتابیہ ہونے کی صورت میں اسی وقت وطی حلال ہوجائےگی کیونکہ اس پر غسل واجب نہیں اس لئے کہ اس سے (غسل کا) مطالبہ کرنے والی چیز (یعنی اسلام) نہیں۔ اگر وہ کتابیہ نہیں تو جب تک غسل  یا شرائطِ تیمم پائے جانے کی صورت میں تیمم نہ کرے اس سے جماع جائز نہیں۔ صحیح قول کے مطابق (اس کےلئے تیمم کی) شرط یہ ہے کہ پانی نہ ہونا اور اس کے ساتھ نماز پڑھنا ہے جیسا کہ نہر (نہرالفائق) و غیرہ سے معلوم ہوتا ہے اس سے ظاہر ہوا کہ تیمم کامل مراد ہے جس سے نہ صرف یہ کہ نماز پڑھنا جائز ہوجائے بلکہ اس کے ساتھ نماز بھی پڑھ لے)  یا اتنا وقت گزر جائے جس میں غسل کرکے کپڑے پہننے اور تکبیر تحریمہ کی گنجائش ہوکیونکہ انہوں نے اسی بات کو عورت کے ذمہ (نماز) واجب ہونے کی علت قرار د یا ہے حتی کہ اگر عید کے وقت پاک ہوجائے تو اس پر وقتِ ظہر گزرنا ضروی ہے جیسا کہ سراج میں ہے (انتہی) یہ ردالمحتار سے اضافہ کے ساتھ ہے۔
 (۱؎ دُرمختار        باب الحیض        مطبوعہ مجتبائی دہلی            ۱/۵۱)

(۲؎ ردالمحتار         باب الحیض        مصطفی البابی مصر            ۱/۲۱۵)
Flag Counter