| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۴(کتاب الطہارۃ) |
مسئلہ ۱۲۹ تا ۱۳۴:از شہرکہنہ محلہ سہسوانی ٹولہ مرسلہ محمد ادریس خان۲۸۔جمادی الاولٰی ۱۳۳۶ھ (۱) ایک چاہ میں ایک چُوہا نکلا جس کے نصف دھڑ کے نیچے کی کھال گل کر پانی ہی میں رہ گئی تھی لیکن پیٹ نہیں پھٹا تھا تو اب کنواں کس طرح پاک ہو۔ (۲) یہ بھی تشریح فرمائیے کہ پانی کا ٹوٹنا کسے کہتے ہیں یعنی کتنا پانی کنویں میں جائے تو چھوڑ دینا چاہئے۔ (۳) اگر کسی وجہ سے کنویں کے پاک کرنے کی غرض سے مٹی نکالنے کا حکم ہو تو مٹی کس قدر نکالنا چاہئے۔ (۴) اگر کنواں پاکی کے شرائط پُورے کرنے کے اندر بیٹھنے یا شق ہونے لگے تو اُس کا بیٹھنا یا شق ہونا پاکی کا مانع ہوسکتا ہے یا نہیں۔مثلاً ایک کنواں پانی ٹوٹنے کا حکم رکھتا ہے اور اُس کنویں میں دو۲ آدمی کے قد پانی ہے اور پانی نکالتے نکالتے ز یادہ سے ز یادہ گھٹنوں تک اور کم سے کم اتنا کہ بالٹی خوب ڈوب جاتی ہے بلکہ اس کے اُوپر بھی پانی چھ سات اُنگل رہتا ہے بدیں وجوہات اسے چھوڑ د یا گیا (کہ آدمی پانی نکالتے نکالتے تھک گئے یا کنواں شق ہونے لگا یا بیٹھنے لگا تو خیال کیا کہ اس کو پھر کون بنوائے گا یہ تو بیکار ہُوا جاتا ہے) تو کنواں پاک ہُوا یا نہیں؟ (۵) وہ لوگ جو بلاتشریح در یافت کیے ہوئے ہما وشما کے کہنے سے کنویں کو پاک کرادیں یا کردیں اور پاک بھی ایسا کہ حکم پانی ٹوٹنے کا رکھتا ہو اور ٹوٹا نہ ہو ایسی نجاست جوکہ ساٹھ۶۰ڈول نکالنے سے پاک ہوسکتی ہے اور ہما و شما کے کہنے سے جنہوں نے کہ نجاست کو دیکھا بھی نہ ہو بیس۲۰ڈول نکلوادئے اور پانی کے استعمال کا حکم دے د یا کہ اب کُنواں پاک ہوگیا۔اُن کے واسطے کا کیا حکم ہے۔ (۶) اگر ناپاک پانی سے وضو یا غسل کرکے نماز پڑھی اور بعد کو ناپاکی کا حال معلوم ہوا تو نماز کب تک کی واپس دہرانا چاہئے۔
الجواب (۱) کُل پانی نکالا جائے یہاں تک کہ آدھا ڈول نہ ڈوبے اور اگر وہ کنواں نہ ٹوٹتا ہو تو اس کے پانی کا اندازہ کرلیں کہ اتنے ڈول ہے اُس قدر نکال لیں، واللہ تعالٰی اعلم۔ (۲) اس کا جواب اُوپر گزرا کہ جب آدھے ڈول سے کم بھرنے لگے تو پانی ٹوٹ گیا، واللہ اعلم۔ (۳) چڑ یا چُوہا مثلاً کنویں میں مر کر رہ گیا اور مٹی میں دب گیا کہ پانی نکالنے سے نہیں نکل سکتا تو پانی توڑ کر نکالیں اور اگر پانی کسی طرح نہ ٹوٹ سکے تو وہ کنواں اتنی مدت چھوڑ دیں کہ ظن غالب ہوجائے کہ وہ جانور اب گل کر مٹی ہوگیا ہوگا اور اس کا اندازہ چھ۶مہینے کیا گیا ہے باقی مٹی نکالنے کی کوئی حاجت کنواں پاک کرنے میں نہیں ہے۔واللہ تعالٰی اعلم۔ (۴) جتنا پانی توڑنے سے باقی رہ گیا ہو مثلاً فرض کرو کہ اگر سو۱۰۰ یا دوسو۲۰۰ ڈول اور نکالے جاتے تو آدھی بالٹی سے کم بھرتی مگر اس وقت اتنے ڈول نکالنا بوجہ مذکور مصلحت نہیں تو آج چھوڑدیں کل یا دو چار روز میں جب پانی ز یادہ ہوجائے وہ باقی کے سو۱۰۰دوسو۲۰۰ ڈول نکال دیں کنواں پاک ہوگیا لان الولاء غیرشرط (کیوں کہ مسلسل نکالنا شرط نہیں۔ت) واللہ تعالٰی اعلم۔ (۵) ایسے لوگ گنہگار ہیں اور شرعاً مستحقِ تعز یر جس کا اختیار سلطانِ اسلام کو ہوتا ہے اب اتنا ہونا چاہئے کہ اگر وہ توبہ نہ کریں تو مسلمان اُن سے میل جول ترک کردیں کہ انہوں نے شریعت میں بے جا دخل د یا اور مسلمانوں کو نجاست پلائی اور اُن کی نمازیں او ربدن اور کپڑے خراب کیے، واللہ تعالٰی اعلم۔ (۶) جب سے اُس ناپاک پانی سے وضو کرکے نماز پڑھی ہو اور اس کے بعد پاک پانی سے طہارت کرکے پاک کپڑوں سے نماز نہ پڑھی ہو مثلاً ناپاک پانی سے وضو کیا اور اس کے بعد پانی پاک کرلیا گیا اور اُس پاک پانی سے کسی دن اس طرح نہا یا کہ سر سے پاؤں تک تین بار پانی بہہ گیا اس کے بعد پاک پانی سے وضو کرتا رہا اور کسی دن سر دھو یا اور کپڑے بدلے تو اس کے بعد سے جو نمازیں پڑھیں وہ نہ پھیری جائیں گی اور اگر کپڑے نہ بدلے یا سر نہ دھو یا اور اُس پاک پانی سے وضو کرتا رہا تو سب نمازیں پھیری جائیں گی اگرچہ مہینے ہوگئے ہوں کہ بعد کے وضوؤں سے اگرچہ منہ ہاتھ پاک ہوگئے مگر وہ ناپاک پانی جو مسح میں سر کو لگا تھا وہ ہزار بار کے مسح سے بھی پاک نہ ہوگا جب تک دھو یا نہ جائے واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۳۵:ازشہر بریلی محلہ خواجہ قطب مرسلہ منشی رضا علی صاحب۲۔رمضان المبارک ۱۳۳۷ھ کیا ارشاد ہے علمائے دین کا اس مسئلہ میں کہ ٹھیلے کی رسّی جس میں ایک کپڑا لپٹا ہوا تھا اور جو بیل کے سینے کے نیچے باندھی جاتی ہے کنویں میں ڈالی گئی جس نے کپڑا رسّی پر لپیٹا تھا اس کا بیان ہے کہ کپڑا پاک لپیٹا تھا۔لوگوں کا شبہہ ہے کہ بیل کے گوبر یا پیشاب کی چھینٹیں شاید پڑی ہوں ایسی صورت میں کنواں پاک رہا یا ناپاک ہوا۔اگر ناپاک ہوا تو کس قدر پانی نکالنا چاہئے۔
الجواب: کنواں پاک ہے اصلاً کچھ نکالنے کی حاجت نہیں۔واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۳۶:ازشہر بریلی محلہ خواجہ قطب مسئولہ مسعودعلی ۲۔رمضان المبارک ۱۳۳۷ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ٹھیلے میں بیل کے جوتنے کے لئے بیل کے سینہ بند اور گردن میں ایک رسّی بندھی ہُوئی تھی اور اس کے سینے اور گردن کی خراش بچانے کے واسطے ایک بے نمازی عورت کا مَیلا دوپٹّا رسّی پر لپٹا ہوا جو کہ ایک عرصہ دراز تک استعمال میں آچکا ہے اس حالت میں ظن ہے کہ رسّی اور کپڑا گوبر اور پیشاب کی آلودگی سے یا اُس خون اور رطوبت سے جو بیل یا پہیّے کی رگڑ سے کھال چھلنے کے بعد نکلتا ہے نہیں بچا ہوگا وہ کنویں میں گر گیا اس حالت میں کنواں پاک ہے یا نجس۔
الجواب: بے نمازی عورت کا مَیلا دوبٹا ہونے سے اس کی ناپاکی لازم نہیں نہ عرصہ دراز تک استعمال سے نہ سینے کی رسّی کو گوبر اور پیشاب سے علاقہ،رہا کھال چھل کر خون نکلنا یہ ثبوت طلب ہے نکلا ہوگا کافی نہیں یہ معلوم وثابت وتحقیق ہونا لازم کہ واقعی خُون و غیرہ نجس رطوبت نکل کر اس کپڑے میں لگی تھی اس تحقیق کے بعد ضرور کنواں ناپاک مانا جائے گا اور کُل پانی نکالنے کا حکم ہوگا ورنہ وہم وشک پر نجاست نہیں ہوسکتی ایسا ہی ز یادہ شک ہو تو بیس۲۰ڈول نکال دیں جن سے مقصود نہ کنواں بلکہ اپنے دل کا شک سے پاک کرنا،واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۳۷:ازشہرکہنہ بریلی محلہ گھیر جعفر خان پنجابی ٹولہ مسئولہ جناب محمود علی خان صاحب رضوی۸ شوال ۱۳۳۷ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک کنواں ہے جس میں پانی اس قدر ہے کہ ایک حوض دہ در دہ اُس کے پانی سے بذریعہ چرسے کے بھر د یا جاتا ہے مگر پانی اُس کا نہیں ٹوٹتا اُس کنویں میں گلہری گر کر مرگئی اور سڑ کر پھٹ گئی ایسی حالت میں کس قدر پانی نکالا جاوے کہ کنواں پاک ہوجاوے۔
الجواب: اگر کنواں آپ دہ در دہ ہو یعنی اس کا قطر پانچ گز دس گرہ ایک اُنگل ہو جب تو ناپاک نہ ہوگا اور اس سے کم ہے تو ذراسی نجاست سے اُس کا کُل پانی ناپاک ہوجائے گا اگرچہ کثرت عمق یا ز یادات آمدِ آب کے سبب اُس سے دس۱۰ حوض دہ در دہ بھر سکیں۔اس صورت میں اُس میں جتنے ڈول پانی ہو وہ ناپ کر نکال د یا جائے پاک ہوجائے گا خواہ دفعۃً نکالیں یا کئی روز میں اور خواہ نکالنے سے اس کا پانی ٹوٹ جائے یا اصلاً نہ گھٹے ہر صورت میں اُتنے ڈول نکالنے سے پاک ہوجائے گا اور وہ جو آج کل بعض بے علم لوگ ایسے کُنویں سے ۳۰۰ یا ۳۶۰ ڈول نکالنا کافی بتاتے ہیں غلط ہے۔ ناپنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ رسّی میں پتھّر باندھ کر آہستہ آہستہ چھوڑیں، خم نہ پڑے جب تہہ کو پہنچ جائے نکال کر ناپیں کہ اتنے ہاتھ پانی ہے پھر جلد جلد سو۱۰۰ ڈول کھینچ کر ایسے ہی ناپیں جتنا پانی گھٹا اس سے حساب لگالیں مثلاً بیس۲۰ ہاتھ پانی ناپ میں آ یا اور سو۱۰۰ڈول نکالنے سے ایک ہاتھ گھٹا تو ۱۹۰۰ ڈول اور نکالیں یا دو۲ معتبر شخص کہ پانی میں نگاہ رکھتے ہوں اندازہ کرکے بتادیں کہ اس میں اتنے ڈول پانی ہے ہزار دوہزار جتنے بتائیں اُس قدر نکال دیں واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۳۸:از رامہ تحصیل گوجرخان ڈاکخانہ جاتلی ضلع راولپنڈی مرسلہ قاضی تاج محمود صاحب ۱۰۔شوال ۱۳۳۸ھ اگر سگ کنویں میں گر پڑے اور اس کے مُنہ کے پانی میں داخل ہونے کی ثبوت نہیں ملتی پانی کا کیا حکم ہے۔
الجواب ز یادہ احتیاط یہ ہے کہ کُل پانی نکالیں کہ بہت مشائخ کے نزدیک وہ نجس العین ہے مگر صحیح ومعتمد یہ کہ اُس کا حکم باقی سباع کے مثل ہے کہ صرف لعاب ناپاک ہے تو اگر منہ پانی نہ پہنچا صرف بیس۲۰ ڈول تطییبِ قلب کےلئے کافی ہیں، دُرمختار میں ہے:
لواخرج حیا ولیس بنجس العین ولا بہ حدث او خبث لم ینزح شیئ الاان یدخل فمہ الماء فیعتبر بسورہ فان نجسا نزح الکل والا لا ھو الصحیح ۱؎۔
اگر زندہ نکالاگیا اور وہ نہ تو نجس عین ہے اور نہ ہی کوئی نجاست لگی ہوئی ہے توکچھ بھی نہیں نکالا جائےگامگر یہ کہ اس کا منہ پانی تک پہنچ جائے تو اس وقت اس کے جھُوٹے کا اعتبار کیا جائے گا،اگر ناپاک ہے تو تمام پانی نکالا جائے ورنہ نہیں۔یہی صحیح ہے۔(ت)
(۱؎ درمختار فصل فی البئر مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱/۳۹)
ردالمحتار میں ہے: قولہ لم ینزح شیئ ای وجوبا لما فی الخانیۃ لوقعت شاۃ وخرجت حیۃ ینزح عشرون دلوا لتسکین القلب لاللتطھیر ۲؎۔ واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
اس (صاحبِ دُرمختار) کے قول ''لم ینزح شیئ ''(کچھ بھی نہ نکالا جائے) سے مراد یہ ہے کہ نکالنا واجب نہیں جیسا کہ خانیہ میں ہے کہ اگر بکری گر جائے اور زندہ نکل آئے تو اطمینانِ قلب کےلئے بیس ڈول نکالے جائیں، پاک کرنے کےلئے نہیں۔واللہ تعالٰی اعلم (ت)
(۲؎ ردالمحتار فصل فی البئر مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/۱۵۶)
مسئلہ ۱۳۹:ازضلع فریدپور موضع قنل نگر مرسلہ عبدالغنی صاحب ۲۲ ذیقعدہ ۱۳۳۸ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک بہشتی بے نمازی جو چھوٹا استنجا پانی سے نہیں کرتے معمولی طور پر غسل کرکے یعنی ایک ڈول پانی سرپر ڈال کر کنویں میں غوطہ لگا یا تھا اور استعمالی کپڑا بھی نہیں بدلا تھا اب اس کنویں کا کیا حکم ہے بینوا توجروا۔
الجواب: اگر چھوٹا استنجا ڈھیلے سے کرلیا ہو اور بدن یا کپڑے پر کوئی نجاست ہونا تحقیق نہ ہو تو بیس۲۰ڈول نکالیں ورنہ کل پانی۔ واللہ تعالٰی اعلم۔