الجواب (۱) دہ در دہ ہونے کو عرض و طول اتنا چاہئے جن کا حاصل ضرب سو۱۰۰ ہاتھ ہو اور عمق اتنا کہ لپ سے پانی لیں تو زمین نہ کھلے۔ (۲) دَہ در دہ حکم جاری میں ہے اور اس کی وجہ اندازہ ائمہ کہ مائے کثیر کی یہ تقد یر فرمائی کمابیناہ فی فتاوٰنا (جیسے ہم نے اپنے فتاوٰی میں بیان کیا ہے۔ت)
ردالمحتار میں ہے: ذکر بعض المحشین عن شیخ الاسلام العلامۃ سعد الدین الد یری فی رسالتہ القول الراقی انہ حقق فیھا ما اختارہ اصحاب المتون من اعتبار العشر و اورد نحومائۃ نقل ناطقۃ بالصواب ولایخفی ان الذین افتوا بالعشر کصاحب الھدا یۃ وقاضی خان و غیرھما من اھل الترجیح ھم اعلم بالمذھب منا فعلینا اتباعھم ۱؎ ۔۔۔الخ۔
بعض حاشیہ نگاروں نے شیخ الاسلام علامہ سعد الدین د یری سے نقل کیا،انہوں نے اپنے رسالہ ''القول الراقی فی حکم الفساقی''میں دہ در دہ کے اعتبار میں اصحابِ متون کی مختار بات کو صحیح ثابت کرتے ہوئے (اس کی تائید میں) تقریباً ایک سو صحیح اقوال نقل کےے ہیں۔مخفی نہ رہے کہ متاخرین مثلاً صاحبِ ہدایہ اور قاضیخان نے جو (ہرطرف سے دس گز کا) فتوٰی تو وہ لوگ اہلِ ترجیح میں سے ہیں مذہب کا علم ہم سے ز یادہ رکھتے ہیں لہذا ہم پر ان کی اتباع ضروری ہے الخ (ت)
( ۱؎ ردالمحتار باب المیاہ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/۱۴۱)
(۳) مینہ کا پانی جب تک بہہ رہا ہے اگرچہ اُس میں نجس پانی یا اور نجاستیں ملیں ناپاک نہ ہوگا جب تک اس کا رنگ یا مزہ یا بُو نجاست کے سبب نہ بدلے
فان الماء طھورلاینجسہ شیئ مالم یتغیر احد اوصافہ ۲؎
(بے شک پانی پاک ہے اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی جب تک اس کا کوئی وصف نجاست کی وجہ سے نہ بدلے۔ت)
(۲؎ ردالمحتار باب المیاہ ،مطبوعہ مصطفی البابی مصر ، ۱/۳۳)
تو بارش کا پانی جب تک بہتا ہُوا اس گڈھی کے کناروں تک آ یا اور اس کا کوئی وصف نجاست نے نہ بدلا پاک ہے اگرچہ اس میں ناپاک نالیوں کے پانی و غیرہ شامل ہوں اگرچہ گڈھی کے کنارے پر نجاستیں پڑی ہوں۔
ایک حالت تو یہ تھی، دُوسری حالت اُس پانی کے گڈھی میں داخل ہونے کی ہے اس وقت اگر اس میں کوئی نجاست مرئیہ نہیں صرف ناپاک نالیوں کے پانی اس کے ساتھ بہہ کر آئے ہیں اور اُن سے اس کا کوئی وصف نہ بدلا اور دَہ در دَہ کی مساحت میں پھیلنے تک گڑھی کے اندر بھی کسی نجاست سے نہ ملا اگرچہ آگے بڑھ کر نجاستوں سے ملے تو اندر بھی یہ پانی پاک ہی رہے گا وہ ناپاک پانی جو اُس کے ساتھ بہہ کر آئے تھے اُن کو بھی اس نے پاک کرد یا
فان الماء الجاری یطھر بعضہ بعضا ۳؎
(جاری پانی کا بعض (اس کے) دوسرے بعض کو پاک کردیتا ہے۔ت)
(۳؎ ردالمحتار ، باب المیاہ،مطبوعہ مصطفی البابی مصر،۱/۱۴۰)
اور اب یہ پانی کبھی ناپاک نہ ہوگا اگرچہ گڑھی کے اندر کتنی ہی نجاستیں ہوں اور اُوپر سے کتنی ہی نجاستیں ڈالی یا دھوئی جائیں جب تک خاص نجاست کی وجہ سے اُس کا کوئی وصف بدلنا معلوم نہ ہو خواہ گڑھی سے باہر اُبل کر بہے یا اُس میں رُکا رہے۔
اور اگر گڑھی میں داخل ہوتے وقت اس میں نجاست مرئیہ تھی یا اس کا کوئی وصف نجاست سے بدلا ہوا تھا یا دَہ در دَہ کی مساحت میں پھےلنے سے پہلے گڑھی کے اندر کسی نجاست سے ملا تو یہ پانی ناپاک ہے اس قسم کا پانی جتنا بھی آتا جائے گا سب ناپاک ہوگا اگرچہ اس سے ساری گڑھی بھر جائے مگر یہ کہ گڑھی میں پہلے سے دَہ در دَہ پاک پانی ہوکر اب یہ بھی اس سے مل کر پاک ہوتا جائےگا جب تک نجاست تبدےل وصف نہ کرے یا یہ ہوکہ مثلاً بارش کا پانی پاک اس پر آکر اُسے بہادے اُبال کر گڑھی سے باہر نکال دے تو پاک ہوجائےگا اور پھر ٹھہر کر بھی پاک ہی رہے گا اگرچہ نالہ و غیرہ سے اُس میں نجاستیں آکر شامل ہوں جب تک نجاست اُس کا کوئی وصف نہ بدل دے اور اگر گڑھی میں مثلاً دو طرف سے بارش کا بہاؤ آ یا ایک جانب دہ در دہ کی مساحت سے پہلے ہی نجاستیں تھیں یا خود اس بہتے پانی میں نجاست مرئیہ موجود تھی کہ گڑھی میں داخل ہوکر ناپاک ہوگیا اور دوسری جانب کا پانی کوئی نجاست مرئیہ بہاکر نہ لا یا تھا اور گڑھی کے اندر بھی دہ در دہ ہونے سے پہلے کسی نجاست سے نہ ملاکہ پاک رہا اب یہ دونوں پانی مل گئے تو ناپاک طرف کا پانی بھی پاک ہوگیا لانہ فی حکم الجاری ۱؎ (کیونکہ وہ جاری پانی کے حکم میں ہے۔ت) اس طرح پاک وناپاک پانی مل کر گڑھی بھرے تو سب پاک ہے اور نہ بھرے تو سب پاک ہے جب تک نجاست تبدیل وصف نہ کرے۔
(۱؎ ردالمحتار، باب المیاہ، مطبوعہ مصطفی البابی مصر، ۱/۱۴۰)
(۴ و ۸) یہ گڑھی دہ در دہ سے بہت زائد ہے کہ اُسے سو۱۰۰ ہاتھ درکار ہے اور یہ ہزاروں ہاتھ ہے۔
(۵) دہ در دہ کا رنگ یا بُو یا ذائقہ اگر نجاست ملنے کے سبب بدل جائے تو ضرور ناپاک ہوجائے گا اور پاک چیزوں کے سڑنے یا بہت دن گزرنے سے تینوں وصف بدل جائیں تو کچھ حرج نہیں اور تحقیق نہ ہوکہ یہ تغیر کس وجہ سے ہے تو حکم جواز ہے،درمختار میں ہے:
ینجس بتغیر احد اوصافہ من لون اوطعم اوریح بنجس لا لوتغیر بطول مکث ولوشک فالاصل الطھارۃ ویجوز بماء خالطہ طاھر جامد کاشنان وزعفرانوفاکھۃ ورق شجر وان غیر کل اوصافہ ۱؎۔
نجاست ملنے سے پانی کے رنگ، ذائقے اور بُو میں کسی ایک وصف کے بدلنے سے پانی ناپاک ہوجاتا ہے ز یادہ ٹھہرنے کی وجہ سے تبدےل ہوتو ناپاک نہیں ہوتا کیونکہ طہارت اصل ہے اور اس پانی سے وضو جائز ہے جس میں کوئی ٹھوس پاک چیز مثلاً اُشنان،زعفران، پھل اور درختوں کے پتّے مل جائیں اگرچہ وہ اس کے تمام اوصاف بدل دے۔(ت)
(۱؎ درمختار باب الم یاہ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱/۳۵)
(۶) دہ دَردہ کے عرض و طول میں کچھ اختلاف نہیں ہوسکتا کہ اس کا مفاد ہی سو۱۰۰ ہاتھ ہے، ہاں اس میں اختلاف ہے کہ عرض وطول دس دس ہاتھ ہونا ضرور یا صرف حاصل ضرب سو۱۰۰ ہاتھ ہونا کافی مثلاً ۲۵ ہاتھ طول ۴ ہاتھ عرض یا ۵۰ ہاتھ طول ۲ ہاتھ عرض اور یہی صحیح ہے اور عمق ہیں صحیح ومعتمد یہی ہے کہ پانی لینے سے زمین نہ کھلے ہمارے فتاوی میں اس مسئلہ میں خاص ایک رسالہ ہے ھبۃ الحبیر فی عمق ماء کثیر(۱۳۳۴)جسے تحقیق بازغ وتنقیح بالغ دیکھنی ہو اس کی طرف رجوع کرے۔
(۷) کراہت طبعی کوئی مسئلہ شرعی نہیں،ہاں کوئی محل شک ہو تو احتیاط مناسب ہے او یہ بھی نہ ہو کہ شرعاً جس کی طہارت ثابت ہو اُسے اپنی اوہام پرستی سے ناپاک سمجھے یا اس کے استعمال کرنے والوں پر طعن کرے۔حکم وہی ہے جو اللہ ورسول کا ہے اور حکم نہیں مگر اللہ رسول کےلئے جل وعلا وصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۲۴:از بلند شہر بالائے کوٹ محلہ قاضی واڑہ مرسلہ محمد عبدالسلام صاحب ۳۰۔ رمضان ۱۳۳۷ھ
یہاں جامع مسجد میں ایک حوض وضو کے لئے تعمیر ہوا اس کے بنانے میں جو خرچ ہوا اس کی کیفیت یہ ہے کہ کچھ روپیہ تو اہلِ محلہ سے لیا گیا اور اس کے علاوہ مبلغ عــہ۱۰روپیہ مرغ بازی کی شرط کے بھی اسی حوض میں خرچ ہوئے اور کچھ روپیہ جو برادری میں کسی آدمی پر ایک مقدمہ میں ڈنڈ ڈالا گیا تھا وہ بھی اس حوض میں صرف ہوا۔آ یا اس حوض کے پانی سے وضو جائز ہے یا نہیں؟
الجواب: اس سے وضو جائز ہے اول تو حرام روپیہ حوض میں خود نہ لگا یا گیا بلکہ اُس کے عوض اینٹ یا مسالا خریدا یا راج مزدوروں کی اُجرت میں د یا ہوگا بصورتِ اجرت تو ظاہر ہے کہ اُس خبیث مال کو حوض سے تعلق نہ ہوا اور بصورت خریداری یہاں عام خریدار یاں یوں ہوتی ہیں کہ اتنے کی فلاں چیز دے دو اُس نے دی اس کے قبضے میں آگئی بیع تمام ہوگئی اس کے بعد قیمت دی جاتی ہے تو عقد ونقد زرحرام میں جمع نہ ہوا تو خریدی شے میں خباثت نہ آئی کماھو قول الامام الکرخی المفتی بہ علی مافصلناہ فی فتاوٰنا (جیسا کہ امام کرخی رحمہ اللہ تعالٰی کا مفتٰی بہ قول ہے ہم نے اپنے فتاوٰی میں اسے مفصل بیان کیا ہے۔ت) اور اگر بالفرض عقد و نقد اُس شرا میں حرام پر جمع ہوئے ہوں مثلاً وہ زرحرام دکھا کر کہا اس کے بدلے فلاں چیز دے اُس نے دے دی اس نے زرحرام ثمن میں دے د یا تو اگرچہ اب وہ خریدی ہوئی شے خبیث ہُوئی مگر کیا معین کرسکتا ہے کہ وہ اینٹ یا مسالا کون سا ہے مجہول حالت میں حکم ممانعت نہیں ہوسکتا۔
امام محمد فرماتے ہیں:بہ ناخذ مالم یعرف شیئا حراما بعینہ ھند یۃ عن الذخیرۃ ۱؎۔
ہم اسی بات کو اختیار کریں گے جب تک کسی معین چیز کا حرام ہونا معلوم نہ ہو اسے فتاوٰی ہندیہ میں ذخیرہ سے نقل کیا گیا۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ الباب الثانی عشر فی الہدا یا۔ الخ نورانی کتب خانہ پشاور ۵/۳۴۲)
ہاں اگر اکثر چُنائی ایسی ہی خبیث اشیا سے ہو تو اس سے وضو نہ کرنا مناسب ہے
لان للاکثر حکم الکل فی ۲؎ ھذا عند قوم
(کیونکہ بعض لوگوں کے نزدیک ایسی صورت میں اکثر کُل کے حکم میں ہوتا ہے۔ت) اگرچہ اس کے پانی میں کوئی نقص نہیں،نہ اس سے وضو صحیح وبے خلل ہونے میں کوئی نقص اگرچہ کل حوض کی تعمیر زر حرام سے ہو لان الکراھۃ لمجاور(کیونکہ کراہت،اس سے ملنے والی چیز کے باعث ہے۔ت) واللہ تعالٰی اعلم۔
(۲؎ یتبیین الحقائق باب مسح الخفین المطبعۃ الکبرٰی الامیریہ مصر ۱/۵۰)
مسئلہ ۱۲۵:از باسنی متصل ناگور ماڑواڑ مرسلہ امیر احمد صاحب۹۔ شوال ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسجد کا دہ در دہ حوض طول مکث وکثیر الاستعمال کی وجہ سے بدبُو کرجائے اور رنگ میں تغیر آجائے تو وضو کرنا درست ہے یا نہیں۔ایک مولوی صاحب ماءِ مستعمل غیر مطہر قرار دے کر پیشاب کے برابر فرمارہے ہیں اور یہ بھی فرمارہے ہیں کہ ہمارے امام صاحب کے نزدیک ماءِ مستعمل نجس بہ نجاست غلیظہ ہے لہذا نجس ہے تو کیا وہ دہ در دہ حوض کا پانی مستعمل قرار د یا جاسکتا ہے مولٰنا عبدالحی صاحب لکھنوی مرحوم فتاوٰی عالمگیری وفتاوٰی قاضی خان کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے فتاوٰی میں تحر یر فرماتے ہیں کہ ایسے پانی سے وضو بنانا درست ہے
(بڑے بدبودار حوض سے وضو کرنا جائز ہے جب تک نجاست کا علم نہ ہو۔ت) اسے مولوی صاحب موصوف تسلیم نہیں کرتے۔
(۳؎ فتاوٰی ہندیہ الفصل الاول من باب المیاہ المطبعۃ الکبرٰی الامیریہ مصر ۱/۱۸)
الجواب طول مکث سے بدبولانا پانی کو نجس نہیں کرسکتا اگرچہ کٹورا بھر ہو،تنو یر و غیرہ متون میں ہے:
ینجس بتغیر احد اوصافہ بنجس لا لوتغیر بمکث ۱؎۔
نجاست ملنے سے کوئی وصف بدل جائے تو پانی ناپاک ہوجاتا ہے ز یادہ د یر ٹھہرنے سے بدلے تو ناپاک نہیں ہوتا۔ (ت)
(۱؎ درمختار مع التنو یر باب المیاہ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱/۳۵)
درمختار میں ہے: فلوعلم نتنہ بنجاسۃ لم یجز ولوشک فالاصل الطھارۃ ۲؎۔
اگر نجاست کی وجہ سے پانی کے بدبودار ہونے کا یقین ہو تو وضو جائز نہیں اور اگر شک ہوتو اصل چیز طہارت ہے (لہذا جائز ہوگا)۔(ت)
(۲؎ درمختار مع التنو یر باب المیاہ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱/۳۵)
دہ در دہ حوض قلیل نجاست سے بھی ناپاک نہیں ہوتا نہ کہ مائے مستعمل سے مائے مستعمل صحیح ومعتمد ومفتی بہ مذہب میں ناپاک نہیں طاہر غیر مطہر ہے یہی ہمارے امام اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کا مذہب معتمد ہے۔
تنویرالابصار میں ہے:وھو طاھر لیس بطھور ۳؎۔
اور وہ پاک ہے پاک کرنے والا نہیں۔(ت)
(۳؎ درمختار مع التنو یر باب المیاہ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱/۳۷)
ردالمحتار میں ہے: رواہ محمد عن الامام وھذہ الروا یۃ ھی المشھورۃ عنہ واختارھا المحققون قالوا علیھا الفتوٰی ۴؎۔
اسے امام محمدرحمہ اللہ تعالٰی نے امام اعظم رحمہ اللہ تعالٰی سے روایت کیا ہے اور ان سے مشہور روایت یہی ہے اور محققین نے اسے اختیار کیا ہے اور فرما یا اسی پر فتوٰی ہے۔(ت)
(۴؎ ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱/۱۴۷)
مائے مستعمل اگر غیر مستعمل سے زائد یا برابر ہوجائے تو مجموع سے وضو ناجائز ہوگا اور مستعمل کم ہے تو وضو جائز ۔درمختار میں ہے:
غلبۃ المخالط لومماثلا کمستعمل فبالاجزاء فان المطلق اکثر من النصف جاز التطھیر بالکل والا لا ۱؎۔
اگر (پانی میں) ملنے والی چیز اسی جیسی ہو جیسے مستعمل پانی تو غلبے کا اعتبار اجزاء کے اعتبار سے ہوگا اگر مطلق پانی نصف سے ز یادہ ہے تو تمام پانی سے طہارت حاصل کرنا جائز ہے ورنہ نہیں۔(ت)
(۱؎ درمختار باب المیاہ مجتبائی دہلی ۱/۳۴)
بالجملہ حوض مذکور سے وضو بلاشبہ جائز ہے اور معترض کا قول غلط وناقابل التفات۔واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۲۶ :از پوربندرکاٹھ یا وار میٹھی مسجد مرسلہ سید غلام محمد صاحب۱۱۔شوال ۱۳۳۷ھ
امام العلماء المحققین مقدام الفضلاء المدققین جامع شریعت وطریقت حکیم امت مولٰنا ومرشدنا ومخدومنا مولوی حاجی قاری شاہ احمد رضا خان صاحب متع اللہ المسلمین بطول بقائہم۔
بعد تسلیم فدویت ترمیم معروض رائے شریف وذہن لفیط ہوکہ ایک حوض دہ در دہ ہے عرض و طول میں لیکن حوض کو اوپر کو پتھّر لگانے سے مُنہ حوض کا کم از دہ در دہ ہوگیا ہے اس صورت میں حوض پانی سے پُورا بھر د یا جاتا ہے بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس حوض میں وضو نہیں ہوتا اس لئے کہ دہ در دہ کی حد سے پانی تجاوز کرجاتا ہے اور پانی بھی ہلتا نہیں ہے،اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ وضو ہوجاتا ہے اس لئے یہاں پر لوگوں میں سخت فساد واقع ہے۔سو حضرت مسئلہ کا خلاصہ کرکے تحر یر فرمائیں تاکہ اس پر عمل کیا جاوے۔بینوا توجروا۔
الجواب :وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ،
اگر پانی پتھّر سے نےچا ہے تو وہ دہ در دہ ہے نجاست سے بھی ناپاک نہ ہوگا جب تک اُس سے مزہ یا رنگ یا بُو نہ بدلے اور پانی اُس حد سے اونچا ہوکر پتھّر سے گھر جائے اور پتھر کے بےچ میں مساحت دہ در دہ سے کم ہے تو اب دہ در دہ نہ رہا ایک خفیف قطرہ نجاست سے ساری سطح ناپاک ہوجائے گی ہاں وضو کےلئے ہاتھ ڈال کر پانی لینے سے مستعمل نہ ہوگا بے وضو پاؤں ڈال دینے سے مستعمل ہوجائےگا قابلِ وضو نہ رہے گا وضو کا مستعمل پانی اُس میں گرنے سے مستعمل نہ ہوگا جب تک مستعمل غیر مستعمل سے ز یادہ یا مساوی نہ ہوجائے اس کے پاک کردینے کو یہ کافی ہے کہ اوپر کا حصّہ پانی کا نکال دیں یہاں تک کہ صرف پتھر کے نےچے نےچے پانی رہ جائے جہاں سے دہ در دہ ہے وہ سب پاک ہے واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۲۷:ازمدرسہ منظر اسلام بریلی مسئولہ مولوی عبداللہ بہاری۳۔شوال ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کہتا ہے وضو کے پانی کے قطرے کپڑے یا کسی چیز پر گریں گے تو وہ ناپاک ہوجائے گا اور اگر جماعت ختم ہونے پر ہے اس صورت میں وہ بلا ہاتھ پاؤں پونچھے شریک جماعت ہوگیا تو جو قطرے اس کی رِیش و غیرہ سے گریں گے اُس سے رحمت کے فرشتے پیدا ہوں گے۔ حضور کا اس بارے میں کیا ارشاد ہے، بینوا توجروا۔
الجواب اُن قطروں سے کپڑا ناپاک نہیں ہوتا،مگر مسجد میں اُن کا گرانا جائز نہیں بدن اتنا پُونچھ کر کہ قطرے نہ گریں مسجد میں داخل ہو اور ان قطروں سے رحمت کے فرشتے بننا مجھے معلوم نہیں،واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۲۸: ازشہرگیا محلہ نذرگنج مسئولہ شمس الدین احمد اللہ خان ۸۔شوال ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ حُقّہ کے پانی سے وضو جائز رکھا گیا ہے وہ کون حالت اور کس وقت پر؟
الجواب: جب آب مطلق اصلاً نہ ملے تو یہ پانی بھی آب مطلق ہے اس کے ہوتے ہوئے تیمم ہرگز صحیح نہیں اور اُس تیمم سے نماز باطل۔واللہ تعالٰی اعلم۔