| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۴(کتاب الطہارۃ) |
امام ابن امیر الحاج حلبی حلیہ میں فرماتے ہیں: فی المحیط نص محمد فی السیر الکبیر فقال و ینبغی للکافر اذا اسلم ان یغتسل غسل الجنابۃ لان المشرکین لایغتسلون من الجنابۃ ولایدرون کیفیۃ الغسل اھ۔وفی الذخیرۃ من المشرکین من لایدری الاغتسال من الجنابۃ ومنھم من یدری کقرشی فانھم توارثوا ذلک من اسمٰعیل علیہ الصّلٰوۃ والسلام الا انھم لایدرون کیفیتہ لایتمضمضون ولایستنشقون وھما فرضان الا تری ان فرضیۃ المضمضۃ والاستنشاق خفیت علی کثیر من العلماء فکیف علی الکفار فحال الکفار علی مااشار الیہ فی الکتاب اما ان لایغتسلوا من الجنابۃ اویغتسلون ولکن لایدرون کیفیتہ وای ذلک کان یؤمرون بالاغتسال بعد الاسلام لبقاء الجنابۃ وبہ تبین ان ماذکر بعض مشایخنا ان الغسل بعد الاسلام مستحب فذلک فیمن لم یکن اجنب اھ۔مختصرا ۱؎۔
محیط میں ہے: ''امام محمد رحمہ اللہ تعالٰی نے سِیر کبیر میں تصریح فرمائی ہے کہ کافر جب اسلام قبول کرے تو اُسے غسلِ جنابت کرنا چاہئے کیونکہ مشرکین جنابت کا غسل نہیں کرتے اور نہ ہی غسل کا طریقہ جانتے ہیں'' (انتہی)۔ اور ذخیرہ میں ہے کہ بعض مشرک غسلِ جنابت کا علم نہیں رکھتے اور بعض جیسے کفارِ قریش جانتے ہیں کیونکہ وہ حضرت اسمٰعیل علیہ السلام سے نسلاً بعد نسلٍ ایسا کرتے آئے ہیں لیکن وہ اس کا طریقہ نہیں جانتے ہیں وہ نہ کُلی کرتے ہیں نہ ناک میں پانی چڑھاتے ہیں حالانکہ یہ دونوں باتیں فرض ہیں۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ کُلی کرنے اور ناک میں پانی چڑھانے کی فرضیت بہت سے اہلِ علم پر مخفی ہے تو کفار پر اس کے پوشیدہ رہنے کا کیا حال ہوگا لہذا کفار کا وہی حال ہے جس کی طرف انہوں نے (امام محمد رحمہ اللہ تعالٰی نے) کتاب (سِیر کبیر) میں اشارہ فرما یا کہ یا تو وہ غسلِ جنابت کرتے ہی نہیں یا غسل تو کرتے ہیں لیکن اس کا طریقہ نہیں جانتے۔ جو بھی بات ہو بہرحال اسلام لانے کے بعد ان کو غسل کرنے کا حکم د یا جائےگا کیونکہ جنابت باقی ہےاس سے ظاہر ہوا کہ بعض مشایخ کا یہ کہنا کہ اسلام لانے کے بعد غسل کرنا مستحب ہے۔ اس شخص کے بارے میں ہے جو جنبی نہ ہو اھ مثلاً بلوغ سے پہلے اسلام لے آ یا (مختصراً)(ت)
(۱ حلیہ )
ہاں یہ اور بات ہے کہ بحال جنابت بلاضرورت ذبح نہ چاہئے کہ ذبح عبادت الٰہی ہے جس سے خاص اُس کی تعظم چاہی جاتی ہے پھر اُس میں تسمیہ وتکبیر ذکرِ الٰہی ہے تو بعد طہارت اولٰی ہے اگرچہ ممانعت اب بھی نہیں۔
دُرمختار میں ہے: لایکرہ النظر الی القراٰن لجنب کما لا تکرہ ادعیۃ ای تحریما والا فالوضوء لمطلق الذکر مندوب وترکہ خلاف الاولٰی۱؎ ۔واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
جنبی کے لئے دُعائیں پڑھنے کی طرح قرآن پاک کو دیکھنا بھی مکروہ نہیں اور اس سے مکروہ تحریمیہ مراد ہے ورنہ مطلق ذکر کےلئے وضو کرنا مستحب ہے اور اس کا چھوڑنا خلافِ اولٰی ہے۔ اور اللہ تعالٰی بہتر جانتا ہے (ت)
سوال۱۲۰:دوم اگر زید غسل خانہ میں غسل جنابت یا احتلام کاکرتا ہے اور وضو کرکے تہبند نکال کر غسل کرے تو غسل اُترتا ہے یا نہیں، غسل خانہ اوپر سے بند ہو یا کھلا، دونوں صورتوں میں کیا حکم ہے؟
الجواب: سارے بدن پر پانی بہنے سے غسل اترتا ہے جس میں حلق تک مُنہ اور ہڈی کے کناروں تک اندر سے ناک کا بانسا بھی داخل ہے اس کے بعد جیسے بھی ہو غسل اُتر جائے گا، ہاں کھُلے غسل خانے میں ننگا نہ ہونا بہتر ہے اور اگر وہاں قریب بلند مکان ہوں جس سے احتمال ہوکہ کسی کی نظر پڑے گی تو وہاں تہبند رکھنے کی تاکید ہے۔ وہ احتمالِ نظر جتنا قوی ہوگا اُتنی ہی یہ تاکید بڑھتی جائے گی یہاں تک کہ اگر نظر پڑنے کا ظن غالب ہوگا تہبند رکھنا واجب ہوگا اور وہاں برہنہ نہانا گناہ واللہ تعالٰی اعلم۔
(۱؎ دُرمختار کتاب الطہارۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱/۳۳)
ذیل باب المیاہ
مسئلہ ۱۲۱ : ازپولول مولول ڈاک خانہ ہیروں ضلع دربھنگہ بلگرام چرن مرسلہ عبدالحکیم صاحب۲۱ جمادی الاولٰی ۱۳۳۶ھ ان اطراف کے مولوی کہتے ہیں کہ ہندوؤں کے جھُوٹے پانی سے وضو درست ہے۔اس پر ہم کو شک ہے اس شک کو رفع کیجئے۔
الجواب: ہندو تو ہندو بے وضو مسلمان بھی مثلاً جس کٹورے یا بادیے سے منہ لگا کر پئے گا اُس پانی سے وضو جائز نہ رہے گا مگر یہ کہ وہ پانی تھوڑا ہو اور اُسے اچھے پانی میں کہ اس سے زائد ہے ملاد یا جائے پھر بھی کافر کے جھُوٹے سے احتراز چاہئے۔ حدیث میں ہے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: ا یاک ومایسوء الاذن ۱؎ (جس بات کا سُننا (شرعاً) ناگوار ہو اس سے بچو۔ت)
(۱؎ مسند احمد بن حنبل عن ابی الغاد یۃ المکتبۃ الاسلامی بیروت ۴/۷۶)
ہاں اگر اس کے سوا اور پانی نہ ملے اور اس کا نجس یا مستعمل ہونا ثابت نہ ہو تو بضرورت آپ ہی اُس سے وضو کرنا ہوگا ایسے مسائل یوں اطلاق کے طور بیان کرنا مسلمانوں کی خیر خواہی نہیں واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۲۲: از ڈاکخانہ راموچکما کول ضلع چٹاگانگ مدرسہ عزیزیہ مرسلہ سید محمد مفیض الرحمن صاحب ۹۔جمادی الاخرہ ۱۳۳۶ھ جو حوض دہ در دہ یا اس سے بڑا ہو مگر موسم گرما میں خشک ہونے کے باعث پانی دہ در دہ سے کم ہوگیا اب اگر حوض میں کوئی نجاست گر جائے بشرطیکہ اوصاف ثلٰثہ میں سے کوئی وصف متغیر نہ ہو وہ پانی پاک ہوگا یا ناپاک؟
الجواب: حوض اگرچہ ہزار درہزار ہو جبکہ اس وقت اُس میں پانی دَہ در دہ سے کم ہے ایک ذرہ نجاست اسے ناپاک کردے گا اگرچہ کوئی وصف نہ بدلے واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۱۲۳:موضع بیتھوڈاک خانہ وضلع گیا مسئولہ جناب الطاف اشرف صاحب۳۔محرم الحرام ۱۳۳۷ھ (۱) دہ در دہ کے عمق و عرض و طول کا کس قدر ہونا لازم ہے۔ (۲) دہ در دہ حکم جاری کا رکھتا ہے یا نہیں اور رکھتا ہے تو کس وجہ کر اور نہیں رکھتا ہے تو کس وجہ کر۔ (۳) اس موضع کے جانب غرب ایک گڈھی ہے جس کو لوگ پوکھر کہا کرتے ہیں متصل بستی کے پیش دروازہ ایک شخص کے واقع ہے جس کا نقشہ حسب ذیل ہے گڈھی کے جانب شرق ایک چھوٹانالہ ہے معروف پل سے ہے _ یہ نالہ ہمیشہ خشک رہتا ہے جب زمانہ برسات کا ہوتا ہے تو ہمیشہ یا جب آبِ باراں ہوتا ہے تو اس نالہ سے تمام بستی کاپانی ہر اقسام کا ناطاہر گڈھی مذکور میں گراکرتا ہے اور زمانہ خشکی میں جب یہ گڈھی خشک ہوتی ہے تو لوگ کمینہ اس میں بول وبراز کیا کرتے ہیں اور اس گڈھی کے کنارے میں ہر چہار جانب ہمیشہ بَول وبراز ہُوا کرتا ہے اور جب اس میں پانی رہتا ہے تو دھوبی کپڑا بھی دھوتا ہے اور کمینا یان آب دست بھی کیا کرتے ہیں اور کمینا یان کی عورتیں کپڑے ناطاہر ہر اقسام کے دھوتی ہیں اور گندی وناطاہر چیزیں بھی اُس میں لوگ پھینکا کرتے ہیں۔ اور زمانہ میں شاید باید کمتر خصوصاً زمانہ برسات میں جب پانی بے حساب ز یادہ برستا ہے تب گوشہ سے اُس گڈھی کے ہموارہ نالی سے کھیتوں میں ہوکر پانی نکلتا ہے جب گڈھی کے کناروں تک برابر پانی رہتا ہے تو پانی نکلنے سے محفوظ رہتا ہے اورجب کبھی اُس گڈھی میں پانی کم ہوجاتا ہے اور جب کچھ پانی انداز کا برستا ہے تو اُس حالت میں تمامی بستی کا پانی ناطاہر بذریعہ نالہ مذکورہ وبذریعہ گلیاں اور ہر چہارجانب کی غلاظت بذریعہ آب باراں کے گر کر مل جاتے ہیں اور کسی طرف سے اُس گڈھی کا پانی نہیں نکلتا ہے اس گڈھی کا پانی قابل استعمال کے ہے یا نہیں اور ہے تو کس وجہ کر اور نہیں ہے تو کس وجہ کر۔ (۴) یہ گڈھی دَہ در دَہ میں شمار کیا جاسکتا ہے یا نہیں۔ (۵) دہ در دہ میں شرائط رنگ وبُو وذائقہ کا ہے یا نہیں۔ہے تو کس وجہ کر اور نہیں ہے تو کس وجہ کر۔ (۶) دہ در دہ کے عمق و عرض و طول میں بھی اختلاف ہے یا نہیں۔اگر مختلف فیہ ہے تو جمہور کی رائے کس روایت پر ہے۔ (۷) مسئلہ اکراہ طبعی اس گڈھی کے پانی پر محمول ہوگا یا نہیں۔ (۸) جس کا آب جانب جنوب ساٹھ ہاتھ وجانب شمال ساٹھ ہاتھ وجانب شرق پچاس ہاتھ وجانب غرب ۱۰۰ ہاتھ وعمق اختلافیہ درمیان گڈھی تیراتا پانی بعض جگہ کمر تک بعض جگہ کمر سے کم۔
4_6.jpg