خدائے پاک برتر ہمارا حال ہمارے تمام دینی بھائیوں کے ساتھ درست فرمائے اور ہم سب کو فلاح والوں میں سے بنائے اور ہمیں صالحین کے زمرے میں سید المرسلین کے جھنڈے تلے جمع فرمائے۔ خدائے برتر کا درود ہو حضور پر اور رسولوں پر اور حضور کی آل اور رسولوں کی آل اور حضور کی جماعت اور رسولوں کی جماعت سب پر ہمیشہ ہمیشہ اور تمام حمد خدا کےلئے ہے جو تمام جہانوں کا مالک ہے اور اللہ تعالٰی رحمت فرمائے سرکار مصطفی، ان کی آل، ان کے اصحاب، ان کے فرزند، ان کے گروہ پر اور ہم ان کے طفےل، ان کے سبب، ان کے اندر اور ان کے ساتھ قبول فرما اے سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم فرمانے والے اور خدائے برتر ہی خوب جاننے والا ہے اور اس کا علم بہت تام اور محکم ہے اس کا مجد جلےل ہے۔ (ت)
الحمدللہ کتاب مستطاب حسن التعّمم لبیان حد التیمم مسودہ فقیر سے اٹھارہ۱۸ جز سے زائد میں باحسن وجوہ تمام ہوئی جس میں صدہا وہ ابحاثِ جلےلہ ہیں کہ قطعاً طاقتِ فقیر سے بدر جہاورا ہیں مگر فیض قد یر عاجز فقیر سے وہ کام لے لیتا ہے جسے دیکھ کر انصاف والی نگاہیں کہ حسد سے پاک ہوں ناخواستہ کہہ اُٹھیں :
ع: کم ترک الاول للاخر
(اگلے پچھلوں کے لئے کتنا چھوڑ گئے۔ ت)
کتنے مسائل جلےلہ معرکۃ الآرا بحمدہٖ تعالٰی کیسی خُوبی وخوش اسلوبی سے طے ہوئے وللّٰہ الحمد (اور خدا ہی کےلئے حمد ہے۔ ت) کتاب میں اصل مضمون کے علاوہ آٹھ۸ رسائل ہیں:
(۱) سمح الندرٰی فیما یورث العجز عن الماء(۱۳۳۵ھ)۔
کہ وقتِ طبع حاشیہ پر اس عــہ کا نام لکھنارہ گیا۔
عــہ یہ رسالہ (طبع جدید میں) جلد سوم کے صفحہ ۴۱۱ سے ۴۴۰ تک ہے۔
(۲) الظفر لقول زفر(۱۳۳۵ھ)۔
(۳) المطرالسعید علی نبت جنس الصعید(۱۳۳۵ھ)۔
(۴) الجد السدید فی نفی الاستعمال عن الصعید(۱۳۳۵ھ)۔
یہ چار ضمنیہ ہیں۔
(۵) باب العقائد والکلام(۱۳۳۵ھ)۔
(۶) قوانین العلماء فی متیمم علم عند زید ماء(۱۳۳۵ھ)۔
(۷) الطلبۃ البدیعۃ فی قول صدر الشریعۃ(۱۳۳۵ھ)۔
(۸) مجلی الشمعۃ لجامع حدث ولمعۃ(۱۳۳۵ھ)۔
یہ چار ملحقہ ہیں سوال وشروع جواب ۱۳۲۵ میں ہے لہذا نام کتاب میں یہی عدد ہیں پھر بحمدہ تعالٰی اس مقام کے طبع کے وقت کے اوائل ماہ رمضان مبارک ۱۳۳۵ سے ہے یہ رسائل اور ان کے ساتھ اور مضامین کثیرہ اضافہ ہوئے مجموع کی تصنیف بحمدہ تعالٰی ساڑھے پانچ مہینے میں ہے جن میں دو۲ دن کم تین مہینے علالتِ شدیدہ ونقاہتِ مدیدہ کے ہیں جس کا بقیہ اب تک ہے لہذا رسالہ اخیرہ اوائل ۱۳۳۶ میں آ یا جیسا کہ اس کے نام نے ظاہر کیا بہرحال جو کچھ ہے میری قدرت سے ورا اور محض فضل میرے رب کریم پھر میرے نبی رؤف رحیم کا ہے جل وعلا وصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم۔
وللّٰہ الحمد حمد الشاکرین÷ وصلی اللّٰہ تعالٰی علی خیر خلقہ محمد واٰلہ وصحبہ وابنہ وحزبہ اجمعین÷اٰمین والحمدللّٰہ رب العٰلمین÷ سبحٰنک اللھم وبحمدک اشھد ان لاالہ الاانت استغفرک واتوب الیک ط
اور خدا ہی کےلئے حمد ہے شکر گزاروں کی حمد اور اللہ تعالی کا درود ہو اس کی مخلوق میں سب سے بہتر محمد اور ان کی آل، ان کے اصحاب، ان کے فرزند، ان کے گروہ سب پر الٰہی! قبول فرما۔ اور تمام تعریف اللہ کے لئے جو تمام جہانوں کا مالک ہے۔ پاکی ہے تجھے اے اللہ ساتھ ہی تیری حمد بھی۔ میں شہادت دیتا ہوں کہ ت یرے سوا کوئی معبود نہیں۔ تجھ سے مغفرت چاہتا ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں۔ (ت)
نحمدہ، ونصلّی علٰی رسولہ الکریم
ذیل باب الوضوء
مسئلہ۱۱۵ :ا زمیرٹھ محلہ خیر نگر دروازہ مرسلہ مولوی محمد حسین صاحب تاجر طلسمی پریس۱۸شوال ۱۳۳۸ھ
شیخ بشیر الدین صاحب رئیس لال کورتی میرٹھ کی ایک آنکھ میں سے خفیف خفیف پانی اس طرح نکلتا ہے کہ تھوڑی تھوڑی د یر میں ذرا ذرا نمی محسوس ہوتی ہے اور رومال سے صاف کرنے پر قریباً ایک چاول کے برابر کپڑا نم معلوم ہوتا ہے نمی کے الکس کی وجہ سے بار بار صاف کرتا ہوتا ہے۔ کبھی وہ نمی جلد جلد محسوس ہوتی ہے اور کبھی د یر د یر میں صاف کرنے کی ضرورت ہوتی ہے فجر میں بہت وقت اس طرح گزرجاتا ہے کہ صاف نہیں کیا جاتا ہے جب بھی سلانی کیفیت پیدا نہیں ہوتی بلکہ نمی بصورت کےچڑ معمولی طور پر معلوم ہوتی ہے۔ کبھی یہ نہیں ہوا کہ اگر کسی کام کی وجہ سے بھُول گئے ہوں د یر تک صاف نہ کیا ہو تو بھی سیلانی حالت رہتی ہے۔
اس کی بابت ایک بڑے ڈاکٹر کی رائے یہ ہے کہ دماغ سے جو پانی آتا ہے بینی کی راہ نکلنا ہے وہ یہی ہے چونکہ بینی میں جانے کا راستہ بند ہوگیا ہے اس واسطے آنکھ کے کوئے سے نمی کا الکس معلوم ہوتا ہے بعض کا خیال یہ ہے کہ سر میں کہیں کسی موقع پر کچھ ناسُوری کیفیت ہے وہ جگہ یہ پانی پیدا کرتی ہے۔ ایسی حالت میں وضو ہر وقت تازہ ہونا چاہئے بعض کا یہ خیال ہے کہ جب تک سیلانی کیفیت نہ ہو تازہ وضو لازم نہیں۔ اُن کو اس وجہ سے تکدر رہتا ہے اور محض احتیاط کی وجہ سے کہ بعض مقامات میں وضو کرنا دشوار ہوتا ہے اُنہوں نے اپنی آمدورفت کم کردی، یہ حالت ناقضِ وضو ہے یا نہیں؟
الجواب: اگر دماغ کی وہ رطوبت ہے کہ ناک سے آتی ہے جب تو ظاہر کہ طاہر ہے قابلِ سیلان بھی ہو تو ناقضِ وضو نہیں اور اگر ناسُور سے ہو جب بھی صورتِ مذکورہ سےلان کی نہیں اور چھڑانے سے چھُوٹنے کا کچھ اعتبار نہیں بہرحال اس سے وضو نہ جائے گا واللہ تعالٰی اعلم
ذیل باب الغسل
مسئلہ ۱۱۶: ازسرونج مسؤلہ عبدالرشید خان صاحب ۱۹ محرم الحرام ۱۳۳۱ھ
برس یا چھ۶ماہ عرصہ سے زید حالتِ جنابت میں ہے جب اسے ضرورت غسل کی ہُوئی اس نے غسل نہ کیا اور کوئی وجہ اُسے غسل سے روکنے والی بھی نہیں ہے اور اُسی حالتِ جنابت میں وہ پان کھاتا رہا تو چُونا کتھا حالتِ ناپاکی میں زید کے دانتوں پر جم گیا اب زید نے غسل کیا اور غرغرہ کیا مگر پانی زید کے دانتوں پر اور دانتوں کی جڑوں میں نہ پہنچا کیونکہ دانتوں پر اور دانتوں کی جڑوں میں تو چُونا کتھا جما ہوا ہے۔ایسی حالت میں غسل زید کا جائز ہوا یا ناجائز،اور اگر ناجائز ہُوا تو کیا تدبیر کرنی چاہئے؟ بینوا توجروا (بیان کرو اور اجر پاؤ۔ت)
الجواب: اگروہ جگہ جہاں چُونا جم گیا ہے جنابت کے بعد کسی طرح کلی کرنے یا پانی پینے سے نہ دُھل گئی تھی اور وہ چُونا ایسا جم گیا ہے کہ اس کا چھُڑانا باعثِ ضرر وایذا ہے تو معاف ہے غرغرہ کافی ہوگا اور اگربے ضرر چھُڑا سکتا ہے تو چھُڑانا واجب ہے بغیر چھڑائے غسل نہ ہوگا واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۱۷: از مانیا والہ ڈاک خانہ قاسم پور ضلع بجنور مرسلہ سید کفایت علی صاحب ۵ ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ:
(۱) غسل کی نیت کرنی چاہئے یا نہیں، اور کیا نیت ہے اُس کی یا غسل جنابت یا احتلام کا ہو اگر اس نے نیت نہیں کی غسل ہُوا یا نہیں؟
(۲) غسل کرنے والا بند مکان میں غسل کررہا ہے اور ز یادہ تر اُس مکان میں تاریکی نہیں ہے اور فرض اپنے دیکھ رہا ہے اور کپڑا نہیں باندھا ہے غسل ہوا یا نہیں؟ بینوا توجروا (بیان کرو اور اجر پاؤ۔ت)
الجواب (۱) غسل میں نیت سنّت ہے، اگر نہ کی غسل جب بھی ہوجائے گا اور اُس کی نیت یہ ہے کہ ناپاکی دُور ہوجانے اور نماز جائز ہونے کی نیت کرتا ہوں۔
(۲) برہنہ غسل کرنے سے بھی غسل ہوجاتا ہے اور اس میں کچھ حرج نہیں اگر مکان پردے کا ہے، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۱۸:مولوی عبدالحفیظ صاحب طالب علم مدرسہ منظرِ اسلام ۳۔ ربیع الآخر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ اگر کسی شخص کو احتلام بغیر شہوت و دفق کے ہو یا کسی مرض کی وجہ سے جیسے جر یان و غیرہ، کیونکہ اس میں بھی بلاشہوت و دفق کے ہوتا ہے ان دو۲ صورتوں میں غسل محتلم پر واجب ہوگا یا نہیں؟ یا یہ بھی وہی حکم رکھتا ہے جو کہ ذی دفق و شہوت سے خارج ہوتا ہے۔
الجواب: جاگتے میں جو منی بغیر دفق و شہوت کے نکلے اس سے وضو واجب ہوتا ہے غسل نہیں مگر احتلام کی نسبت اس کو کیا خبر کہ بغیر دفق وشہوت ہے احتیاطاً غسل کرے گا واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۱۹:از جنوبی افریقہ مقام بھوٹا بھوٹی برٹش پاسوٹولینڈ مسؤلہ حاجی اسمٰعیل میاں بن حاجی امیر م یاں کاٹھ یاواری۔
حضور نے فرما یا ہے کہ زانی کے ہاتھ کا ذبیحہ جائز ہے۔اس پر زید کہتا ہے کہ کیسے جائز ہو، زانی پر غسل چالیس۴۰روز تک نہیں اُترتا ہے۔کیا زید کا قول سچّا ہے اور زانی کا غسل اُترتا ہے یا نہیں؟
الجواب: زید نے محض غلط کہا زانی کے ظاہر بدن کی طہارت اول ہی بار نہانے سے فوراً ہوجائے گی ہاں قلب کی طہارت توبہ سے ہوگی اس میں چالیس۴۰دن کی حد باندھنی غلط ہے چالیس۴۰برس توبہ نہ کرے تو چالیس۴۰برس طہارت باطن نہ ہوگی۔اور غسل نہ اُترنے کو ذبیحہ ناجائز ہونے سے کیا علاقہ! طہارت شرط ذبح نہیں، جنب کے ہاتھ کا ذبیحہ بھی درست ہے بلکہ وہ جن کا غسل فی الواقع کبھی نہیں اُترتا یعنی کافر ان کتابی ان کے ہاتھ کا ذبیحہ سب کتابوں بلکہ خود قرآن عظیم میں حلال فرما یا ہے:
طعام الذین اوتوا الکتب حل لکم ۱؎۔
کتابیوں کے ہاتھ کا ذبیحہ تمہارے لئے حلال ہے۔
(۱؎ القرآن ۵/۵)
اور کفّار کا کبھی غسل نہ اُترنا اس لئے کہ غسل کا ایک فرض تمام دہن کے پُرزے پُرزے کا حلق تک دُھل جانا ہے، دوسرا فرض ناک کے دونوں نتھنوں میں پُورے نرم بانسے تک پانی چڑھنا اول اگرچہ ان سے ادا ہوجاتا ہو جبکہ بے تمیزی سے مُنہ بھر کر پانی پئیں مگر دوم کے لئے پانی سُونگھ کر چڑھانا درکار ہے جسے وہ قطعاً نہیں کرتے بلکہ آج لاکھوں جاہل مسلمان اس سے غافل ہیں جس کے سبب اُن کا غسل نا درست اور نمازیں باطل ہیں نہ کہ کفار۔