Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۴(کتاب الطہارۃ)
58 - 2323
الثانی: بمعنی الحل ای لوتوضأ بہ فی مسألۃ النجاسۃ حل بخلاف مسألۃ اللمعۃ لانہ عادجنبا فوجب صرفہ الی اجنابۃ۔
دوم: جواز بمعنی حلت ہو یعنی مسئلہ نجاست میں اگر اس پانی سے وضو کرلیا تو حلال ہے بخلاف مسئلہ لمعہ کے۔ اس لئے کہ پھر جنب ہوگیا تو اسے جنابت میں صرف کرنا واجب ہے۔

اقول: وفیہ اقول اس میں بھی کلام ہے۔
اولا: لانسلم الحل فی النجاسۃ فان فیہ اختیار الصلاۃ مع نجاسۃ حقیقیۃ عمدا لانہ کان قادرا علی ان یزیل النجاستین الحقیقۃ بالماء والحکمیۃ بالتراب کماقال ملک العلماء ولم یکن للماء خلف فی الحقیقۃ فاذاصرفہ الی الحکمیۃ التی کان یجدلہ خلفا فیھا فقدازمع واجمع علی ان  یصلی فی نجس مانع مع القدرۃ علی ازالتہ فکیف یحل ھذا اما الاجزاء فلانہ عاجز عن الماء عند ایقاع الصلاۃ وانما النظر فیہ الی الحالۃ الراھنۃ۔
اولاً: ہم نہیں مانتے کہ مسئلہ نجاست میں حلت ہے کیونکہ اس میں نجاست حقیقیہ کے ساتھ نماز کی ادائےگی کو قصداً اختیار کرنا ہے اس لئے کہ اسے قدرت تھی کہ دونوں نجاستیں دُور کرے حقیقیہ کو پانی سے اور حکمیہ کو مٹّی سے جیسا کہ ملک العلماء نے فرما یا ہے اور نجاست حقیقیہ میں پانی کا کوئی بدل اور نائب نہیں تو جب اس نے پانی کو حکمیہ میں صرف کیا جس میں پانی کا ایک  بدل اسے دستیاب تھا تو اس نے اس بات کا پختہ ارادہ اور عزم محکم کرلیا کہ نجس مانع کے ازالہ پر قدرت کے باوجود اُس نجس مانع کے ساتھ نماز ادا کرے گا تو یہ حلال کیسے ہوگا؟ -رہا کفایت کر جانا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ نماز کی ادائےگی کے وقت وہ پانی سے عاجز ہے اور اس بارے میں صرف حالت موجودہ پر نظر کی جاتی ہے۔ (ت)
فان قلت بل یدل علی الحل قول ملک العلماء فکان اولٰی من الصلاۃ بطھارۃ واحدۃ ۱؎ وقول الخانیۃ والخلاصۃ والحلیۃ والبحر لوتوضأ وصلی فی الثوب النجس جاز ویکون مسیئا ۲؎ اھ فان(۱) الاساء ۃ دون کراھۃ التحریم۔
اگر یہ سوال ہو کہ ملک العلماء کی یہ عبارت حلت پر دلالت کررہی ہے: ''تو ایک  طہارت سے نماز کی ادائےگی سے اولٰی ہے''۔ اور خانیہ، خلاصہ، حلیہ اور بحر کی یہ عبارت: ''اگر وضو کرلیا اور نجس کپڑے میں نماز ادا کی تو جائز ہے اور اسأت والا (بُرا کرنے والا) ہوگا'' اھ اس لئے کہ اساءت کا درجہ کراہت تحریم سے نیچے ہے۔
 (۱؎ بدائع الصنائع    فصل بیان ماینقض التیمم    مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۵۷)

(۲؎ البحرالرائق    باب التیمم        مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۱۳۹)
اقول: تعلیل ملک العلماء ادل دلیل کماعلمت علی ان(۲) لفظۃ الاولی فیہ مثلھا فی قول عــہ التجنیس والمزید ان مراعاۃ فرض العین اولی قال الشامی فحیث ثبت انہ فرض کان خلافہ حراما ۱؎ اھ،
اقول: ملک العلماء کی تعلیل سب سے بڑی دلیل ہے جیسا کہ ناظر کو معلوم ہے مگر یہ ہے کہ جیسے اس میں لفظ ''اَولی'' ہے ویسے ہی تجنیس اور مزید کی اس عبارت میں ہے: ''بیشک فرض عین کی رعایت ''اولٰی'' ہے اس پر شامی نے فرما یا: تو جب یہ ثابت ہوا کہ وہ فرض ہے تو اس کا خلاف حرام ہوا، اھ
 (۱؎ ردالمحتار ،  کتاب الجہاد  ، مصطفی البابی مصر    ۳/۲۴۱)
عــہ بل فی نفس البدائع من کتاب الاستحسان الامتناع من المباح اولی من ارتکاب المحظور ۳؎اھ ۱۲ منہ غفرلہ (م)

بلکہ خود بدائع کتاب الاستحسان میں یہ عبارت ہے: مباح سے باز رہنا ممنوع کے ارتکاب سے اولٰی ہے اھ ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
 (	۳؎ بدائع الصنائع    کتاب الاحسان    ایم ایم سعید کمپنی،کراچی    ۵/۱۳۰)
من صدر الجہاد واطلاق(۱) المسیئ علی من ترک واجبا  غیر نادر لاجرم ان قال فی الغنیۃ لوازال بذٰلک الماء الحدث وبقی الثوب نجسا لکان قدترک الطھارۃ الحقیقۃ مع قدرتہ علیھا بغیر عذر فیکون اٰثما لکن تصح صلاتہ لثبوت العجز بعد نفاد الماء ۲؎ اھ وھذا عین مافھمت وقداداہ بلفظ اوجز وا حسن رحمہ اللّٰہ تعالٰی والعلماء جمیعا۔
ازشروع کتاب الجہاد اور واجب ترک کرنے والے پر لفظ ''مُسِیئ'' (بُرا کرنے والا) کا اطلاق کوئی نادر بات نہیں۔ لاجرم غنیہ میں لکھا ہے: ''اگر اس پانی سے حدث دُور کیا اور کپڑا نجس رہ گیا تو وہ طہارت حقیقیہ پر قادر ہونے کے باوجود بلاعذر اس کا تارک ہوا تو گنہ گار ہوگا لیکن اس کی نماز صحیح ہوجائے گی کیوں کہ پانی ختم ہوجانے کے بعد عجز ثابت ہوگیا'' اھ یہ بعینہ وہ ہے جو میں نے سمجھا اور انہوں نے اسے ز یادہ مختصر اور بہتر الفاظ میں ادا کیا ان پر اور تمام علما پر خدا کی رحمت ہو۔
(	۲؎  غنیۃ المستملی    فصل فی التیمم        سہیل اکیڈمی لاہور    ص۸۶)
وثانیا: اذن ینقلب الفرق فحیث جازلہ صرف الماء الی الوضوء وابقاء النجاسۃ المانعۃ بلامزیل لان یحل لہ صرفہ الی الوضوء مع ازالۃ الجنابۃ بالتیمم لاولی وای مدخل فیہ لکون الجنابۃ اغلظ فان الکل ینتفی اما بالماء اوبالتراب وای دلیل علی انہ تجب ازالۃ الاغلظ بالماء دون التراب وبالجملۃ ظھر بحمداللّٰہ تعالٰی ان النظر لامرد لہ وان الاظھر فی مسألۃ النجاسۃ مااستظھرہ فی الحلیۃ والبحر وجزم بہ فی شرح الوقا یۃ والدرالمختار۔
ثانیا :ایسا ہے تو فرق پلٹ جائے گا۔ جب اس کےلئے یہ جائز ہے کہ پانی وضو میں صرف کردے اور بغیر کسی زائل کرنے والی چیز کے نجاست مانعہ کو باقی رکھے تو اس کےلئے جنابت کو تیمم سے زائل کرنے کے ساتھ پانی کو وضو میں صرف کرلینا بدرجہ اولٰی جائز وحلال ہوگا اور اس میں نجاست کے ز یادہ سخت ہونے کا کیا دخل؟ سبھی تو دور ہوجارہا ہے  یا پانی سے  یا مٹی سے اس پر کیا دلیل ہے کہ جو ز یادہ سخت ہے اسے مٹی سے نہیں پانی ہی سے زائل کرنا واجب ہے؟ بالجملہ بحمدِ خدائے برتر یہ واضح ہوگیا کہ اس کلام کو کوئی بات رَد کرنے والی نہیں اور مسئلہ نجاست میں اظہر وہی ہے جو حلیہ اور بحر میں ظاہر کیا گیا اور جس پر شرح وقایہ اور درمختار میں جزم ہوا۔ (ت)
اقول: وبہ ترجح وللّٰہ الحمد ماسلکہ المحقق الحلبی صاحب الغنیۃ فی تقر یر منشأ الخلاف(۱) فان القول بجواز الصرف الی الوضوء مع اولو یۃ الصرف الی اللمعۃ ھو الذی یقتضیہ الدلیل وعلی تسلیم وجوب الصرف الیھا ترد مسائل کثیرۃ ثبت فیھا العجز عن الماء لاجل المنع الشرعی کمابیناھا فی رسالۃ قوانین العلماء وقد(۲) یکون الوجوب فی کلام الکافی من باب قولک حقک واجب علی فظھران الاظھر فی ھذہ خلاف مااستظھرہ فی الحلیۃ فالراجع فیہ قول محمد وقدذیل بالاصح وھو تصحیح صریح وصاحب(۳) الحلیۃ رحمہ اللّٰہ تعالٰی لیس من اصحاب الترجیح۔
اقول:  اسی سے بحمدہ تعالٰی اسے بھی ترجیح حاصل ہوگئی جس پر محقق حلبی منشأ خلاف کی تقر یر میں چلے، اس لئے کہ مقتضائے دلیل یہی قول ہے کہ لمعہ میں پانی صرف کرنے کے اولٰی ہونے کے ساتھ وضو میں اس کے صرف کا جواز ہے اور لمعہ میں صرف کا وجوب مان لینے پر ان بہت سے مسائل سے اعتراض ہوگا جن میں کسی شرعی ممانعت کی وجہ سے پانی سے عجز ثابت ہے جیسا کہ انہیں ہم نے رسالہ ''قوانین العلماء'' میں بیان کیا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ کافی کی عبارت میں وجوب ''حقّک واجب علیَّ'' (تمہارا حق میرے اوپر واجب ہے یعنی بقوّت ثابت ہے) کے باب سے ہو۔ اس سے یہ بھی واضح ہوا کہ اس بارے میں اظہر اس کے برخلاف ہے جو حلیہ میں ظاہر کیا اور کہا ''تو اس میں راجح امام محمد کا قول ہے'' اور اس کے آخر میں ''اصح'' بھی لکھ د یا یہ صریح تصحیح ہے جبکہ صاحبِ حلیہ ان پر خدا کی رحمت ہو اصحابِ ترجیح سے نہیں ہیں۔ (ت)
فان قلت کونہ مستحق الصرف الٰی حاجۃ اھم لایختص بالوجوب الاتری ان المعد لعجن منہ مع ان العجن  غیر واجب۔
اگر سوال ہو پانی کا ز یادہ اہم ضرور میں صَرف کئے جانے کا مستحق ہونا وجوب سے ہی خاص نہیں، دیکھئے آٹا گوندھنے کے لئے رکھا ہوا پانی اسی باب سے ہے باوجودیکہ آٹا گوندھنا واجب نہیں۔
اقول: ذلک تخفیف(۱) من ربکم ورحمۃ  یراعی حاجات عبادہ بالنقیر والقطمیر فجاز التیمم اذاکان یبیع الماء من عندہ بفلس وقیمتہ ثمہ نصف فلس وجاز لبعد میل وانکان فی جھۃ مذھبہ وھویسیر الیہ لحاجۃ نفسہ انما المنع لحق الشرع فلایتحقق الابالوجوب اذمالایجب شرعا لایمنع ترکہ شرعا فظھر الفرق والحمدللّٰہ رب العٰلمین ولذا مشیت فی الجدول علی قول محمد لانہ المذیل بالتصحیح الصریح ولانہ الاظھر من حیث الدلیل ولانہ الاحوط فی الدین وان کان قول ابی یوسف ایضالہ قوۃ لانہ قول ابی یوسف ولانہ فی الاصل وقداستظھر اوجھیتہ فی الحلیۃ واومی الی ترجیحہ فی شرح الوقا یۃ واخردلیلہ فی الکافی  غیر انھم اعتمدوا حرفا واحدا وھو استحقاق الصرف وقدعلمت جوابہ وللّٰہ الحمد۔
اقول (میں کہتا ہوں) یہ تمہارے رب کی جانب سے آسانی اور رحمت ہے وہ نقیر وقطمیر (کھجور کی چھال اور گٹھلی کے چھلکے) میں اپنے بندوں کی حاجتوں کی رعایت فرماتا ہے یہی وجہ ہے کہ اس صورت میں تیمم جائز ہوگیا جب پانی والا ایک  پیسے میں پانی بیچ رہا ہے اور وہاں اس کی قیمت آدھا پیسہ ہے۔ اور ایک  میل پانی دُور ہوتو تیمم جائز ہوگیا اگرچہ وہ اس کے راستے ہی کی سمت میں ہو۔ اور اس طرف وہ اپنی ضرورت کےلئے جابھی رہا ہے لیکن حق شرع کی وجہ سے ممانعت تو یہ بغیر وجوب کے متحقق نہ ہوگی اس لئے کہ شرعاً جو واجب نہیں اس کا ترک شرعاً ممنوع نہیں اس سے فرق واضح ہوگیا، اور تمام حمد خدا کےلئے ہے جو سارے جہانوں کا مالک ہے اسی لئے میں نقشہ میں امام محمد کے قول پر چلاہُوں اس لئے کہ اس پر صریح تصحیح کا نشان د یا گیا ہے اور اس لئے کہ دلیل کے اعتبار سے وہی اظہر ہے اور اس لئے کہ دین میں وہی احوط ہے۔ اگرچہ امام ابویوسف کے قول میں بھی قوت ہے اس لئے کہ وہ امام ابویوسف کا قول ہے اور اس لئے کہ وہ ''اصل'' میں ہے اور حلیہ میں اس کے اوجہ ہونے کو ظاہر بتا یا، اور شرح وقایہ میں اس کی ترجیح کی طرف اشارہ کیا اور کافی میں اس کی دلیل مؤخر رکھی۔ مگر ان سب حضرات کا معتمد ایک  ہی حرف ہے اور وہ ہے استحقاق صرف اور اس کا جواب معلوم ہوچکا اور خدا ہی کےلئے حمد ہے۔ (ت)
بالجملہ(۲) حاصل تحقیق یہ ہوا کہ اگر کپڑے  یا بدن پر کوئی نجاست حقیقیہ مانعہ ہے اور وضو نہیں اور پانی اتنا ملا کہ چاہے نجاست دھولے چاہے وضو کرلے دونوں نہیں ہوسکتے تو واجب ہے کہ اُس سے نجاست ہی دھوئے اگر خلاف کرے گا گنہگار ہوگا حدث کےلئے تیمم کرے خواہ نجاست دھونے سے پہلے  یا بعد اور بعد اولٰی ہے کہ خلاف علماء سے بچنا ہے اور اسی لئے اگر پہلے کرچکا ہے نجاست دھونے کے بعد دوبارہ تیمم کرلینا انسب واحری ہے اور(۱) اگر جنابت کا لمعہ باقی ہے اور حدث بھی ہوا اور وہ لمعہ  غیر مواضع وضو میں ہے  یا کچھ مواضع وضو کے ایک  حصے میں کچھ دوسرے عضو میں اور پانی اتنا ملا کہ دونوں میں جس ایک  کو چاہے دھولے دونوں نہیں ہوسکتے تو اُس پانی کو لمعہ دھونے میں صرف کرے اور حدث کےلئے لازم کہ جب پانی خرچ ہولے اس کے بعد تیمم کرے اگرچہ پہلے بھی کرچکا ہوکہ وہ منتقض ہوگیا ظاہر ہے کہ تیمم بعد کو کرنے  یا بعد کو دوبارہ کرلینے میں نہ کچھ خرچ ہے نہ کچھ حرج۔ تو اگر قول امام محمد کی صریح تصحیح نہ بھی ہوتی خلاف ائمہ سے خروج کے لئے اسی پر عمل مناسب ومندوب ہوتا نہ کہ اس طرف صراحۃً لفظ اصح موجود اور یہی دلیل کی رُو سے ظاہرتر اور اسی میں احت یاط اور امر نماز میں احتیاط باعث فلاح وصلاح۔
Flag Counter