اقول: اخردلیل ابی یوسف فافاد ترجیحہ وصرح فی تعلیل محمد بوجوب صرفہ الی اللمعۃ وانہ لاینافی قدرتہ علی الوضوء وفی الغنیۃ (علیہ ان یبدأ بغسل اللمعۃ) لیصیر عادما للماء فی حق الحدث ولایجوز تیممہ للحدث قبلہ عند محمد لان صرف ذلک الماء الی اللمعۃ دون الحدث لیس بواجب عندہ بل علی سبیل الاولو یۃ فوجودہ یمنع التیمم للحدث وعند ابی یوسف صرفہ الی اللمعۃ واجب فھو کالمعدوم بالنسبۃ الی الحدث فیجوز التیمم لہ قبل غسل اللمعۃ ولوکان تیمم بعد مااحدث لاجل عــہ الحدث ثم وجد ماء یکفی لاحدھما ینتقض تیممہ عند محمد لاعند ابی یوسف بناء علی ماتقدم ۱؎ اھ
اقول: امام ابویوسف کی دلیل مؤخر کرکے اس کی ترجیح کا افادہ کیا اور امام محمد کی تعلیل میں اس بات کی تصریح فرمائی کہ لمعہ میں اسے صرف کرنا واجب ہے اور یہ وضو پر قدرت کے منافی نہیں۔ غنیہ میں ہے (اس پر یہ ہے کہ پہلے لمعہ دھوئے) تاکہ حق حدث میں پانی نہ رکھنے والا ہوجائے۔ امام محمد کے نزدیک اس سے پہلے اس کا تیمم حدث جائز نہیں، کیونکہ ان کے نزدیک اس پانی کو حدث چھوڑ کر لمعہ میں صرف کرنا واجب نہیں بلکہ بطور اولٰی کے ہے، تو اس کا وجود تیمم حدث سے مانع ہے اور امام ابویوسف کے نزدیک اسے لمعہ میں صرف کرنا واجب ہے تو وہ حدث کی بہ نسبت کالمعدوم ہے اس لئے لمعہ دھونے سے پہلے حدث کا تیمم جائز ہے اور اگر حدث ہونے کے بعد حدث کے لئے تیمم کرلیا تھا پھر اسے اتنا پانی ملا جو کسی ایک کے لئے کافی ہو تو اس کا تیمم امام محمد کے نزدیک ٹوٹ جائےگا، امام ابویوسف کے نزدیک نہ ٹوٹے گا۔ اسی بنیاد پر جو پہلے بیان ہوئی'' اھ۔
(۱؎ غنیۃ المستملی باب التیمم مطبع سہیل اکیڈمی لاہور ص۸۶)
عــہ اقول: کانہ زادہ(۲) ایضاحا والا فلا حاجۃ الیہ لانہ لواحدث ثم تیمم لھالکان لہ ایضا ولایختلف الحکم ۱۲ منہ غفرلہ (م)
اقول: معلوم ہوتا ہے کہ اسے انہوں نے بطور توضیح بڑھا د یا ہے ورنہ اس کی ضرورت نہیں اس لئے کہ اگر اسے حدث ہوا پھر اس نے جنابت کا تیمم کیا تو وہ حدث کے لئے بھی ہوجائے گا اور حکم مختلف نہ ہوگا ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
ثم ھھنا مسألۃ اخری من ھذا القبیل مشی فیھا الامام ملک العلماء والامام رضی الدین السرخسی علی وجوب تأخیر التیمم فظاھر قیاسہ المشی علی قول محمد ھنا ففی البدائع بعد ذکر القدرۃ علی الماء الکافی وعلی ھذا الاصل مسائل فی الزیادات مسافر(۱) محدث علی ثوبہ نجاسۃ اکثر من قدر الدرھم ومعہ مایکفی لاحدھما غسل بہ الثوب وتیمم للحدث عندعامۃ العلماء لان الصرف الی النجاسۃ یجعلہ مصلیا بطھارتین حقیقیۃ وحکمیۃ فکان اولی من الصلاۃ بطھارۃ واحدۃ ویجب ان یغسل ثوبہ من النجاسۃ ثم یتیمم ولو بدأبالتیمم لایجزء بہ لانہ قدر علی ماء لوتوضأ بہ تجوز صلاتہ ۲؎ اھ
پھر یہاں اسی قبیل کا ایک اور مسئلہ ہے جس میں امام ملک العلماء اور امام رضی الدین سرخسی کی روش اس پر ہے کہ تیمم مؤخر کرنا واجب ہے تو اس کا ظاہر قیاس یہ ہے کہ یہاں امام محمد کے قول پر چلے ہیں۔ بدائع میں آب کافی پر قدرت کا ذکر کرنے کے بعد ہے: ''اس اصل کے تحت ز یادات میں چند مسائل میں کوئی حدث والا مسافر ہے جس کے کپڑے پر قدر درہم سے ز یادہ نجاست ہے اور اس کے پاس اتنا پانی ہے جو دونوں میں سے کسی ایک کےلئے کافی ہے تو اس سے کپڑا دھوئے اور حدث کےلئے تیمم کرے۔ عامہ علماء کے نزدیک اس لئے کہ نجاست میں صرف کرنا اسے حقیقی وحکمی دو طہارتوں سے نماز ادا کرنے والا بنادے گا تو یہ ایک طہارت سے نماز ادا کرنے سے بہتر ہے اور واجب ہے کہ کپڑے سے نجاست دھوئے پھر تیمم کرے اور اگر پہلے تیمم کرلیا تو یہ کفایت نہیں کرسکتا اس لئے کہ وہ اتنے پانی پر قادر ہے کہ اگر اس سے وضو کرے تو اس کی نماز ہوجائے'' اھ
(۲؎ بدائع الصنائع فصل فی بیان ماینقض التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۵۷)
وفی المحیط الرضوی ثم الھند یۃ لوتیمم اولاثم غسل النجاسۃ یعید التیمم لانہ تیمم وھو قادر علی مایتوضأ بہ ۱؎ اھ ورأیتنی کتبت علیہ سابقا مانصہ ۔
اور محیط رضوی پھر ہندیہ میں ہے: ''اگر پہلے تیمم کیا پھر نجاست دھوئی تو تیمم کا اعادہ کرے اس لئے کہ اس نے اس حالت میں تیمم کیا جب کہ وہ اتنے پانی پر قادر تھا جس سے وضو کرے''۔ اھ اس پر میں نے زمانہ سابق میں اپنی لکھی ہوئی یہ عبارت دیکھی:
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ فصل بیان ماینقض التیمم نورانی کتب خانہ پشاور ۱/۲۹)
اقول: ھذا علی قول محمد اماعلی قول ابی یوسف فلا لکونہ مشغولا بحاجۃ فکان کالمعد لعطش وبہ جزم فی الدر المختار اھ ثم رأیت بعدہ بزمان نظر فیہ المحقق الحلبی فی الحلیۃ کمانظر فیہ المحقق الحلبی فی الحلیۃ کمانظر الفقیر وللّٰہ الحمد فقال بعد نقل مافی البدائع والمحیط قال العبد الضعیف غفراللّٰہ تعالٰی لہ فیہ نظر بل الظاھر الحکم بجواز التیمم تقدم علی غسل الثوب اوتأخر لانہ مستحق الصرف الی الثوب علی ما قالوا والمستحق الصرف الی جھۃ منعدم حکما بالنسبۃ الی غیرھا کما فی مسألۃ اللمعۃ مع الحدث قبل التیمم لہ اذاکان الماء کافیا لاحدھما فبدأ بالتیمم للحدث قبل غسلھا کماھو روا یۃ الاصل وکمافی مسألۃ خوفالعطش ونحوہ نعم یتمشی ذلک علی روا یۃ الز یادات ۱؎ اھ ،
اقول: یہ حکم امام محمد کے قول پر ہے لیکن امام ابویوسف کے قول پر اعادہ نہیں اس لئے کہ وہ پانی حاجت میں مشغول تھا تو اس پانی کی طرح ہوا جو پ یاس کےلئے رکھا ہوا ہو۔ اسی پر درمختار میں جزم کیا ہے'' اھ پھر اس کے کچھ عرصہ کے بعد میں نے دیکھا کہ اس پر محقق حلبی نے حلیہ میں بھی ویسے ہی کلام کیا ہے جیسے فقیر نے کلام کیا اور خدا ہی کےلئے حمد ہے انہوں نے بدائع اور محیط کی عبارتیں نقل کرنے کے بعد لکھا ہے: بندہ ضعیف کہتا ہے خدائے برتر اس کی مغفرت فرمائے یہ محلِ نظر ہے بلکہ ظاہر جواز تیمم کا حکم ہے۔ کپڑا دھونے سے پہلے تیمم ہو یا اس کے بعد ہو۔ اس لئے کہ حسبِ ارشادِ علماء وہ پانی کپڑے میں صرف کیے جانے کا مستحق ہے اور جو کسی ایک جانب صرف کئے جانے کا مستحق ہوچکا ہو وہ دوسری جانب کی بہ نسبت حکماً معدوم ہے جیسے حدث کے ساتھ لمعہ کے مسئلہ میں اس سے پہلے کہ حدث کا تیمم کیا ہو۔ جب پانی دونوں میں سے کسی ایک کے لئے کافی ہو تو لمعہ دھونے سے پہلے تیمم حدث سے ابتدا کی ہو۔ جیسا کہ اصل کی روایت ہے اور جیسا کہ خوفِ تشنگی و غیرہ کے مسئلہ میں ہے ہاں وہ حکم روایت ز یادات پر چل سکتا ہے اھ
وتبعہ فی البحر الرائق علی الفاظہ وزاد بعدہ ولھذا قال فی شرح الوقا یۃ وانما تثبت القدرۃ اذا لم یکن مصروفا الی جھۃ اھم ۲؎اھ
اور البحرالرائق میں ان ہی کے الفاظ کے ساتھ ان کا اتباع کیا ہے۔ اور اس کے بعد مزید یہ لکھا ہے: ''اسی لئے شرح وقایہ میں فرما یا: ''اور قدرت اسی وقت ثابت ہوتی ہے جب اس سے ز یادہ اہم جانب میں مصروف نہ ہو'' اھ
(۲؎ البحرالرائق باب التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۱۳۹)
لکن زعم فی السراج ان وجوب تاخیر التیمم فی مسألۃ النجاسۃ مجمع علیہ بخلاف مسألۃ اللمعۃ فاذن لایکون جزم البدائع والمحیط فیھا بوجوب التاخیر دلیل المشی علی قول محمد فی اللمعۃ۔
لیکن سراج میں یہ خیال کیا ہے کہ مسئلہ نجاست میں تیمم مؤخر کرنے کا وجوب متفق علیہ اور اجماعی ہے بخلاف مسئلہ لمعہ کے اس کے پیش نظر مسئلہ نجاست میں وجوب تاخیر پر بدائع ومحیط کا جزم مسئلہ لمعہ میں امام محمد کے قول پر مشی کی دلیل نہ ہوگا۔ (ت)
اقول: لکن(۱) قداسمعناک نص الامام صدر الشریعۃ اٰنفا انما تثبت القدرۃ اذا لم یکن مصروفا الی نجاسۃ ۳؎ ۔
اقول: لیکن امام صدر الشریعۃ کی عبارت ہم ابھی پیش کرچکے کہ ''قدرت اسی وقت ثابت ہوتی ہے جب نجاست کی جانب مصروف نہ ہو''۔
(۳؎ شرح الوقا یۃ باب التیمم المکتبۃ الرشیدیہ دہلی ۱/۱۰۵)
ونص الدر المختار المشغول بحاجۃ غسل نجس کالمعدوم ۴؎ فاین الاجماع وقد جزما بہ کأنہ لاخلاف فیہ فضلا عن الاجماع علی خلافہ ثم اذقد ذکر الاجماع ھھناوقدم نقل الخلاف فی مسألۃ اللمعۃ ابدی بینھما فارقا بہ تشبت العلامۃ الشامی فی دفع نظر الحلیۃ والبحر۔
(۴؎ الدرالمختار باب التیمم مجتبائی دہلی ۱/۴۵)
اور دُرمختار کی یہ عبارت کہ ''جو کسی نجس کو دھونے کی ضرورت میں مشغول ہے معدوم کی طرح ہے'' تو اجماع کہاں؟ جب کہ ان دونوں نے اس پر یوں جزم کیا ہے جیسے اس میں کوئی خلاف ہی نہیں اس کے خلاف پراجماع تو درکنار- پھر جب سراج میں یہاں اجماع ذکر کیا اور اس سے پہلے مسئلہ لمعہ میں اختلاف نقل کیا تو ان دونوں کے درمیان ایک وجہ فرق بھی ظاہر کی جس سے علّامہ شامی نے حلیہ وبحر کا کلام دفع کرنے میں تمسُّک کیا۔
فقال فی منحۃ الخالق ذکر فی السراج لوبدأ بالتیمم ثم غسل النجاسۃ اعاد التیمم اجماعا بخلاف المسألۃ الاولی ای مسألۃ اللمعۃ علی قول ابی یوسف لانہ تیمم ھنا وھو قادر علی ماء لوتوضأ بہ جاز وھناک ای فی مسألۃ اللمعۃ لوتوضأ بذلک الماء لم یجز لانہ عاد جنبا برؤ یۃ الماء اھ وبہ یندفع النظر فتدبر ۱؎ اھ و اوردہ ایضا فی ردالمحتار فقال وھو فرق حسن دقیق فتدبرہ ۲؎ اھ
منحۃ الخالق میں لکھتے ہیں: ''سراج میں ذکر کیا ہے کہ اگر پہلے تیمم کرلیا پھر نجاست دھوئی تو اسے اجماعاً تیمم کا اعادہ کرنا ہے بخلاف پہلے مسئلہ کے یعنی مسئلہ لمعہ کے برخلاف، امام ابویوسف کے قول پر اس لئے کہ یہاں اس نے اس حالت میں تیمم کیا کہ وہ ایسے پانی پر قادر تھا جس سے اگر وضو کرتا تو جائز ہوتا اور وہاں یعنی مسئلہ لمعہ میں اگر اس پانی سے وضو کرتا تو جائز نہ ہوتا اس لئے کہ پانی دیکھنے کی وجہ سے وہ پھر جنب ہوگیا''۔ اھ اور اسی سے وہ کلام دفع ہوجاتا ہے۔ فتدبر (تو غور کرنا چاہئے) اھ—
سراج کا کلام ردالمحتار میں بھی ذکر کرکے فرما یا ہے:
''وھو فرق حسن دقیق فتدبرہ
(اور یہ ایک عمدہ دقیق فرق ہے جس میں تدبر کرنا چاہئے)'' اھ (ت)
(۱؎ منحۃ الخالق علی البحرالرائق باب التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۱۳۹)
(۲؎ ردالمحتار باب التیمم مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/۱۸۷)
اقول: وباللّٰہ التوفیق لہ محملان۔
اقول :(میں کہتا ہوں) اور توفیق خدا ہی سے ہے اس کے دو۲ محمل ہیں:
الاوّل: الجواز بمعنی الصحۃ کماتعطیہ عبارۃ ملک العلماء حیث نسب الجواز الی الصلاۃ وفیہ۔
اوّل: جواز بمعنی صحت ہو جیسا کہ ملک العلماء کی عبارت سے مستفاد ہوتا ہے اس طرح کہ انہوں نے جواز کی نسبت نماز کی طرف کی ہے۔ اب اس میں کلام ہے
اوّلاً (۱): ان مجرد صحۃ الوضوء بہ لایثبت القدرۃ ولاینفی العجز الاتری ان المریض اوالبعید میلا لوتحمل الحرج وتوضأ بہ لصح وجازت صلاتہ بہ بل الشغل بحاجۃ اھم ایضا من وجوہ العجز کالمدخر لعطش اوعجن مع جواز صلاتہ بہ قطعا ان فعل۔
اوّلاً محض اتنا کہ اس سے وضو درست ہے نہ قدرت کا اثبات کرتا ہے نہ عجز کی نفی کرتا ہے۔دیکھئے بیمار یا ایک میل دُوری والے نے اگر مشقت اٹھائی اور پانی سے وضو کیا تو وضو صحیح ہے اور اس سے نماز جائز ہے بلکہ ز یادہ اہم ضرورت میں پانی کا مشغول ہونا بھی عجز کی صورتوں میں سے ہے جیسے وہ پانی جو پ یاس کےلئے آٹا گوندھنے کےلئے جمع کررکھا ہو باوجودیکہ اگر اس سے وضو کرے تو اس کی نماز قطعاً جائز ہے۔
وثانیا: علی(۱) السراج خاصۃ اذن یطیح الفرق فالصحۃ وجواز الصلاۃ حاصل قطعا فی مسألۃ اللمعۃ ایضا الا تری الی ماتقدم عن الھند یۃ والکافی وشرح الوقا یۃ لوصرفہ الی الوضوء جاز زاد الاولان اتفاقا وعودہ جنبا لایمنعہ عن التوضی للحدث لان ھذہ الجنابۃ مقتصرۃ والحدث غیر مندمج فیھا۔
ثانیا: خاص سراج پر یہ کلام ہے کہ ایسا ہے تو فرق ضائع کردینا چاہئے کیونکہ صحت اور جواز نماز تو قطعاً مسئلہ لمعہ میں بھی حاصل ہے۔ وہ دیکھئے جو ہندیہ، کافی اور شرح وقایہ کے حوالہ سے گزرا کہ اگر اس پانی کو وضو میں صرف کرلیا تو جائز ہے۔ ہندیہ وکافی نے اتفاقا (بالاتفاق) کا اضافہ کیا۔ اور اس کا پھر جنب ہوجانا حدث کا وضو کرنے سے مانع نہیں اس لئے کہ یہ جنابت مقتصرہ ہے اور حدث اس میں مندرج نہیں۔