| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۴(کتاب الطہارۃ) |
وفی الدر المختار (ناقضہ قدرۃ ماء کاف لطھرہ فضل عن حاجتہ) کعطش وعجن وغسل نجس و لمعۃ عــہ جنابۃ لان المشغول بالحاجۃ کالمعدوم ۱؎ اھ فقد مشی علی قول ابی یوسف ۔
درمختار میں ہے: ''(ناقض تیمم اتنے پانی پر قدرت ہے جو اس کی طہارت کے لئے کافی اس کی حاجت سے زائد ہو) حاجت جیسے پیاس، آٹا گوندھنا، نجس اور لمعہ جنابت دھونا اس لئے کہ جو حاجت میں مشغول ہے وہ معدوم کی طرح ہے'' اھ اس میں امام ابویوسف کے قول پر چلے ۔
عــہ قال العلامۃ ش ای لواغتسل وبقیۃ لمعۃ فتیمم ثم احدث فتیمم ثم وجد ماء یکفیھا فقط فانہ یغسلھا بہ ولایبطل تیممہ للحدث اھ اقول(۱) سبحٰن اللّٰہ اذالم یکف للوضوء کان عدم انتقاض تیممہ لعدم الکفا یۃ لاللشغل بالحاجۃ والشارح بصدد بیان المشغول فالوجہ ان مرادہ کماصرحت بہ الاحکام ما اذاکفی لکل علی البدل یۃ ۱۲ منہ غفرلہ (م) علامہ شامی نے فرما یا: ''یعنی اگر غسل کیا اور کوئی لمعہ رہ گیا پھر تیمم کیا پھر اسے حدث ہُوا تو تیمم کیا پھر اتنا پانی ملا جو صرف لمعہ کے لئے کافی ہے تو اسے اس پانی سے دھوئے گا اور اس کا تیمم حدث باطل نہ ہوگا'' اھ اقول سبحان اللہ جب وضو کےلئے کافی نہ ہوا تو اس کے تیمم کا نہ ٹوٹنا عدمِ کفایت کی وجہ سے ہوا حاجت میں مشغول کی وجہ سے نہیں اور شارح اس پانی کو بتانا چاہتے ہیں جو حاجت میں مشغول ہو۔ تو وجہ صحیح یہ ہے کہ ان کی مراد حسبِ تصریح احکام وہ صورت ہے جب پانی بطور بدلیت ہر ایک کےلئے کافی ہو ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
(۱؎ درمختا، باب التیمم، مطبع مجتبائی دہلی،۱/۴۵)
واقرہ محشوہ وفی الحلیۃ ھل علیہ ان یبتدئ بغسل اللمعۃ حتی لوتیمم للحدث ثم غسل اللمعۃ اعاد التیمم للحدث ففی روا یات الز یادات نعم وعلیھا اقتصر المصنف ووجھھا انہ یصیر عادما للماء فیجزئہ التیمم وفی روا یۃ الاصل لابل بایھما بدأجاز لان الماء صار مستحق الصرف الی اللمعۃ فصار معدوما حکما کالماء المستحق للعطش۔
اور درمختار کے محشی حضرات نے اسے برقرار رکھا۔ حلیہ میں ہے: کیا اس پر یہ لازم ہے کہ پہلے لمعہ دھوئے یہاں تک کہ اگر حدث کا تیمم کرلیا پھر لمعہ دھو یا تو اسے تیمم حدث کا اعادہ کرنا ہے؟ روایت ز یادات میں اس کا جواب اثبات میں ہے اور اسی پر مصنّف نے اکتفا کی اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ فقدان آب والا ہوجاتا ہے تو اس کا تیمم کفایت کرجاتا ہے۔ اور روایت اصل میں اس کا جواب نفی میں ہے بلکہ وہ دونوں میں سے جو بھی پہلے کرلے جائز ہے اس لئے کہ پانی لمعہ میں صرف کا مستحق ہوگیا تو وہ حکماً معدوم ہوگیا جیسے وہ پانی جو پ یاس کا مستحق ہوگیا ہو۔
قال رضی الدین فی المحیط وکذا غیرہ قبل مافی الز یادات قول محمد ومافی الاصل قول ابی یوسف اھ وفیھا یظھر ان قول ابی یوسف اوجہ ۱؎ اھ۔
رضی الدین نے محیط اور ایسے ہی انکے علاوہ نے بھی فرما یا ہے: کہا گیا ہےکہ جو ز یادات میں ہے وہ امام محمد کا قول ہے اور جو اصل میں ہے وہ امام ابویوسف کا قول ہے۔ اھ حلیہ میں یہ بھی ہے کہ ظاہر یہ ہے کہ امام ابویوسف کا قول زیادہ مناسب ہے اھ۔
( ۱؎ حلیہ)
وعبر عنہ فی ردالمحتار بقولہ لاینتقض تیمم الحدث عند ابی یوسف وعند محمد ینتقض ویظھر ان الاول اوجہ اھ ثم قال فیمالم یتیمم قبل الوجدان فی روا یۃیلزمہ غسلھا قبل التیمم للحدث وفی روا یۃ یخیر اھ ملخصا من الحلیۃ ۲؎ اھ
ردالمحتار میں اس کی تعبیر ان الفاظ میں کی ہے: ''تیمم حدث امام ابویوسف کے نزدیک نہ ٹوٹے گا اور امام محمد کے نزدیک ٹوٹ جائےگا اور ظاہر یہ ہے کہ اول درجہ ہے اھ۔ پھر اس صورت کے متعلق جبکہ پانی ملنے سے پہلے تیمم نہ کیا ہو لکھا ہے: ''ایک روایت میں اس پر تیمم حدث سے پہلے لمعہ دھونا لازم ہے اور ایک روایت میں اسے اختیار ہے'' اھ۔ ملخصاً من الحلیہ اھ۔
(۲؎ ردالمحتار باب التیمم مطبع مصطفی البابی مصر ۱/۱۸۷)
وفی شرح الوقا یۃ واذاغسل اللمعۃ ھل یعید التیمم روایتان وان تیمم اولاثم غسل اللمعۃ ففی اعادۃ التیمم روایتان ایضا وان صرف الی الحدث انتقض تیممہ فی حق اللمعۃ باتفاق الروایتین اھ ثم قال فیما اذا لم یتیمم للحدث قبل ان کفی کل واحد منفردا یصرفہ الی اللمعۃ ویتیمم للحدث فان توضأ بہ جاز ویعید التیمم للحدث ولوبدأ بالتیمم للحدث ھل یعید التیمم فی روا یۃ الز یادات یعید وفی روا یۃ الاصل لاثم انما تثبت القدرۃ اذا لم یکن مصروفا الی جھۃ اھم حتی اذاکان علی بدنہ اوثوبہ نجاسۃ یصرفہ الی النجاسۃ ۳؎ اھ وھو کما تری یشیر الی ترجیح روا یۃ الاصل ۔
شرح وقایہ میں ہے: ''جب لمعہ دھولیا تو کیا تیمم کا اعادہ کرے گا؟ دو۲ روایتیں ہیں اور اگر پہلے تیمم کرلیا پھر لمعہ دھو یا تو بھی اعادہ تیمم میں دو روایتیں ہیں۔ اور اگر حدث میں صرف کریں تو حق لمعہ میں اس کا تیمم باتفاق روایتیں ٹوٹ گیا''۔ اھ پھر اس صورت سے متعلق جبکہ حدث کا تیمم پہلے نہ کیا ہو، لکھا ہے: ''اگر تنہا ہر ایک کے لئے کافی ہوتو اسے لمعہ میں صرف کرے گا اور حدث کا تیمم کرے گا پھر اگر اس سے وضو کرلیا تو جائز ہے اور تیمم کا اعادہ کرنا ہے اور اگر حدث کا تیمم پہلے کیا تو کیا تیمم لوٹائے گا؟ روایت ز یادات میں ہے کہ لوٹائے گا اور روایت اصل میں ہے کہ: نہیں لوٹائے گا پھرقدرت اس وقت ثابت ہوتی ہے جب ز یادہ اہم جانب میں مصروف نہ ہو۔ یہاں تک کہ اگر اس کے بدن یا کپڑے پر کوئی نجاست ہو تو اسے نجاست کی جانب صرف کرے گا'' اھ یہ کلام روایت اصل کی ترجیح کی جانب اشارہ کررہا ہے جیسا کہ سامنے ہے۔
(۳؎ شرح الوقا یۃ باب التیمم مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ دہلی ۱/۱۰۴)
وفی الھند یۃ صرفہ الی اللمعۃ واعاد تیممہ للحدث عند محمد وعند ابی یوسف لاولو صرفہ الی الوضوء جاز وتیمم لجنابتہ اتفاقا فان لم یکن تیمم للحدث قبل وجود ھذا الماء فتیمم قبل غسل اللمعۃ لم یجز عند محمد وعند ابی یوسف یجوز والاول اصح ھکذا فی الکافی ۱؎ اھ۔
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ فصل فیما ینقض التیمم نورانی کتب خانہ پشاور ۱/۲۹)
ہندیہ میں ہے: اسے لمعہ میں صرف کرے اور تیمم حدث کا اعادہ کرے امام محمد کے نزدیک اور امام ابویوسف کے نزدیک اعادہ نہیں اور اگر اسے وضو میں صرف کرلیا جائے تو جائز ہے اور اسے جنابت کا تیمم کرنا ہے بالاتفاق اگر یہ پانی ملنے سے پہلے حدث کا تیمم نہیں کیا تھا اب لمعہ دھونے سے پہلے تیمم کیا تو امام محمد کے نزدیک جائز نہیں اور امام ابویوسف کے نزدیک جائز ہے اور اول اصح ہے اسی طرح کافی میں ہے'' اھ۔ (ت)
اقول: قولہ والاول اصح لیس فی نسختی الکافی والعبارۃ غیر منقولۃ کماھی فی الکافی کمایظھر بالمقابلۃ وقد(۱)نبہ علیہ بقولہ ھکذا فی الکافی کماذکر فی خطبۃ الکتاب اصطلاحہ فی کذا وھکذا نعم ذکر بعض العصریین ان فی شرح الز یادات للعتابی انہ ہو اللکنوی ۱۲ الاصح ولم یذکر الواسطۃ فی النقل فان صح ھذا فلعلہ زید فی الھند یۃ من ثمہ اومن غیرہ اولعلہ ساقط من نسختی الکافی وعلی کل فالھند یۃ ثقۃ فی النقل واللّٰہ تعالٰی اعلم وفی الکافی ان کفی واحدا غیر عین صرفہ الی اللمعۃ لانہ اھم واعاد تیممہ للحدث عند محمد لقدرتہ علی الماء ووجوب صرفہ الی الجنابۃ لاینافی قدرتہ علی صرفہ الی الحدث ولھذا لوصرفہ الی الوضوء جاز وتیمم لجنابۃ اتفاقا وعند ابی یوسف لایعید لانہ مستحق الصرف الی اللمعۃ والمستحق بجھۃ کالمعدوم فان لم یکن تیمم للحدث ۱؎ الخ وقد سبق۔
اقول: والاول اصح (اور اول اصح ہے) کافی کے میرے نسخہ میں نہیں اور عبارت جیسے کافی میں ہے ویسے منقول نہیں جیسا کہ مقابلہ کرنے سے ظاہر ہوتا ہے اس پر اپنے الفاظ ''ھکذا فی الکافی'' سے تنبیہ بھی کردی ہے جیسا کہ خطبہ کتاب میں لفظ کذا اور ھکذا سے متعلق اپنی اصطلاح بتائی ہے ہاں بعض معاصرین (فاضل لکھنوی ۱۲) نے ذکر کیا ہے کہ عتابی کی شرح ز یادات میں ہے کہ ''وہی اصح ہے'' واسطہ نقل نہ بتا یا۔ اگر یہ صحیح ہے تو شاید ہندیہ میں وہیں سے یا اور کسی کتاب سے یہ اضافہ کرد یا گیا ہے یا ہوسکتا ہے یہ لفظ میرے نسخہ کافی میں چھُوٹ گیا ہو۔ بہرحال ہندیہ نقل میں ثقہ ہے، اور خدائے برتر ہی خوب جاننے والا ہے کافی میں ہے: ''اگر غیر معین طور پر ایک کےلئے کافی ہو تو اسے لمعہ میں صرف کرے کیونکہ وہ اہم ہے اور امام محمد کے نزدیک تیمم حدث کا اعادہ ہے کیونکہ وہ پانی پر قادر ہوگیا تھا اور جنابت میں اسے صرف کرنے کا وجوب حدث میں صرف کرنے پر قدرت کے منافی نہیں۔ اسی لئے اگر اسے وضو میں صرف کرلیا تو جائز ہے اور اسے جنابت کا تیمم کرنا ہے بالاتفاق۔ اور امام ابویوسف کے نزدیک (تیمم حدث کا) اعادہ نہیں اس لئے کہ وہ پانی لمعہ میں صرف کیے جانے کا مستحق ہوچکا تھا اور جو کسی جانب کا مستحق ہو معدوم کی طرح ہے۔ تو اگر اس نے حدث کا تیمم نہ کیا توتھا الخ یہ کلام گزرچکا۔ (ت)
(۱؎ کافی)