Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۴(کتاب الطہارۃ)
55 - 2323
تنبیہ: اس جدول کے ۱۸ نمبروں میں یعنی ۱۴۔۱۹۔۳۰۔۳۵۔۴۷۔۵۱۔۶۶۔۷۱۔۸۳۔۸۷ دس۱۰ یہ اور ۴۰۔۴۵۔۵۵۔۵۹۔۷۶۔۸۱۔۹۱۔۹۵ آٹھ۸ یہ ان میں اختلاف روا یات ہے ان اٹھارہ۱۸ میں پانی لمعہ وحدث مستقل ہر ایک  کےلئے جدا جدا کافی ہے کہ اُن میں جس ایک  کو چاہے دھولے دونوں کے قابل نہیں ان میں اتنا حکم تو بالاتفاق ہے کہ اس سے لمعہ دھوئے حدث میں صرف نہ کرے کہ جنابت سخت تر ہے۔ اس میں اختلاف ہوا کہ پہلی دس۱۰ صورتوں میں جو حدث کے لئے تیمم کرے گا آ یا یہ ضرور ہے کہ اول لمعہ دھوئے جب پانی نہ رہے اُس وقت حدث کے لئے تیمم کرے  یا پہلے پےچھے ہر طرح کرسکتا ہے دونوں روایتیں ہیں اور پچھلی آٹھ میں کہ حدث کا تیمم پہلے کرچکا تھا اس پانی کے ملنے سے ٹوٹا  یا نہیں دونوں قول ہیں پھر جن کے نزدیک  نہ ٹوٹا جب تو اس پر تیمم کا اعادہ ہی نہیں اور جن کے نزدیک  ٹوٹ گیا وہ لازم کرتے ہیں کہ پہلے لمعہ دھوکر تیمم کا اعادہ کرے ورنہ جس پانی کے پانے نے پہلا تیمم توڑ د یا اس کا موجود رہنا دوسرا تیمم باطل کرے گا۔ منشاء اختلاف تمام صورتوں میں ایک  ہے کہ آ یا یہ پانی جو ازالہ حدث مستقل کے بھی قابل ہے اگرچہ اس سے لمہ ہی دھونے کا حکم ہے اس کے ملنے سے حدث کے لئے پانی پر قدرت ثابت ہوئی  یا نہیں جنہوں نے خیال فرما یا کہ ہوئی حکم د یا کہ جب تک یہ پانی خرچ نہ ہولے حدث کا تیمم نہ کرے اور اگر پہلے کرچکا ہے ٹوٹ گیا کہ پانی پر قدرت تیمم گزشتہ کی ناقض اور آئندہ کی مانع ہے اور جنہوں نے لحاظ فرما یا کہ اگرچہ پانی اس کے بھی قابل پا یا مگر وہ بحکمِ شرع دوسری حاجت کی طرف مصروف ہے لہذا اس سے ازالہ حدث پر قدرت نہ ہُوئی انہوں نے حکم د یا کہ یہ پانی نہ اگلے تیمم حدث کو توڑے گا نہ اس کے ہوتے حدث کےلئے تیمم ممنوع ہوگا۔
اقول ایک  اختلاف تو یہ اصل مسئلے میں تھا ثانیا ان روایتوں کی طرز نقل بھی مختلف آئی بعض عــہ۱میں یوں کہ ایک  روایت یہ ہے ایک  وہ جس سے اُن کی مساوات ظاہر اور یہ نہ کھلا کہ روا یات ظاہرہ ہیں  یا نادرہ بعض میں عــہ۲ یوں کہ دوم روایت نوادر ہے جس سے ظاہر کہ اول ظاہر الروا یۃ ہے۔
عــہ۱ سراج وہاج منحۃ الخالق شرح وقایہ ردالمحتار مع ان فی اصلہ الحل یۃ تسم یۃ الاصل والز یادات (م)

(بوجود اس کے اس کی اصل حلیہ میں اصل اور ز یادات کا نام ذکر کیا ہے۔ ت)

عــہ۲ شرح طحاوی خزانۃ المفتین ۱۲ (م)
بعض عــہ۳ میں یوں کہ اول روایت ز یادات ہے اور دوم روایت اصل۔ اصل وز یادات دونوں کتب ظاہر الروا یۃ سے ہیں اقول اور ہے یہی کہ دونوں روایتیں ظاہر الروا یۃ ہیں کہ مثبت نافی پر مقدم ہے نافی کو اُس وقت روایت اصل خیال میں نہ تھی اور نوادر سے  یاد لہذا اسے روایت نادرہ فرما یا اور جب حسبِ تصریح ثقات وہ کتاب الاصل میں موجود تو ضرور ظاہر الروا یۃ ہے بلکہ اول سے بھی اولٰی کہ اصل ز یادات پر مرجح ہے ۔
عــہ۳ شرح وقایہ حلیہ بحر ۱۲ (م )
ثالثا قائلین کرام کی طرف اس کی نسبت بھی مختلف طور پر آئی بعض نے عــہ۴ بلفظ ضعف فرما یا کہ کہا گیا کہ اول قول محمد دوم قول ابویوسف ہے بعض عــہ۵  نے جزماً انہیں ان کا قول بتا یا
عــہ۴ محیط رضوی سراج منحہ و غیرہ ۱۲ (م)

عــہ۵ کافی حلیہ ہندیہ ردالمحتار مع نقل الحل یۃ ا یاہ عن المحیط و غیرہ بلفظۃ قیل ۱۲ (م) (اس کے باوجود حلیہ نے اس کو محیط و غیرہ سے لفظ ''قےل'' سے نقل کیا ہے۔ ت)
بعض عــہ۱ نے اول کو فرما یا قیاس قول محمد ہے یعنی تصریحا اُن سے مروی نہیں اُن کے قول کا قیاس چاہتا ہے کہ حکم یہ ہو ۔
عــہ۱ شرح طحاوی خزانۃ المفتین ۱۲ (م)
اقول: اور ہے یہی کہ اول قول محمد اور دوم قولِ ابویوسف ہے رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین کہ نقل ثقات موجب اثبات رابعا:اختیار بھی مختلف رہا بعض نے اُس عــہ۲ پر جزم فرما یا بعض نے عــہ۳ اس پر بعض عــہ۴ نے دونوں ذکر کرکے چھوڑ دئے۔
عــہ۲ حلیہ نیز بدائع ومحیط رضوی بددلا لۃ النص کماستعرف (م) (اسی پر دلالۃ النص ہے جیسا کہ عنقریب جان لوگے۔(ت)

عــہ۳درمختار ومحشیان ۱۲ (م)

عــہ۴ سراج وہاج منحہ ۱۲ (م)
خامسا: تصحیح میں بھی اختلاف پڑا بعض عــہ۵ نے اسے اصح کہا بعض عــہ۶ نے اسے ظاہراً اوجہ سادسا اُس منشأ اختلاف کی تقر یر بھی مختلف آئی۔
عــہ۵  ہندیہ ونقل عن شرح الز یادات للعتابی ۱۲ (م) (اور عتابی کی شرح ز یادات سے نقل کیا گیا ہے۔ ت)

عــہ۶ حلیہ ردالمحتار وادمی الیہ فی شرح الوقا یۃ واعتمدۃ البحر تبعا للحلبی ۱۲ (م) (شرح وقایہ میں اسی کی طرف اشارہ کیا ہے اور بحر نے حلبی کی اتباع میں اسی پر اعتماد کیا ہے ۱۲۔ ت)
بعض عــہ۷ نے یوں فرما یا کہ اگرچہ یہ پانی لمعہ میں صرف کرنا بالاتفاق واجب ہے مگر امام محمد کے نزدیک  یہ وجوب اُس سے ازالہ حدث پر قدرت کا مانع نہیں کہ کرے تو بالاجماع صحیح تو ہوگا اور امام ابویوسف کے نزدیک  مانع ہے کہ جب شرع اس سے ازالہ حدث کی اُسے اجازت نہیں دیتی تو قدرتِ شرعیہ کب ہوئی
    عــہ (۷ کافی ۱۲    )
اور بعض عــہ۸ نے یوں تقر یر کی کہ نہیں بلکہ وجوب ہی میں اختلاف ہے۔ امام محمد کے نزدیک  اسے لمعہ کی طرف صرف کرنا واجب نہیں صرف اولٰی ہے لہذا ازالہ حدث پر قدرت ثابت اور امام ابویوسف کے نزدیک  واجب ہے اور واجب کی مخالفت شرعاً ممنوع ومحظور لہذا حدث میں صرف  غیر مقدور۔
عــہ (  ۸ غنیہ ۱۲)
اب ہم عبارات کرام ذکر کریں جن سے ان بیانات کا انکشاف ہو۔
فی السراج الوھاج ثم منحۃ الخالق اذا احدث بعد التیمم ثم وجد ماء یکفی لکل واحد منھما علی الانفراد غسل بہ اللمعۃ لان الجنابۃ اغلظ ثم یتیمم للحدث ولوبدأ بالتیمم ثم غسلھافی روا یۃ لایجوز ویعید التیمم وفی روا یۃ لہ ان یبدأ بایھما شاء قیل الاولٰی قول محمد والثانیۃ قول ابی یوسف ۱؎ اھ،
 ( ۱؂منحۃ الخالق مع البحر، باب التیمم، مطبع ایچ ایم سعید کمپنی کراچی، ۱/۱۳۹)
سراج وہاج پھر منحۃ الخالق میں ہے: ''جب تیمم کے بعد حدث ہو پھر اتنا پانی پائے جو تنہا ہر ایک  کےلئے کافی ہو تو اس سے لمعہ دھوئے اس لئے کہ جنابت ز یادہ سخت ہے پھر حدث کا تیمم کرے۔ اور اگر پہلے تیمم کیا پھر لمعہ دھو یا تو ایک  روایت میں ہے کہ جائز نہیں اور وہ تیمم کا اعادہ کرے گا ایک  روایت میں ہے کہ اسے اختیار ہے دونوں میں سے جس کو چاہے پہلے کرے، کہا گیا کہ روایت اولٰی امام محمد کا قول ہے اور روایت ثانیہ امام ابویوسف کا قول ہے'' اھ
وتقدم عن شرح الطحاوی وخزانۃ المفتین فیما اذالم یکن تیمم قبل وجدان الماء لوبدأ بالتیمم ثم غسل اللمعۃ لایجوز وفی النوادر یبدأ بایھما شاء ثم قالا فیما اذاسبق تیممہ یغسل اللمعۃ وتیممہ علی حالہ وعلی قیاس قول محمد یتیمم ۲؎ اھ۔
شرح طحاوی اور خزانۃ المفتین سے گزرا، اس صورت میں جبکہ پانی ملنے سے پہلے تیمم نہ کیا ہو اگر پہلے تیمم کیا پھر لمعہ دھو یا تو جائز نہیں اور نوادر میں ہے کہ دونوں میں سے جسے چاہے پہلے کرے پھر اس صورت میں جب اس کا تیمم پہلے ہوچکا ہو لکھا کہ ''لمعہ دھوئے اور اس کا تیمم برقرار ہے۔ اور برق یاسِ قولِ محمد تیمم کرے'' اھ (ت)
 (۲؎ شرح الطحاوی للاسبیجابی    وخزانۃ المفتین    )
اقول: ولا(۱) فرق بین الصورتین لاتحاد المبنی کماعلمت فقدمشی اولا علی قول محمد وجعل(۲) الثانی روا یۃ النوادر ومشی ثانیا علی قول ابی یوسف وجعل الاول قیاس قول محمد وفی المنیۃ وعلیہ ان یبتدئ بغسل اللمعۃ ثم یتیمم ۳؎ اھ فقد مشی علی قول محمد،
 (۳؎ منیۃ المصلی    باب التیمم    مطبوعہ مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور    ص۶۰)
اقول: دونوں صورتوں میں کوئی فرق نہیں کیونکہ مبنٰی میں اتحاد ہے جیسا کہ معلوم ہوا۔ تو پہلے امام محمد کے قول پر چلے اور ثانی کو روایت نوادر قرار د یا۔ اور ثانیا امام ابویوسف کے قول پر چلے اور اوّل کو امام محمد کے قول کا قیاس قرار د یا۔ اور منیہ میں ہے: اس پر یہ ہے کہ پہلے لمعہ دھوئے پھر تیمم کرے''۔ اور اس میں امام محمد کے قول پر چلے ہیں۔
Flag Counter