مصنّف کا ضابطہ کلیہ: ثمّ اقول علمائے کرام نفعنا اللہ تعالٰی ببرکاتہم فی الدارین نے یہ تقسیم وتفصیل بغرض تفہیم وتسہیل اختیار فرمائی جو بحمدہٖ تعالٰی اپنے منتہائے کمال کو پہنچی اب ہم بغرض ضبط وربط وقلت انتشار انہیں کے کلمات شریفہ کے استفادہ سے ضابطہ کلیہ لکھیں کہ جملہ اقسام واحکام کو حاوی ہو جنب کہ بعد جنابت ہنوز پُورا نہ نہا یا مگر بعض یا کُل اعضائے وضو کی تطہ یر پانی سے یا تیمم کرچُکا اُس کے بعد حدث ہوا کہ دو۲ صورت اخیرہ میں بتمامہ مستقل ہے اور صورت اولٰی میں صرف اُتنا کہ حصّہ مغسولہ اعضائے وضو میں ہے اس صورت میں پانی کہ پا یا اگر بقیہ جنابت وحدثِ مستقل دونوں میں سے صرف ایک کو کافی ہے اس میں صرف کرے اُس کےلئے اگر پہلے تیمم کرچکا تھا ٹوٹ گیا اور دوسرے کےلئے نہ کیا تھا تو اول کے حق میں ٹوٹ گیا ثانی کے حق میں باقی رہا اور اگر پانی دونوں کو معاً کافی ہے تو دونوں کا وہ حکم ہے جو اول کا تھا بجالائے طہارت ہوگئی اور اگر کسی کو کافی نہیں تو دونوں کا وہ حکم ہے جو ثانی کا تھا اگر کسی کےلئے تیمم نہ کیا تھا اب دونوں کےلئے ایک تیمم کرے اور کرلیا تھا تو باقی رہا بہرحال لمعہ کی تقلیل کرے کہ مستحب ہے اور اگر ہر ایک کو جدا جدا کافی ہے تو لمعہ میں صرف کرے تیمم ان میں جس ایک کا یا دونوں کےلئے ایک یا جدا جدا جیسا بھی کرچکا تھا کسی کے حق میں باقی نہ رہا۔ پانی نہ رہنے کے بعد حدث کےلئے تیمم کرے پہلے کرلے گا تو بعد صرف پھر کرنا ہوگا یہی اصح ہے جس کی تفصےل وتحقےق اس تنبیہ آئندہ میں آتی ہے وباللہ التوفیق (اور اللہ تعالٰی کی توفیق سے۔ ت) اور اگر اس نے برخلاف حکم اُسے حدث میں صرف کرلیا حدث تو زائل ہوگیا مگر جنابت کے لئے تیمم بالاجماع لازم ہوا اگرچہ پہلے کر بھی چکا ہو یہ ہے قول جامع ونافع÷