Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۴(کتاب الطہارۃ)
52 - 2323
جنب معہ ماء کاف للوضوء تیمم ولم یتوضأ فان عــہ۱ توضأ وتیمم لجنابتہ فاحدث تیمم لحدثہ فان وجد ماء یکفی لاحدھما صرفہ الی الجنابۃ ویعید تیممہ للحدث عند محمد ۲؎ اھ۔
کسی جنب کے  پاس وضو کےلئے بقدر کفایت پانی ہے تو وہ تیمم کرے اور وضو نہ کرے پھر اگر اس نے وضو کرلیا اور جنابت کا تیمم کیا پھر اسے حدث ہوا تو اپنے حدث کا تیمم کرے اب اگراتنا پانی ملا جو دونوں میں سے کسی ایک  کےلئے کافی ہے تو اسے جنابت میں صرف کرے اور امام محمد کے نزدیک  تیمم حدوث کا اعادہ کرے''اھ  ۲؎ کافی
عــہ۱ اقول:ای عبثا عند ھذا الامام ومن معہ اومقللا للجنابۃ عند الاکثرین اوخارجا عن الخلاف کمابحثت ۱۲ منہ غفرلہ(م)

اقول:یعنی اس امام اور ان کے موافق حضرات کے مذہب پر عبث وبے فائدہ طور پر وضو کرلیا  یا اکثر حضرات کے نزدیک  تقلیل جنابت کےلئے وضو کرلیا  یا اختلاف سے نکلنے کےلئے وضو کیا جیسا کہ میں نے بحث کی ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
حلیہ وردالمحتار:  الواجد للماء بعد ماتیمم للجنابۃ ثم احدث بعد ذلک علی وجھین احدھما ان یجد الماء قبل عــہ۲ ان یتیمم للحدث فالماء اما ان یکون کافیا للمعۃ والوضوء فیغسلھا ویتوضأواما  غیرکاف لاحدھما فیتیمم للحدث واماکاف یا للمعۃ دون الوضوء فیصرفہ الی اللمعۃ ویتیمم للحدث واما کافیا للوضوء دون اللمعۃ فیتوضأ ولایغسل اللمعۃ ولایتیمم لھا واما کافیا لاحدھما  غیرعین فیغسل اللمعۃ ویتیمم للحدث الوجہ الثانی ان یجد الماء بعد ان یتیمم للحدث ۱؎ الخ فیہ ذکر الخمسۃ علی نحومامر۔
حلیہ وردالمحتار وہ جسے تیمم جنابت کے بعد پانی ملے پھر اس کے بعد اسے حدث ہو اس کی دو صورتیں ہیں ایک  یہ کہ حدث کا تیمم کرنے سے پہلے پانی ملے تو پانی اگر لمعہ اور وضو دونوں کےلئے کافی ہو تو لمعہ کو دھوئے اور وضو کرے اور اگر پانی کسی ایک  کے لئے ناکافی ہو تو حدث کا تیمم کرے۔اگر لمعہ کے لئے کافی ہو وضو کےلئے نہیں تو پانی لمعہ کےلئے صرف کرے حدث کےلئے تیمم کرے، اور اگر وضو کےلئے کافی ہو لمعہ کےلئے نہیں تو وضو کرے اور لمعہ کو نہ دھوئے، نہ ہی اس کےلئے تیمم کرے اور اگر  غیر معین طور پر کسی ایک  کےلئے کافی ہو تو لمعہ کو دھوئے اور حدث کا تیمم کرے دُوسری صورت یہ کہ حدث کا تیمم کرنے کے بعد پانی ملے۔ الخ اس میں بھی سابق کی طرح پانچ صورتیں ذکر کیں''۔
(۱؎ ردالمحتار        باب التیمم        مطبوعہ مصطفی البابی مصر        ۱/۱۸۷)
عــہ۲ اقول:القبل یۃ(۱) لاتقتضی وجود مدخولھا قال تعالی قل لوکان البحر مدادا لکلمٰت ربی لنفد البحر ان تنفد کلمٰت ربی فالمعنی تیمم للجنابۃ ثم احدث ثم وجد الماء من دون ان یتیمم قبلہ للحدث والا فالتیمم بعدہ للحدث لیس فیما اذاکفی لھما معا اوللوضوء خاصۃ وقس علیہ قول الخلاصۃ احدث قبل غسل اللمعۃ بل وقول شرح الطحاوی الاٰتی وجد الماء بعد ماتیمم قبل الحدث فان وجود الحدث بعدہ  غیر ملحوظ فیہ وان کان لابدمنہ عاش اومات علی قول ان الموت حدث کماھو الراجح عندنا ۱۲ منہ غفرلہ (م)

اقول: قبلیت اپنے مدخول کے وجود کی مقتضی نہیں۔ارشاد باری تعالٰی ہے: ''تم فرماؤ اگر سمندر میرے رب کی باتوں کےلئے روشنائی ہوجائے تو سمندر ختم ہوجائے اس سے قبل کہ میرے رب کی باتیں ختم ہوں'' تو معنی یہ ہوا کہ جنابت کا تیمم کیا پھر اسے حدث ہوا پھر پانی پا یا بغیر اس کے کہ اس سے پہلے حدث کا تیمم کیا ہو۔ورنہ اس کے بعد حدث کا تیمم اس صورت میں نہیں جب دونوں ہی کےلئے پانی کافی ہو  یا صرف وضو کےلئے کافی ہو۔اسی پر خلاصہ کی عبارت ''لمعہ دھونے سے پہلے حدث ہُوا'' کا ق یاس کیا جائے بلکہ شرح طحاوی کی آنے والی اس عبارت کا بھی ''اسے پانی ملا اس کے بعد کہ تیمم کرچکا حدث سے پہلے''۔ کیونکہ اس کے بعد حدث کا وجود ملحوظ نہیں اگرچہ اس سے مضر نہیں جئے یا مرے اس قول پر موت حدث ہے جیسا کہ ہمارے نزدیک  راجح بھی ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
شرح طحاوی وخزانۃ المفتین المسافر اجنب فاغتسل ثم علم انہ بقی لمعۃ فانہ یتیمم لانہ لم یخرج عن الجنابۃ لبقاء اللمعۃ ولواحدث قبل التیمم یتیمم تیمما واحدا للمعۃ والحدث جمیعاکما اذا احدث مراراً لایجب علیہ اکثر من وضوء واحد ولواحدث بعد التیمم ثم وجد الماء عــہ۱ فھو علی خمسۃ اوجہ اذا کفا ھما جمیعا یغسل اللمعۃ ویتوضأ للحدث وان کان لایکفیھما  عــہ۲  یغسل مقدار مایکفیہ حتی تقل الجنابۃ ویتیمم ولوکفی للمعۃ  عــہ۳  یغسل اللمعۃ ویتیمم للحدث ولوکفی للوضوء دون اللمعۃ ویتیمم للحدث ولوکفی للوضوء دون اللمعۃ یتوضأ ولایغتسل اللمعۃ وھو کالجنب اذاتیمم ثم احدث ثم وجد الماء یکفیہ للوضوء یتوضأ بہ ولوکفی لکل علی الانفراد لاجمیعاً یغسل اللمعۃ لان الجنابۃ اغلظ ثم یتیمم للحدث ولوبدأ بالتیمم ثم غسل اللمعۃ لایجوز وعلیہ ان یتیمم بعد الغسل وفی النوادر ان علیہ عــہ۴ ان یبدء بایھما شاء۔
شرح طحاوی وخزانۃ المفتین مسافر کو جنابت لاحق ہُوئی تو اس نے غسل کیا پھر اسے معلوم ہوا کہ لمعہ رہ گیا تو وہ تیمم کرے اس لئے کہ لمعہ باقی رہ جانے کی وجہ سے وہ جنابت سے باہر نہ ہوا اور اگر قبل تیمم اسے حدث ہوا تو لمعہ اور حدث دونوں کےلئے ایک  ہی تیمم کرے جیسے بار بار حدث ہو تو اس پر ایک  وضو سے ز یادہ واجب نہیں۔ اور اگر بعد تیمم اسے حدث ہوا پھر پانی ملا تو اس کی پانچ صورتیں ہیں: (۱) جب دونوں کو پانی کافی ہو تو لمعہ دھوئے اور حدث کےلئے وضو کرے (۲) اور اگر دونوں کےلئے  غیر کافی ہو تو جس حصہ تک کفایت کرے دھولے تاکہ جنابت کم ہو اور تیمم کرے (۳) اگر لمعہ کےلئے کافی ہو تو لمعہ دھوئے اور حدث کا تیمم کرے (۴) اگر وضو کےلئے کافی ہو لمعہ کےلئے نہیں تو وضو کرے اور لمعہ نہ دھوئے اور وہ اس جنب کی طرح ہے جو تیمم کرے پھر اسے حدث ہو پھر پانی ملے جو وضو کےلئے کافی ہو تو اس سے وضو کرے گا (۵) اور اگر تنہا ہر ایک  کےلئے کافی ہو، دونوں کےلئے نہیں، تو لمعہ دھوئے اس لئے کہ جنابت ز یادہ سخت ہے پھر حدث کےلئے تیمم کرے اور اگر پہلے تیمم کیا پھر لمعہ دھو یا تو جائز نہیں۔اور اس پر یہ ہے کہ دھونے کے بعد تیمم کرے اور نوادر میں ہے کہ اس پر یہ ہے کہ دونوں میں جس سے چاہے ابتدا کرے۔
عــہ۱ ای قبل یتیمم للحدث لان الوجدان بعدہ  یاتی بعدہ ۱۲ منہ غفرلہ (م) یعنی حدث کا تیمم کرنے سے پہلے اس لئے کہ اس کے بعد ملنے کا ذکر آگے آرہا ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)

عــہ۲ ای شیئا منھما ۱۲ منہ غفرلہ (م)  یعنی دونوں میں سے کسی کےلئے کافی نہ ہو ۱۲ منہ غفرلہ (ت)

عــہ۳ ای دون الوضوء ۱۲ منہ غفرلہ (م) یعنی وضو کےلئے کافی نہ ہو ۱۲ منہ غفرلہ (ت)

عــہ۴ اقول:ای لہ ولک ان تقول ان(۱) التخییر لاینافی الوجوب کمافی کفارۃ الیمین ۱۲ منہ غفرلہ (م)

اقول:یعنی اسے اختیار ہے۔ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ تخییر منافی وجوب نہیں جیسے کفارہ یمین میں ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
ولووجد الماء عــہ۱ بعد ماتیمم للمعۃ قبل الحدث فھو علی وجھین ان کفاہ یغسلہ وان لم یکفہ یغسل قدر مایکفیہ وتیممہ علی حالہ ولو وجد عــہ۲ بعد ما احدث وتیمم للحدث فھو علی خمسۃ اوجہ علی ماذکرنا ان کفاھما صرف الیھما وان لم یکفھما غسل اللمعۃ مقدار مایکفیہ وتیممہ علی حالہ وان کفی للمعۃ لاللوضوء یغسل اللمعۃ والتیمم علی حالہ وان کفی للوضوء دون اللمعۃ یتوضوء وان کفی لاحدھما علی الانفراد یغسل اللمعۃ وتیممہ علی حالہ وعلی قیاس قول محمد یتیمم ۱؎ اھ
اور اگر لمعہ کےلئے تیمم کرنے کے بعد حدث سے پہلے پانی پا یا تو اس کی دو۲ صورتیں ہیں اگر اسے کافی ہو دھوئے اور اگر کافی نہ ہو تو جہاں تک کفایت کرے دھولے اور اس کا تیمم برقرار ہے اور اگر حدث ہونے اور حدث کا تیمم کرنے کے بعد پا یا تو اس کی پانچ صورتیں ہیں اسی طرح جو ہم نے بیان کیں۔اگر دونوں کو کفایت کرے تو دونوں میں صرف کرے اور اگر دونوں کے لئے  غیر کافی ہو تو جہاں تک کفایت کرے دھولے اور اس کا تیمم برقرار ہے اور اگر لمعہ کےلئے کافی ہو وضو کےلئے نہیں تو لمعہ دھوئے اور تیمم برقرار ہے اور اگر وضوکےلئے کافی ہو لمعہ کےلئے نہیں تو وضو کرے اور اگر تنہا کسی ایک  کےلئے کافی ہو تو لمعہ دھوئے اور اس کا تیمم برقرار ہے اور امام محمد کے قول کے قیاس پر تیمم کرے'' اھ۔
عــہ۱: ای تیمم لھاثم وجد الماء ولم یحدث بعد ۱۲ منہ غفرلہ (م)

یعنی لمعہ کی وجہ سے تیمم کیا پھر اسے پانی ملا اور ابھی اسے حدث نہیں ہوا ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)

عــہ۲: اقول:ای اجنب فتیمم للمعۃ ثم احدث فتیمم لہ ثم وجد الماء لان الوجوہ کلھا مسوقۃ فےما اذا بقی لمعۃ فتیمم لھا ولقولہ وتیمم للحدث فعلم ان التیمم للمعۃ مفروغ عنہ والا لقال تیمم لھما وقداتضح لک بکلام الحل یۃ ۱۲ منہ غفرلہ (م)

اقول:یعنی اسے جنابت ہوئی تو لمعہ کا تیمم کیا پھر حدث ہوا تو حدث کاتیمم کیا پھر پانی ملا اس لئے کہ تمام صورتیں اس میں جاری کی جارہی ہیں جب لمعہ رہ گیا ہو پھر اس کا تیمم کرلیا ہو اور ان کے قول وتیمم للحدث (اور حدث کا تیمم کیا) سے بھی یہ معنی متعین ہوتا ہے۔ تو معلوم ہوا کہ لمعہ کے تیمم سے کلام الگ ہے اور اس سے بحث نہیں ورنہ یوں کہتے تیمم لھما (دونوں کا تیمم کرلیا) اور حلیہ کی عبارت سے یہ معنی واضح ہوچکا ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
 (۱؎ شرح الطحاوی للاسبیجابی وخزانۃ المفتین)
شرح وقا یۃ اغتسل الجنب ولم  یصل الماء لمعۃ ظھرہ وفنی الماء واحدث حدثا یوجب الوضوء فتیمم لھما ثم وجد من الماء مایکفیھما بطل تیممہ فی حق کل واحد منھما وان لم یکف لاحدھما بقی فی حقھما وان کفی لاحدھما بعینہ غسلہ ویبقی التیمم فی حق الاٰخر وان کفی لکل منفرداً غسل اللمعۃ ھذا اذاتیمم للحدثین واحدا اما اذا تیمم للجنابۃ ثم احدث فتیمم للحدث ثم وجد الماء فکذا فی الوجوہ المذکورۃ وان تیمم للجنابۃ ثم احدث ولم یتیمم للحدث فوجد الماء ۲؎ الخ وفیہ ذکر الخمسۃ نحومامر۔
شرح وقایہ جنب نے غسل کیا اور پانی اس کی پیٹھ کے لمعہ تک نہ پہنچا اور پانی ختم ہوگیا اور اسے وضو واجب کرنے والا کوئی حدث ہُوا تو اس نے دونوں کا تیمم کیا پھر اسے اتنا پانی مل گیا جو دونوں کےلئے کافی ہو تو اس کا تیمم دونوں میں سے ہر ایک  کے حق میں باطل ہوگیا اور اگر کسی کےلئے کافی نہ ہو تو دونوں کے حق میں باقی رہا اور اگر معین طور پر ایک  کےلئے کافی ہو تو اسے دھوئے اور دوسرے کے حق میں تیمم باقی رہے گا اور اگر تنہا ہر ایک  کے لئے کافی ہو تو لمعہ دھوئے یہ اس صورت میں ہے جب دونوں حدثوں کےلئے ایک  ہی تیمم کیا ہو لیکن جب جنابت کا تیمم کرلیا پھر حدث ہوا تو حدث کا تیمم کیا پھر پانی ملا تو مذکورہ صورتوں میں حکم وہی ہے اور اگر جنابت کا تیمم کرلیا پھر حدث ہوا اور حدث کا تیمم نہ کیا پھر پانی ملا الخ اس میں بھی پانچ صورتیں اسی طرح ذکر کی ہیں جو گزریں۔
 (۲؎ شرح الوقا یۃ    ماینقض التیمم    المکتبۃ الرشیدیہ دہلی        ۱/۱۰۴)
Flag Counter