Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۴(کتاب الطہارۃ)
51 - 2323
وقال فی الکافی فی الاٰخر ثم وجد ماء یکفی لاحدھما ای لبقیۃ بدنہ اولمواضع وضوئہ ۲؎ اھ۔
اور کافی کے اندر آخر میں فرما یا ''پھر اتنا پانی پا یا جو دونوں میں سے ایک  کےلئے کافی ہے یعنی بقیہ بدن کے لئے  یا مواضع وضو کےلئے'' اھ
 (۲؎ کافی)
وقال فی السراج الوھاج ومنحۃ الخالق فی مسألۃ اللمعۃ لوتوضأ بذلک الماء لم یجز ۳؎ اھ۔
سراج وہاج اور منحۃ الخالق میں لمعہ کے مسئلہ میں فرما یا ''اگر اس پانی سے وضو کیا تو جائز نہیں'' اھ،
 (۳؎ منحۃ الخالق مع البحر ، باب التیمم،  ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ، ۱/۱۳۹)
وصدر(۴)الشریعۃ وان عبر فی موضعین بالحدث والجنابۃ غیر ان عبارتہ ابعد العبارات عن احاطۃ الاقسام لتخصیصہ الکلام بلمعۃ فی الظھر فقد اختار القسم السادس من الاقسام السبعۃ عینا وبالجملۃ الظاھر المتبادر من کلامھم رحمھم اللّٰہ تعالٰی ورحمنا بھم قصر الکلام علی القسمین الاخیرین الذین فیھما الحدث خارج اعضاء الوضوء واللّٰہ تعالٰی اعلم بمراد عبادہ۔
اور صدر الشریعۃ نے اگرچہ دو جگہ حدث وجنابت سے تعبیر فرما یا سوا اس کے کہ لمعہ پشت سے کلام خاص کردینے کی وجہ سے ان کی عبارت احاطہ اقسام کے معاملہ میں سب سے ز یادہ بعید ہے۔ پھر انہوں نے ساتوں اقسام میں سے قسم ششم خاص طور سے اخت یار کی بالجملہ کلمات علماء سے ظاہر متبادر یہی ہے کہ کلام ان اخیر دو قسموں میں محدود ہے جن میں حدث اعضا وضو کے باہر ہے۔ خدا ان حضرات پر رحمت فرمائے اور ان کی برکت سے ہم پر رحم فرمائے اور خدائے برتر کو اپنے بندوں کی مراد خوب معلوم ہے۔(ت)

ثمّ اقول: تقسیم اوّل کی ہر قسم میں یہ پانچوں صنفیں نہ ہوسکیں گی۔

قسم اوّل میں صرف دو۲ ہوں گی کہ پانی وضو کو کافی ہے  یا نہیں کہ وضو و لمعہ متحد ہیں تو پہلی عــہ۱ تین۳ صنفیں ایک  ہیں اور چہارم ناممکن۔لہذا قسم عــہ۲  اوّل کہ دو۲ نوع آخر سے دو۲ تھی ان دو۲ صنفوں سے چار۴ ہوئی۔
عــہ۱:  یا یوں کہیے کہ پہلی دو بھی ناممکن صرف سوم وپنجم ہیں۔ظاہر ہے کہ مجموع کو کافی ہونے کے یہ معنی کہ اُس سے دونوں ادا ہوسکیں یہ یہاں حاصل ہے ۱۲ منہ غفرلہ (م)

عــہ۲: یہ اختلاف تعبیر ملحوظ رہے کہ قسم سے مراد تقسیم اوّل کے اقسام ہیں اور نوع سے تقسیم دوم کے اور صنف سے تقسیم سوم کے ۱۲ منہ غفرلہ (م)
قسم دوم میں تین کہ صرف وضو کو کافی ہو  یا مجموع کو کہ لمعہ ہے  یا کسی کو نہیں یہاں دوم و چہارم محال تو یہ قسم دو۲ نوع آخر پھر ان تین صنفوں سے چھ۶ ہوئی۔

قسم سوم میں دو۲ نوع آخر کے ساتھ پُورا حدث مستقل ہے تو کامل وضو کا طالب لہذا یہاں بھی تین۳ ہی صنفیں ہوں گی صرف لمعہ کو کافی ہو  یا مجموع کو کہ وضو ہے  یا کسی کو نہیں۔یہاں اول وچہارم محال اور دو۲ نوع اول کے ساتھ بعض حدث مستقل ہے تو اپنے ہی قابل پانی چاہے گا اور اب پانچوں صنفیں ہوں گی کہ یہاں اعضائے وضو دو۲ حصّے ہوگئے ایک  میں جنابت ہے جو بعد جنابت نہ دھو یا تھا دوسرے میں حدث مستقل اب ہوسکتا ہے کہ پانی(۱) صرف اس حدث کو کافی ہو جبکہ یہ حصّہ چھوٹا ہو  یا(۲) صرف جنابت کو جبکہ وہ حصّہ کم ہو اور دونوں صورتوں میں پانی بڑے کے قابل نہیں  یا(۳) پورے وضو کو کافی ہوکہ مجموعہ ہے  یا(۴)ہر حصّے کو جدا جدا جبکہ وہ دونوں برابر ہوں  یا کم وبیش اور پانی بڑے کو کافی ہے نہ مجموع کو  یا(۵) کسی کو کافی نہیں جبکہ دونوں برابر ہوں  یا پانی چھوٹے سے بھی کم تو دس۱۰یہ چھ۶وہ سولہ۱۶ ہوئیں۔

قسم چہارم:  چاروں نوعوں کے ساتھ پانچ ہے کہ مطلوب حدث کل وضو ہو جیسے دو۲ نوع آخر کے ساتھ  یا بعض وضو جیسے دو۲ نوع اول کے ساتھ بہر تقد یر اُسے مطلوب جنابت سے کہ بعض وضو وبعض باقی بدن ہے کمی بیشی مساوات ہر نسبت ممکن۔بیشی یوں کہ جنابت میں رُو وپشت سے دو۲دو۲ انگل جگہ رہی تھی ظاہر ہے کہ اعضائے ثلٰثہ کو اس سے بہت زائد پانی درکار ہوگا و قس علیہ تو یہ قسم بیس۲۰ ہوئے۔

قسم پنجم:  ہر نوع کے ساتھ چار رہی ہے کہ تنہا جمیع باقی بدن کل محلِ وضو سے زائد ہے تو یہاں صنفِ دوم ناممکن ہے اور یہ قسم سولہ ۱۶۔

قسم ششم:  میں بہرحال پانچوں ہونا ظاہر کہ اعضائے وضو کو بعض باقی بدن سے ہر نسبت متصور، تو یہ بھی بیس۲۰ہے۔

قسم ہفتم : میں صنف دوم محال اور مثل پنجم سولہ۱۶۔ لہذا مسئلہ لُمعہ میں سب صورتیں اٹھانوے۹۸ ہُوئیں،کتب اکابر میں بہت کم کابیان ہے اگرچہ ظاہر متبادر اقتصار بدوقسم آخر پر رکھیں جب تو بہت کم رہیں گی حتی کہ سب سے زیادہ تفصیل والی کتاب شرح وقایہ میں ۹۸ میں سے صرف پندرہ۱۵ ورنہ احاطہ بہرحال نہیں ہوسکتا کہ اصناف ہی کا احاطہ نہ فرما یا صور درکنار تفصیل مسئلہ اس وقت دس۱۰ کتابوں سے پیش نظر شرح(۱) مختصر الطحاوی للامام الاسبیجابی پھر(۲) خزانۃ المفتین،(۳)خلاصہ،(۴)کافی پھر(۵) ہندیہ، (۶)منیہ، (۷)حلیہ پھر (۸)ردالمحتار،(۹)سراج وہاج، (۱۰)صدرالشریعۃ۔سراج سے منحۃ الخالق نے کچھ نقل کرکے باقی کا اُس پر حوالہ کرد یا اور البحرالرائق نے ز یر قول مصنّف لبعدہ میلا ضمناً صرف ایک  صورت کی طرف اشعار فرما یا۔منیہ نے صرف نوعِ اوّل لی اور اس میں بھی تین ہی صنفیں ۔ خلاصہ نے نوع سوم پر اقتصار فرما یا۔کافی وہندیہ نے نوعِ چہارم میں پانچوں اصناف اور دوم وسوم میں صرف صنف چہارم۔ شرح طحاوی وخزانۃ المفتین وحلیہ وردالمحتار نے دو۲ نوع اخیر میں پانچوں صنف۔شرح وقایہ نے نوع دوم کا بھی اضافہ فرما یا مگر کلام کو تصریحا صرف قسم ششم سے خاص فرماد یا۔عبارت یہ ہیں:
منیہ: جنب اغتسل وبقی لمعۃ ولیس معہ ماء تیمم للمعۃ وان وجد ماء بعد ما احدث یغسل اللمعۃ ویتیمم للحدث اذاکان الماء یکفی للمعۃ ولایکفی للوضوء وان کان یکفی للوضوء لاللمعۃ یتوضأ ویتیمم عــہ۱ لاجل اللمعۃ وان کان الماء یکفی لاحدھما علی الانفراد فانہ یغسل اللمعۃ ویتیمم للحدث ۱؎ اھ۔
منیہ:کسی جنب نے غسل کیا، لُمعہ رہ گیا اور اس کے پاس پانی نہیں تو لمعہ کےلئے تیمم کرے اور اگر حدث ہونے کے بعد پانی پاجائے تو لمعہ دھوئے اور حدث کےلئے تیمم کرے جبکہ پانی لمعہ کےلئے کفایت کرتا ہو اور وضو کےلئے کفایت نہ کرتا ہو۔اور اگر وضو کےلئے کفایت کرے لمعہ کے لئے نہیں تو وضو کرے اور لمعہ کی وجہ سے تیمم کرے اور اگر پانی تنہا کسی ایک  کےلئے کافی ہو تو لُمعہ دھوئے اور حدث کےلئے تیمم کرے اھ۔
عــہ۱: قولہ ویتیمم لاجل اللمعۃ ساقط من نسخۃ شرح علیھا الشارحان المحققان فانصرف الکلام الی ماوجد الماء بعد التیمم للمعۃ وھو ثابت فی نسخۃ المتن فوجب ان یکون الکلام فی وجدان الماء قبل التیمم لھما ولزم ان یکون المراد اللمعۃ فی  غیر اعضاء الوضوء کالصورۃ الاولی فی شرح الوقا یۃ ۱۲ منہ غفرلہ (م)

لفظ ''ویتمم لاجل اللمعۃ''(اور لمعہ کی وجہ سے تیمم کرے) اس نسخہ سے ساقط ہے جس پر دونوں محقق شارحوں نے شرح کی ہے تو کلام لمعہ کا تیمم کرنے کے بعد پانی پانے والی صورت کی طرف راجع ہوگیا اور یہ لفظ متن کے نسخہ میں ثابت ہے تو ضروری ہے کہ دونوں کا تیمم کرنے سے پہلے پانی ملنے کی صورت میں کلام ہو۔اور لازم ہے کہ وہ لمعہ مراد ہو جو اعضائے وضو کے علاوہ میں ہو جیسے شرح وقایہ کی صورت اولٰی ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
 (۱؎ منیۃ المصلی        فصل فی التیمم    مطبوعہ مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور    ص۶۰)
خلاصہ: اغتسل وبقی لمعۃ یتیمم فان وجد الماء غسل اللمعۃ ولایتیمم فان عــہ۲ احدث قبل غسل اللمعۃ ثم وجد الماء ان کفی ھما صرفہ الیھما وان کان لایکفی لواحد منھما یتیمم للحدث وتیممہ للجنابۃ باق یستعمل ذلک الماء فی اللمعۃ لتقلیل الجنابۃ فان کفی لاحدھما دون الاٰخر صرف الیہ وان کفی لکل علی الانفراد یغسل اللمعۃ ویتمّم للحدث ۱؎ اھ۔
خلاصہ غسل کیا اور لمعہ رہ گیا تو تیمم کرے پھر اگر پانی مل جائے تو لمعہ دھوئے اور تیمم نہ کرے۔اگر لمعہ دھونے سے پہلے اسے حدث ہو پھر اسے پانی ملے اگر دونوں کےلئے کافی ہو تو دونوں میں صرف کرے اور اگر دونوں میں سے کسی کےلئے کافی نہ ہو تو حدث کےلئے تیمم کرے اور اس کا تیمم جنابت باقی ہے۔ وہ پانی تقلیل جنابت کےلئے لَمُعہ میں استعمال کرے گا۔ اگر ایک  کےلئے کافی ہو دُوسرے کےلئے نہیں تو اسی میں اسے صرف کرے اور اگر تنہا ہر ایک  کےلئے کافی ہو تو لمعہ کو دھوئے اور حدث کےلئے تیمم کرے اھ،
عــہ۲: قولہ احدث ای بعد التیمم للمعۃ بدلیل قولہ یتیمم الحدث وتیممہ للجنابۃ باق ۱۲ منہ غفرلہ (م)

''اسے حدث ہو'' یعنی لمعہ کا تیمم کرنے کے بعد جس پر یہ عبارت دلالت کررہی ہے: ''تو حدث کےلئے تیمم کرے اور اس کا تیممِ جنابت کرے اور اس کا تیممِ جنابت باقی ہے''۔ ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
 (۱؎ خلاصۃ الفتاوٰی        الموضوع فی الفلوات        مطبوعہ نولکشور لکھنؤ        ۱/۳۳)(
کافی وھندیہ: جنب اغتسل وبقی لمعۃ یتیمم فان تیمم ثم احدث تیمم للحدث فان تیمم عــہ۱ (ای للحدث) فوجد ماء یکفیھما صرفہ الیھما وان کفی معینا صرفہ الیہ والتیمم للاٰخر باق وان کفی واحدا  غیر عین صرفہ الی اللمعۃ واعاد تیممہ للحدث عند محمد وعند ابی یوسف لایعید فان عــہ۲ لم یکن تیمم للحدث قبل وجود ھذا الماء فتیمم (ای للحدث کمافی الھند یۃ) قبل غسل اللمعۃ لم یجز عند محمد وعند ابی یوسف یجوز وان لم یکف عــہ۳ واحدا بقی تیممھا جنب علی بدنہ لمعۃ احدث قبل ان یتیمم تیمم لھما واحدا فان وجد ما یکفی لاحدھما  غیر عین صرفہ الی اللمعۃ ویعید التیمم للحدث عند محمد ۱؎۔
کافی وہندیہ کسی جنب نے غسل کیا اور لمعہ رہ گیا تو تیمم کرے،اگر تیمم کرلیا پھر حدث ہوا تو حدث کا تیمم کرے پھر اگر حدث کا تیمم کرلینے کے بعد اتنا پانی ملا جو دونوں کو کافی ہو تو دونوں میں صرف کرے۔اور اگر کسی ایک  معین کے لئے کافی ہو تو اسی میں صرف کرے اور دوسرے کا تیمم باقی ہے۔اور اگر کسی ایک  کےلئے  غیر معین طور پر کافی ہو تو اسے لمعہ میں صرف کرے اور اپنے تیمم حدث کا اعادہ کرے امام محمد کے نزدیک  اور امام ابویوسف کے نزدیک  اعادہ نہیں اگر یہ پانی ملنے سے پہلے حدث کا تیمم نہ کیا تھا تو لمعہ دھونے سے پہلے (حدث کا جیسا کہ ہندیہ میں ہے) تیمم کرلیا تو امام محمد کے نزدیک  جائز نہیں اور امام ابویوسف کے نزدیک  جائز ہے۔ اور اگر ان میں سے کسی کے لئے کافی نہ ہو تو دونوں کا تیمم باقی ہے۔ کوئی جنب جس کے بدن پر لُمعہ ہے اُسے تیمم سے پہلے حدث ہوا تو دونوں کےلئے ایک  ہی تیمم کرے پھر اگر اتنا پانی ملے جو  غیر معین طور پر کسی ایک  کےلئے کافی ہو تو اُسے لمعہ میں صرف کرے اور امام محمد کے نزدیک  حدث کے تیمم کا اعادہ کرے۔
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ    ماینقض التیمم        پشاور        ۱/۲۹)
عــہ۱ : ای تیمم للمعۃ ثم احدث فتیمم لہ ثم وجد الماء ۱۲ منہ غفرلہ (م)

یعنی لمعہ کی وجہ سے تیمم کیا پھر اسے حدث ہوا تو اس کا تیمم کیا پھر اسے حدث ہوا تو اس کا تیمم کیا پھر اسے پانی ملا ۱۲ منہ غفرلہ (ت)

عــہ۲ : ای تیمم للمعۃ ثم احدث فوجد الماء قبل ان یتیمم لہ وھو یکفی لاحدھما  غیر معین فان غسل اللمعۃ ثم تیمم للحدث جاز بالاتفاق وان عکس ففیہ خلاف ۱۲ منہ غفرلہ (م)

یعنی لمعہ کی وجہ سے تیمم کیا پھر اسے حدث ہوا تو اس کا تیمم کرنے سے پہلے پانی ملا جو دونوں میں سے ایک  کےلئے  غیر معین طور پر کافی ہے۔ تو اگر لمعہ دھولیا پھر حدث کا تیمم کیا تو بالاتفاق جائز ہے اور اگر برعکس کیا تو اس میں اختلاف ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)

عــہ۳ : رجع الی الکلام السابق اکمالا للتخمیس ۱۲ منہ غفرلہ (م) پانچویں صورت کی تکمیل کےلئے کلام سابق کی جانب رجوع کیا ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
Flag Counter