Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۴(کتاب الطہارۃ)
50 - 2323
رسالہ

مجلی الشمعۃ لجامع حدث ولمعۃ(۱۳۳۶ھ)

(حدث اور لمعہ رکھنے والے سے متعلق شمع افروز)

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
الحمدللّٰہ الذی جلّی الشمعۃ÷شمعۃ الاسلام باوفی لمعۃ÷حمدا بر یاعن الر یاء والسمعۃ÷ اذاظھر انوار من عید الجمعۃ ÷ وفتح بنورہ بصر المؤمن وسمعہ÷واتم بظھورہ قلع کل ضلال وقمعہ÷صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وبارک وسلم ابد الصلاۃ وسلاما وبرکات تعم ذویہ وتجمع جمعہ÷اٰمین۔
تمام حمد خدا کےلئے جس نے شمع فروزاں کی، شمع اسلام کو بھرپور تابندگی کے ساتھ جلوہ گرگیا،ایسی حمد جو ر یا وسمعہ سے پاک ہو اس لئے کہ اس نے اس ذات کے انوار ظاہر کیے جس نے جمعہ کو عید بنا یا اور جس کے نور سے مومن کی بصارت وسماعت کھولی،اور اس کے ظہور سے ہر گمراہی کا قلع قمع تام کیا اس ذات پر خدائے برتر کی طرف سے درود اور برکت وسلام ہو،ایسا درود وسلام اور ایسی برکتیں جو حضور کے سبھی لوگوں کو عام اور ان کی پُوری جماعت کو ہمہ گیر ہو الٰہی قبول فرما۔(ت)
رسالہ الطلبۃ البدیعہ میں مسئلہ لُمعہ کا ذکر آ یا اور اُس میں تفاصیل کثیرہ ہیں کہ کتابوں میں نہ ملیں گی اُن کے بیان میں یہ سطور ہیں وباللّٰہ التوفیق (اور یہ اللہ تعالٰی کی توفیق سے ہے۔ت) جنب نے بدن کا کچھ حصّہ دھو یا کچھ باقی رہا کہ پانی نہ رہا پھر حدث ہوا کہ موجب وضو ہے اب جو پانی ملے اُسے وضو ورفع حدث میں صرف کرے  یا بقیہ جنابت کے دھونے میں  یا کیا۔یہ مسئلہ لُمعہ ہے لُمعہ بالضم یہاں وہ حصّہ بدن ہے جو بعد جنابت سےلانِ آب سے رہ گیا۔
اقول:یہاں تین تقسیمیں ہیں:
تقسيم اوّل:بلحاظ محل لمعہ۔اُس میں سات۷ احتمال ہیں:

(۱) وہ لُمعہ خود یہی اعضائے وضو ہوں انہیں کو غسل میں نہ دھو یا تھا پھر حدث بھی ہوا،اور یہ صورت وہ ہے کہ کلی اور ناک میں پانی پہنچانا ہوچکا ہو ورنہ صرف اُن اعضا میں جنابت نہ ہوگی جن کا وضو میں دھونا فرض ہے جس پر پانی کی کفایت و عدم کفایت کا مدار ہے کہ یہاں کافی سے وہی مراد ہے جو ادائے فرض کردے ولہذا(۱) محدث اگر اتنا پانی پائے کہ مُنہ ہاتھ پاؤں ایک  ایک  بار دھولے نہ تثلیث کو کافی ہو نہ مضمضہ واستنشاق کو تو اُس پر وضو فرض ہے تیمم جائز نہیں اور بعد تیمم اتنا پانی پائے تو تیمم ٹوٹ جائے گا۔

(۲) لُمعہ تمام اعضائے وضو مع ز یادت ہوں کہ وضو بھی نہ کیا اور باقی بدن کا بھی بعض حصہ نہ دھو یا تھا اگرچہ اسی قدر کہ مضمضہ واستنشاق نہ کیا تھا۔

(۳) لمعہ صرف بعض اعضائے وضو ہو یعنی ان کے سوا تمام بدن مع دہان وبینی اور ان میں سے بعض دھولیےتھے بعض باقی۔

(۴) لمہ بعض اعضائے وضو مع بعض باقی بدن ہو مثلاً نصف وضو کیا اور باقی نصف بدن دھو یا  یا مثلاً صرف منہ دھونا اور مضمضہ باقی تھا۔

(۵) لُمعہ بعض وضو مع جمیع باقی بدن ہوکہ صرف اعضائے وضو سے کچھ دھوئے۔

(۶) لمعہ اعضائے وضو سے جُدا بعض باقی بدن ہو اگرچہ اسی قدر کہ پُورا نہا یا اور مضمضہ واستنشاق نہ کیا۔

(۷) لمعہ جمیع باقی بدن ہوکہ صرف وضو بے مضمضہ واستنشاق کیا۔
تقسیم دوم: بنظرِ ترتیب حدث وتیمم و وجدان آب۔علما نے کچھ مفصّل کچھ مجمل ان شقوق کی طرف توجہ فرمائی کہ تیمم جنابت کے بعد حدث ہوا  یا پہلے اور بعد ہوا تو اُس کےلئے تیمم کے بعد پانی ملا یا پہلے اقول:یہاں چار۴ چیزیں ہیں:

(i) تیمم جنابت

(ii) حدث 

(iii) تیمم حدث

(iv) وجدان آب

ان کے اختلاف ترتیب میں عقلی احتمال چوبیس۲۴ہیں لیکن یہاں چند نکتے ہیں کہ اُن میں سے بہت کو کم کردیں گے ۔ اولاً: وجدانِ آب کے بعد فرضِ صورت کا مرتبہ نہیں بلکہ بیانِ حکم کا کہ پانی پا یا تو کیا کرے،
ولھذا لما ذکر الامام الاسبیجابی فی شرح الطحاوی ما اذا وجد الماء بعد التیمم للجنابۃ لم یزد علی انہ ان کفاہ غسل والا فتیممہ باق ۱؎۔
اسی لئے جب امام اسبیجابی نے شرح طحاوی میں تیمم جنابت کے بعد پانی ملنے کی صورت بیان کی تو اس سے ز یادہ نہ کہا کہ ''وہ پانی اگر کافی ہو تو غسل کرے ورنہ اس کا تیمم باقی ہے۔(ت)
 (۱؎ شرح الطحاوی للاسبیجابی)
تو چوبیس۲۴ میں وہ چھ۶ جن کی ابتدا میں وجدانِ آب ہے صرف ایک  رہی کہ جنب نے ابھی نہ تیمم کیا تھا نہ حدث ہوا کہ پانی پا یا یوں ہی باقی ۱۸ میں جہاں وجدانِ آبِ وسط میں آئے تصو یر اس پر ختم کردی جائے کہ رباعی کی جگہ ثلاثی  یا ثنائی رہ جائے۔

ثانیا:مذہب صحیح(۱) ومعتمد پر نیت تیمم میں تعیین حدث وجنابت لغو ہے تو باقی ۱۸ میں وہ چھ۶جن کی ابتدا میں تیمم جنابت ہے اور وہ چھ۶جن کے آغاز میں تیمم حدث ہے متحد ہیں اور اگر تعیین ہی کیجئے تو تیمم حدث پیش ازحدث باطل ہے یوں بھی یہ چھ۶نکل جائیں گے۔

ثالثا:جس ترتیب میں دونوں تیمم متصل واقع ہوں ایک  واجب الحذف ہے کہ تیمم(۲) بعد تیمم لغو ہے یوں ان ۱۸ سے پانچ رہ جائیں گی اور اس ایک  سے مل کر ۶۔ایک  یہ کہ بعد جنابت پانی پالیا ابھی تیمم و حدث کچھ نہ ہوا تھا دوسری یہ کہ تیمم جنابت کے بعد پا یا ابھی حدث نہ تھا یہ دو۲یہاں قابلِ لحاظ نہیں کہ اُن میں حدث وجنابت کا اجتماع ہی نہیں۔اور اُن کا حکم خود ظاہر،پہلی میں اگر پانی غسل کو کافی ہے غسل کرے ورنہ تیمم دُوسری میں اگر پانی کافی ہے تیمم ٹوٹ گیا نہائے ورنہ نہیں، باقی چار۴ یہ ہیں:

(۱) حدث کے بعد پانی پا یا ابھی تیمم نہ کیا تھا،یہ دومِ متروک کی طرح ثنائی ہے یعنی اُن چار۴چیزوں سے اس میں دو۲ہیں۔

(۲) حدث ہوا پھر تیمم کیا پھر پانی پا یا۔

(۳) تیمم کیا پھر حدث ہوا پھر پانی پا یا یہ دونوں ثلاثی ہیں۔

(۴) تیمم کیا پھر حدث ہوا پھر تیمم کیا پھر پانی پا یا یہ رباعی ہے۔

ثم اقول:مسئلہ لمعہ میں معظم مقصود یہ بتانا ہے کہ حدث وجنابت دونوں جمع ہوں اور پانی ایک  کے قابل تو اُسے کس طرف صرف کرے باقی صور تکمیل اقسام کے لئے ہیں یہ سوال وہیں عائد ہوگا جہاں حدث مستقل ہوکہ حدث مندرج اپنا کوئی حکم ہی نہیں رکھتا نہ وہ اپنے لئے پانی کا طالب، اور ہم رسالہ الطلبۃ البدیعہ میں واضح کرچکے کہ جنب کا حدث مستقل نہ ہوگا مگر جبکہ کُل  یا بعض اعضائے وضو سے پانی  یا مٹی سے جنابت کے زوال کلی عــہ یا موقت کے بعد حادث ہو اور حدث جب حادث ہوگا کُل اعضائے وضو پر طاری ہوگا تو وہ صورت جس پر اس مسئلہ لُمعہ میں کلام ہے اقسام مسطورہ رسالہ مذکورہ سے صورتِ اولٰی کے اقسام پر ہے جس میں حدث کُل اعضائے وضو میں تھا اُس کی آٹھ قسمیں تھیں جنابت کُل  یا بعض اعضائے وضو میں تنہا  یا مع بعض  یا کل باقی بدن ہو  یا اعضائے وضو میں اصلا نہ ہو صرف بعض  یا کُل باقی بدن میں ہو ان میں سے قسم سوم کہ جنابت کل اعضائے وضو مع جمیع باقی بدن میں ہو یہاں نہیں کہ کلام لمعہ میں ہے یہ لمعہ نہ ہوا سارے بدن میں جنابت ہوئی باقی سات۷یہی سات۷ہیں جو ابھی تقسیم اوّل میں مذکور ہوئیں۔یہ ان چار۴انواع تقسیم دوم سے مل کر اٹھائیس۲۸ہوئیں مگر ان میں چار۴وہ ہیں جن میں حدث اصلاً مستقل نہیں یعنی تقسیم اول کی دو۲ قسم پیشن جن میں جنابت جمیع اعضائے وضو میں ہے تقسیم دوم کی دو۲ نوع اوّل سے مل کر جن میں حدث تیمم جنابت سے پہلے ہے لہذا یہ چار۴اس مسئلہ میں ملحوظ نہیں۔
عــہ: بعد جنابت اگر پُورا وضو کرلیا کل اعضائے وضو سے جنابت کا زوال کُلّی ہوگیا اور بعض دُھلے تو بعض سے اور اگر صرف تیمم کیا تو کُل اعضا سے وقت وجدان آب تک زوال ہوا ۱۲ منہ غفرلہ۔(م)
اقول: اور ان کا حکم ظاہر پانی لمعہ کےلئے کافی  دیکھا جائے گا اگر ہے اُس کا دھونا واجب اُس کے ساتھ حدث خود ہی دُھل جائے گا ولہذا پہلی صورت میں کہ جنابت صرف کُل اعضائے وضو میں تھی وضو کے قابل پانی پانے سے وضو واجب ہوگا نہ حدث بلکہ جنابت کےلئے، اور اگر پانی لمعہ کو کافی نہیں تو استعمال اصلاً ضروری نہیں اگرچہ وضو کےلئے کافی ہو ہاں تقلیل لمعہ کےلئے اسے استعمال کرے گا جس میں اختیار رہے گا کہ خواہ وضو کرے خواہ باقی بدن میں جو لمعہ ہے اُسے دھولے خواہ بعض وہ اور بعض اعضائے وضو دھولے اور اگر پانی اُن میں ہر ایک  کے بعد بچے تو چاہے باقی بدن کا لُمعہ دھوئے اور کُچھ اعضائے وضو  یا وضو پُورا کرے اور کُچھ لمعہ دھوئے ہاں دونوں صورتوں میں وضو اولٰی ہے کہ ادائے سنّت ہے
کماتقدم عن الکافی وشرح الز یادات للعتابی فی الطلبۃ البدیعۃ
 (جیسا کہ کافی اور عتابی کی شرح ز یادات کے حوالے سے الطلبۃ البدیعۃمیں گزرا۔ت) باقی رہیں چوبیس۲۴ اُن میں اٹھارہ۱۸ کا حدث مطلقاً مستقل ہے یعنی تقسیم اول کی ساتوں قسمیں تقسیم دوم کی اخیرین سے مل کر کہ چودہ۱۴ ہوئیں اس لئے کہ حدث بعد تیمم ہمیشہ مستقل ہوتا ہے نیز تقسیم اوّل کی دو قسم اخیر دوم کی اولین سے مل کر چار ہوئیں اس لئے کہ یہاں جنابت خود ہی اعضائے وضو میں نہیں تو حدث اگرچہ اُس کے تیمم سے پہلے ہو مستقل ہوگا۔ باقی چھ۶ یعنی تقسیم اول کی ۳۔۴۔۵ تقسیم دوم کی ۱۔۲ سے مل کر ان میں پورا حدث مستقل نہیں بلکہ اُتنے ہی حصّہ اعضائے وضو کا جو بعدجنابت دُھل چکے تھے ان ۱۸ میں حدث پورے وضو کا پانی چاہے گا اور ان چھ۶ میں صرف اُتنا جو اس حصہ کو دھو دے جس میں یہ مستقل ہے۔یہ  یاد رکھیے کہ آگے کام دے گا۔
تقسیم سوم: پانی کہ پا یا کس مقدار کا تھا اس میں علماء نے پانچ اصناف فرمائیں:

(۱) صرف وضو کوکافی

(۲) صرف لمعہ کوکافی

(۳) مجموع کوکافی

(۴) ہر ایک  کو جدا جدا کافی کہ چاہے وضو کرلے  یا لُمعہ دھولے دونوں نہ ہوسکیں۔

(۵) اصلاً کافی نہیں اکثر کتب مثل(۱) شرح طحاوی و(۲) خزانۃ المفتین و(۳) منیہ و(۴)حلیہ و(۵) شرح وقایہ و(۶) ردالمحتارمیں وضو و لمعہ سے تعبیر فرمائی۔

وانا اقول: تعبیر(۱) حدث وجنابت سے جس طرح خلاصہ میں فرمائی اس سے اولٰی ہے اور حقِ(۲) تعبیر تقےید حدث بمستقل ورنہ اطلاق حدث سے کل حدث متبادر، او ہم ابھی ثابت کرچکے کہ یہاں چھ۶ صورتوں میں حدث کا صرف ایک  پارہ مستقل ہوتا ہے اُس کےلئے وضو کو کافی پانی درکار نہیں بلکہ اُتنے ٹکڑے کو۔
والکافی(۳) والھند یۃ وان عبرا بالحدث واللمعۃ فقدقالا لوصرفہ الی الوضوء جاز اتفاقا ۱؎ ۔
اور کافی وہندیہ میں اگرچہ حدث ولمعہ سے تعبیر کی پھر بھی یہ فرما یا ''اسے اگر وضو میں صرف کیا تو بالاتفاق جائز ہے''۔
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ        ماینقص التیمم    نورانی کتب خانہ پشاور    ۱/۲۹)
Flag Counter