Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۴(کتاب الطہارۃ)
49 - 2323
مسئلہ ۱۱:صورت ۱۱ میں مطلوب حدث کہ بعض اعضائے وضو ہیں مع ز یادت داخل مطلوب جنابت ہیں تو مطلوب حدث مشترک ہوکر ساقط ہوا اور مغسول حدث بدستور شامل مقدور تو وہ اور باقی بدن نہ دھلے انہیں جنابت کے لئے اور باقی بدن کے لئے  غیر مغسول پر مسح اورفریق دوم ز یادہ ہے تو تیمم مگر یہ کہ مغسول حدث کا جتنا ٹکڑا جنابت میں نہ دھلا اس میں ضرر تازہ پیدا ہوا تو وہ بھی فریق دوم میں شامل ہوگا اگر فریق اول ز یادہ ہو تو اس ٹکڑے اور باقی بدن کے  غیر مغسول پر مسح کرے اور مطلوب حدث بغرض جنابت دھوئے ورنہ تیمم۔

تنبیہ:یہ نسبتیں اُسی تقد یر پر ہیں کہ حصّہ مقدور کے علاوہ باقی تمام حصے میں ضرر ہو ورنہ اُس میں بھی جتنے میں ضرر نہیں شاملِ مقدور ہوگا۔
تنبیہ: جتنے حصہ میں فی نفسہ ضرر نہ ہو مگر اس کے دھونے سے پانی وہاں تک پہنچنا لازم ہو جس میں ضرر ہے تو وہ بھی  غیر مقدور ہے کمانصوا علیہ واللّٰہ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم (جیسا کہ علما نے اس کی تصریح کی ہے اور خدائے پاک وبرتر خُوب جاننے والا ہے۔ت)
مسئلہ ۱۲:جس طرح ابتدا میں اس حدث کے قابل پانی موجود ہونا تیمم کو مانع نہیں یوں ہی اگر پانی اصلاً نہ تھا اور تیمم کرلیا کہ جنابت وحدث دونوں کو رفع کرگیا اب پانی اتنا ملا کہ اُس حدث کو کافی ہے جب بھی اُس کے استعمال کی حاجت نہیں یہ تیمم حدث کے حق میں بھی نہ ٹوٹے گا کہ حدث کا کوئی حکم نہ تھا تیمم جنابت کا تھا اور اُس کے قابل پانی نہیں بفضلہ عزوجل یہ تمام احکام ومسائل وتفصیلات جلائل اس فتاوٰی کے خصائص سے ہیں اس کے  غیر میں نہ ملیں گے۔
ذکرناھا تفقھا ونرجو من ربنا اصابۃ الصواب÷والحمدللّٰہ العزیز الوھاب÷ وصلی اللّٰہ تعالٰی علی السید الاواب÷ واٰلہ وصحبہ وامتہ الی یوم الحساب÷
ہم نے یہ تفقّہابیان کیے اور ہمیں اپنے رب سے امید ہے کہ صواب ودرستی کو ہم نے پالیا اور تمام تعریف عزّت والے بہت عطا فرمانے والے خدا کےلئے ہے۔اور خدائے برتر کی طرف سے درود ہو بہت رجوع لانے والے آقا،ان کی آل، ان کے اصحاب اور ان کی امت پر روزِ حساب تک۔(ت)
مسئلہ ۱۳:حدث(۱) مستقل مستقل ہے اس کےلئے تیمم میں خاص اُس پانی سے عجز  دیکھا جائےگا جو اس کےلئے کافی ہو مطلوب جنابت سے عجز اُس کےلئے تیمم جائز نہ کرے گا مثلاً استقلال(۲) کی صورت نہم میں جنب نے وضو کیا پھر حدث ہوا پھر سارا وضو کیا مگر ایک  انگلی کی ایک  پور چھوڑ دی کہ اب جنابت کےلئے اتنا پانی درکار ہے جو اعضائے وضو کے علاوہ جمیع بدن کو کافی ہو اور حدث کے لئے صرف اس پور کو۔اب اس نے اگر صرف اتنا پانی پا یا کہ اس پور کو دھوسکے تو یہ خیال نہ کرے کہ اُس سارے بدن کے لئے تو تیمم کرنا ہے ایک  پور دھونا کیا ضرور ایسا کرے گا تو تیمم کافی نہ ہوگا نماز نہ ہوگی بلکہ ضرور ہے کہ اس پور کو دھولے کہ حدث مستقل سے فارغ ہوجائے جنابت کے لئے تیمم کرے۔
مسئلہ ۱۴:اگر جنابت وحدث مستقل کسی کے قابل پانی نہ پا یا اور تیمم کیا کہ دونوں کےلئے ایک  ہی کافی ہوا یہ تیمم اگرچہ صورۃً ایک  ہے معنیً دو۲ہیں ایک  تیمم جنابت کےلئے دُوسرا اُس حدث کے واسطے۔ہر ایک  جدا جدا اپنی شرط کا پابند رہے گا اگر اتنا پانی پا یا کہ حدث کو کافی ہے اور جنابت کو کافی نہیں حدث کے حق میں تیمم ٹوٹ جائے گا اسے دھونا لازم ہوگا بخلاف صورت مسئلہ۱۲ کہ اُس میں تیمم صورۃً ومعنیً ہر طرح ایک  تھا تو حدث کےلئے کافی پانی سے نہ جائے گا جب تک جنابت کو کافی نہ ہو۔
مسئلہ ۱۵:جنابت کی تطہیر اگرچہ تیمم سے ہوئی ہو پانی سے کوئی حصّہ نہ دھو یا ہو اُس کے بعد جو حدث ہوگا تمام وکمال مطلقاً مستقل رہے گا کہ جنابت رفع ہوچکی معدوم میں موجود کا اندراج کیا معنی مثلاً کسی(۱) مریض کو نہانا مضر ہے وضو مضر نہیں اُسے جنابت ہُوئی اور حدث بھی اسے فقط تیمم کا حکم تھا تیمم کرلیا اب پھر حدث ہوا اور وہ یہ خیال کرے کہ مجھے تو حدث کےلئے بھی تیمم ہی کافی ہُوا تھا اب بھی تیمم کرلوں یہ نہیں ہوسکتا کہ جنابت کےلئے تو تیمم کرچکا وہ حدث سے نہ ٹوٹے گا جب تک دوبارہ جنابت نہ ہو اب اگر یہ تیمم جنابت کےلئے کرتا ہے لغو ہے اور اگر حدث کےلئے کرتا ہے تو وضو پر تو وہ قادر ہے اس کےلئے تیمم کیسے کرسکتا ہے لاجرم وضو لازم ہے۔
مسئلہ ۱۶: ہاں اگر جنب نے پانی نہ پاکر تیمم کیا پھر حدث ہوا پھر قابلِ جنابت پانی پا یا اور استعمال نہ کیا کہ تیمم ٹوٹ گیا اور جنابت عود کر آئی اب یہ صورت اجتماع جنابت وحدث کی ہوگی اور دونوں کہاں کہاں ہیں اس کے لحاظ سے وہی صور اندراج واستقلال جاری ہوں گی جو ان میں سے پائی جائے مثلاً جنابت کےلئے صرف تیمم کیا تھا پھر حدث ہوا پھر جنابت پلٹی تو اب یہ سارے بدن میں ہے جس میں اعضائے وضو بھی داخل لہذا حدث کہ مستقل تھا اب مندرج ہوگیا اورفقط قابلِ وضو پانی کا استعمال اُسے ضرور نہ ہوگا اور اگر بعد جنابت وضو کرلیا تھا پھر پانی نہ رہا تیمم کیا پھر حدث ہوا پھر جنابت پلٹی تو اب یہ حدث مستقل ہی رہے گا کہ اعضائے وضو میں جنابت نہ رہی اور پلٹے گی اُتنی ہی جتنی باقی رہی تھی وقس علیہ(اور اسی پر ق یاس کیا جائے۔ت) یوں ہی اگر اس عود جنابت کے بعد حدث ہوا تو انہیں تفاصیل واحکام پر رہے گا اگر بعد جنابت و عود اعضائے وضو سے دونوں وقت کُچھ نہ دھو یا تھا حدث بتمامہٖ مندرج ہوجائے گا اور اگر پہلے  یا اب وضو کرلیا تھا اس کے بعد حدث ہوا بالکلیہ مستقل رہے گا اور اگر بعض اعضائے وضو دھولئے تھے تو اس قدر میں مستقل باقی میں مندرج۔
واللّٰہ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم÷ وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم÷وصلی اللّٰہ تعالٰی علٰی سیدنا ومولٰنا محمد النبی الکریم الاکرام÷الحبیب الرؤف الارأف الرحیم الارحم÷وعلی اٰلہ وصحبہ سادۃ الامم÷ قادتنا الی الطریق الامم÷ وابنہ وحزبہ وامتہ وبارک وسلم÷ابد الاٰبدین÷والحمدللّٰہ ربّ العٰلمین÷
اور خدائے پاک وبرتر خوب جاننے والا ہے اور اس کا علم بہت تام اور محکم ہے اس کا مجد جلیل ہے۔ اور خدائے برتر درود نازل فرمائے ہمارے آقا ومولٰی محمد نبی کریم اکرم، حبیب مہربان، مہربان تر، رحیم ارحم پر اور ان کی آل واصحاب سرداران اقوام پر جو راہِ راست کی جانب ہماری قیادت کرنے والے ہیں اور ان کے فرزند،ان کے گروہ و ان کی امت پر اور برکت و سلام سے بھی نوازے ہمیشہ ہمیشہ،اور تمام تعریف سارے جہانوں کے مالک خدا کےلئے ہے۔(ت)
Flag Counter