| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۴(کتاب الطہارۃ) |
دوم:حدث کُل یا بعض محل جنابت سے جُدا ہو اسے حدث مستقل یا مستبد کہےے۔اس(۱) کی دس۱۰ صورتیں ہیں کہ حدث کُل یا بعض اعضائے وضو جتنی جگہ میں ہو جنابت اُس جگہ کے بعض میں ہو یا اعضائے وضو میں اصلاً نہ ہو یہ بھی چار۴ شکلیں ہوئیں مگر دو۲ پہلی بدستور ثلاثی ہیں اور دو۲ پچھلی کہ اعضائے وضو میں اصلاً نہ ہو ثنائی کہ باقی بدن کے بعض یا کُلی کے سوا بالکل نہ ہونے کا احتمال نہیں کہ کلام اجتماع جنابت وحدث میں ہے لہذا یہ دس۱۰ ہی صورتیں رہیں، مثلاً: (۱) جنب(۱) نے صرف بعض اعضائے وضو یا(۲) ان کے ساتھ باقی کل یا(۳) بعض بدن دھولیا پھر حدث ہوا کہ یہ کل اعضائے وضو میں ہے۔ (۲) جنب(۴) نے صرف پورا وضو کیا یا(۵)باقی بدن کا بھی ایک حصّہ دھو یا پھر حدث ہوا۔ (۳) جنب(۶) نے فقط ہاتھ یا(۷) غیر اعضائے وضو کا کُل یا(۸) بعض بھی دھو یا پھر حدث ہوا اور پاؤں دھوئے کہ پاؤں سے جنابت و حدث دونوں زائل ہوگئے اور حدث باقی تین۳اعضاء میں ہے اور جنابت اُن میں سے صرف دو۲ میں کہ بعد جنابت ہاتھ دھوچکا ہے (۴) جنب(۹)نے فقط وضو یا(۱۰)باقی بدن کا بھی بعض دھو یا پھر حدث ہوا اور بعض اعضائے وضو دھوئے۔ اقول:یہاں(۲) کلیہ یہ ہے کہ جنابت کے بعد جو عضو وضو دُھل چکا اُس میں حدث مستقل ہے خواہ جمیع اعضائے وضو ہوں کہ اس وقت پورا حدث مستقل ہوگا جیسے ۴۔۵۔۹۔۱۰ میں یا بعض اس وقت یہی ٹکڑا مستقل ہوگا جو اس بعض میں ہے باقی بدستور تابع جنابت رہے گا جیسا باقی ۶میں۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
تنبیہ اقول:استقلال(۳) حدث نہیں ہوتا مگر جبکہ حدث جنابت کے بعد ہوکہ یہاں یہ درکار کہ جنابت محل حدث میں اصلاً نہ ہو یا ہو تو اُس کے بعض میں ہو اگر حدث پہلے ہو تو یہ ناممکن ہے کہ جنابت لاحقہ کُل یا بعض محل حدث سے بے دھوئے نہ اُٹھے گی اور دھونا حدث سابق کو بھی زائل کردے گا۔ ثمّ اقول:تفصیل مقام یہ ہے کہ یہاں چونتیس۳۴ احتمال عقلی ہیں کہ حدث(۱) اگر کُل اعضائے وضو میں ہے تو جنابت کُل یا(۲) بعض میں ہو یا(۳)ان میں کہیں نہیں اور(۴)اگر حدث بعض میں ہے تو جنابت کُل اعضائے وضو یا(۵) اُسی حدث والے حیض کے کُل یا بعض(۶) یا بعض(۷)دیگرکے کُل یا بعض(۸) یا بعض(۹) اول کے کُل اور دیگرکے بعض یا(۱۰) بالعکس یا(۱۱) دونوں بعضوں کے بعض یا(۱۲) کسی میں نہیں۔ یہ بارہ۱۲ شکلیں ہوئیں جن میں سوم و دوازدہم بوجہ مذکور ثنائی ہیں اور باقی دس۱۰ ثلاثی۔ان میں بارہ۱۲ صورتیں کہ جنابت بعض دیگرکے کُل یا بعض میں ہو خواہ تنہا یا بعض حدثی کے بعض کے ساتھ کہ ۷، ۸، ۱۰، ۱۱ ہیں اور ہر ایک ثلاثی محال ہیں کہ ان سب صورتوں کا حاصل یہ ہوا کہ اعضائے وضو کا دوسرا حصّہ جسے بعض دیگرکہا تھا حدث سے بالکل خالی ہے اور اُس کے کُل یا بعض میں جنابت ہے اور پہلے حصّے کے کُل میں حدث ہے اور اس میں جنابت اصلاً نہیں یا بعض میں ہے اب اگر جنابت پہلے ہے اُس کے بعد حدث ہوا تو دوسرا حصّہ بے پُورا دھوئے حدث سے کیونکر خالی ہوسکتا ہے اور جب دھو یا جائے گا جنابت کو بھی رفع کردےگا اُس کے کُل یا بعض میں کیسے رہ سکتی ہے اور حدث پہلے ہے اُس کے بعد جنابت بے حدث ہوئی تو پہلے حصے کا جب تک کُل یا بعض نہ دھو یا گیا اس سے جنابت کیونکر اُٹھی اور اگر دھو یا گیا تو کُل یا بعض سے حدث بھی دُھل گیا اُس کے کُل میں کیسے رہ سکتا ہے اور اگر حدث وجنابت ساتھ ہوں تو دونوں استحالے ہیں لہذا ان ۳۴ میں سے ۲۲ ہی رہیں ۱۲ مندرج ۱۰ مستقل۔
مسئلہ۲(۱): حدث مندرج کوئی حکم جُداگانہ نہیں رکھتا جنابت کے اندر مستہلک ومستغرق ہوجاتا ہے جیسے منی میں مذی۔اس کی بارہ۱۲ صورتوں سے ۱ و ۷ جن میں جنابت وحدث باہم منطبق ہیں ایک دوسرے سے باہر نہیں یہ تو حاجت بیان سے مستغنی ہیں کہ پانی پہلی صورت میں وضو یا ساتویں میں تکمیل وضو کو کافی ملا تو ضرور استعمال کرے گا اُسی میں جنابت وحدث دونوں زائل ہوجائیں گے۔نہ ملا نہ کرے گا دونوں رہیں گے، ہاں باقی دس صورتوں میں اندراج کا اثر ان احکام سے ظاہر ہوگا۔
مسئلہ ۳: صورت سوم میں کہ پُورا نہانا درکار ہے اور کُل اعضائے وضو میں حدث ہے جو وضوئے کامل چاہتا اگر نہانے پر قادر نہ ہو کر پانی اتنا نہیں یا نہانا مضر ہے یا نہائے تو نماز کا وقت جاتا ہے اور وضو کےلئے کافی پانی موجود ہے اور اس سے ضرر بھی نہیں اور وقت میں بھی اُس کے گنجائش ہے با اینہمہ وضو نہ کرے صرف تیمم کافی ہے کہ یہ حدث کوئی حکم مستقل نہیں رکھتا۔
مسئلہ ۴: یوں ہی صورت۶ میں کہ غسل کامل درکار ہے اور حدث صرف بعض اعضائے وضو میں کہ فقط تکمیل وضو چاہتا۔ممکن ہے کہ اُس کے لئے ایک ہی چُلّو درکار ہوتا اگر اتنے پانی پر قادر ہو جب بھی استعمال نہ کرے صرف تیمم پر قانع ہو۔
مسئلہ ۵: یوں ہی صورت ۹ و ۱۲ میں کہ حدث اگر چاہتا تو تکمیل وضو لیکن جنابت اعضائے وضو کا ایک حصّہ اور اُن کے علاوہ سارا بدن دھونا مانگتی ہے اگر اُنہیں وجوہ سے اس پر قدرت نہ ہو اور تکمیل وضو کو پانی حاضر اور اُس پر قادر جب بھی صرف تیمم کرے۔غرض تضاعیف۳ کی چاروں۴ صورتیں ایک حکم رکھتی ہیں۔
مسئلہ ۶: باقی ۶ صورتوں ۲۔۴۔۵۔۸۔۱۰۔۱۱ میں جنابت کےلئے جتنا دھونا درکار ہے اگر اسکے لیے پانی یا وقت نہیں اور حدث کہ دوم میں وضو باقیوں میں تکمیل چاہتا اس کے لئے پانی اور وقت کافی موجود ہیں اور یہ اسی وقت ہوگا کہ مطلوب جنابت مطلوب حدث سے ز یادت معتدبہا رکھتاہو جب تو ان چھ کا بھی وہی حکم ہے کہ وضو و تکمیل کی حاجت نہیں تیمم کرے۔
ولایلزم فیھا ولا فی الصورتین ۹و۱۲ تلفیق الطہارت من ماء و تراب بل یسقط ما تقدم ویکون مؤد یا بالتیمم فقط کما قدمنا عن الامام العینی فی الدلیل الاول۔
ان میں اور صورت ۹۔۱۲ میں طہارت کو پانی اور مٹی سے خلط کرنا لازم نہیں آتا بلکہ پہلے جو ہوچکا ساقط ہوجائےگا اور وہ صرف تیمم سے ادا کرنے والا ہوگا،جیساکہ دلیل اول میں امام عینی کے حوالے سے ہم نے پیش کیا۔(ت)
مسئلہ ۷:ان چھ۶ صور میںمطلوب جنابت سے عجز بوجہ ضرر ہونا ظاہراً صورت چہارم و دہم میں متوقع نہیں کہ اس میں سے ایک حصہ پہلے بوجہ حدث ہوچکا تھا اور باقی کو دھونے پر قدرت اب مفروض ہے کہ مطلوب حدث کے لئے پانی پا یا اور اس کے دھونے پر قادر ہے تو عجز کہیں نہ ہوا لہذا ضرور ہے کہ صورت چہارم میں پورا وضو اور دہم میں جس قدر مطلوب جنابت سے بجا لائے یہاں اگرچہ وضو یا تکمیل وضو کا حکم ہوا مگر نہ حدث بلکہ جنابت کے لئے۔اور اگر فرض کیجئے کہ اتنی د یر میں اس حصہ اعضائے وضو میں ضرر پیدا ہوگیا جتنا مطلوب جنابت میں مطلوب حدث سے زائد ہے اور تیمم کی اجازت اب بھی نہیں ہوسکتی کہ یہ حصہ سارے بدن کے لحاظ سے بہت کم ہے اور غسل میں جب محل ضرر غیر محل ضرر سے کم ہو یہ جائز نہیں کہ غیر محل ضرر کو دھوئے اور باقی کےلئے تیمم کرے
فانہ ہو التلفیق الممنوع ولا امکان لسقوط ما تقدم لعدم ق یام التیمم مقامہ لفقد شرطہ العجز
(کیونکہ یہی تلفیق ممنوع ہے اور سابق کے ساقط ہونے کا امکان نہیں اس لیے کہ تیمم اپنی شرط-عجز-کے فقدان کی وجہ سے اس کے قائم مقام نہیں۔ت)بلکہ محل ضرر پر مسح کرے باقی دھوئے۔یہی حکم یہاں سے بہرحال حدث کےلئے وضو یا تکمیل یہاں بھی نہیں۔
مسئلہ ۸: باقی چارصورتوں ۲۔۵۔۸۔۱۱ میں کہ تین کے فصل متوالی سے ہیں نظر کی جائے کہ جتنا بدن دھوچکا اور باقی میں سے جتنے کے دھونے پر قدرت ہے یہ مجموعہ زائدہے یا اس کے علاوہ اب جو جنابت کےلئے دھونا ہے وہ ز یادہ ہے بر تقد یر اول محل ضرر پر مسح کرے اور جو باقی رہ جائے اسے دھوئے اور بر تقد یردوم تیمم۔وجو و تکمیل بوجہ حدث یہاں بھی نہیں اسکی تفصےل یہ ہے کہ اعضائے وضو کل یا بعض جس قدر حدث میں نہ دھوئے گئے کہ ان کا نام مطلوب حدث ہے اتنے پر قدرت تو مانی ہوئی ہے کماتقدم (جیساکہ گزرا۔ت)اور جتنا بدن بعد جنابت دھل چکا اُس کا کام بھی فارغ ہوگیااس مجموعہ کا نام مقدور رکھئے اور مطلوب حدث کے علاوہ جتنا مطلوب جنابت یعنی اُس میں دھونا اب درکار ہے اسے دوسرا فریق کیجئے ان میں کمی بیشی کی نسبت دیک ھی جائے صورت دوم میں تمام اعضائے وضو اور بعض باقی بدن مطلوب جنابت تھی یہ فریق دیگرہوا اور تمام اعضائے وضو مطلوب حدث تھا اور بعض دیگرباقی بدن دھل چکا یہ فریق اول تمام اعضائے وضو دونوں فریقوں میں مشترک ہیں مشترک ساقط کرکے باقی بدن کے دونوں میں نسبت دیک ھی جائے جو دھل چکا وہ ز یادہ ہے تو وضو کرے نہ حدث بلکہ جنابت کے لےے اور باقی بدن سے جتنا نہ دھلا تھا اس پر مسح کرے اور اگر جتنا نہ دھلاتھا وہ ز یادہ ہے تو تیمم۔
مسئلہ ۹: یونہی صورت ہشتم میں بعض اعضائے وضو تو جنابت و حدث دونوں سے دھل چکے تھے اور بعض کہ باقی تھے مطلوب حدث ومطلوب جنابت دونوں میں مشترک تھے لہذا باقی ہی بدن کے دونوں حصہ مغسول و غیر مغسول میں نسبت ملحوظ ہوگی مغسول ز یادہ ہے تو تکمیل وضو کرے نہ حدث بلکہ جنابت کے لئے اور باقی مطلوب جنابت پر مسح اور غیر مغسول ز یادہ ہے تو تیمم۔
مسئلہ ۱۰:صورت پنجم میں مطلوب حدث بعض اعضائے وضو ہیں اورمطلوب جنابت میں کل تو وہ اعضائے وضو کہ حدث میں نہ دھلے تھے بوجہ اشتراک ساقط ہوئے اور جتنے دھل چکے تھے مقدور میں شامل ہونگے تو مغسول حدث اور باقی بدن سے مغسول سابق یہ دونوں ایک فریق ہوئے اور باقی بدن کا غیر مغسول دوسرا فریق اگر فریق اول زائد ہے وضو کرے نہ حدث بلکہ جنابت کے لیے اور باقی مطلوب جنابت پر مسح اور اگر دوم زائد ہے تیمم۔ہاں اگر اتنی د یر میں مغسول حدث میں ضرر پیدا ہوگیا تو یہ فریق دوم میں شامل ہوگا اب اگر پہلا فریق زائد ہو تو اعضائے وضو سے جس قدر حدث میں نہ دھلے تھے اب دھوئے بغرض جنابت نہ بوجہ حدث اور جتنے دھل چکے تھے ان پر اور باقی بدن کے غیر مغسول پر مسح۔اور دوسرا فریق ز یادہ ہو تو تیمم۔