| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۴(کتاب الطہارۃ) |
فظھران معنی کلام الامام ان المحدث علی ثلثۃ انواع الاول من بہ جنابۃ وحدھا سواء لم یکن معھا حدث اصلا کمامر تصویرہ اوکان وھو مغمور مستہلک فیھا کجنب لم یمس ماء اوغسل بدنہ ماعدا اعضاء الوضوء اوغسل غیرھا و غیرحصۃ اخری ثم احدث فی الکل قبل ان یتطھر لھا،
اس سے ظاہر ہوا کہ امام صدر الشریعۃ کے کلام کا معنی یہ ہے کہ محدث کی تین۳ قسمیں ہیں: اوّل: وہ جسے صرف جنابت ہے خواہ اس کے ساتھ کوئی حدث بالکل نہ ہو۔جیسا کہ اس کی صورت کا بیان گزرا۔ یا حدث ہو تو وہ جنابت ہی میں مخفی ومستہلک ہوجیسے وہ جنب جس نے پانی مَس نہ کیا۔ یا اعضائے وضو کے ماسوا بدن دھولیا۔ یا اعضائے وضو اور کسی دوسرے حصّہ کو چھوڑ کر باقی سب دھولیا۔پھر ان سبھی صورتوں میں جنابت سے پاکی حاصل کرنے سے پہلے اسے حدث ہوا۔
والثانی من بہ جنابۃ معھا حدث کجنب توضأ اوغسل بعض اعضاء وضوئہ فقط اومع غیرھا من سائر البدن کلا او بعضا ثم احدث قبل التیمم لھا او فعل ذلک وفنی الماء وتیمم لھا ثم احدث ثم مر بماء یکفی لھا فلم یغتسل ،
دوم :وہ جسے ایسی جنابت ہے جس کے ساتھ کوئی حدث بھی ہے۔جیسے وہ جنب جس نے وضو کرلیا یا صرف بعض اعضائے وضو دھولیے یا بعض اعضائے وضو باقی بدن میں سے کل یا بعض کے ساتھ دھولےے پھر جنابت کا تیمم کرنے سے پہلے اسے حدث ہوا یا اتنا اس نے کیا اور پانی ختم ہوگیا اور جنابت کا تیمم کیا پھر اسے حدث ہوا پھر اتنے پانی کے پاس سے گزرا جو جنابت کےلئے کافی تھا مگر اس نے غسل نہ کیا۔
والثالث من بہ حدث وحدہ وھوظاہر وھذہ احکامھا اما القسم الاول (اذاکان للجنب) المتفرد بالجنابۃ بدلیل المقابلۃ (ماء یکفی للوضوء لاللغسل) ای ازالۃ الجنابۃ الشاملۃ کمافی الصورۃ الاولٰی او غیرھا کمافی الاخیرتین فانہ (یتیمم لایجب علیہ التوضی عندنا)اذلاحدث معہ یستقل بحکم والفرض انہ لایخرجہ عن جنابتہ فکان وجودہ وعدمہ سواء (خلافا للشافعی) رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ لماعلمت و(اما) القسم الثانی (اذاکان مع الجنابۃ حدث یوجب الوضوء) مستبد بالحکم (فانہ یجب علیہ الوضوء) قطعالان حدثہ مستقل وقدقدر علی ماء یکفی لازالتہ ولایکفیہ التیمم (فا) عــہ ن ا (التیمم الذی یفعلہ انما یکون (للجنابۃ) خاصۃ لعدم الاندراج فیلزم الوضوء (بالاتفاق و) اما القسم الثالث (اذاکان للمحدث) المتفرد بالحدث (ماء یکفی لغسل بعض اعضائہ فالخلاف) بیننا وبین الشافعی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ (ثابت ایضا) ۱؎ فی وجوب صرف ذلک الماء وعدمہ وھذا کماتری بحمداللّٰہ تعالٰی احق باسم الشرح من اسم التأویل اذلیس فیہ صرف لفظ عن معناہ واصلا ،
سوم :وہ جسے صرف حدث ہو یہ ظاہر ہے۔اور تینوں قسموں کے احکام یہ ہیں۔ لیکن قسم اول (جب جنب کے پاس) وہ جسے صرف جنابت ہو اس قید کی دلیل یہ ہے کہ مقابلہ میں ایسا جنب مذکور ہے جس کے ساتھ حدث بھی ہے(اتنا پانی ہو جو وضو کےلئے کافی ہو غسل کےلئے نہیں)یعنی جنابت شاملہ دُور کرنے کے لئے نہیں جیسا کہ پہلی صورت میں ہے۔ یا غیر جنابت شاملہ کے لئے نہیں جیسا کہ بعد والی دونوں صورتوں میں ہے۔(تو وہ تیمم کرے گا اور ہمارے نزدیک اس پر وضو واجب نہیں)اس لئے کہ اس کے ساتھ کوئی ایسا حدث نہیں جو مستقل حکم رکھتا ہو۔اور فرض یہ کیا گیا ہے کہ وہ پانی اسے جنابت سے نکال نہیں سکتا تو اس کا ہونا نہ ہونا برابر ہے(بخلاف امام شافعی کے)رضی اللہ تعالٰی عنہ۔اس کی وجہ معلوم ہوچکی(لیکن) قسم دوم (جب جنابت کے ساتھ کوئی ایسا حدث ہو جو وضو واجب کرتا ہے)جبکہ حدث اپنا مستقل حکم رکھتا ہو (تو اس پر وضو واجب ہے) قطعاً کیونکہ اس کا حدث مستقل ہے اور اسے اتنے پانی پر قدرت بھی ہے جو اس حدث کو دُور کرنے کےلئے کافی ہے۔اور اس کے لئے تیمم کفایت نہیں کرسکتا اس لئے(کہ تیمم) جو وہ کررہا ہے صرف (جنابت کےلئے ہے)کیونکہ حدث اس میں مندرج نہیں۔تو وضو لازم ہے (بالاتفاق)۔رہی قسم سوم (جب محدث) جو صرف حدث والا ہے(کے پاس اتنا پانی ہو جو اس کے بعض اعضاء کے دھونے کے لئے کفایت کرے تو بھی اختلاف) ہمارے اور امام شافعی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے درمیان(ثابت ہے)اس بارے میں کہ اس پانی کو صرف کرنا واجب ہے یا نہیں ۔ (ان کے نزدیک ہے ہمارے نزدیک نہیں ۱۲ م الف)یہ توضیح جیسا کہ ناظرین کے سامنے ہے تاویل سے ز یادہ شرح کا نام دیے جانے کی مستحق ہے۔کیونکہ اس میں کسی لفظ کو اس کے معنی سے پھیرنا بالکل نہیں۔
ـ۔۔ـہ: ھذا علی التعلیل وان جعلنا الفاء للتفریع امکن تعلق قولہ بالاتفاق بمایلیہ علی تقد یر تأخر التیمم عن الوضوء فیکون المعنی (یجب علیہ الوضوء) فاذاتوضأ (فالتیمم) الذی یفعلہ بعد ےبقی (للجنابۃ بالاتفاق)لارتفاع الحدث بالوضوء ونفاد الماء بعدہ ولکن الاول ھو الاولی کمالایخفی ۱۲ منہ غفرلہ (م)
(۱؎ ماخوذ من شرح الوقا یۃ، باب التیمم، المکتبۃ الرشیدیہ دہلی،۱/۹۵)
یہ اس تقد یر پر ہے کہ ف برائے تعلیل ہے۔ اور اگر فاء برائے تفریع مانیں تو ان کے قول بالاتفاق کا تعلق اسی عبارت سے ہوگا جس سے یہ متصل ہے اس تقد یر پر کہ تیمم وضو کے بعد ہو تو معنی یہ ہوگا (اس پر وضو واجب ہے) تو جب وہ وضو کرلے (تو تیمم) جسے وہ بعد میں ہی کرے گا(بالاتفاق جنابت کےلئے)باقی رہے گا کیونکہ حدث وضو سے رفع ہوگیا اور اس کے بعد پانی بھی ختم ہوگیا۔لیکن اول اولٰی ہے جیسا کہ مخفی نہیں ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
وانا اجعلہ ھد یۃ لروح الامام صدر الشریعۃ÷جعلہ اللّٰہ تعالٰی لاصلاح احوالی ومغفرۃ÷ذنوبی ذریعۃ÷انہ ھو الرؤف الرحیم÷ ربنا تقبل منّا انک انت السمیع العلیم÷والحمدللّٰہ حمدًا کثیرا طیبا مبارکا فیہ÷وصلی اللّٰہ تعالٰی علی سیدنا ومولٰنا محمد واٰلہ وذویہ÷ اٰمین۔
میں اسے امام صدر الشریعۃکی روح پاک کےلئے ہدیہ کرتا ہوں۔انہیں خدائے برتر میرے احوال کی اصلاح اور میرے گناہوں کی مغفرت کا ذریعہ بنائے۔اور خدا ہی کےلئے حمد ہے کثیر پاکیزہ بابرکت حمد اور خدائے برتر کی طرف سے ہمارے آقا ومولٰی محمد،ان کی آل اور ان کے سبھی لوگوں پر درود ہو۔الٰہی قبول فرما۔(ت) خلاصہ تحقیقات: ان چند مسائل سے واضح تنبیہ ان مسائل میں ہم جہاں جنابت کا لفظ لکھیں گے اُس سے مراد حدث اکبر ہے یعنی جس سے نہانا واجب ہوتا ہے خواہ جنابت ہو یا انقطاع حیض ونفاس اور لفظ حدث سے خاص حدث اصغر مراد ہے یعنی جس سے صرف وضو واجب ہوتا ہے اقول:وباللّٰہ التوفیق
مسئلہ (۱): جنابت باقی ہونے کی حالت میں جب حدث پا یا جائے (خواہ(۱) جنابت سے پہلے کا ہو جیسے سوکر اٹھا اور نہانے کی حاجت پائی بلکہ یہ صورت ہر انزال میں ہے کہ اُس سے پہلے خروج مذی ہے یوں ہی غیبوبت حشفہ سے پہلے مباشرت فاحشہ یا اُس سے بعد کا جیسے جماع کے بعد پیشاب کیا یا اس کے ساتھ کا جیسے جنابت کےلئے تیمم کیا پھر حدث ہوا وضو کیا پھر پیشاب کو بےٹھا اور اس کا پہلا قطرہ نکلنے کے ساتھ قابلِ غسل پانی موجود ہونے کا علم ہوا یا عورت کو پہلی ہی بار دس۱۰دن دو۲منٹ خون آ یا تو جس وقت دس۱۰رات دن کے گھنٹے منٹ ختم ہوئے وہی وقت اس کے انقطاعِ حیض اور اس پر وجوب غسل کا تھا اور ساتھ ہی ہنوز جر یانِ خون باقی ہے اب یہ استحاضہ اور حدثِ اصغر ہے اگرچہ یہاں معیت بمعنی اتصال حقےقی ہے کہ ایک آن کا بھی فاصلہ نہیں بلکہ ایک ہی آن فصل مشترک ہے کہ اس پر حیض ختم اور اُسی سے استحاضہ شروع) بالجملہ(۱) جب حدث وجنابت ایک وقت میں جمع ہوں اگرچہ اُن کے حدوث میں تقدم تأخر معیت کُچھ بھی ہو اس کی دو۲ قسمیں ہیں: اوّل: کُل یا بعض اعضائے وضو جتنی جگہ حدث ہے جنابت اُس سب جگہ کو محیط ہو حدث کا کوئی حصّہ محلِ جنابت سے باہر نہ ہو عام ازیں کہ جنابت بھی صرف اتنی ہی جگہ ہو یا اُس کے علاوہ اور بھی ہم نے اس کا نام حدث مندرج یا مندمج رکھا اس کی بارہ۱۲ صورتیں ہیں کہ اگر حدث(۱) کُل اعضائے وضو میں ہے تو جنابت بھی کُل میں ہے یا(۲) حدث بعض میں ہے تو جنابت کل یا((۳) اعضائے وضو سے اُس بعض یا(۴) کے ساتھ بعض باقی کے بھی ایک حصّہ میں ہے یہ چار۴ شکلیں ہُوئیں اور ہر شکل پر ممکن کہ جنابت صرف یہیں ہو یا اس کے ساتھ باقی بدن کے بعض یا کُل میں بھی تو بارہ۱۲ ہوگئیں مثلاً: (۱) جنب(۱) محدث نے وضو نہ کیا باقی کُل بدن دھولیا کہ حدث وجنابت صرف کُل اعضائے وضو میں ہیں یا(۲) باقی بعض بدن دھو یا کہ حدث کُل اعضائے وضو اور جنابت اُن کے ساتھ باقی بدن کے بھی بعض میں ہے یا(۳) اصلاً پانی نہ چھُوا کہ حدث اُس کُل اور جنابت سارے بدن میں ہے۔ (۲) محدث(۴) نے بعض اعضائے وضو دھولئے کہ حدث بعض میں رہا پھر بلاحدث جنابت ہوئی جس کی تصو یر اوپر گزری اب یہ جنابت کل اعضائے وضو میں ہے اور وہی صورتیں ہیں کہ باقی بدن کُل یا بعض(۵) دھولیا یا(۵)کچھ نہیں۔ (۳) جنب(۷) محدث نے بعض اعضائے وضو دھولےے اور باقی بدن کُل یا(۸) بعض یا(۹)کچھ نہیں۔ (۴) محدث(۱۰) نے مثلاً دو عضو وضو دھولےے پھر جنابت بے حدث ہوئی اور اُن دو۲ میں کا ایک ہی دھو یا کہ حدث دو۲ عضو باقی میں ہے اور جنابت اُن دو۲ اور اُن کے سوا تیسرے میں بھی اور باقی بدن کُل یا بعض(۱۱) دھو یا یا(۱۲) کچھ نہیں۔ تنبیہ اقول: اندراج(۲) حدث کی چھ۶ صورتیں جن میں جنابت اعضائے وضو میں محل حدث سے زائد میں ہے یعنی ۴۔۵۔۶۔۱۰۔۱۱۔۱۲ اُسی حالت میں ممکن ہیں کہ جنابت حدث کے بعد ہوکہ یہاں یہ درکار کہ اعضائے وضو میں بعض جگہ حدث نہ ہو اور جنابت ہو اگر حدث متأخر ہوا تو اس بعض سے اس کا ارتفاع دھونے ہی سے ہوگا اور دھونا جنابت کو بھی زائل کردے گا۔ہاں باقی چھ۶ میں حدث وجنابت کا تقدم و تأخر دونوں ممکن ولہذا ہم نے اُن میں جنب محدث کہا کہ ہر صورت کو محتمل رہے وبااللہ التوفیق۔