Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۴(کتاب الطہارۃ)
46 - 2323
وثانیا: لم یکن علیہ وضوء لبقاء الحدث کماھو لوجود الجنابۃ ولاتزول بالوضوء اما الاٰن فقدزالت بالتیمم۔
ثانیا: اس پر وضو اس لئے نہیں تھا کہ جنابت موجود ہونے کی وجہ سے حدث ویسے ہی باقی رہتا اور جنابت وضو سے دُور نہ ہوتی لیکن اس وقت تو جنابت تیمم سے دُور ہوچکی ہے۔
وثالثا: لم یکن ماءہ مبیحا للصلاۃ لاجل الجنابۃ والاٰن یبیح۔
ثالثا: اُس کا پانی جنابت کی وجہ سے نماز مباح کرنے والا نہ تھا اور اِس وقت مباح کرنے والا ہے۔
ورابعا: کان فیہ الجمع بین البدلین فی طھارۃ واحدۃ والاٰن قدتمت الطھارۃ الاولی بالتیمم بلاماء وبعود الحدث بالقدرۃ علی الماء دون الجنابۃ تتم ھذہ بالماء بلاتراب۔
رابعاً:  اُس میں ایک  طہارت کے اندر دونوں بدل جمع کرنا ہوتا۔ اور اس وقت پہلی طہارت بغیر پانی کے تیمم کے ذریعہ پوری ہوچکی ہے اور پانی پر قادر ہونے سے حدث بلاجنابت لوٹ آنے کی وجہ سے یہ طہارت بغیر مٹی کے پانی سے پُوری ہوگی۔
وخامسا:  قدعلم دوّارفی المتون وسائر کتب المذھب ان حدوث قدرۃ علی الماء کحدوث حدث فی نقض التیمم ولاشک ان لوتیمم لھما ثم احدث فعلیہ الوضوء فکذا اذا قدر علی ماء الوضوء فانی الابتناء علی ماصدر عن الصدر فی صدر الباب۔
خامساً : متون اور دیگرکتب مذہب میں یہ مسئلہ متداول طور پر معروف ہے کہ تیمم توڑنے کے معاملہ میں پانی پر قدرت پیدا ہونا ایسے ہی ہے جیسے حدث پیدا ہونا۔ اور اس میں شک نہیں کہ اگر وہ دونوں ہی کےلئے تیمم کرلیتا پھر اسے حدث ہوتا تو اس پر وضو واجب ہوتا تو یہی حکم اس وقت بھی ہوگا جب آبِ وضو پر اسے قدرت مل جائے۔ تو یہ حکم اس پر کہاں مبنی رہا جو شروع باب میں صدر الشریعۃ کے حوالہ سے صادر ہوا۔
اقول: بلی فان مبنی کل ذلک علی فرض انتقاض تیممہ فی حق الحدث برؤ یۃ الماء وفیہ النظر کیف ولونقضہ بقاء لمنعہ ابتداء ومنعہ ابتداء ھو عین مافی صدر الباب خلاف ماعلیہ النصوص والدلائل اما الملازمۃ فقدقال(۱) الامام ملک العلماء فی البدائع الغراء الاصل فیہ ان کل مامنع وجودہ التیمم نقض وجودہ التیمم ومالا فلا ۱؎ اھ ومثلہ فی البحر والتنو یر والدرو غیرھا من الاسفار الغرای کل مالایمنع ابتداء لاینقض بقاء وینعکس بعکس النقیض الی قولنا کل ما(۱) ینقض بقاء یمنع ابتداء فثبت المطلوب وبہ علم ان الخامس ابین بطلانا وافصح بالبناء علی ذلک الحکم المحذور۔
اقول (میں کہتا ہوں) کیوں نہیں ان سب کی بنیاد اسی مفروضہ پر ہے کہ پانی دیکھنے سے اس کا تیمم حق حدث میں ٹوٹ جاتا ہے اور یہی محلِ نظر ہے۔ یہ کیسے صحیح ہوسکتا ہے؟ اگر یہ بقاءً ناقض تیمم ہوتا تو ابتداءً مانع تیمم بھی ہونا اور ابتداءً مانع تیمم ہونا یہی تو وہ بات ہے جو شروع باب میں نصوص ودلائل کے برخلاف وارد ہوتی ہے۔ ملازمہ (بقاءً ناقض ہونے کو ابتداءً مانع ہونا لازم ہے) کا ثبوت یہ ہے کہ امام ملک العلماء نے بدائع شریف میں رقم فرما یا ہے کہ ''اس بارے میں اصل یہ ہے کہ ہر وہ چیز جس کا وجود تیمم سے مانع ہے اس کا وجود تیمم کا ناقض بھی ہے اور جو مانع نہیں وہ ناقض بھی نہیں'' اھ۔ اسی کے مثل البحرالرائق، تنو یر الابصار، درمختار و غیرہا مشہور کتابوں میں بھی ہے۔ یعنی ہر وہ جو ابتداءً مانع نہیں وہ بقاءً ناقض نہیں اس کا عکس نقیض یہ ہوگا ''ہر وہ جو بقاءً '' ناقض ہے وہ ابتداءً مانع ہے'' تو مطلوب ثابت ہوگیا۔ اسی سے معلوم ہوا کہ خامس کا بطلان ز یادہ روشن ہے اور اس حکم محذور پر مبنی ہونے میں یہ ز یادہ واضح ہے۔ (ت)
 (۱؎ بدائع الصنائع    باب نواقض التیمم    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۵۷)
الشبھۃ الثانیۃ: نصوا فیمن بقیت لہ لمعۃ واحدث بعد التیمم لھاکما صورفی اکثر الکتب وکذا ان احدث قبلہ کماصور بالوجھین فی بعضھا ثم وجد الماء قبل التیمم للحدث انہ ان کفی للمعۃ دون الوضوء غسلھا وتیمم للحدث وکذا ان کفی لکل منھما لاعلی التعیین لان الجنابۃ اغلظ فان(۲) خالف وتوضأ اعاد التیمم للمعۃ باتفاق الروا یات وستأتی النصوص فالذی فی ھذہ الصور الثلاث لیس الا تلفیق الطھارتین والجمع بین البدلین حیث تطھر فی وقت واحد بالماء والتراب معاوکون الماء للجنابۃ والتراب للحدث لایمنع الجمع والافلم منعتم ذاحدثین وجد وضوء عن الوضوء فان ثمہ ایضا لم یجتمعا علی شیئ واحد بل کان التراب للجنابۃ والماء للحدث۔
شبہ ۲: وہ شخص جس کا کچھ حصہ نہانے میں دھونے سے رہ گیا اور جنابت کا تیمم کرنے کے بعد اسے حدث ہوا جیسا کہ اکثر کتابوں میں یہ صورت مسئلہ بیان کی ہے یوں ہی اگر تیمم کرنے سے پہلے اسے حدث ہوا جیسا کہ بعض کتابوں میں دونوں ہی صورت بیان کی ہے  پھر اس شخص کو حدث کاتیمم کرنے سے  پہلے پانی مل گیا اس کے بارے میں علماء  نے صراحت فرمائی ہے کہ اگر وہ پانی وضو کےلئے نہیں بلکہ صرف چوٹی ہوئی جگہ کےلئے کافی ہے تو اسے دھولے اور حدث کےلئے تیمم کرے یوں ہی اگر دونوں میں سے ہر ایک  کےلئے بلاتعین کافی ہو تو بھی اس جگہ کو دھوئے اس لئے کہ جنابت ز یادہ سخت ہے۔ اگر اس نے اس کے برخلاف کیا اور پانی وضو میں صرف کیا تو چھُوٹی ہوئی جگہ کےلئے اسے باتفاق روایت دوبارہ تیمم کرنا ہے نصوص عنقریب آرہے ہیں۔ ان تینوں صورتوں میں دونوں طہارتوں کو خلط کرنا اور دونوں بدل کو جمع کرنا ہی تو ہے۔ اس طرح کہ بیک  وقت اس نے پانی اور مٹی دونوں سے طہارت حاصل کی اور پانی کا جنابت کےلئے، مٹی کا حدث کےلئے ہونا جمع سے مانع نہیں۔ اگر یہ بات نہیں تو دو حدث والے کو جسے آب وضو دستیاب ہے آپ نے وضو سے کیوں روکا (وجہ فرق کیا ہے) وہاں بھی تو دونوں بدل ایک  شیئ پر مجتمع نہ ہوئے بلکہ مٹی جنابت کےلئے ہے اور پانی حدث کےلئے ہے۔ (ت)
الشبھۃ الثالثۃ: نصوا قاطبۃ فی صورتی کفا یۃ الماء لللمعۃ وحدھا اولکل منفردا بوجوب استعمالہ فی اللمعۃ وانتقاض تیممہ لھا وانہ یتیمم للحدث ومعلوم قطعا ان ھذا الماء لم یکن محللا للصلاۃ فی الصورتین لبقاء الحدث والاحتیاج لہ الی التیمم فکان یجب ان لاینتقض تیممہ لھا لمامر من نصوص الائمۃ الجھابذۃ فی الدلیل السادس ان المراد فی الکریمۃ ھو الماء الذی اذا استعمل اباح الصلاۃ وھذا لیس بہ ھذا تقر یر الشبھات۔
شبہہ ۳:جب پانی صرف لمعہ کےلئے کفایت کرے  یا جب تنہا ہر ایک  کےلئے کفایت کرے دونوں صورتوں میں سبھی علماء نے صراحت فرمائی ہے کہ پانی لمعہ میں استعمال کرنا واجب ہے۔اس کا تیممِ جنابت ٹوٹ جائے گا اور حدث کےلئے وہ تیمم کرے گا۔یہ بھی قطعاً معلوم ہے کہ دونوں صورتوں میں یہ پانی نماز مباح کرنیوالا نہ تھا کیونکہ حدث باقی ہے اور اس کےلئے تیمم کی ضرورت ہے۔تو ضروری کہ اس کا تیممِ جنابت نہ ٹوٹے اس لئے کہ دلیل سادس میں ائمہ ماہرین کی تصریحات گزرچکی ہیں کہ آیت کریمہ میں وہ پانی مراد ہے جو استعمال کیا جائے تو نماز مباح ہوجائے گی اور یہ وہ پانی نہیں۔یہ شبہات کی تقر یر ہے۔(ت)
واقول:فی الجواب بتوفیق الوھاب اما الاخر یان ان کان الحدث فیھما بعد التیمم للجنابۃ فالجواب واضح لانہ اذن مستبد قطعا لا یصلح للاندراج لارتفاع الجنابۃ بالتیمم فکیف یندرج الموجود فی المرفوع ولذا اجمعت الامۃ انہ اذا احدث بعد تطھیر الجنابۃ بالغسل اوبالتیمم و وجد وَضوء یجب علیہ الوضوء فاذا لم یندرج فیھا لم یکن الجمع بین البدلین فی طھارۃ واحدۃ بل طھارتین کمن اجنب ولم یجد غسلا فتیمم فاحدث و وجد وضوء فتوضأ ولا یرد ذوالحدثین لاجل الاندراج فیکون جمعا فی طھارۃ واحدۃ وکذلک المراد بالاباحۃ الاباحۃ من جھۃ ازالۃ مانعیۃ لاقاھا وان بقی المنع من جھۃ اخری کماسبق فی من توضأ وعلی فخذہ نجس مانع ولا یرد ذوالحدثین فلیس بہ مانعیتان و وضوؤہ یزیل احدھما وان بقیت الاخری بل مانعیۃ واحدۃ لاندراج الصغری فی الکبری فاذالم یکف للکبری لم یکن محللا للصلاۃ اصلا ولوکان یکفی للصغری۔
جوابِ شبہات:جوابِ شبہات میں بتوفیق خدائے وہاب میں کہتا ہوں-آخری دونوں شبہات کو لیجئے۔ اگر ان میں حدث تیمم جنابت کے بعد تھا تو جواب واضح ہے کہ اس صورت میں وہ یقینا مستقل ہے۔ جنابت میں شامل و مندرج ہونے کے قابل نہیں کیونکہ جنابت تو تیمم سے ختم ہوچکی ہے تو موجود معدوم میں کیسے شامل ہوگا۔اسی لئے اس بات پر امت کا اجماع ہے کہ جب غسل  یا تیمم سے تطہیر جنابت کے بعد حدث ہو اور آبِ وضو دست یاب ہو تو اس پر وضو واجب ہے۔جب حدث جنابت میں شامل نہ ہوا تو دونوں بدل کو ایک  طہارت میں جمع کرنا نہ ہوا بلکہ دو طہارتوں میں ہوا جیسے وہ شخص جسے جنابت لاحق ہُوئی اور غسل کا پانی نہ پا یا تو تیمم کیا پھر اسے حدث ہوا اور وضو کا پانی پا یا تو وضو کیا-اس پر دونوں حدث والے سے اعتراض نہیں ہوسکتا کیونکہ اس کا ایک  حدث دوسرے میں شامل ہے تو وہاں ایک  ہی طہارت میں دونوں بدل جمع کرنا لازم آئے گا اسی طرح اباحت سے مراد وہ اباحت ہے جو اس مانعیت کے ازالہ کی جہت سے ہو جس پانی کا اتصال ہوا اگرچہ دوسری جہت سے ممانعت باقی ہو جیسا کہ اس کے بارے میں گزرا جس نے وضو کیا اور اس کی ران پر کوئی مانع نجس موجود ہے۔اس پر بھی دونوں حدث والے سے اعتراض نہیں ہوسکتا کیونکہ اس کا حال ایسا نہیں کہ اس میں دو مانعیت (ممانعت) ہوں اور وضو ایک  کو دور کردے اگرچہ دوسری باقی رہ جائے بلکہ اس میں ایک  ہی مانعیت ہے کیونکہ صغرٰی کبرٰی میں شامل ہوگئی ہے تو پانی جب کبرٰی کےلئے ناکافی ہو قطعاً نماز کو مباح کرنے والا نہ ہوسکے گا اگرچہ صغرٰی کےلئے کافی ہو۔(ت)
واما ان کان الحدث فیھما قبل التیمم کمافی الشبھۃ الاولٰی فاقول:الجواب عنھا جمیعا فی حرف واحد÷ان شاء اللّٰہ العزیزالواجد الماجد÷وقدلوحنا الیہ فی الافادۃ العاشرۃ وذلک(۱) ان الحدث لہ معنیان کماقدمنا فی الطرس المعدل احدھما نجاسۃ حکمیۃ تحل بسطوح الاعضاء الظاھرۃ التی یلحقھا حکم التطھیر حلول سر یان والسطح ممتد منقسم طولا وعرضا فبانقسامھا تنقسم النجاسۃ الحالۃ بھا وعن ھذا یسقط الفرض عما اصابہ الماء مع بقاء النجاسۃ فی الباقی والاٰخر وصف للمکلف وھو تلبسہ بھا فیبقی مادام ذرۃ منھا وھذا ھو الحدث الذی لایتجزی، واذ(۱) کان الاول متجزئاینقسم الی قسمین شامل ومقتصر فالشمول فی الجنابۃ مالم یمس ماء والاقتصار اذا غسل بعض البدن فان النجاسۃ الحکمیۃ تزول من المغسول وتبقی فی  غیرہ ،
لیکن ان دونوں صورتوں میں اگر حدث تیمم سے پہلے ہو، جیسا کہ شبہہ اولٰی میں ذکر ہے،تومیں کہتا ہوں اس کا جواب ایک  حرف میں ہے اگر خدائے غالب غنی بزرگ نے چاہا۔اس جواب کی طرف ہم افادہ دہم میں اشارہ بھی کرچکے ہیں۔وہ یہ ہے کہ حدث کے دو۲ معنی ہیں، جیسا کہ ہم نے الطرس المعدل میں بیان کیا-ایک  نجاستِ حکمیہ جو اعضا کی اُن ظاہری سطحوں میں حلول سر یانی کئے ہوتی ہے جنہیں حکم تطہ یر لاحق ہوتا ہے-اور سطح ایک  پھیلی ہوئی، طول وعرض میں منقسم چیز ہے تو سطحوں کے منقسم ہونے سے ان میں حلول کرنے والی نجاست بھی منقسم ہوجاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ جس حصّہ کو پانی پہنچتا ہے اس سے فرض ساقط ہوجاتا ہے اور بقیہ حصّہ میں نجاست باقی رہتی ہے۔دوسرا معنی یہ ہے کہ حدث مکلف کی ایک  صفت ہے اور وہ یہ ہے کہ مکلف نجاست حکمیہ سے متلبس ہے تو جب تک اس نجاست کا ایک  ذرّہ بھی باقی ہے یہ حدث باقی رہے گا۔یہی وہ حدث ہے جو  غیر متجزی و غیر منقسم ہے۔اور اوّل چونکہ متجزی ہے اس کی دو۲ قسمیں ہونگی، شامل اور مقتصر۔جنابت میں شمول اس وقت ہے جب پانی مَس نہ ہوا ہو۔اور اقتصار اس صورت میں ہے جب بدن کا کوئی حصّہ دُھل گیا ہو اس لئے کہ دھوئے ہوئے حصّہ سے نجاست حکمیہ زائل ہوجاتی ہے اور دوسرے حصّہ میں باقی رہتی ہے-
والحدث الاصغر لایعتبر فی  غیر الاعضاء الاربعۃ فان کانت الکبری شاملۃ وجب الاندراج لعمومھا تلک الاعضاء ایضا وان کانت مقتصرۃ لم یلزم کأن تکون الجنابۃ فی  غیرھن وفیھن الحدث ولایکون الابان یتوضأ الجنب اویمر الماء علی اعضاء وضوئہ وتبقی لمعۃ فی  غیرھن ثم یحدث فیعتریھن الحدث ح ولاوجہ للاندراج لتباین المحل والٰی ھذا اشرت بقولی فی المندرج المحل جزء من المحل والمطھر بعض من المطھر وھذا ھو مرادھم ھھنا کمادل علیہ قول الامام صدر الشریعۃ ولم  یصل الماء لمعۃ ظھرہ ۱؎ خص الظھر بالذکر لیفید ان الکبری فی  غیر محل الصغری فلا یصح الاندراج الا تری(۱) ان ذا الجنابۃ الشاملۃ والحدث اذا اغتسل کفاہ عن الوضوء وان لم یجد ماء لغسلہ فتیمم کفاہ ایضا اما صاحب المقتصرۃ فی  غیر اعضاء الوضوء والحدث کمن اغتسل وبقیت ظھرہ مثلا ثم احدث فھذا اذا غسل ظھرہ تم غسلہ وخرج عن الجنابۃ لکن لایکفیہ غسلہ ظھرہ عن الوضوء بل یجب علیہ ان یتوضأ اویتیمم للحدث ان لم یجد لہ الماء وماھو الالعدم اندراج الصغری فی تلک المقتصرۃ الکبری۔
 (۱؎ شرح الوقا یۃ    باب التیمم        مکتبہ رشیدیہ دہلی        ۱/۱۰۴)
اور حدث اصغر کا چاروں اعضا کے علاوہ میں اعتبار ہی نہیں تو اگر نجاست کبرٰی شاملہ ہے تو اندراج لازم ہے کیونکہ وہ ان اعضا میں بھی عام ہے اور اگر مقتصرہ ہے تو اندراج لازم نہیں۔مثلاً یہ صورت ہوکہ جنابت اعضائے اربعہ کے علاوہ میں ہو اور ان اعضا میں حدث ہو-اور اس کی یہی شکل ہوگی کہ جنب وضو کرے  یا اس کے اعضائے وضو پر پانی گزر جائے اور دیگراعضا میں لمعہ رہ جائے پھر اسے حدث ہو تو اعضائے وضو پر حدث عارض ہوجائےگا۔ایسی صورت میں اندراج کی کوئی وجہ نہیں کیونکہ (اصغر واکبر کے) محل الگ الگ ہیں۔اس کی طرف مندرج کے تحت میں نے اپنے ان الفاظ سے اشارہ کیا کہ-''محل، محل کا جز ہے۔ اور مطہر، مطہر کا بعض ہے اور یہا ں پر علماء کی یہی مراد ہے۔ جیسا کہ صدر الشریعۃ کے یہ الفاظ بتارہے ہیں: ''اور پانی اس کی پشت کے لُمعہ (چھُوٹی ہوئی جگہ) تک نہ پہنچا-خاص طور سے پشت کو اس لئے ذکر فرما یا کہ یہ افادہ ہوسکے کہ کبری،  غیر محلِّ صغری میں ہے اس لئے اندراج نہ ہوسکے گا۔دیکھئے جنابت شاملہ اور حدث دونوں رکھنے والا جب غسل کرے تو یہی غسل وضو سے بھی کفایت کرجاتا ہے اور اگر غسل کےلئے پانی نہ ملنے کی وجہ سے تیمم کرے تو یہ بھی کافی ہوتا ہے-مگر وہ جو  غیر اعضائے وضو میں جنابت مقتصرہ اور (اعضائے وضو میں) حدث رکھتا ہے-مثلاً وہ جس نے غسل کیا اور اس کی پیٹھ باقی رہ گئی پھر اسے حدث ہوا تو یہ جب اپنی پیٹھ دھولے اس کا غسل مکمل ہوگیا اور وہ جنابت سے نکل گیا۔لیکن اس کا اپنی پیٹھ دھولینا وضو سے کفایت نہیں کرسکتا بلکہ اس پر واجب ہے کہ وضو کرے  یا اگر پانی نہ ملے تو حدث کےلئے تیمم کرے۔یہ اسی لئے ہے کہ نجاست معنوی اس نجاست کبرٰی مقتصرہ میں مندرج نہیں۔ (ت)
فان قلت ھذا فی الماء فانہ(۲) ایضا مطھر مقتصر علی ما یصےب بخلاف التیمم فانہ یعم جمیع البدن کالغسل۔
اگر سوال ہو کہ یہ تو پانی میں ہے کہ وہ بھی جس حصہ تک پہنچتا ہے اس کےلئے مطہر مقتصر ہے۔مگر تیمم کا یہ حال نہیں کیونکہ وہ غسل کی طرح پورے بدن کو ہمہ گیر اور عام ہے۔
اقول:نعم یعم البدن لکن عملہ(۳) فی الحدث ھو الرفع لاتغییرہ عن صفتہ حتی یجعل المندرج  غیرمندرج اوبالعکس بل انما  یرفعہ علی ماھو علیہ من الحال ان مندرجا فمندرجا اومستبدا فمستبدا فاذا اغتسل وبقیت لمعۃ فی ظھرہ ثم احدث فتیمم لھما ازالھما مغیَّین الی وجدان الماء وھذہ ثمرۃ عمومہ لاان یدرج نجاسۃ حکم یۃ قائمۃ بالاعضاء الاربعۃ فی نجاسۃ اخری قائمۃ بالظھر فتبقی کل منھما تنتظر الماء الکافی لھا بحیالہ فاذا وجد وضوء وجب علیہ الوضوء ولووجدہ قبل ھذا التیمم لمعہ التیمم للحدث لان کل ناقض بقاء مانع ابتداء ویکون الماء محللا للصلاۃ بالنظر الی ھذا المستقل المستبد ال غیر المنظور فیہ الی الاٰخر ولم یجتمع الماء والتراب علی طھارۃ بل توزعا علی طھارتین مستقلتین فانحلت الشبھات جمیعا والحمدللّٰہ ربّ العٰلمین وصلی اللّٰہ تعالٰی علٰی سیدنا ومولٰنا محمد واٰلہ وصحبہ اجمعین۔
اقول:ہاں بدن کو عام اور ہمہ گ یر ہے لیکن حدث میں اس کا عمل یہی ہے کہ اسے دُور کردے یہ نہیں کہ اس کی صفت بدل ڈالے اس طرح کہ مندرج کو  غیر مندرج بنادے  یا اس کے برعکس۔بلکہ صرف اتنا کرے گا کہ حدث جس حالت و صفت پر ہے اسی حال پر اسے رفع کردے گا۔مندرج ہے تو بحالت اندراج،مستقل ہے تو بحالت استقلال-اب دیکھئے جب اس نے غسل کیا اور اس کی پشت میں لمعہ باقی رہ گیا پھر اسے حدث ہوا،اب اس نے حدث وجنابت دونوں کےلئے تیمم کیا تو یہ تیمم دونوں کو پانی کی دست یابی تک کےلئے دُور کردے گا-یہی اس کے عموم اور ہمہ گ یری کا ثمرہ ہے۔یہ نہیں کہ ایک  نجاست حکمیہ جو اعضائے اربعہ میں ہے اسے دوسری نجاست حکمیہ میں جو پشت میں-ہے مندرج کردے۔اس لئے دونوں نجاستوں میں سے ہر ایک  اپنے اپنے لےے مستقل طور پر مائے کافی کے انتظار میں رہے گی جس وقت اسے وضو کا پانی مل جائے اس پر وضو واجب ہوجائے گا-اور اگر اس تیمم سے پہلے اسے وضو کا پانی ملتا تو وہ حدث کا تیمم کرنے سے مانع ہوتا اس لئے کہ ہر وہ جو بقائً ناقض ہے ابتداءً مانع ہے-اور پانی اس مستقل مستبد کے لحاظ سے جس میں دوسرے کی جانب نظر نہیں نماز کو مباح کرنے والا ہے-اور ایک  طہارت پر پانی اور مٹی کا اجتماع نہ ہوا بلکہ دونوں دو مستقل طہارتوں پر متفرق اور جُدا جُدا ہیں-تمام شبہات حل ہوگئے اور ساری تعریف خدائے رب العٰلمین کےلئے ہے۔اور اللہ تعالٰی کی طرف سے ہمارے آقا ومولٰی محمد اور ان کی آل واصحاب سب پر درود ہو۔(ت)
اقول:ومن ھھنا ظھر وللّٰہ الحمد ان(۱) من اجنب فتیمم فاحدث فتوضأ فمربنھر و قدر عــہ علی الاغتسال فلم یغتسل عاد جنبا  غیر محدث بالحدث الاصغر لان الجنابۃ انما تعود فیما لم  یصبہ الماء من اعضائہ وبوضوئہ السابق مر الماء علی اعضاء الوضوء فلا تعود الیھا جنابۃ الابسبب جدید کمابینا فی الافادۃ الاولی ونقلنا التنصیص بہ عن الغنیۃ والبدائع فھذا(۱) ان حدث ولوقبل التیمم للجنابۃ العائدۃ و وجد وضوء وجب علیہ الوضوء قطعا لان ھذا حدث طرأ علی طھر فینقضہ ولایکفیہ تیممہ الاٰن لانہ لجنابۃ مقتصرۃ فی  غیر اعضاء الوضوء فلم یندرج الحدث فیہ وبقی مستقلا بحیالہ نعم  یرتفع (۲) بتیممہ للجنابۃ العائدۃ ان لوکان عاجزا عن الوضوء ایضا لان التیمم وان کان لجنابۃ قدر ظفر یعم البدن فاذا وجد شرطہ وھو العجز عن الماء فی اعضاء الوضوء ایضا طھرھا ایضا اما وھو قادر علی الوضوء فلا لفقد الشرط،
اقول: یہیں سے بحمدہٖ تعالٰی یہ بھی ظاہر ہوا کہ جسے جنابت ہوئی تو اس نے تیمم کیا پھر اسے حدث ہوا تو اس نے وضو کیا پھر کسی در یا کے پاس سے گزرا اور غسل پر قادر ہوا مگر اس نے غسل نہ کیا تو وہ پھر جنب ہوگیالیکن محدث بہ حدث اصغر نہ ہُوا-اس لئے کہ کہ جنابت ان ہی اعضاء میں عود کرے گی جنہیں پانی نہ پہنچا اور اعضائے وضو پر اس کے وضوئے سابق کی وجہ سے پانی گزرگیا تو ان پر جنابت بغیر کسی سبب جدید کے عود نہ کرےگی جیسا کہ ہم نے افادہ اولٰی میں بیان کیا۔اور اس کی تصرےح غنیہاور بدائع سے نقل کی-پھر اس کو اگر حدث ہو-اگرچہ لوٹ آنے والی جنابت کا تیمم کرنے سے پہلے ہو-اور وہ آب وضو پائے تو اس پر وضو قطعاً واجب ہے۔اس لئے کہ یہ ایسا حدث ہے جو طہارت پر طاری ہواتو اسے توڑ دے گا۔اور اس وقت اس کا تیمم کرنا اسے کفایت نہیں کرسکتا اس لئے کہ وہ اس جنابت کےلئے ہے جو  غیر اعضائے وضو میں مقتصرہے تو حدث اس میں مندرج نہ ہوا اور الگ مستقل رہ گیا-ہاں اس کا حدث لوٹ آنے والی جنابت کا تیمم کرنے سے اٹھ جائے گا اگر وہ وضو سے بھی عاجز ہو۔کیونکہ تیمم اگرچہ ناخن برابر جنابت کےلئے ہو لیکن تمام بدن کو عام ہوتا ہے۔تو جب اس کی شرط-اعضائے وضو میں بھی پانی سے عجز-پائی جائے تو انہیں بھی پاک کردے گا۔مگر وضو پر قدرت کی حالت میں پاک نہ کرے گا اس لئے کہ شرط مفقود ہے-
عــہ قال الامام فقیہ النفس علم بہ اقول:والمراد القدرۃ فان العلم لایستلزم القدرۃ والقدرۃ تستلزم العلم ۱۲ منہ غفرلہ۔(م)

امام فقیہ النفس نے فرما یا:در یا کا اسے علم ہوا اقول:مراد قدرت ہے اس لئے کہ علم ہونا قدرت کو مستلزم نہیں اور قادر ہونا علم کو مستلزم ہے ۱۲ منہ غفرلہ۔(ت)
وبالجملۃ(۳) اذا استقل الحدثان فالتیمم لھما وان کان واحدا بالصورۃ تیممان معنی ینظر فی کل منھما الی شرطہ فحیث تحقق  یصح فی حقہ وحیث لا لابخلاف تیمم(۴) جنب ذی حدث مندرج فانہ تیمم واحد صورۃ ومعنی لاجل الاندراج وھھنا لا اندراج الا تری الی ماقدمنا عن الکافی الاٰن من ایجاب الوضوء علیہ اذا وجد ماء کافیا لہ باتفاق الامامین وان قال الامام الثانی بصرف حکم الوضوء عنہ لعارض وسیجیئ فی الرسالۃ التال یۃ ان الاصح قول محمد وھذہ عین الجزئیۃ المطلوبۃ فانہ جنب ذولمعۃ وقد احدث قبل التیمم لھا فوجب الوضوء علیہ وکذلک ھو مفاد المنیۃ علی نسخۃ المتن کماقدمنا وکذلک نص علیہ فی شرح الوقا یۃ کما تقدم وقد اقرہ المحشون و الناظرون ولم یستشکلہ احد کما استشکلوا جمیعا قولہ فی صدرالباب÷وماھو الا لان ما ھنا فی حدث مستقل فلایحوم حول ایجاب الوضوء فیہ شبھۃ ولاارتیاب÷،
وھھنا تعود جمیع الابحاث التی اوردناھا فی الافادۃ العاشرۃ علی طریقۃ السؤال÷ودفعناھابعدم الاستقلال÷فترد الاٰن ولامرد لشیئ منھا ولازوال÷ورحم اللّٰہ الفاضل البرجندی والعلماء جمیعا اذ صور وجود الجنابۃ من دون حدث بثلاث صور اولھا ھذہ ولما اتی علی استظھار عدم وجوب الوضوء خص الکلام بالاخریین وجعل ھذہ بمعزل عنہ کما نقلنا کلامہ اٰخر الدلائل وتتمتہ فی الاشکال الخامس لان ھذہ لا یرتاب فیھا وجوب الوضوء نعم (۱) لوتیمم ثم احدث ولم یتوضأ ثم مر بماء وجاوزہ فھذا وان وجد وضوء لاوضوء علیہ سواء احدث او لم یحدث لان الحدث بعد ماکان مستقلا صار مندرجا لعود الجنابۃ الی اعضاء الوضوء وکذا (۲) کل حدث یحدث بعدہ ما لم یحدث بعد رفع الجنابۃ العائدۃ عن اعضاء الوضوء بعضا اوکلا بماء اوتراب،
لاصہ یہ کہ جب دونوں حدث مستقل ہوں تو ان کےلئے تیمم اگرچہ صورۃً ایک  ہو معنیً دو۲تیمم ہوتے ہیں ہر ایک  میں اس کی شرط پر نظر کی جائےگی جہاں جس کی شرط متحقق ہو اس کے حق میں وہ تیمم صحیح ہوگا جہاں شرط نہ متحقق ہو صحیح نہیں ہوگا۔مگر حدث مندرج والے جنب کا تیمم اس کے برخلاف ہے اس لئے کہ اندراج کی وجہ سے وہ صورۃً بھی ایک  تیمم ہے اور معنیً بھی اور یہاں اندراج نہیں وہی عبارت دیکھ لیجئے جو ابھی ہم نے کافی کے حوالہ سے پیش کی ہے کہ باتفاق امام اعظم وامام محمدعلیہما الرحمۃ اس پر وضو کےلئے کافی پانی کی دستیابی کی صورت میں وضو واجب ہے اگرچہ امام ثانی(ابویوسف)کا قول ہے کہ اس سے وضو کا حکم عارضہ کے سبب ساقط ہوجائےگا اور آنیوالے رسالہ میں یہ بات آرہی ہے کہ اصح قول امام محمدکا ہے، اور یہ بعینہٖ ہمارا مطلوب جزئیہ ہے اس لئے کہ وہ لمعہ والاجنب ہے جسے تیمم جنابت سے پہلے حدث بھی لاحق ہو تو اس پر وضو واجب ہوگیا۔اسی طرح شرح وقایہ میں بھی اس کی تصریح ہے جیسا کہ گزرا۔اسے محشین اور ناظرین نے برقرار بھی رکھا اور کسی نے اس میں اشکال نہ محسوس کیا جیسے شروع باب میں ان کے قول میں سبھی حضرات نے اشکال سمجھا- اس کی وجہ یہی ہے کہ وہاں جو کلام ہے وہ حدث مستقل کے بارے میں ہے تو اس میں ایجاب وضو کے گرد کسی شک وشبہہ کا گزر نہیں۔اور یہاں وہ ساری بحثیں آجاتی ہیں جنہیں ہم افادہ دہم میں بطور سوال لائے اور انہیں عدم استقلال کے جواب سے دفع کیا وہ اب پھر وارد ہوں گی اور ان میں سے کوئی نہ رد ہوسکتی ہے نہ ٹل سکتی ہے۔خدا کی رحمت ہو فاضل برجندی -اور تمام علماء- پر کہ فاضل موصوف نے بغیر حدث کے جنابت پائے جانے کی تین صورتیں پیش کیں جن میں پہلی صورت یہی ہے-اور جب عدم وجوب وضو کے بارے میں اپنی رائے کے اظہار پر آئے تو صرف بعد والی دونوں صورتوں سے متعلق کلام کیا اور اسے معرضِ کلام سے بالکل الگ رکھا جیسا کہ دلائل کے آخر میں ہم نے ان کا کلام نقل کیا اور اس کا تکملہ اشکال پنجم میں ہے کیونکہ اِس سے متعلق وجوب وضو میں کوئی شک نہیں-ہاں اگر تیمم کرلیا پھر اسے حدث ہوا اور وضو نہ کیا پھر (نہانے کے قابل) پانی کے پاس سے گزرا، اور اسے چھوڑ کر آگے چلاگیا-تو اس شخص کے پاس اگرچہ آبِ وضو موجود ہے مگر اس پر وضو نہیں خواہ اسے حدث ہو یا نہ ہو-اس لئے کہ اس کا حدث پہلے اگرچہ مستقل تھا مگر اب اعضائے وضو میں جنابت لَوٹ آنے کی وجہ سے مندرج ہوگیا۔ اسی طرح عود جنابت کے بعد جو بھی حدث ہوگا(سب مندرج ہوجائے گا ) بشرطیکہ عود کرنے والی جنابت کو پانی  یا مٹی کے ذریعہ اعضائے وضو سے کُلاًّ  یا بعضاً رفع کرنے کے بعد وہ حدث نہ پیدا ہوا ہو(کہ ایسا حدث مندرج نہ ہوگا)
فظھر (۳)ان ماوقع فی مسألۃ الجنب المذکورۃ فی الخانیۃ الشریفۃ من قولہ احدث اولم یحدث سبق قلم من الامام الاجل فقیہ النفس رحمہ اللّٰہ تعالٰی رحمۃ واسعۃ ورحمنا بہ فی الدنیا والاٰخرۃ اٰمین ولاغر وفلکل جوادکبوۃ÷ ولکل صارم نبوۃ÷ ولاعصمۃ الالکلام الالوھیۃ ثم النبوۃ÷والمسألۃ قدذکرھا محرر المذھب محمد رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ فی کتاب الاصل لم یذکر فیہ احدث اولم یحدث وھکذا اثرہ فی الخلاصۃ اذ قال رجل(۴) تیمم للجنابۃ وصلی ثم احدث ومعہ من الماء قدرمایتوضأ بہ لصلاۃ یتوضأ بہ لصلاۃ اخری فان توضأ بہ ولبس خفیہ ثم مر بالماء ولم یغتسل حتی صارعادم الماء ثم حضرت الصلاۃ ومعہ من الماء قدرمایتوضأ بہ فانہ یتیمم ولایتوضأ فان تیمم ثم حضرت الصلاۃ الاخری وقدسبقہ الحدث فانہ یتوضؤ بہ وینزع خفیہ وان لم یکن مر بماء قبل ذلک مسح علی خفیہ الکل فی الاصل ۱؎ اھ۔ھذا ماعندی والعلم بالحق عندربی انہ بکل شیئ علیم۔
اس سے ظاہر ہوا کہ جنب کے مذکورہ مسئلہ میں خانیہ شریف میں واقع یہ عبارت ''احدث اولم یحدث''(اسے حدث ہو  یا نہ ہو)امام اجل فقیہ النفس کی سبقت قلم سے صادر ہوئی۔خدائے برتر انہیں اپنی وسیع رحمت سے نوازے اور ان کی برکت سے دُنیا وآخرت میں ہم پر بھی رحم فرمائے۔یہ کوئی حیرت انگیزامر نہیں کیونکہ ہراسپِ خوش رفتار کو ٹھوکر بھی لگتی ہے اور ہر شمشیربردار کو ناموافقت سے بھی دوچار ہونا پڑتا ہے۔عصمت تو صرف کلامِ الوہیت پھر کلامِ نبوت کو ہے یہ مسئلہ محرر مذہب امام محمدرضی اللہ تعالٰی عنہ نے کتاب الاصل (مبسوط شریف)میں بیان کیا ہے۔اس میں ''احدث اولم یحدث'' ذکر نہ فرما یا۔خلاصہ میں ان کی عبارت اسی طرح نقل فرمائی ہے جو درج ذیل ہے:''ایک  شخص نے جنابت کا تیمم کیا اور نماز ادا کی پھر اسے حدث ہوا اور اس کے پاس اتنا پانی ہے جس سے وضو کرسکتا ہے تو اس سے دوسری نماز کےلئے وضو کرے گا۔اگر اس سے وضو کرلیا اور موزے پہن لیے پھر پانی کے پاس سے گزرا اور غسل نہ کیا یہاں تک کہ پانی اس کے لئے معدوم ہوگیا پھر نماز کا وقت آ یا اب اس کے پاس بقدر وضو پانی ہے تو وہ تیمم کرے گا اور وضو نہیں کرے گا۔اگر اس نے تیمم کرلیا پھر دوسری نماز کا وقت اس حالت میں آ یا کہ اسے حدث لاحق ہوچکا تو اس پانی سے وہ وضو کرے گا اور اپنے موزے اتارے گا-اور اگر اس سے پہلے وہ پانی سے نہ گزرا تھا تو اپنے موزوں پر مسح کرے- یہ سب اصل (مبسوط) میں ہے اھ یہ وہ ہے جو میرے نزدیک  ہے۔ اور حق کا علم میرے رب کے یہاں ہے، یقینا وہ ہر شَے کا علم رکھتا ہے۔(ت)
(۱؎ خلاصۃ الفتاوٰی    خمسۃ من المتیممین    مطبوعہ نولکشور لکھنؤ    ۱/۳۸)
الافادۃ۱۲: تقر یری ھذا فتح وللّٰہ الحمد بابااٰخر للتاویل فاقول:مع علی معناھا ولانتصرف فی شیئ من الالفاظ ونقول الجنابۃ اذاشملت لم یظھر معھا حدث بل اندمج فیھا واستُھلک کالمذی فی المنی فی حکم الطھارۃ فمعیتھما لاتکون الا باستقلالھما وذلک فی جنابۃ مقتصرۃ لاتشتمل محل الحدث طرأ  ولایکون الا بان یتوضأ بعد الجنابۃ کلا اوبعضا ثم یحدث کماتقدم والفرض ان الماء یکفی للحدث لاللجنابۃ فیجب ان تکون الجنابۃ فی محل اکبر من اعضاء الوضوء وحینئذ لاشک انہ اذا وجد وضوء یجب علیہ الوضوء بالاتفاق لان تیممہ یکون للجنابۃ خاصۃ ولا یرفع الحدث لکونہ مستبدا بالحکم والماء کاف لہ والحمدللّٰہ حمدا کثیرا طیبا مبارکا فیہ÷وصلی اللّٰہ تعالٰی علی سیدنا ومولٰنا محمّد واٰلہ وذویہ÷ اٰمین۔
افادہ ۱۲: میری اس تقر یر نے بحمدہ تعالٰی تاویل کا ایک  اور دروازہ کھولا فاقول:(تو میں کہتا ہوں) عبارت شرح وقایہ میں مع اپنے معنی پر ہے اور ہم کسی لفظ میں تصرف نہیں کرتے۔ہم کہتے ہیں جنابت جب شاملہ ہو اس کے ساتھ کوئی حدث ظاہر نہ ہوگا بلکہ اسی میں مل جائےگا اور غائب ومستہلک ہوجائے گا جیسے حکمِ طہارت میں منی کے اندر مذی کے غ یاب واستہلاک کا حال ہے۔ تو حدث وجنابت دونوں ایک  ساتھ اسی وقت ہوں گے جب دونوں مستقل ہوں۔یہ اس جنابت مقتصرہ میں ہوگا جو پورے محلِ حدث کو شامل نہ ہو اس کی صورت یہی ہوگی کہ جنابت کے بعد کُلاًّ  یا بعضاً وضو کرے پھر اسے حدث ہو جیسا کہ پہلے ذکر ہوا۔اور فرض یہ کیا گیا ہے کہ پانی حدث ہی کےلئے کفایت کررہا ہے جنابت کےلئے نہیں۔تو ضروری ہے کہ جنابت اعضائے وضو سے ز یادہ بڑے حصّے میں ہو جب یہ صورت ہو تو بلاشبہہ آب وضو ملنے کے وقت اس پر بالاتفاق وضو واجب ہوگا اس لئے کہ اس کا تیمم خاص جنابت کےلئے ہوگا اور حدث رفع نہ کرے گا کیونکہ حدث تو اپنا مستقل حکم رکھتا ہے۔اور اس کےلئے بقدر کفایت پانی موجود ہے اور ساری حمد خدا کےلئے ہے کثیر پاکیزہ بابرکت حمد-اور خدائے برتر کی طرف سے ہمارے آقا ومولٰی محمد اور ان کی آل اور ان کے سبھی لوگوں پر درود وہو۔الٰہی! قبول فرما۔(ت)
Flag Counter