Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۴(کتاب الطہارۃ)
45 - 2323
فالصورۃ الثالثۃ تشمل ما اذا کفی للوضوء دون اللمعۃ وقدحکم فیہ ببطلان تیممہ فی حق الحدث وایجاب الوضوء والظاھر ان ھذا انما یستقیم علی ماقدم اول الباب من وجوب الوضوء علی ذی حدثین وجد وضوء فانہ فرض فیہ الحدث قبل التیمم ثم اوجب الوضوء للحدث فاذن یکون التأویل توجیھا للقول بمالا یرضی بہ قائلہ۔
تو تیسری صورت اسے بھی شامل ہے جب پانی وضو کےلئے کافی ہو لُمعہ کےلئے کافی نہ ہو۔ اور اس صورت میں یہ حکم کیا ہے کہ حق حدث میں اس کا تیمم باطل ہوجائےگا اور وضو کرنا واجب ہوگا۔ظاہر یہ ہے کہ اسی بنیاد پر راست آسکے گا جسے اوّل باب میں بتا یا کہ ایسا دو حدث والا جس کے پاس وضو کا پانی موجود ہے اس پر وضو واجب ہے کہ اس میں حدث تیمم سے پہلے ہونا فرض کیا ہے پھر حدث کےلئے وضو واجب کیا اس کے پیش نظر تاویل مذکور کسی کے کلام کی ایسی توجیہ ہوگی جس سے خود صاحبِ کلام راضی نہ ہو۔ (ت)
بل یسری الشک الی الحکم المنقح فان صدر الشریعۃ  غیر متفرد بہ ھذا الامام الجلیل الاقدم ابوالبرکات النسفی قائلا فی الکافی فی جنب علی بدنہ لمعۃ احدث قبل ان یتیمم تیمم لھما واحدا فان وجد مایکفی لاحدھما  غیر عین صرفہ الی اللمعۃ ویعید التیمم للحدث عند محمد ۱؎ اھ
بلکہ یہ شک منقح حکم تک سرایت کر آئےگا اس لئے کہ صدر الشریعۃ اس میں متفرد نہیں۔ یہ ان سے مقدم امام جلیل ابوالبرکات نسفی ہیں جو کافی میں رقمطراز ہیں: ''ایسا جنب ہے جس کے بدن پر لُمعہ ہے اسے قبل تیمم حدث ہوا تو دونوں ہی کےلئے ایک  تیمم کرے۔ اب اگر اسے اتنا پانی مل جائے جو  غیر معین طور پر دونوں میں سے کسی ایک  کےلئے کافی ہو تو اسے لمعہ میں صرف کرے، اور امام محمد کے نزدیک  حدث کےلئے تیمم کا اعادہ کرے'' اھ
 ( ۱؎ کافی)
فمامنشؤا عادۃ تیمم الحدث الاایجاب الوضوء لہ مع کونہ قبل تیمم الجنابۃ وابویوسف وان خالفہ فی الاعادۃ فلالانہ لایوجب الوضوء فی نفسہ بل لعارض وذلک ان امر الجنابۃ اغلظ فکان المائمستحق الصرف الیھا والمستحق لحاجۃ اھم کالمعدوم کماسیاتی عن الکافی ان شاء اللّٰہ تعالٰی فی الرسالۃ التالیۃ وھذا یفید اتفاق الصاحبین رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا علی وجوب الوضوء لجنب احدث قبل التیمم لھا مع ان المقرر فیمامر ان ل اوضوء علیہ الااذا احدث بعد ماتیمم۔
تو تیمم حدث کے اعادہ کا منشا اس کے سوا نہیں کہ حدث کے سبب وضو واجب ہے باوجودیکہ حدث تیمم جنابت سے پہلے ہے اور امام ابویوسف اعادہ کے حکم میں اگرچہ ان کے برخلاف ہیں مگر اس لئے نہیں کہ وہ فی نفسہ وضو واجب نہیں کہتے،بلکہ کسی عارض کی وجہ سے۔ اور وہ یہ ہے کہ جنابت کا معاملہ ز یادہ سخت ہے تو پانی اسی کا مستحق ہوا کہ جنابت میں صرف ہو اور جو کسی اہم حاجت کا مستحق ہوچکا ہو وہ کالمعدوم ہے۔ جیسا کہ اگلے رسالہ میں ان شاء اللہ تعالٰی کافی کے حوالہ سے آرہا ہے اس سے مستفاد ہوتا ہے کہ صاحبین رضی اللہ تعالٰی عنہا کا اس جنب کےلئے وجوب وضو پر اتفاق ہے جو جنابت کا تیمم کرنے سے پہلے محدث ہوا باوجودیکہ ماسبق میں ثابت ومقرر یہ ہے کہ اس پر وضو نہیں مگر اس صورت میں جبکہ تیمم کرلینے کے بعد اسے حدث ہو۔ (ت)
ولعلک تقول اوّلاً: این ھذا من ذاک فانہ کان ثمہ واجد الماء الوضوء قبل التیمم للجنابۃ فکان ایجاب الوضوء ایجابہ علی جنب لایجد غسلا وھو خلاف المذھب اماھھنا فانما وجدہ بعدماتیمم لھا والفرض انہ لایکفی للمعۃ فکان تیممہ لھا بحالہ فلم یعد جنبا وبالقدرۃعلی الوضوء انتقض تیممہ فی حق الحدث لانہ لایکون طھارۃ الا الی وجدان الماء فاذا وُجد فُقد فقد عاد محدثا والمحدث  غیر جنب اذا وجد وَضوء فلاشک فی وجوب الوضوء علیہ الاتری الی ماقدمت فی الدلیل الخامس عن البدائع یتوضأبہ لان ھذا محدث ولیس بجنب ۱؎
اس پر چند باتیں کہی جاسکتی ہیں اوّلاً کہاں یہ کہاں وہ! وہاں اسے تیمم جنابت سے پہلے آب وضو دستیاب تھا تو وہاں وضو واجب کرنا ایسے جنب پر وضو واجب کرنا تھا جسے غسل کا پانی دستیاب نہیں اور وہ خلاف مذہب ہے لیکن یہاں اسے جنابت کا تیمم کرلینے کے بعد پانی ملا ہے اور فرض یہ کیا گیا ہے کہ وہ پانی لُمعہ کے لئے کافی نہیں اس لئے اس کا تیمم جنابت برقرار ہے تو دوبارہ وہ جنابت والا نہ ہوا۔ اور وضو پر قدرت کی وجہ سے حق حدث میں اس کا تیمم ٹوٹ گیا کیونکہ تیمم پانی کی دست یابی تک ہی طہارت ہوتا ہے جب وہ دستیاب ہوگیا یہ مفقود ہوگیا۔ تووہ پھر محدث ہوگیا۔ اور محدث  غیر جنب کو جب وضو کا پانی مل جائے تو اس پر وضو واجب ہونے میں کوئی شک نہیں وہ عبارت دیکھئے جو دلیل پنجم میں بدائع کے حوالہ سے پیش ہُوئی: ''اس سے وضو کرے گا کیونکہ یہ محدث ہے اور جنب نہیں ہے''۔
 (۱؎ بدائع الصنائع    شرائط رکن التیمم    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۵۱)
وعن الدر صار محدثا لاجُنبا فیتوضأ ۱؎۔
اور درمختار کے حوالہ سے یہ ''محدث ہوا جنابت والا نہیں تو اسے وضو کرنا ہے''۔
 (۱؎ الدرالمختار مع الشامی        باب التیمم        مصطفی البابی مصر        ۱/۱۸۶)
وثانیا: لم یکن علیہ وضوء لبقاء الحدث کماھو لوجود الجنابۃ ولاتزول بالوضوء اما الاٰن فقدزالت بالتیمم۔
ثانیا: اس پر وضو اس لئے نہیں تھا کہ جنابت موجود ہونے کی وجہ سے حدث ویسے ہی باقی رہتا اور جنابت وضو سے دُور نہ ہوتی لیکن اس وقت تو جنابت تیمم سے دُور ہوچکی ہے۔
وثالثا: لم یکن ماءہ مبیحا للصلاۃ لاجل الجنابۃ والاٰن یبیح۔
ثالثا: اُس کا پانی جنابت کی وجہ سے نماز مباح کرنے والا نہ تھا اور اِس وقت مباح کرنے والا ہے۔
ورابعا: کان فیہ الجمع بین البدلین فی طھارۃ واحدۃ والاٰن قدتمت الطھارۃ الاولی بالتیمم بلاماء وبعود الحدث بالقدرۃ علی الماء دون الجنابۃ تتم ھذہ بالماء بلاتراب۔
رابعاً:  اُس میں ایک  طہارت کے اندر دونوں بدل جمع کرنا ہوتا۔ اور اس وقت پہلی طہارت بغیر پانی کے تیمم کے ذریعہ پوری ہوچکی ہے اور پانی پر قادر ہونے سے حدث بلاجنابت لوٹ آنے کی وجہ سے یہ طہارت بغیر مٹی کے پانی سے پُوری ہوگی۔
وخامسا:  قدعلم دوّارفی المتون وسائر کتب المذھب ان حدوث قدرۃ علی الماء کحدوث حدث فی نقض التیمم ولاشک ان لوتیمم لھما ثم احدث فعلیہ الوضوء فکذا اذا قدر علی ماء الوضوء فانی الابتناء علی ماصدر عن الصدر فی صدر الباب۔
خامساً : متون اور دیگرکتب مذہب میں یہ مسئلہ متداول طور پر معروف ہے کہ تیمم توڑنے کے معاملہ میں پانی پر قدرت پیدا ہونا ایسے ہی ہے جیسے حدث پیدا ہونا۔ اور اس میں شک نہیں کہ اگر وہ دونوں ہی کےلئے تیمم کرلیتا پھر اسے حدث ہوتا تو اس پر وضو واجب ہوتا تو یہی حکم اس وقت بھی ہوگا جب آبِ وضو پر اسے قدرت مل جائے۔ تو یہ حکم اس پر کہاں مبنی رہا جو شروع باب میں صدر الشریعۃ کے حوالہ سے صادر ہوا۔
اقول: بلی فان مبنی کل ذلک علی فرض انتقاض تیممہ فی حق الحدث برؤ یۃ الماء وفیہ النظر کیف ولونقضہ بقاء لمنعہ ابتداء ومنعہ ابتداء ھو عین مافی صدر الباب خلاف ماعلیہ النصوص والدلائل اما الملازمۃ فقدقال(۱) الامام ملک العلماء فی البدائع الغراء الاصل فیہ ان کل مامنع وجودہ التیمم نقض وجودہ التیمم ومالا فلا ۱؎ اھ ومثلہ فی البحر والتنو یر والدرو غیرھا من الاسفار الغرای کل مالایمنع ابتداء لاینقض بقاء وینعکس بعکس النقیض الی قولنا کل ما(۱) ینقض بقاء یمنع ابتداء فثبت المطلوب وبہ علم ان الخامس ابین بطلانا وافصح بالبناء علی ذلک الحکم المحذور۔
اقول (میں کہتا ہوں) کیوں نہیں ان سب کی بنیاد اسی مفروضہ پر ہے کہ پانی دیکھنے سے اس کا تیمم حق حدث میں ٹوٹ جاتا ہے اور یہی محلِ نظر ہے۔ یہ کیسے صحیح ہوسکتا ہے؟ اگر یہ بقاءً ناقض تیمم ہوتا تو ابتداءً مانع تیمم بھی ہونا اور ابتداءً مانع تیمم ہونا یہی تو وہ بات ہے جو شروع باب میں نصوص ودلائل کے برخلاف وارد ہوتی ہے۔ ملازمہ (بقاءً ناقض ہونے کو ابتداءً مانع ہونا لازم ہے) کا ثبوت یہ ہے کہ امام ملک العلماء نے بدائع شریف میں رقم فرما یا ہے کہ ''اس بارے میں اصل یہ ہے کہ ہر وہ چیز جس کا وجود تیمم سے مانع ہے اس کا وجود تیمم کا ناقض بھی ہے اور جو مانع نہیں وہ ناقض بھی نہیں'' اھ۔ اسی کے مثل البحرالرائق، تنو یر الابصار، درمختار و غیرہا مشہور کتابوں میں بھی ہے۔ یعنی ہر وہ جو ابتداءً مانع نہیں وہ بقاءً ناقض نہیں اس کا عکس نقیض یہ ہوگا ''ہر وہ جو بقاءً '' ناقض ہے وہ ابتداءً مانع ہے'' تو مطلوب ثابت ہوگیا۔ اسی سے معلوم ہوا کہ خامس کا بطلان ز یادہ روشن ہے اور اس حکم محذور پر مبنی ہونے میں یہ ز یادہ واضح ہے۔ (ت)
 (۱؎ بدائع الصنائع    باب نواقض التیمم    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۵۷)
الشبھۃ الثانیۃ: نصوا فیمن بقیت لہ لمعۃ واحدث بعد التیمم لھاکما صورفی اکثر الکتب وکذا ان احدث قبلہ کماصور بالوجھین فی بعضھا ثم وجد الماء قبل التیمم للحدث انہ ان کفی للمعۃ دون الوضوء غسلھا وتیمم للحدث وکذا ان کفی لکل منھما لاعلی التعیین لان الجنابۃ اغلظ فان(۲) خالف وتوضأ اعاد التیمم للمعۃ باتفاق الروا یات وستأتی النصوص فالذی فی ھذہ الصور الثلاث لیس الا تلفیق الطھارتین والجمع بین البدلین حیث تطھر فی وقت واحد بالماء والتراب معاوکون الماء للجنابۃ والتراب للحدث لایمنع الجمع والافلم منعتم ذاحدثین وجد وضوء عن الوضوء فان ثمہ ایضا لم یجتمعا علی شیئ واحد بل کان التراب للجنابۃ والماء للحدث۔
شبہ ۲: وہ شخص جس کا کچھ حصہ نہانے میں دھونے سے رہ گیا اور جنابت کا تیمم کرنے کے بعد اسے حدث ہوا جیسا کہ اکثر کتابوں میں یہ صورت مسئلہ بیان کی ہے یوں ہی اگر تیمم کرنے سے پہلے اسے حدث ہوا جیسا کہ بعض کتابوں میں دونوں ہی صورت بیان کی ہے  پھر اس شخص کو حدث کاتیمم کرنے سے  پہلے پانی مل گیا اس کے بارے میں علماء  نے صراحت فرمائی ہے کہ اگر وہ پانی وضو کےلئے نہیں بلکہ صرف چوٹی ہوئی جگہ کےلئے کافی ہے تو اسے دھولے اور حدث کےلئے تیمم کرے یوں ہی اگر دونوں میں سے ہر ایک  کےلئے بلاتعین کافی ہو تو بھی اس جگہ کو دھوئے اس لئے کہ جنابت ز یادہ سخت ہے۔ اگر اس نے اس کے برخلاف کیا اور پانی وضو میں صرف کیا تو چھُوٹی ہوئی جگہ کےلئے اسے باتفاق روایت دوبارہ تیمم کرنا ہے نصوص عنقریب آرہے ہیں۔ ان تینوں صورتوں میں دونوں طہارتوں کو خلط کرنا اور دونوں بدل کو جمع کرنا ہی تو ہے۔ اس طرح کہ بیک  وقت اس نے پانی اور مٹی دونوں سے طہارت حاصل کی اور پانی کا جنابت کےلئے، مٹی کا حدث کےلئے ہونا جمع سے مانع نہیں۔ اگر یہ بات نہیں تو دو حدث والے کو جسے آب وضو دستیاب ہے آپ نے وضو سے کیوں روکا (وجہ فرق کیا ہے) وہاں بھی تو دونوں بدل ایک  شیئ پر مجتمع نہ ہوئے بلکہ مٹی جنابت کےلئے ہے اور پانی حدث کےلئے ہے۔ (ت)
الشبھۃ الثالثۃ: نصوا قاطبۃ فی صورتی کفا یۃ الماء لللمعۃ وحدھا اولکل منفردا بوجوب استعمالہ فی اللمعۃ وانتقاض تیممہ لھا وانہ یتیمم للحدث ومعلوم قطعا ان ھذا الماء لم یکن محللا للصلاۃ فی الصورتین لبقاء الحدث والاحتیاج لہ الی التیمم فکان یجب ان لاینتقض تیممہ لھا لمامر من نصوص الائمۃ الجھابذۃ فی الدلیل السادس ان المراد فی الکریمۃ ھو الماء الذی اذا استعمل اباح الصلاۃ وھذا لیس بہ ھذا تقر یر الشبھات۔
شبہہ ۳:جب پانی صرف لمعہ کےلئے کفایت کرے  یا جب تنہا ہر ایک  کےلئے کفایت کرے دونوں صورتوں میں سبھی علماء نے صراحت فرمائی ہے کہ پانی لمعہ میں استعمال کرنا واجب ہے۔اس کا تیممِ جنابت ٹوٹ جائے گا اور حدث کےلئے وہ تیمم کرے گا۔یہ بھی قطعاً معلوم ہے کہ دونوں صورتوں میں یہ پانی نماز مباح کرنیوالا نہ تھا کیونکہ حدث باقی ہے اور اس کےلئے تیمم کی ضرورت ہے۔تو ضروری کہ اس کا تیممِ جنابت نہ ٹوٹے اس لئے کہ دلیل سادس میں ائمہ ماہرین کی تصریحات گزرچکی ہیں کہ آیت کریمہ میں وہ پانی مراد ہے جو استعمال کیا جائے تو نماز مباح ہوجائے گی اور یہ وہ پانی نہیں۔یہ شبہات کی تقر یر ہے۔(ت)
واقول:فی الجواب بتوفیق الوھاب اما الاخر یان ان کان الحدث فیھما بعد التیمم للجنابۃ فالجواب واضح لانہ اذن مستبد قطعا لا یصلح للاندراج لارتفاع الجنابۃ بالتیمم فکیف یندرج الموجود فی المرفوع ولذا اجمعت الامۃ انہ اذا احدث بعد تطھیر الجنابۃ بالغسل اوبالتیمم و وجد وَضوء یجب علیہ الوضوء فاذا لم یندرج فیھا لم یکن الجمع بین البدلین فی طھارۃ واحدۃ بل طھارتین کمن اجنب ولم یجد غسلا فتیمم فاحدث و وجد وضوء فتوضأ ولا یرد ذوالحدثین لاجل الاندراج فیکون جمعا فی طھارۃ واحدۃ وکذلک المراد بالاباحۃ الاباحۃ من جھۃ ازالۃ مانعیۃ لاقاھا وان بقی المنع من جھۃ اخری کماسبق فی من توضأ وعلی فخذہ نجس مانع ولا یرد ذوالحدثین فلیس بہ مانعیتان و وضوؤہ یزیل احدھما وان بقیت الاخری بل مانعیۃ واحدۃ لاندراج الصغری فی الکبری فاذالم یکف للکبری لم یکن محللا للصلاۃ اصلا ولوکان یکفی للصغری۔
جوابِ شبہات:جوابِ شبہات میں بتوفیق خدائے وہاب میں کہتا ہوں-آخری دونوں شبہات کو لیجئے۔ اگر ان میں حدث تیمم جنابت کے بعد تھا تو جواب واضح ہے کہ اس صورت میں وہ یقینا مستقل ہے۔ جنابت میں شامل و مندرج ہونے کے قابل نہیں کیونکہ جنابت تو تیمم سے ختم ہوچکی ہے تو موجود معدوم میں کیسے شامل ہوگا۔اسی لئے اس بات پر امت کا اجماع ہے کہ جب غسل  یا تیمم سے تطہیر جنابت کے بعد حدث ہو اور آبِ وضو دست یاب ہو تو اس پر وضو واجب ہے۔جب حدث جنابت میں شامل نہ ہوا تو دونوں بدل کو ایک  طہارت میں جمع کرنا نہ ہوا بلکہ دو طہارتوں میں ہوا جیسے وہ شخص جسے جنابت لاحق ہُوئی اور غسل کا پانی نہ پا یا تو تیمم کیا پھر اسے حدث ہوا اور وضو کا پانی پا یا تو وضو کیا-اس پر دونوں حدث والے سے اعتراض نہیں ہوسکتا کیونکہ اس کا ایک  حدث دوسرے میں شامل ہے تو وہاں ایک  ہی طہارت میں دونوں بدل جمع کرنا لازم آئے گا اسی طرح اباحت سے مراد وہ اباحت ہے جو اس مانعیت کے ازالہ کی جہت سے ہو جس پانی کا اتصال ہوا اگرچہ دوسری جہت سے ممانعت باقی ہو جیسا کہ اس کے بارے میں گزرا جس نے وضو کیا اور اس کی ران پر کوئی مانع نجس موجود ہے۔اس پر بھی دونوں حدث والے سے اعتراض نہیں ہوسکتا کیونکہ اس کا حال ایسا نہیں کہ اس میں دو مانعیت (ممانعت) ہوں اور وضو ایک  کو دور کردے اگرچہ دوسری باقی رہ جائے بلکہ اس میں ایک  ہی مانعیت ہے کیونکہ صغرٰی کبرٰی میں شامل ہوگئی ہے تو پانی جب کبرٰی کےلئے ناکافی ہو قطعاً نماز کو مباح کرنے والا نہ ہوسکے گا اگرچہ صغرٰی کےلئے کافی ہو۔(ت)
الشبھۃ الاولٰی ان الامام صدر الشریعۃ یقول اغتسل(۱) الجنب ولم  یصل الماء لمعۃ ظھرہ وفنی الماء واحدث حدثا یوجب الوضوء فتیمم لھما ثم وجد(۱) من الماء مایکفیھما بطل تیممہ فی حق کل منھما وان(۲) لم یکف لاحدھما بقی فی حقھما وان(۳) کفی لاحدھما بعینہ غسلہ ویبقی التیمم فی حق الاٰخر وان(۴) کفی لکل منفرد اغسل اللمعۃ ۱؎ ۔۔الخ.00.
شُبہ ۱: امام صدر الشریعۃ فرماتے ہیں: ''جنب نے غسل کیا پانی اس کی پےٹھ کی ایک  جگہ تک نہ پہنچا اور ختم ہوگیا۔اور کوئی ایسا حدث ہوا جو وضو واجب کرتا ہے تو اس نے دونوں کےلئے تیمم کیا پھر(۱) اسے اتنا پانی مل گیا جو دونوں کےلئے کافی ہوتو اس کا تیمم دونوں میں سے ہر ایک  کے حق میں باطل ہوگیا۔اور(۲) اگر کسی ایک  کےلئے ناکافی ہو تو دونوں کے حق میں باقی رہے گا۔ اور(۳) اگر معین طور پر ایک  کےلئے کافی ہو تو اسے دھوئے اور دوسرے کے حق میں تیمم باقی رہے گا اور اگر(۴) تنہا ہر ایک  کےلئے کافی ہو تو لُمعہ (غسل میں چھُوٹی ہُوئی جگہ) دھوئے الخ۔
 (۱؎ شرح الوقا یۃ        باب التیمم        المکتبۃ الرشیدیہ دہلی        ۱/۱۰۴)
فالصورۃ الثالثۃ تشمل ما اذا کفی للوضوء دون اللمعۃ وقدحکم فیہ ببطلان تیممہ فی حق الحدث وایجاب الوضوء والظاھر ان ھذا انما یستقیم علی ماقدم اول الباب من وجوب الوضوء علی ذی حدثین وجد وضوء فانہ فرض فیہ الحدث قبل التیمم ثم اوجب الوضوء للحدث فاذن یکون التأویل توجیھا للقول بمالا یرضی بہ قائلہ۔
تو تیسری صورت اسے بھی شامل ہے جب پانی وضو کےلئے کافی ہو لُمعہ کےلئے کافی نہ ہو۔ اور اس صورت میں یہ حکم کیا ہے کہ حق حدث میں اس کا تیمم باطل ہوجائےگا اور وضو کرنا واجب ہوگا۔ظاہر یہ ہے کہ اسی بنیاد پر راست آسکے گا جسے اوّل باب میں بتا یا کہ ایسا دو حدث والا جس کے پاس وضو کا پانی موجود ہے اس پر وضو واجب ہے کہ اس میں حدث تیمم سے پہلے ہونا فرض کیا ہے پھر حدث کےلئے وضو واجب کیا اس کے پیش نظر تاویل مذکور کسی کے کلام کی ایسی توجیہ ہوگی جس سے خود صاحبِ کلام راضی نہ ہو۔ (ت)
بل یسری الشک الی الحکم المنقح فان صدر الشریعۃ  غیر متفرد بہ ھذا الامام الجلیل الاقدم ابوالبرکات النسفی قائلا فی الکافی فی جنب علی بدنہ لمعۃ احدث قبل ان یتیمم تیمم لھما واحدا فان وجد مایکفی لاحدھما  غیر عین صرفہ الی اللمعۃ ویعید التیمم للحدث عند محمد ۱؎ اھ
بلکہ یہ شک منقح حکم تک سرایت کر آئےگا اس لئے کہ صدر الشریعۃ اس میں متفرد نہیں۔ یہ ان سے مقدم امام جلیل ابوالبرکات نسفی ہیں جو کافی میں رقمطراز ہیں: ''ایسا جنب ہے جس کے بدن پر لُمعہ ہے اسے قبل تیمم حدث ہوا تو دونوں ہی کےلئے ایک  تیمم کرے۔ اب اگر اسے اتنا پانی مل جائے جو  غیر معین طور پر دونوں میں سے کسی ایک  کےلئے کافی ہو تو اسے لمعہ میں صرف کرے، اور امام محمد کے نزدیک  حدث کےلئے تیمم کا اعادہ کرے'' اھ
 ( ۱؎ کافی)
فمامنشؤا عادۃ تیمم الحدث الاایجاب الوضوء لہ مع کونہ قبل تیمم الجنابۃ وابویوسف وان خالفہ فی الاعادۃ فلالانہ لایوجب الوضوء فی نفسہ بل لعارض وذلک ان امر الجنابۃ اغلظ فکان المائمستحق الصرف الیھا والمستحق لحاجۃ اھم کالمعدوم کماسیاتی عن الکافی ان شاء اللّٰہ تعالٰی فی الرسالۃ التالیۃ وھذا یفید اتفاق الصاحبین رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا علی وجوب الوضوء لجنب احدث قبل التیمم لھا مع ان المقرر فیمامر ان ل اوضوء علیہ الااذا احدث بعد ماتیمم۔
تو تیمم حدث کے اعادہ کا منشا اس کے سوا نہیں کہ حدث کے سبب وضو واجب ہے باوجودیکہ حدث تیمم جنابت سے پہلے ہے اور امام ابویوسف اعادہ کے حکم میں اگرچہ ان کے برخلاف ہیں مگر اس لئے نہیں کہ وہ فی نفسہ وضو واجب نہیں کہتے،بلکہ کسی عارض کی وجہ سے۔ اور وہ یہ ہے کہ جنابت کا معاملہ ز یادہ سخت ہے تو پانی اسی کا مستحق ہوا کہ جنابت میں صرف ہو اور جو کسی اہم حاجت کا مستحق ہوچکا ہو وہ کالمعدوم ہے۔ جیسا کہ اگلے رسالہ میں ان شاء اللہ تعالٰی کافی کے حوالہ سے آرہا ہے اس سے مستفاد ہوتا ہے کہ صاحبین رضی اللہ تعالٰی عنہا کا اس جنب کےلئے وجوب وضو پر اتفاق ہے جو جنابت کا تیمم کرنے سے پہلے محدث ہوا باوجودیکہ ماسبق میں ثابت ومقرر یہ ہے کہ اس پر وضو نہیں مگر اس صورت میں جبکہ تیمم کرلینے کے بعد اسے حدث ہو۔ (ت)
ولعلک تقول اوّلاً: این ھذا من ذاک فانہ کان ثمہ واجد الماء الوضوء قبل التیمم للجنابۃ فکان ایجاب الوضوء ایجابہ علی جنب لایجد غسلا وھو خلاف المذھب اماھھنا فانما وجدہ بعدماتیمم لھا والفرض انہ لایکفی للمعۃ فکان تیممہ لھا بحالہ فلم یعد جنبا وبالقدرۃعلی الوضوء انتقض تیممہ فی حق الحدث لانہ لایکون طھارۃ الا الی وجدان الماء فاذا وُجد فُقد فقد عاد محدثا والمحدث  غیر جنب اذا وجد وَضوء فلاشک فی وجوب الوضوء علیہ الاتری الی ماقدمت فی الدلیل الخامس عن البدائع یتوضأبہ لان ھذا محدث ولیس بجنب ۱؎
اس پر چند باتیں کہی جاسکتی ہیں اوّلاً کہاں یہ کہاں وہ! وہاں اسے تیمم جنابت سے پہلے آب وضو دستیاب تھا تو وہاں وضو واجب کرنا ایسے جنب پر وضو واجب کرنا تھا جسے غسل کا پانی دستیاب نہیں اور وہ خلاف مذہب ہے لیکن یہاں اسے جنابت کا تیمم کرلینے کے بعد پانی ملا ہے اور فرض یہ کیا گیا ہے کہ وہ پانی لُمعہ کے لئے کافی نہیں اس لئے اس کا تیمم جنابت برقرار ہے تو دوبارہ وہ جنابت والا نہ ہوا۔ اور وضو پر قدرت کی وجہ سے حق حدث میں اس کا تیمم ٹوٹ گیا کیونکہ تیمم پانی کی دست یابی تک ہی طہارت ہوتا ہے جب وہ دستیاب ہوگیا یہ مفقود ہوگیا۔ تووہ پھر محدث ہوگیا۔ اور محدث  غیر جنب کو جب وضو کا پانی مل جائے تو اس پر وضو واجب ہونے میں کوئی شک نہیں وہ عبارت دیکھئے جو دلیل پنجم میں بدائع کے حوالہ سے پیش ہُوئی: ''اس سے وضو کرے گا کیونکہ یہ محدث ہے اور جنب نہیں ہے''۔
 (۱؎ بدائع الصنائع    شرائط رکن التیمم    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۵۱)
وعن الدر صار محدثا لاجُنبا فیتوضأ ۱؎۔
اور درمختار کے حوالہ سے یہ ''محدث ہوا جنابت والا نہیں تو اسے وضو کرنا ہے''۔
 (۱؎ الدرالمختار مع الشامی        باب التیمم        مصطفی البابی مصر        ۱/۱۸۶)
Flag Counter