قول قرہ باغی: شاید چلپی نے یہ سمجھ کر اس تکلف کا ارتکاب کیا ہے کہ دونوں حدث کسی شخص میں ابتداءً جمع نہیں ہوتے۔(ت)
اقول:من(۴) این لکم ھذا وانمافعلہ لان ذا الحدثین لایتوضأ اذا لم یکف الماء لغسلہ۔
اقول:آپ کو یہ کہاں سے پتا چلا انہوں نے وہ تاویل اس لئے اختیار کی ہے کہ غسل کےلئے پانی ناکافی ہونے کی صورت میں دونوں حدث والے کو وضو نہیں کرنا ہے۔
قولہ: اما اذاوجد فلابدمن الوضوء ثم التیمم للجنابۃ۔
قول قرہ باغی:لیکن جب وضو کےلئے بقدر کفایت پانی مل جائے تو وضو کرنا ضروری ہے پھر جنابت کےلئے تیمم کرنا ہے۔(ت)
اقول:ھذا(۱) ھو مذھب الشافعی لاسیما بلفظۃ ثم فان فیہ ایجاب اعدام الماء وان قل قبل التیمم ولایقول بہ حنفی قط۔
اقول:یہی امام شافعی کا مذہب ہے خصوصاً لفظ ثمّ (پھر) کے ساتھ۔کیونکہ اس میں یہ واجب کرنا ہے کہ پانی اگرچہ کم ہی ہو تیمم سے پہلے اسے ختم کرلینا ہے۔کوئی حنفی کبھی اس کا قائل نہ ہوگا۔
قولہ: والعجب منہ انہ لم یلتفت۔
قول قرہ باغی:تعجب ہے کہ انہوں نے اس طرف التفات نہ کیا۔(ت)
اقول:مبنی(۲) علی ماتصور ولامتصور
اقول:قرہ باغی نے خود جو تصور کیا اسی پر اس کی بنیاد ہے حقیقت میں وہ متصور ہی نہیں۔
قولہ :بعد تسلیم جمیع المقدمات ۔
قول محشی مذکور: تمام مقدمات تسلیم کرلینے کے بعد۔
اقول:ماتلک(۳) المنوع المطو یات فان المقدمات عند الحنفیۃ من البدیھیات۔
اقول:وہ منع کیا ہیں جو آپ نے تہ کردئے حنفیہ کے نزدیک تو سارے مقدمات بدیہیات سے ہیں۔
قولہ یجوز اجتماع العلل الشرعیۃ علی معلول واحد۔
قولہ ایک معلول پر متعدد علل شرعیہ کا اجتماع ہوسکتا ہے۔
اقول:کما(۴) لایمتنع اجتماع علل علی معلول کذٰلک لایمتنع ارتفاع علل برافع واحد کالتی(۵) انقطع حیضھا ثم احتلمت ثم التقی الختانان ثم انزلت فقد اجتمعت علیھا اربع علل وترفع جمیعا بغسل اوتیمم واحد فاذاکان لہ حدثان اصغر و اکبر ولم یجد ماء للغسل فلابد لہ ان یتیمم وتیممہ لکونہ عن جنابۃ مطھر لجمیع البدن ومن البدن اعضاء الوضوء فقط طھرھا ورفع الحدثین کمااذا اغتسل فلیس ھذا التیمم الا قائما مقام الغسل فکما یرتفعان بہ فکذا بنائبہ ولم یعرف من الشرع تیمم یطرؤ علی حدثین فیرفع احدھما ویذر الاٰخر والا لزم لہ اما تیمم اٰخر وھو باطل حتی عند الشافعیۃ کما قدمناہ اوالماء وھو الجمع بین البدل والمبدل الباطل باجماع الحنفیۃ فبلج الحق والحمدللّٰہ ربّ العٰلمین۔
اقول:جیسے ایک معلول پر چند علتوں کا اجتماع ممتنع نہیں ایسے ہی ایک رافع سے چند علتوں کا ارتفاع بھی ممتنع نہیں۔جیسے وہ عورت جس کا حیض منقطع ہوا پھر اسے احتلام ہوا پھر التقائے ختانین ہُوا(قربت ہوئی) پھر انزال ہوا اس پر چار علتوں کا اجتماع ہوا اور ایک ہی غسل یا تیمم سے چاروں مرتفع ہوجائےگی۔تو جب کسی کو دو۲حدث ہوں ایک اصغر ایک اکبر۔اور اسے غسل کےلئے پانی نہ ملے تو ضروری ہے کہ تیمم کرے۔اس کا تیمم چونکہ جنابت سے ہوگا اس لئے تمام بدن کو پاک کردے گا۔اعضائے وضو بھی بدن ہی کا حصّہ ہیں تو انہیں بھی تیمم نے پاک کرد یا اور اکبر و اصغر دونوں حدث رفع کردئے۔جیسے غسل کی صورت میں ہوتا ہے اور یہ تیمم غسل ہی کے قائم مقام ہے تو جیسے غسل سے دونوں حدث مرتفع ہوجاتے ہیں ویسے ہی اس کے نائب سے بھی مرتفع ہوجائیں گے۔شریعت میں ایسے کسی تیمم کا نشان نہیں ملتا جو دو حدثوں پر طاری ہو مگر ایک کو ختم کرے دوسرے کو چھوڑ دے۔اگر ایسا ہوتا تو اس پر یا تو ایک دُوسرا تیمم بھی لازم ہوتا اور یہ باطل ہے یہاں تک کہ شافعیہ کے نزدیک بھی، جیسا کہ ہم نے پہلے بیان کیا یا پانی (استعمال کرنا) بھی لازم ہوتا اور یہ بدل اور اصل دونوں کو جمع کرنا ہے جو باجماع حنفیہ باطل ہے تو حق روشن ہوگیا اور ساری خوبیاں سارے جہانوں کے مالک خدا کےلئے ہیں۔(ت)
فان قلت القیاس علی الغسل مع فارق وذلک لان ذا الحدثین اذا اغتسل فقد اتی بما امربہ فی کل من الحدثین وھو اسالۃ الماء علی تلک الاعضاء وکذلک اذاتیمم فاقدا للماء اما اذاوجد وضوءً فبالتیمم انما یکون اٰتیا بما امر بہ للحدث الاکبر لا بما امر بہ للاصغر لانہ قادر فیہ علی الاصل فکیف یصیر الی البدل وبالجملۃ شرط التیمم العجز عن الماء وقدعجز فی الحدث الاکبر دون الاصغر فکان التیمم مجزئا عن ذلک لا عن ھذا فافترق الحدثان بقاء وارتفاعا۔
اگر سوال ہو کہ غسل پر قیاس،قیاس مع الفارق ہے اس لئے کہ دونوں حدث والے نے جب غسل کیا تو وہ سب بجالا یا جس کا دونوں حدثوں میں سے ہر ایک میں اسے حکم د یا گیا وہ ہے ان اعضا پر پانی بہانا (جو غسل سے پُورا ہوگیا)یہی حال اس وقت ہے جب پانی نہ ہونے کی صورت میں تیمم کیا۔لیکن جب آبِ وضو موجود ہو توتیمم سے صرف اس کی بجاآوری کرنے والا ہوگا جس کا حدثِ اکبر سے متعلق اسے حکم ہوا۔اس کی بجاآوری کرنے والا نہ ہوگا جس کا حدث اصغر سے متعلق اسے حکم ہوا۔اس لئے کہ اس میں یہ اصل پر قادر ہے تو بدل کی طرف کیسے منتقل ہوسکتا ہے؟ مختصر یہ کہ تیمم کی شرط پانی سے عاجز ہونا ہے اور اس کا عجز حدثِ اکبر میں تو ہے حدثِ اصغر میں نہیں تو تیمم صرف اس سے کفایت کرنے والا ہوگا اس سے نہ ہوگا اس طرح دونوں حدث بقا اور ارتفاع میں جُدا جُدا ہوجائیں گے (ایک ختم ہوگا ایک باقی رہ جائے گا) (ت)
اقول: ھذا لوکان کل منھما مستبدا بحیالہ ولیس کذلک فلیس الحدث الااعتبارا شرعیا لاٰثار معلومۃ کمنع الصلاۃ وقد انطوی الاکبر علی جمیع اٰثار الاصغر فکلما منعہ الاصغر منعہ الاکبر بالاولی ولاعکس وارتفاع شیئ یوجب زوال جمیع اثارہ وقدسلمتم ارتفاع الاکبر بھذا التیمم فیجب ارتفاع کل اٰثارہ ومنھا منع الصلاۃ فلزم اباحتھا ولاتباح قط مع حدث فثبت ان ھذا التیمم رفع کل حدث طرأعلیہ۔
اقول:یہ اس وقت ہوتا جب دونوں حدثوں میں سے ہر ایک کو مستقل حیثیت حاصل ہوتی۔اور ایسا نہیں اس لئے کہ حدث کچھ معلوم آثار جیسے منع نماز و غیرہ کے شرعی اعتبار ہی کا نام ہے اور حدث اکبر حدث اصغر کے تمام اثرات پر مشتمل ہے تو اصغر جس سے مانع ہوگا اس سے اکبر بدرجہ اولٰی مانع ہوگا۔ اس کے برعکس نہیں۔اور کسی چیز کا ختم ہوجانا اسے لازم کرتا ہے کہ اس کے جتنے بھی اثرات ہوں سبھی زائل ہوجائیں آپ کو تسلیم ہے کہ اس تیمم سے حدث اکبر مرتفع ہوگیا تو ضروری ہے کہ اس کے سارے اثرات بھی اُٹھ جائیں ان ہی میں منع نماز بھی ہے تو لازم ہوگا کہ نماز مباح ہو۔اور نماز کسی حدث کے ساتھ کبھی مباح نہیں ہوتی۔تو ثابت ہوا کہ اس تیمم نے ہر وہ حدث دُور کرد یا جو اس پر طاری ہُوا۔(ت)
فان قلت ارتفاع شیئ انما یوجب زوال اٰثارہ من حیث ھی اٰثارہ ولاینافیہ بقاء بعضھا لمؤثر اٰخر کمن توضأ وفی فخذہ نجاسۃ مانعۃ فلاشک ان قد صح وضوءہ و زال المنع الذی کان من قبلہ مع ان المنع لاجل النجاسۃ بحالہ کذا ھنا ھما حدثان قام احدھما باعضاء الوضوء والاٰخر عم ظاھر البدن طرأ ففیھا مانعیتان وفی سائر الجسد مانعیۃ واحدۃ فاذا تیمم وھو واجد لماء الوضوء زالت من اعضاء الوضوء المانعیۃ الکبری لصحۃ مزیلھا بوجود شرطہ وھو العجز عن الماء الکافی للغسل وبقیت الصغری لان المزیل لاصحۃ لہ بالنسبۃ الیھا لفقد شرطہ بالقدرۃ علی الماء الکافی للوضوء وبہ ظھر انہ لیس کاللتی وصفت انھا حاضت واحتلمت وجومعت وامنت وکفاھا غسل او تیمم واحد وکذا من احدث مرارا یکفیہ وضوء واحد وذلک لان المزیل لیس فاقد الشرط بالنظر الی شیئ منھا فازالھا جمیعا بخلاف مانحن فیہ وبہ اتضح الفرق بین ھذا وبین من لیس لہ الا الجنابۃ فانہ ان وجد وضوء لایتوضؤ لازالۃ المانع یۃ القائمۃ باعضاء الوضوء فانھا لیست الا الکبری وھی لا تتجزی بخلاف الصورۃ الاولٰی وبہ تبین ان لیس فیہ الجمع بین البدلین بل توزیعھما علٰی شیئین کمن صرف الماء الی غسل النجس وتیمم للحدث بل کمن اطعم عن یمین وصام عن اخری وبہ استبان انہ لیس عبثا ولااضاعۃ ولا الاشتغال بہ سفھا ولیس کماقالوا من بقاء الحدث کماھو بل زال احدھما۔
اگر یہ سوال ہو کہ کسی چیز کا مرتفع ہونا اس کے اثرات دُور ہونے کو واجب کرتا ہے تو اسی حیثیت سے کہ وہ اس چیز کے اثرات ہیں۔اب ان میں کچھ اثرات کسی دوسرے مؤثر کی وجہ سے باقی رہ جائیں تو یہ اُس کے منافی نہیں۔مثلاً کسی نے وضو کیا اور اس کی ران پر اتنی نجاست ہے جو جوازِ نماز سے مانع ہے۔تو اس میں شک نہیں کہ اس کا وضو صحیح ہے اور اس کی جانب سے جو رکاوٹ تھی وہ دُور ہوگئی باوجودیکہ نجاست کی وجہ سے رکاوٹ اب بھی برقرار ہے اسی طرح یہاں وہ دو۲حدث ہیں ایک تو اعضائے وضو پر لگا ہوا ہے دوسرا پورے ظاہر بدن کو شامل ہے تو اعضاءِ وضو کے اندر دو۲ ممانعتیں ہیں اور باقی سارے جسم میں ایک ممانعت (مانعیت) ہے جب آب وضوء موجود ہونے کی حالت میں اس نے تیمم کیا تو اعضاء وضو سے مانعیت کبرٰی دُور ہوگئی کیونکہ اسے دُور کرنیوالا امر اپنی شرط غسل کےلئے کفایت کرنیوالے پانی سے عجز کے پائے جانے کی وجہ سے صحیح ودرست ہے۔اور مانعیت صغرٰی رہ گئی کیونکہ اس کی بہ نسبت جو دُور کرنے والا امر تھا وہ صحیح ودرست نہیں اس لئے کہ اس کی شرط مفقود ہے کیوں کہ وضو کےلئے کافی پانی پر قدرت موجود ہے۔اسی سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ اس کا معاملہ اس عورت کی طرح نہیں جس کی حالت بیان ہوئی کہ اس میں انقطاع حیض، احتلام، جماع، انزال چار اسباب جمع ہوئے اور ایک ہی غسل یا تیمم کافی ہوگیا۔اسی طرح وہ شخص جسے بار بار حدث ہُوا ہو اسے ایک ہی وضو کافی ہے اس لئے کہ ان میں کی بہ نسبت جو دُور کرنے والا امر ہے وہ فقدان شرط کا شکار نہیں اس لئے اس نے سبھی کو دُور کرد یا بخلاف اس صورت کے جو ہمارے ز یربحث ہے اسی سے اِس شخص میں (جسے دونوں حدث ہیں) اور اس میں جسے صرف جنابت ہے واضح فرق ہوگیاکہ وہ اگر آبِ وضو پائے تو اعضائے وضو سے لگی ہُوئی مانعیت زائل کرنے کےلئے اسے وضو نہیں کرنا ہے اس لئے کہ وہاں تو صرف مانعیت کبرٰی ہے اور یہ متجزّی نہیں،برخلاف پہلی صورت کے اسی سے یہ بھی عیاں ہُوا کہ دونوں بدل جمع کرنا نہیں بلکہ دو۲ چیزوں پر دونوں کو تقسیم کرنا ہے۔جیسے وہ شخص جو پانی نجس کے دھونے میں صرف کرے اور حدث کےلئے تیمم کرے۔بلکہ جیسے وہ جو ایک قسم کے کفارے میں کھانا کھلائے اور دوسری کے کفارے میں روزہ رکھے۔اور اسی سے یہ بھی منکشف ہوگیا کہ یہ نہ عبث ہے نہ پانی کی بربادی، نہ اس میں مشغولی کوئی نادانی وبے وقوفی اور لوگوں نے جو کہا کہ حدث جیسے تھا ویسے ہی رہ گیا۔یہ بات بھی نہیں بلکہ ایک حدث زائل ہوگیا۔(ت)
اقول:مااَمۡتَنَہ من کلام لولا ان فیہ ذھولا عن حدیث منع الاستبداد عــہ فانک جعلتھما شیئین مستقلین عند الاجتماع مع ان المتقرر فی الشرع ان(۱) المتجانسین اذا اجتمعا ولم یختلف مقصودھما تداخلا
اقول:کیا ہی متیں کلام ہے اگر اس میں منع استقلال کی بات سے ذہول نہ ہوتا۔آپ نے دونوں کو بوقتِ اجتماع دو مستقل چیز بناد یا جبکہ شریعت میں مقرر و ثابت یہ ہے کہ دوہم جنس جب یکجا ہوں اور ان کا مقصود مختلف نہ ہو تو ایک دوسرے میں داخل ہوجائیں گے۔
عــہ ذکرہ علی سبیل الجدل ای لانسلم ان الحدث الاصغر عند اجتماعہ بالاکبر یستبد فی امر الطھارۃ بحکم لِمَ لایندمج فیہ فیطھر بطھارتہ ولایکون الحکم الا للاکبر وذلک لان من یحکم بوجوب الوضوء لہ مدع فیکفینا المنع وعلیہ الدلیل والا فامر الاندماج متیقن لاشبھۃ فیہ ۱۲ منہ غفرلہ (م)
اسے بطور جدل ذکر کیا ہے یعنی ہم نہیں مانتے کہ حدث اصغر حدثِ اکبر کے ساتھ یک جائی کی صورت میں طہارت سے متعلق کوئی مستقل حکم رکھتا ہے۔ایسا کیوں نہ ہو کہ اکبر میں داخل ہوکر اس کی طہارت سے یہ بھی طہارت پائے اور حکم صرف اکبر کو حاصل ہو یہ طرزِ کلام اس لئے کہ جو شخص اس کےلئے وجوبِ وضو کا حکم کرتا ہے وہ مدعی ہے تو ہمارے لئے منع کافی ہے اور اس کے ذمہ دلیل ہے ورنہ اصغر کے اکبر میں دخول وانضمام کا معاملہ تو یقینی ہے جس میں کوئی شُبہ نہیں ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
وقداعترفت بہ فی التی وصفت وفیمن احدث مرارا کان ھنالک التداخل مع المساواۃ فان الکل فی رتبۃ واحدۃ فکیف واحدھما اکبر واقوی ومن کل وجہ یتضمن الاخری فالمحل جزء من المحل والمطھر بعض من المطھر والمقصود شقص من المقصود فکیف لایلزم اندماج الصغری فی الکبری وان یکون الحکم لھا فی امرالطھارۃ لاللصغری فان(۱) التابع(۱) لایفرد بحکم ویسقط(۲) اذا سقط المتبوع والشیئ(۳) اذابطل بطل مافی ضمنہ والمتضمن(۴)عــہ بالفتح لاتراعی لہ شروطہ بل شروط متضمنۃ کل ذلک من القواعد الشرعیۃ الاتری ان المذی لایطھر عن ثوب ولابدن بفرک ولایظھر لہ حکم مع المنی فیطھربہ ویظھربہ الجواب عن توارد العلل ھذا ماسمح بہ الجنان÷ تشحیذ الاذھان÷ وحسبنا فی الحکم ماقدمنا من دلالاتھم وتصریحاتھم واللّٰہ المستعان وباللّٰہ التوفیق واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
آپ نے اس کا اعتراف بھی کیا ہے اس عورت کے بارے میں جس کی حالت بیان ہوئی ہے اور اس شخص کے بارے میں جسے چند بار حدث ہوا ہو۔وہاں باوجود مساوات کے تداخل ہوگیا۔مساوات اس لئے کہ وہ سب ایک ہی درجہ میں ہیں۔پھر اس وقت کیوں نہ ہوگا جبکہ ایک اکبر و اقوی اور ہر جہت سے دوسرے کو متضمن بھی ہو دیکھئے کہ ایک کا محل طہارت دوسرے کے محلِ طہارت کا جُز ہے۔ اور مطہر، مطہر کا بعض ہے اور مقصود، مقصود کا حصّہ ہے۔ تو کیسے لازم نہ ہوگا کہ صغرٰی، کبرٰی میں داخل ہوجائے اور امرطہارت میں حکم اسی کبرٰی کو حاصل ہو صغرٰی کو نہیں۔اس لئے کہ تابع کا کوئی الگ حکم نہیں ہوتا۔اور متبوع ساقط ہو تو وہ بھی ساقط ہوجاتا ہے اور شیئ جب باطل ہوتی ہے تو وہ بھی باطل ہوجاتا ہے جو اس کے ضمن میں ہو۔اور متضمَّن(بالفتح)کےلئے اس کی شرطوں کی رعایت نہیں ہوتی بلکہ اس کے متضمِّن کی شرطوں کی رعایت کی جاتی ہے۔یہ سب شرعی قواعد ہیں۔دیک ھئے کہ مذی رگڑنے کے ذریعہ نہ کپڑے سے پاک ہوتی ہے نہ بدن سے اور وہی منی کے ساتھ ہو تو اس کا کوئی حکم ظاہر نہیں ہوتا رگڑنے سے پاک ہوجاتی ہے۔ اسی سے توارد علل کا جواب بھی ظاہر ہے یہ وہ ہے جو کچھ اذہان کو صیقل کرنے کےلئے خاطر کا فیضان ہُوا۔اور حکم سے متعلق تو ہمارے لئے وہ دلالت وتصریحات کافی ہیں جو حضرات فقہاء سے ہم نے پیش کیں۔اور خدا ہی مستعان ہے اور خدائے بزرگ وبرتر ہی خوب جاننے والا ہے۔(ت)
عــہ کما(۶) فی اعتق عبدک عنی بالف لماکان البیع فیہ ضمن یا لم یشترط فیہ الایجاب والقبول لعدم اشتراطھما فی العتق ولایثبت فیہ خیار الرؤ یۃ والعیب ولایشترط کونہ مقدور التسلیم ش عن الرحمتی اوائل النکاح ۱۲ منہ غفرلہ (م)
جیسے اعتق عبدک عنی بالف (اپنا غلام میری طرف سے ہزار روپے میں آزاد کردو) اس میں چونکہ بیع ضمنی ہے اس لئے اس بیع میں ایجاب وقبول کی شرط نہ ہوئی کیونکہ آزادی میں ان دونوں کی شرط نہیں اور اس میں خیار رؤیت اور خیار عیب بھی ثابت نہیں ہوتا اور نہ یہ شرط ہے کہ مولٰی وہ غلام اس کے قبضے میں دینے پر قادر ہو شامی عن الرحمتی، اوائل النکاح ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
الافادۃ۱۱: الاٰن حصحص الحق وکشف قناعۃ÷وظھر ان المسلک مسلک التاویل والتأویل مستأویل الجماعۃ÷ بیدان ھھنا شبھات خطرت فخشیت ان تعتری قاصرا مثل فیحتاج الی الجواب فاجبت الاسعاف با یرادھا÷ وابانۃ سقوطھا وفسادھا ÷ وباللّٰہ التوفیق۔
افادہ ۱۱:اب حق صاف ظاہر ہوگیا اور اپنے چہرے سے پردہ ہٹاد یا اور واضح ہوگیا کہ مسلک وہی مسلک تاویل ہے اور تاویل وہی تاویل جماعت ہے۔لیکن یہاں دل میں چند شبہات گزرے تو اندیشہ ہوا کہ ایسے ہی کسی قاصر کو درپیش ہوں تو اسے جواب کی ضرورت ہوگی تو میں نے چاہا کہ ان شبہات کو لاکر اور ان کے سقوط وفساد کو واضح کرکے اس کی حاجت روائی کردوں اور اللہ ہی سے توفیق ہے (ت)
الشبھۃ الاولٰی: ان الامام صدر الشریعۃ یقول اغتسل(۱) الجنب ولم یصل الماء لمعۃ ظھرہ وفنی الماء واحدث حدثا یوجب الوضوء فتیمم لھما ثم وجد(۱) من الماء مایکفیھما بطل تیممہ فی حق کل منھما وان(۲) لم یکف لاحدھما بقی فی حقھما وان(۳) کفی لاحدھما بعینہ غسلہ ویبقی التیمم فی حق الاٰخر وان(۴) کفی لکل منفرد اغسل اللمعۃ ۱؎ ۔۔الخ شُبہ
: امام صدر الشریعۃ فرماتے ہیں: ''جنب نے غسل کیا پانی اس کی پےٹھ کی ایک جگہ تک نہ پہنچا اور ختم ہوگیا۔اور کوئی ایسا حدث ہوا جو وضو واجب کرتا ہے تو اس نے دونوں کےلئے تیمم کیا پھر(۱) اسے اتنا پانی مل گیا جو دونوں کےلئے کافی ہوتو اس کا تیمم دونوں میں سے ہر ایک کے حق میں باطل ہوگیا۔اور(۲) اگر کسی ایک کےلئے ناکافی ہو تو دونوں کے حق میں باقی رہے گا۔ اور(۳) اگر معین طور پر ایک کےلئے کافی ہو تو اسے دھوئے اور دوسرے کے حق میں تیمم باقی رہے گا اور اگر(۴) تنہا ہر ایک کےلئے کافی ہو تو لُمعہ (غسل میں چھُوٹی ہُوئی جگہ) دھوئے الخ۔
(۱؎ شرح الوقا یۃ باب التیمم المکتبۃ الرشیدیہ دہلی ۱/۱۰۴)