Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۴(کتاب الطہارۃ)
43 - 2323
واقول: بل لوکان فرض المسألۃ وجدان الماء بعد التیمم لم یستقم الکلام ایضا اما علی مسلک التعویل فظاھر لان الصورۃ الاخیرۃ فیہ اجتماع الحدثین فاذا وجد اوعدم الماء وتیمم کان عنھما بالوفاق لا عن الجنابۃ خاصۃ عند احد من الفریقین اما مذھبنا فمعلوم واما مذھب السادۃ الشافعیۃ فقال الامام ابن حجر المکی الشافعی فی فتاواہ الکبری من علیہ جنابۃ وحدث اصغر یکفیہ لھما تیمم واحد وھذا واضح جلی لان التیمم عن الحدث الاصغر وعن الاکبر حقیقتھما ومعناھما وصورتھما ومقصودھما واحد فلایتخیل منع الاندراج ولانہ یلزم علی الامر بتیمّمین متوالیین مایشبہ العبث لانہ اذاتیمم اولا لاستباحۃ الصلاۃ استباحھا بہ فایجاب الثانی عبث لا فائدۃ فیہ ۱؎ اھ ھذا فی الابتداء ۔
واقول:اگر مسئلہ کی صورتِ مفروضہ یہ ہوتی کہ تیمم کے بعد پانی پاجائے تو بھی بات نہ بنتی۔ مسلک اعتماد پر تو ظاہر ہے۔ اس لئے کہ اس میں صورت اخیرہ یہ ہے کہ دونوں حدث جمع ہوں تو وہ پانی پائے اور تیمم کرے  یا نہ پائے اور تیمم کرے بہرتقد یر تیمم دونوں ہی حدث سے ہوگا۔ کسی بھی فریق کے نزدیک  خاص جنابت سے نہ ہوگا۔ اس بارے میں ہمارا مذہب تو معلوم ہی ہے۔ حضرات شافعیہ کا مذہب ملاحظہ ہو۔ امام ابن حجر مکی شافعی اپنے فتاوٰی کبرٰی میں رقم طراز ہیں: ''جس پر جنابت اور حدث اصغر دونوں ہیں اسے دونوں کےلئے ایک  ہی تیمم کافی ہے۔ اور یہ روشن و واضح ہے اس لئے کہ تیمم حدثِ اصغر اور تیمم حدثِ اکبر دونوں کی حقیقت، دونوں کا معنی، دونوں کی صورت اور دونوں کا مقصود ایک  ہی ہے تو یہ خیال نہیں ہونا چاہئے کہ ایک  دوسرے میں مندرج نہیں ہوسکتا۔ اور ایک  دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ اگر پَے درپے دو تیمم کا حکم د یا جائے تو ایک  بیکار وعبث سا کام کرنا لازم آئے گا کیوں کہ جب اس نے پہلی بار اباحت نماز حاصل کرنے کےلئے تیمم کرلیا تو اس سے جوازِ نماز حاصل کرلیا پھر دوسرا تیمم واجب کرنا عبث ہے جس میں کوئی فائدہ نہیں'' اھ یہ حکم ابتدا کا ہُوا۔
 (۱؎ فتاوٰی کبرٰی لابن حجر مکی ،   باب التیمم ، مطبوعہ دار الکتب العلم یۃ بیروت  ، ۱/۷۰)
وان ارید البقاء ای ان بعد وجدانہ یبقی للجنابۃ بالاتفاق فباطل اذیبطل عندہ رأسا بوجدان ماء مامطلقا لفقدان شرطہ واما علی مسلک التاویل والصورۃ الاخیرۃ فیہ الحدث بعد التیمم فان ارید بقاء کماافصح بہ الشرنبلالی فظاھر البطلان کمامر اٰنفا  غیر انہ رحمہ اللّٰہ تعالٰی لم یذیلہ بالاتفاق فسلم بخلاف ذلک عــہ الذی قال فالتیمم باق اتفاقا فانہ وقع فی خطأ مظلم÷ وان ارید ابتداءً فنعم ھو متفق علیہ کونہ اذ ذاک للجنابۃ خاصۃ لعدم الحدث حینئذ لکن لفظۃ بالاتفاق تقع عبثا و موھمۃ غلط اما الاول فلانہ اذابطل عندہ بالوجدان فمافائدۃ وفاقہ البائن واما الاخیر فلان ذکرھا فی الصورۃ الاخیرۃ لاسیما بمقابلۃ الاختلاف المذکورفی الاولی یفید عدم الاتفاق فی الاولٰی ولیس کذلک لان فی الاولٰی ان لم یکن حدث کان للجنابۃ وحدھا بالاتفاق وانکان کان لھما بالوفاق انما الاختلاف ثمہ فی بقاء التیمم عندنا وانتقاضہ عندہ بوجدان ماء  غیر کاف وبالجملۃ قولہ بالاتفاق یجب صرفہ الی قولہ یجب کمافعل فی غا یۃ الحواشی نعما فعل۔
اگر بقا مراد ہو یعنی پانی کی دستیابی کے بعد تیمم بالاتفاق جنابت کےلئے باقی رہے گا تو یہ باطل ہے۔ کیونکہ امام شافعی کے نزدیک  کسی بھی آب مطلق کی دستیابی کے وقت تیمم سرے سے باطل ہے کیونکہ ان کے طور پر اس کی شرط (عدم ماءِ مطلق) ہی مفقود ہے اب رہا مسلک تاویل (بصورت مفروضہ بالا اس مسلک کی بنیاد پر بھی بات نہ بنے گی جس کی تفصیل یہ ہے ۱۲ م الف) اس میں صورت اخیرہ یہ ہے کہ حدث تیمم کے بعد ہو تو اگر بقاءً مراد ہو جیسا کہ شرنبلالی نے اسے  غیر مبہم طور پر کہا تو اس کا بطلان ظاہر ہے جس کی وجہ ابھی بیان ہُوئی ہاں علّامہ شرنبلالی نے یہ صورت لکھ کر اس کے بعد ''بالاتفاق'' نہ کہا اس لئے وہ سلامت رہے بخلاف اس قائل کے جس نے یہ لکھ د یا کہ ''تیمم باقی ہے اتفاقاً'' وہ تو تاریک  خطا میں پڑ گیا۔اور اگر ابتداءً مراد ہو تو وہاں یہ متفق علیہ ہے کہ وہ تیمم اس صورت میں خاص جنابت کےلئے ہوگا کیونکہ اس صورت میں حدث ہے ہی نہیں لیکن اس تقد یر پر لفظ ''بالاتفاق'' عبث اور ایک  غلطی کا وہم پیدا کرنے والا ٹھہرے گا عبث اس لئے کہ جب یہ تیمم امام شافعی کے نزدیک  پانی کی دستیابی کی وجہ سے باطل ہے تو ان کے اس اختلاف آمیز اتفاق سے فائدہ کیا؟ ابہام غلط اس لئے کہ یہ لفظ صورتِ اخیرہ میں خصوصاً صورتِ اولٰی میں ذکر شدہ اختلاف کے مقابل ذکر کرنے سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ صورتِ اُولٰی میں اتفاق نہیں حالانکہ معاملہ ایسا نہیں۔اس لئے کہ پہلی صورت میں بھی اگر حدث نہ ہو تو تیمم صرف جنابت ہی کےلئے ہوگا بالاتفاق اور اگر حدث بھی ہو تو دونوں ہی کےلئے ہوگا بلااختلاف وہاں اختلاف صرف اس بارے میں ہے کہ ہمارے نزدیک  تیمم باقی رہے گا اور ان کے نزدیک   غیر کافی پانی کی دست یابی سے ٹوٹ جائے گا۔بالجملہ لفظ ''بالاتفاق''کو ان کے قول ''یجب'' (وجوب وضو) کی جانب پھیرنا لازم ہے جیسا کہ غا یۃ الحواشی میں کیا اور خوب کیا۔(ت)
عــہ ھو اللکنوی المذکور ۱۲ (فاضل لکھنوی مذکور ۱۲۔ت)
اقول: وبہ ظھر اوّلاً انہ(۱)کان الانسب للدرر تقدیم قولہ بالاتفاق علی قولہ فالتیمم لانہ بصدد ایضاح کلامہ الصدر الامام وان یز]یح عنہ الاوھام۔
اقول:اس سے چند باتیں اور واضح ہوگئیں اوّلاً  دررالحکام میں لفظ ''بالاتفاق'' کو لفظ ''فالتیمم''سے پہلے رکھنا انسب تھا کیوں کہ صاحبِ درر اپنی اس عبارت سے صدر الشریعۃ کے کلام کو واضح کرنا اور اس سے اوہام دُور کرنا چاہتے ہیں۔
وثانیا(۲)ان صاحب غا یۃ الحواشی مع تصریحہ بتعلقہ بیجب لم یحسن فی ضمہ مع الجملۃ التالیۃ ایضا اذقال مع انہ تیمم للجنب اتفاقا ۱؎
ثانیا''یجب''سے لفظ مذکور کے تعلق کی صراحت کرنے کے باوجود صاحب غا یۃ الحواشی نے بھی اس لفظ کو بعد والے جملہ سے ملاکر اچھا نہ کیاانہوں نے اپنی عبارت میں یہ کہا: ''مع انہ تیمم للجنب اتفاقاً'' (تو وضو واجب ہے باوجودیکہ یہ جنب کا تیمم ہے اتفاقاً)
 (۱؎ السعا یۃ        باب التیمم        سہیل اکیڈمی لاہور        ۱/۴۹۰)
وثالثاً: بطلان(۱)الا  یراد الرابع المنقول فی السعا یۃ مع التقر یر ان کون التیمم للجنابۃ بالاتفاق مشترک بین الصورتین فانہ لیس لشیئ اصلا عندالامام الشافعی فی کلا الوجھین۔
ثالثا: چوتھا اعتراض جو سعایہ میں اس تقر یر کے ساتھ منقول ہے کہ ''تیمم کا بالاتفاق جنابت کےلئے ہونا دونوں ہی صورتوں میں مشترک ہے''(یہ اعتراض و تقر یر) باطل ہے اس لئے کہ دونوں صورتوں میں یہ تیمم امام شافعی کے نزدیک  کسی چیز کےلئے نہیں۔
فان استعفی عن لفظۃ بالاتفاق واقتصر علی ان کونہ للجنابۃ مشترک بین الصورتین لااختصاص لہ بھذہ الصورۃ اندرج فی الایراد السابق علیہ وسیاتیک  الجواب عنہ بعونہ تعالٰی۔
اب اگر لفظ ''بالاتفاق'' سے دستبردار ہوکر صرف یہ کہیں کہ ''تیمم کا جنابت کےلئے ہونا دونوں ہی صورتوں میں مشترک ہے اسی صورت کے ساتھ اسے کوئی اختصاص نہیں'' تو یہ بات اسی اعتراض میں شامل ہوجائے گی جو اس سے پہلے ان پر کیا۔اور بعونہٖ تعالٰی اس کا جواب عنقریب سامنے آرہا ہے۔(ت)
الافادۃ۸ :نختار ان الفاء للتفریع کمامشی علیہ العلامۃ الشرنبلالی وغا یۃ الحواشی وقول(۲) السعا یۃ لامحصل لہ لامحصل لہ لان کون ھذا التیمم للجنابۃ خاصۃ لم ینشأ الا من وجوب الوضوء للحدث اذ لولم یجب لکان التیمم لھما معا لاستحالۃ ان تجوز صلاۃ مع الحدث فلابدان یعتبر التیمم المذکور رافعا لہ اودافعاوان کان الاخیر لیس لہ فی الشرع نظیر فاستلزام محال محالا  غیر محال۔
افادہ ۸: ہم یہ اخت یار کرتے ہیں کہ ف تفریع کےلئے ہے جیسا کہ اسی راہ پر علّامہ شرنبلالی اور غا یۃ الحواشی کے روش ہے۔اور سعایہ کا اسے لاحاصل بتانا خود لاحاصل ہے۔وجہ یہ ہے کہ اس تیمم کا خاص جنابت کےلئے ہونا اسی امر سے پیدا ہوا کہ حدث کےلئے وضو واجب ہے، اس لئے کہ اگریہ وجوب نہ ہوتا تو تیمم حدث وجنابت دونوں ہی کےلئے ہوتا کیونکہ حدث کے ساتھ کسی نماز کا جواز محال ہے تو یہ ماننا ضروری ہے کہ تیمم مذکور اسے رفع کرنے والا ہے  یا دفع کرنے والا ہے اگر اخیر ہو تو شرع میں اس کی کوئی نظیر نہیں تو ایک  محال کا دوسرے محال کو مستلزم ہونا کوئی محال نہیں۔(ت)
الافادۃ۹: نختار انھا للتعلیل وزعم(۱) السعا یۃ اشتراک العلۃ مردود اما علی مسلک التاویل مع اجتماع الحدثین فی الصورۃ الاولٰی فظاھر لان التیمم طرأ علیھما فرفعھما معا فکیف یختص بالجنابۃ واما علیہ مع انفراد الجنابۃ فی الصورۃ الاولٰی وعلی مسلک التعویل فاختصاص(۲) شیئ بشیئ تارۃ یکون لانحصار الوجود فیہ واخری لتفردہ بہ من بین مشارکاتہ فی الوجود ومعلوم بداھۃ ان ھذا ھو المراد ھنا فانہ اذا وجد حدث ولم یقع التیمم الاعن الجنابۃ لم یغن عن الحدث ووجب الوضوء بخلاف مااذا لم یکن حدث فلای شیئ یجب وھذا الوجہ من الاختصاص  غیر مشترک فظھر ان الفاء تحمل الوجہین فقصر(۳)الشرنبلالی وغا یۃ الحواشی علی احدھما وقع وفاقا لاداعی الیہ بل التعلیل ھو(۴) الاظھر الازھر فان کون التیمم لخصوص الجنابۃ  غیر مقصود ھنا بالافادۃ واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
افادہ ۹: ہم یہ اختیار کرتے ہیں کہ فاتعلیل کےلئے ہے اور سعایہ کا یہ خیال کہ ''علت مشترک ہے'' غلط ہے یہ مسلک تاویل پر جبکہ پہلی صورت میں دونوں حدث جمع ہوں ظاہر ہے اس لئے کہ تیمم نے دونوں حدثوں پر طاری ہوکہ دونوں ہی کو رفع کیا تو وہ جنابت کے ساتھ خاص کیسے ہوگا؟ اور مسلک تاویل پر جب کہ پہلی صورت میں جنابت بلاحدث ہو اور مسلک اعتماد پر وجہ یہ ہے کہ ایک  چیز کا دوسری چیز کے ساتھ خاص ہونا کبھی اس لئے ہوتا ہے کہ اس کا وجود اسی میں منحصر ہے اور کبھی اس لئے ہوتا ہے کہ یہ اس کے مشارکات فی الوجود کے درمیان اسی کے ساتھ متفرد ہے۔ اور بداہۃً معلوم ہے کہ یہاں پر یہی مراد ہے اس لئے کہ جب کوئی حدث پا یا جائے اور تیمم صرف جنابت کا واقع ہو تو حدث کا کچھ کام نہ کرسکا اور وضو واجب ہوا بخلاف اس صورت کے جبکہ کوئی حدث پا یا جائے اور تیمم صرف جنابت کا واقع ہو تو حدث کا کچھ کام نہ کرسکا اور وضو واجب ہوا بخلاف اس صورت کے جبکہ کوئی حدث موجود ہی نہ ہو پھر کس چیز کےلئے وضو واجب ہوگا۔ یہ وجہ اختصاص مشترک نہیں۔ اس بیان سے ظاہر ہوا کہ فا میں تفریع وتعلیل دونوں ہی احتمال جاری ہیں۔ تو شرنبلالی اور غا یۃ الحواشی کا صرف ایک  ہی کو ذکر کرنا محض اتفاقاً واقع ہوا اس کا کوئی داعی نہیں ہے بلکہ احتمال تعلیل ہی ز یادہ ظاہر وروشن ہے۔ اس لئے کہ یہاں یہ بتانا مقصود نہیں کہ تیمم خاص جنابت ہی کےلئے ہے۔ اور خدائے برتر ہی خوب جاننے والا ہے۔ (ت)
الافادۃ۱۰: تبین الجواب الصواب بحمد الجلیل÷ عن الاسئلۃ الخمسۃ کلھا علی مسلک التاویل÷ وعن  غیر الخامس علی مسلک التعویل÷ وظھر ان اقواھا السؤال الاخیر الجلیل÷و ھو الذی دعا العلماء الی الانکار اوالتاویل÷ وان السؤال الاول لیس باشکال÷ بل سریع الانحلال÷ وکذا الثانی کشفہ رخیص÷ ان لم یمزج بالخامس العو یص÷ اما الثالث والرابع الذان اٰتت بھما السعا یۃ÷ فانھما واھیان الی الغا یۃ÷وبقاء الخامس علی مسلک التعویل ھو الذی نادی علیہ بالرحیل÷ لمصادمتہ الدلائل القاھرۃ÷ والنصوص الزاھرۃ÷ ولم ار من یختارہ و یرتضیہ الا القرہ باغی فی الحاشیۃ ولم  یات اصلا بشیئ یغنیہ÷فقولہ تکلّف بعید الاخذ من العبارۃ۔
افادہ ۱۰:بحمد رب جلیل مسلک تاویل پر پانچوں اعتراضات کا جواب اور مسلک اعتماد پر پنجم کے سوا باقی سب کا جواب واضح ہوگیااور یہ بھی ظاہر ہوا کہ سب سے قوی اعتراض پانچواں ہے یہی علماء کے لئے انکار وتاویل کا باعث بنا۔اور پہلا اعتراض کوئی مشکل نہیں بلکہ بہت جلد حل ہوجاتا ہے اسی طرح دوسرے کا جواب بھی آسان ہے اگر پانچویں مشکل سوال کے ساتھ اس کو نہ ملا یا جائے __رہا تیسرا اور چوتھا جن کو سعایہ نے پیش کیا تو یہ انتہائی کمزور ہیں مسلک اعتماد پر پانچویں اعتراض کا باقی رہ جانا یہی وہ امر ہے جو اس کےلئے کوچ کا اعلان کررہا ہے کیونکہ وہ قاہر دلائل اور روشن نصوص سے متصادم ہے۔میں نے قرہ باغی محشی کے سوا کسی ایسے کو نہ  دیکھا جس نے اس مسلک کو اختیار وپسند کیا ہو۔ اور قرہ باغی قطعاً کوئی کام کی بات نہ لاسکے۔(اب ان کے خیال اور عبارت کا تھوڑا تجزیہ ملاحظہ ہو ۱۲ م الف) قول قرہ باغی: چلپی کا کلام سراسر تکلف ہے عبارت سے یہ معنی ماخوذ ہونا بہت بعید ہے۔(ت)
اقول: نعم(۱) لمازاد چلپی من حدیث اللمعۃ ارجا عالہ الی ما یاتی عن الشارح والافلیس فیہ الااخذ مع بمعنی بعد ولیس فیہ بُعد فقد فی الکتاب العزیز۔
اقول:ہاں اس لئے کہ انہوں نے حضرت شارح کے کلام آئندہ کی طرف راجع کرنے کی غرض سے لمعہ کی بات بڑھادی ورنہ اس تاویل میں اس کے سوا کچھ نہیں کہ مع کو بعد کے معنی میں لیا ہے، اور اس میں کوئی بُعد نہیں یہ تو قرآن عزیز میں بھی ہوا ہے(فان مع العسر یسرا)۔
قولہ: یلزم التکرار۔
قول قرہ باغی: تکرار لازم آتی ہے۔
اقول:اولا(۱): فکان ما ذا اذا ذکر ضابطۃ تشمل فروعا ثم بعد حین اورد فرعا منھا لتبین حکم یعد تکرار فاذا لم یقبح مع تقدم ذکرہ فی الضابطۃ کیف  یقبح ولم تذکر بعد۔
اقول:  اوّلاً:تکرار لازم آتی ہے تو کیا ہوگا۔جب کوئی ایسا ضابطہ بیان کیا جائے جو بہت سی جزئیات کو شامل ہو پھر کچھ آگے کسی حکم کو واضح کرنے کےلئے ان میں سے کوئی جزئیہ لا یا جائے تو اسے تکرار شمار کیا جائے گا؟ جب یہ ضابطہ کے تحت پہلے مذکور ہونے کے باوجود بُرا نہیں تو یہ کیسے قبیح ہوگاجبکہ مسئلہ ابھی تک بیان نہ ہوا۔(ت)
وثانیا: لو(۲) تتبعت ماوقع (۳) لھم و للشارح الامام من تکرر عــہ الافادات لاعیاک طلبھا۔
ثانیا: اگر اس کی تلاش اور چھان بین ہوکہ حضرات علماء اور خود شارح امام سے افادات کی تکرار کس قدر ہوئی ہے تو تھک کر بیٹھ جانا پڑے گا
عــہ:  وھذا سید الائمۃ محرر المذھب محمد رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ قدکرر المسائل فی کتبہ قال الامام شمس الائمۃ السرخسی رحمہ اللّٰہ تعالٰی فی المبسوط فرغ نفسہ لتصنیف مافرعہ ابوحنیفۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ محمد بن الحسن الشیبانی رحمہ اللّٰہ تعالٰی فانہ جمع المبسوط لترغیب المتعلمین والتیسیر علیھم ببسط الالفاظ وتکرار المسائل فی الکتب لیحفظوھا شاؤا  ا وابوا ۱ ؂اھ ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)

اور یہ ہیں ائمہ کے سردار محرر المذہب امام محمد رحمہ اللہ تعالٰی کہ آپ نے مسائل کو اپنی کتب میں تکرار کے ساتھ بیان کیا ہے۔امام شمس الائمہ اپنی مبسوط میں فرماتے ہیں کہ محمد بن الحسن الشیبانی رحمہ اللہ تعالٰی نے فروعاتِ امامِ اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے لئے خود کو وقف کررکھا تھا پس انہوں نے متعلمین کے شوق اور آسانی کو ملحوظ رکھتے ہوئے کتاب مبسوط کو جمع فرما یا جس میں الفاظ کو وسعت اور مسائل کو تکرار کے ساتھ بیان کیا تاکہ متعلمین جنہیں چاہیں محفوظ کرلیں  یا جنہیں نہ چاہیں نہ کریں ۱۲ منہ غفرلہ(ت)
 (۱؂ مبسوط سرخسی ،خطبۃ الکتاب ، دار المعرفہ ،بیروت ۳/۱  )
Flag Counter