امارداللکنوی علیہ فاقول:نداء من بعید÷ وقول من لم یصل الی العنقود÷ رسخ ببالہ کمااشار الیہ فی مسألۃ المباشرۃ مرتین وافصح عنہ قبلہ وفی عمدۃ الرعا یۃ ان الحدث الاصغر لازم للاکبر فان کل ماینتقض بہ الغسل ینتقض بہ الوضوء ۱؎ اھ۔
اب رہی مولانا لکھنوی کی تردید۔ فاقول: دُور کی پکار ہے اور اس کی بات جو خوشہ تک نہ پہنچ سکا ان کے دل میں یہ راسخ ہوگیا جیسا کہ مسئلہ مباشرت میں دو۲ بار اشارہ کیا اور اس سے پہلے واضح طور سے کہا اور عمدۃ الرعا یۃ میں لکھا کہ حدثِ اصغر، حدثِ اکبر کےلئے لازم ہے کیونکہ ہر وہ چیز جس سے غسل ٹوٹتا ہے اس سے وضو بھی ٹوٹ جاتا ہے اھ۔
(۱؎ عمدۃ الرعا یۃ مع شرح الوقا یۃ باب التیمم المکتبۃ الرشیدیہ دہلی ۱/۹۵)
وھو اولا(۱) بُعد عن فھم المرام÷ وخروج عمافیہ الکلام÷ فان البحث فی انفکاک الاکبر عن الاصغر ای ھل توجد جنابۃ بلاحدث اصغر وکل احد(۲) یعلم ان الاصغر لایقال الاعلی مایوجب الوضوء فقط فھو مأخوذ بشرط لافیباین الاکبر صدقا کیف ولاملحظ لوصفہ بالاصغر یۃ الاھذا ولوکان لابشرط شیئ لصح ان یقال ان الجنابۃ وانقطاع الحیض والنفاس حدث اصغر ولایقبلہ الاذوجہل اکبر فاذا تباینا صدقا استحال ان یوجد بنفس وجودہ بل لابدلہ من وجود مایوجبہ عینا فھذا معنی قولہ لم یوجد ناقض الوضوء کمااشرنا الی ذلک علی الھامش۔لم یوجد ناقض الوضوء
اوّلاً: یہ فہم مقصد سے دُوری اور جس بارے میں کلام ہے اس سے علیحدگی ہے کیونکہ بحث حدث اکبر کے حدث اصغر سے جدا ہونے میں ہے۔ یعنی کیا کوئی جنابت حدث اصغر کے بغیر پائی جاتی ہے؟ اور ہر ایک جانتا ہے کہ اصغر اسی کو کہا جاتا ہے جو صرف وضو واجب کرے۔ تو یہ شرطِ نفی کے ساتھ (بشرط لا) لیا گیا ہے (یعنی وضو واجب کرے غسل نہ واجب کرے ۱۲ م الف) تو صدق میں اکبر کے مباین ہوگا، کیوں نہ ہو جبکہ اصغریت سے اس کا اتصاف کے لحاظ کی صورت یہی ہے۔ اور یہ اگر لابشرط شیئ ہوتا تو یہ کہنا صحیح ہوتا کہ جنابت اور انقطاعِ حیض ونفاس حدث اصغر ہیں اور اسے کوئی جہل اکبر والا ہی قبول کرسکتا ہے۔ تو جب دونوں صدق میں ایک دوسرے کے مباین ہیں تو محال ہے کہ اصغر کا وجود اکبر ہی کے وجود سے ہوجائے بلکہ اس کےلئے اس کا وجود ضروری ہے جو معین طور پر اسے لازم کرے تو برجندی کے قول(ناقض وضو نہ پا یا گیا) کا یہی معنی ہے۔ جیسا کہ اس کی طرف ہم نے حاشیہ میں اشارہ کیا۔ (ت)
وثانیا(۱) : اللزوم باطل بماصورنا اٰنفا من جنب توضأ وقد(۲) سلمہ الرجل اذخص الصورتین الاخیرتین بالاعتراض ولم یمس الصورۃ الاولٰی فان کان یعلم ان فیھا جنابۃ ولاحدث فلم ھذہ الا یرادات وادعاء اللزوم وان کان لایعلمہ فلم ترکھا من الا یراد فقدعاد فیھا ایضا الحدث الاکبر وھو ینقض الغسل والوضوء کلیھما۔
ثانیا : اصغر کا لازم اکبر ہونا اس صورت سے باطل ہے جو ابھی ہم نے اوپر بیان کی۔ جنب نے وضو کیا اور مولانا لکھنوی نے بھی اس کو تسلیم کیا ہے اس لئے کہ انہوں نے صرف اخیر دو صورتوں پر اعتراض کیا اور پہلی صورت کو ہاتھ نہ لگا یا۔ اگر جانتے تھے کہ اس صورت میں جنابت ہے حدث نہیں تو یہ اعتراضات اور لزوم کا دعوٰی کیوں؟ اور اگر اسے نہیں جانتے تھے تو اس پر اعتراض کیوں ترک کیا اس میں بھی تو حدث اکبر لوٹ آ یاہے اور وہ غسل ووضو دونوں توڑدیتا ہے۔
وثالثا(۲): لایخفی مافی قولہ وان لم تحصل الجنابۃ فان الکلام علی قول الطرفین۔
ثالثا: ان کے قول ''اگرچہ جنابت نہ حاصل ہُوئی'' کی خامی پوشیدہ نہیں۔ اس لئے کہ کلام طرفین کے قول پر ہے۔
ورابعا(۳): ای محل لھذہ الوصل یۃ فماکان مقصود البرجندی ان الحدث لایوجد بلاجنابۃ بل ان الجنابۃ قدتوجد ولاحدث فکان الرد علیہ باثبات الحدث فی صورۃ جنابۃ یصورھا البرجندی للانفکاک لافی صورۃ عدم الجنابۃ حتی یقال قد وجد الحدث وان لم تحصل جنابۃ۔
رابعا: اس وصلیہ (اگرچہ) کا کون سا موقع ہے۔ برجندی کا مقصود یہ نہ تھا کہ حدث بلاجنابت نہیں پا یا جاتا بلکہ یہ تھا کہ کبھی جنابت بلاحدث ہوتی ہے۔ تو اس کا رَد یوں ہوتا کہ برجندی انفکاک ثابت کرنے کےلئے جو صورتِ جنابت پیش کررہے ہیں اس میں حدث بھی ثابت کیا جاتا، نہ کہ عدمِ جنابت کی صورت میں حدث کا اثبات ہو اور کہا جائے ''حدث پالیا گیا اگرچہ جنابت نہ حاصل ہوئی''۔ (ت)
تنبیہ(۴)= اقول:لربما یقول قائل لیس لموجب غسل قط ان یوجب الوضوء فضلا عن اللزوم وذلک لان من ارکان الوضوء المسح ولایوجبہ موجب الغسل ومالایوجب الجزء لایوجب الکل۔
تنبیہ=اقول: شاید کوئی یہ کہے کہ کوئی بھی موجبِ غسل کبھی وضو واجب نہیں کرسکتا اور یہ تو دُور کی بات ہے کہ ہر موجبِ غسل موجبِ وضو بھی ہے۔سبب یہ ہے کہ ارکانِ وضو میں مسح بھی ہے۔ موجب غسل مسح واجب نہیں کرتا اور جو جز واجب نہ کرے وہ کُل بھی واجب نہ کرے گا۔
وحلہ کمااقول:معنی(۱) المسح الواجب فی الوضوء اصابۃ بلۃ ولوفی ضمن اسالۃ لامایبانھا والالما تأدی بغسل الراس واصابۃ المطر والانغماس وھو باطل قطعا قال فی الفتح والحلیۃ والبحر و غیرھا الاٰلۃ لم تقصد الاللایصال الی المحل فاذا اصابہ من المطر قدر الفرض اجزاء ۱؎ اھ۔
اس کا حل وہ ہے جو میں بیان کرتا ہوں (اقول) وضو میں جو مسح واجب ہے اس کا معنی ہے تری پہنچانا اگرچہ پانی بہانے ہی کے ضمن میں ہو۔ اس کا معنٰی وہ نہیں جو پانی بہانے کے مباین ہو ورنہ یہ (فرض مسح) سر کو دھونے، بارش پہنچنے، اور غوطہ کھانے سے ادا نہ ہوتا۔ اور یہ قطعاً باطل ہے۔ فتح القد یر، حلیہ اور بحر و غیرہا میں ہے: ''ذریعہ وآلہ صرف محل تک پہنچانے کےلئے مقصود ہے۔ تو اگر مقدار فرض پر بارش کا پانی پہنچ جائے کافی ہے''۔
ولاشک ان موجب الغسل یوجب اصابۃ الرأس ببلۃ بالاسالۃ فقد اوجب جمیع اجزاء الوضوء وبالجملۃ مسح الرأس ماخوذ لابشرط شیئ فیتأدی بالغسل والحدث الاصغر ماخوذ بشرط لاشیئ فلایلزم الحدث الاکبر ھکذا ینبغی التحقیق واللّٰہ تعالٰی ولی التوفیق۔
اب اس میں شک نہیں کہ موجبِ غسل پانی بہانا واجب کرکے سر کو تری پہنچانا واجب کردیتا ہے تو اس نے تمام ہی اجزائے وضو واجب کردیے۔ بالجملہ مسح سرلا بشرط شیئ لیا گیا ہے تو وہ دھونے سے بھی ادا ہوجائےگا اور حدث اصغر بشرط لاشئی لیا گیا ہے تو وہ لازم حدث اکبر نہیں۔ اسی طرح تحقیق ہونی چاہئے اور خدا ہی مالک توفیق ہے۔ (ت)
الافادۃ ۲:لاشک ان ظاھر الکلام وجوب الوضوءعلی جنب معہ حدث اذاوجد مایکفی للوضوء فقط وھذا ھو مسلک التعویل الذی سلکہ القرۃ باغی ولاشک ان المراد حینئذ بالصورۃ الاولی التی حکم فیھا بعدم وجوب الوضوء عندنا خلافا للامام المطلبی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ جنابۃ لاحدث معھا کماصورناہ وعلی ھذا یکون معنی الکلام ان من لہ حدث واحد اصغر اواکبر وجد ماء لایکفی لطھرہ لایستعملہ عندنا خلافا للشافعی وھذا قولہ حتی اذاکان للجنب وقولہ واذاکان للمحدث امااذا اجتمع الحدثان وکفی الماء لاحدھما وجب صرفہ الیہ فان کان یکفی للوضوء یجب علیہ الوضوء وھذا قولہ اما اذاکان الخ ولاشک ان التناقض یندفع بھذا الوجہ بابین وجہ۔
افادہ ۲: اس میں شک نہیں کہ صدر الشریعۃ کا ظاہر کلام یہی ہے کہ وہ جنب جس کے ساتھ کوئی حدث بھی ہے اس پر وضو کرنا واجب ہے جبکہ اسے اتنا ہی پانی ملے جو صرف وضو کےلئے کفایت کرسکے یہی وہ مسلک اعتماد ہے جو فاضل قرہ باغی نے اخت یار کیا۔ اب پہلی صورت جس میں ہمارے نزدیک امام شافعی مطلبی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے برخلاف عدم وجوب وضو کا حکم کیا ہے بلاشبہہ اس سے مراد وہ صورت جنابت ہوگی جس کے ساتھ کوئی حدث نہ ہو جیسا کہ ہم نے اس کی شکل پیش کی ہے۔ اب معنی کلام یہ ہوجائےگا کہ جسے ایک ہی حدث ہے اصغر یا اکبر اس نے اتنا پانی پا یا جو اس کی طہارت کےلئے ناکافی ہے تو ہمارے نزدیک وہ اس پانی کو استعمال نہ کرے گا، بخلاف امام شافعی رحمہ اللہ تعالٰی کے یہ بات ان کی اس عبارت میں ہے: ''اذاکان للجنب ماء یکفی للوضوء لاللغسل ولایجب علیہ التوضی عندنا خلافا للشافعی'' اور اس عبارت میں بھی: ''واذا کان للمحدث ماء یکفی لغسل بعض اعضائہ فالخلاف ثابت ایضا '' (یعنی جب جنب کے پاس اتنا پانی ہو جو وضو کا کام دے سکے غسل کا نہیں تو وہ تیمم کرے اور اس پر ہمارے نزدیک بخلاف امام شافعی کے وضو کرنا واجب نہیں اور جب محدث کے پاس اتنا پانی ہو جس سے بعض ہی اعضاء کو دھوسکے اس صورت میں بھی خلاف ثابت ہے) لیکن جب دونوں حدث جمع ہوجائیں اور پانی ایک ہی کےلئے کفایت کرتا ہو تو اس میں اسے صرف کرنا ضروری ہے۔ اگر وضو کےلئے کفایت کررہا ہے تو اس پر وضو واجب ہے یہ بات صدر الشریعۃ کی اس عبارت میں ہے: '' اما اذاکان مع الجنابۃ حدث یوجب الوضوء یجب علیہ الوضوء (جب جنابت کے ساتھ کوئی ایسا حدث بھی ہو جو وضو واجب کرتا ہے تو اس پر وضو واجب ہے) اس میں شک نہیں کہ اس توجیہ سے بھی تناقض بہت روشن وواضح طور پر دُور ہوجاتا ہے۔ (ت)
ومانقلہ اللکنوی من الرد علیہ ان کیف اوجب الشافعی الوضوء بلاحدث فاقول ھو(۱) رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ یوجب استعمال القدر المقدور مطلقا سواء کان محدثا اوجنبا معہ حدث اولا فاذاقدر الجنب علی الوضوء وجب وان لم یکن محدثا۔
اس پر مولانا لکھنوی نے جو رَد نقل کیا کہ ''امام شافعی نے بغیر حدث کے وضو کیسے واجب کرد یا''۔ تو اس پر میں کہتا ہوں (فاقول) امام شافعی رضی اللہ تعالٰی عنہ مطلقاً صرف یہ واجب کرتے ہیں کہ جس قدر پانی استعمال کرنے کی قدرت ہو اتنا استعمال کرے۔ خواہ محدث ہو یا ایسا جنب جس کے ساتھ حدث ہو یا ایسا جس کے ساتھ حدث نہ ہو۔ تو جب جنابت والے کو وضو کی قدرت ہو اس پر وضو واجب ہوگا اگرچہ وہ محدث نہ ہو۔ (ت)
افادہ ۳: وہ تاویل جو غا یۃ الحواشی میں اختیار کی اور مولانا لکھنوی نے جس کی پیروی کی اب اس پر کلام کیا جاتا ہے۔
فاقول اولا(۲): لاشک انہ ابعد تاویل÷ ولوساغ مثل الحذف بلادلیل÷ لاستقام کثیر من الاباطیل÷
فاقول۔ اوّلاً: اس میں شک نہیں کہ یہ سب سے بعید تاویل ہے۔ اگر بغیر کسی دلیل کے حذف جیسی چیز روا ہو تو بہت سی اباطیل درست ہوجائیں گی۔
وثانیا: الحدث(۳) المقارن للتیمم یبطلہ فلایبقی لہ ولاللجنابۃ فکیف قال فالتیمم للجنابۃ فلم ینفعہ تقد یر المضاف۔
ثانیا: وہ حدث جو تیمم کے مقارن ہو اسے باطل کردے گا اب یہ نہ حدث کا رہ جائے گا نہ جنابت کا پھر یہ کیسے کہا: ''فالتیمم للجنابۃ'' (تو تیمم جنابت کا ہے) تو مضاف مقدر ماننا کام نہ آ یا۔
الّاان یراد بالتیمّم کونہ متیمما ولایکون متیمّما الا اذاتم التیمم و یراد بالمع یۃ اتصال الزمانین المتعاقبین بلافصل ای اما اذاولی حدث تمام التیمم فیستفاد منہ تأخر الحدث منہ فبعد ھذہ التکلفات یؤل الامر الی ماسلک الجمھور ان مع بمعنی بعد فاین ھذا مما اختاروہ والعجب(۱) ان مؤلف السعا یۃ ردعلیھم ماسلکوہ مع مالہ من قرب عتید÷ وتبع ھذا علی تلک التجشمات مع مالھا من بعد بعید۔
مگر یہ کہ تیمم سے مراد لیا جائے اس کا متیمم ہونا۔ اور وہ متیمم اسی وقت ہوگا جب تیمم پورا ہوجائے۔ اور معیّت سے مراد ہویکے بعد دیگرے دو۲ وقتوں کا ایک دوسرے سے ملا ہوا ہونا۔ اب معنی یہ ہوگا : ''لیکن جب حدث تیمم مکمل ہونے کے متصلاً بعد ہو'' اس سے حدث کا متأخر ہونا مستفاد ہوگا اتنے سارے تکلّفات کے بعد مآل کا ر و ہی ہوگا جو جمہور نے اختیار کیا کہ ''مع'' بمعنی بعد ہے تو کہاں یہ اور کہاں وہ جو انہوں نے اختیار کیا تعجب ہے کہ مؤلف سعایہ نے مسلکِ جمہور کی تو تردید کی جبکہ وہ عبارت سے بہت قریب تھا۔ اور اس مسلک کا اتنے سارے تکلفات کے باوجود اتباع کیا جبکہ یہ سب بہت بعید ہیں۔
وثالثا(۲) : یرد علیہ بعد تلک التمحلات انہ لم قید باتصال الحدث بتمام التیمم فانہ ان تأخر عنہ ولوطویلا کان الحکم ھکذا قطعا۔
ثالثا: ان سارے تکلفات کے بعد بھی اس پر یہ اعتراض وارد ہوگا کہ تکمیل تیمم سے حدث کے متصل ہونے کی قید کیوں؟ اگر حدث اس سے بہت ز یادہ بعد میں ہو جب بھی تو حکم قطعاً اور یقینی یہی ہے۔
ورابعا: علی(۳) اللکنوی خاصۃ انہ لم یقتصر علیہ بل زاد فی الطنبور نغمۃ وفی الشطرنج بغلۃ فجوز علی حذف المضاف ان یکون مع بمعناہ فھدم لزوم البعد یۃ التی فیھا کان المنجأرأسا۔
رابعا: مولانا لکھنوی پر خاص طور سے یہ اعتراض بھی ہوگا کہ انہوں نے اسی پر اکتفا نہ کی بلکہ طنبور میں ایک نغمہ اور شطرنج میں ایک بغلہ اور بڑھا یا کہ حذف مضاف کے ساتھ یہ بھی جائز رکھا کہ ''مع'' اپنے معنی ہی میں رہے۔ اس طرح انہوں نے اس بعدیت کے لزوم کو بالکل ہی ڈھاد یا جس میں کچھ جائے پناہ تھی۔
الا ان یضاف لہ تکلف ثالث ان المراد بالمعیۃ البعد یۃ المتصلۃ وبالبعد یۃ البعد یۃ المنفصلۃ فیکون المعنی علی الاول اما اذا لحق التیمم حدث من فورتمامہ وعلی الثانی اما اذالحقہ حدث منفصلہ
برتقد یر اول معنٰی یہ ہوگا: لیکن جب تیمم کو کوئی حدث اس کے تام ہوتے ہی لاحق ہو اور برتقد یر ثانی یہ معنی متأخر عنہ بزمان وانت تعلم ان (۱) کلا القیدین ضائع۔
مگر یہ کہ اس کے لئے ایک تیسرا تکلّف بھی بڑھالیا جائے کہ معیت سے مراد بعدیت متصلہ، یا بعدیت سے مراد بعدیت منفصلہ ہوگا: لیکن جب اسے کوئی ایسا حدث لاحق ہو جو وقت میں اس سے کچھ متأخر ہو _ ناظر پر یہ بھی واضح ہے کہ دونوں ہی قید میں بیکار ہیں۔ (ت)
الافادۃ ۴: مادندن بہ اللکنوی علی الجماعۃ وتلخیصہ ان بعد یۃ الحدث عن الجنابۃ حاصلۃ اذاتأخر حدوثہ عنھا قبل التیمم فاٰل الاشکال کماکان یریدبہ انھم اخطؤا فی ترک ماارتکبہ ھو وغا یۃ الحواشی من تقد یر المضاف فان البعد یۃ عن الجنابۃ لاتغنی مالم یکن بعد التیمم۔
افادہ ۴: فاضل لکھنوی نے جماعت پر جو بے جا رد کیا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ حدث کا بعد جنابت ہونا اس صورت میں بھی حاصل ہے جب حدث جنابت کے بعد، تیمم سے پہلے پیدا ہو تو اشکال بدستور لوٹ آئے گا۔ مقصد یہ ہے کہ مضاف مقدر ماننے کا عمل جس کا انہوں نے اور غا یۃ الحواشی نے ارتکاب کیا جمہور نے اسے چھوڑ کر غلطی کی اس لئے کہ حدث کا بعد جنابت ہونا کچھ کارآ مد نہیں جب تک کہ بعد تیمم نہ ہو۔
فاقول:بل(۲)ھو الذی اخطأ وارتکب فی کلامھم ایضا تقد یر مضاف تسو یۃ للرد علیھم وذلک ان البعد یۃ زمانیۃ ولایجتمع فیھا القبل مع البعد والجنابۃ باق یۃ مالم ترتفع بغسل اوتیمم فان حدث حدث قبلہ فقد اجتمع مع الجنابۃ فلم یکن بعدھا بل معھا نعم کان بعد حدوثھا وماقالوہ بل المعترض ھو الذی اضاف ھذا المضاف الٰی کلامھم فثبت ان الحدث لایکون بعد الجنابۃ الا اذاحدث بعد زوالھا وھو ھھنا بالتیمم فتأخرہ عن التیمم مفاد نفس اللفظ ھکذا تفھم کلمات العلماء وللّٰہ الحمد فظھران احسن التاویلات تاویل الجماعۃ وانہ لاصحۃ لمزعومات غا یۃ الحواشی والسعا یۃ الا اذا ارجعت الیہ۔
اقول: بلکہ انہوں نے ہی خطا کی اور کلام جمہور میں بھی ایک زائد بات ماننے کا ارتکاب کیا تاکہ ان کی تردید کی راہ ہموار ہوسکے وہ یہ کہ بعدیت زمانی ہے جس میں قبل، بعد کے ساتھ مجتمع نہیں ہوتا۔ اور جنابت باقی ہے جب تک غسل یا تیمم سے دُور نہ ہو۔ تو اگر اس سے پہلے کوئی حدث پیدا ہوا تو وہ جنابت کے ساتھ جمع ہوگیا اس طرح اس کے بعد نہ ہوا بلکہ ساتھ ہُوا۔ ہاں اس کے حدوث کے بعد ہوا حالانکہ جمہور نے یہ نہ کہا بلکہ خود معترض ہی نے یہ مزید ان کے کلام میں ز یادہ کرد یا تو ثابت یہ ہوا کہ حدث بعد جنابت اُسی وقت ہوگا جب جنابت ختم ہونے کے بعد ہو۔ اور یہاں جنابت کا ختم ہونا تیمم سے ہے۔تو حدث کا تیمم سے متأخر ہونا خود اس لفظ ہی سے مستفاد ہے اسی طرح علماء کے کلمات سجھے جاتے ہیں۔ اور خدا ہی کےلئے حمد ہے۔ تو واضح ہوا کہ درست تاویلات میں سب سے بہتر تاویل، جماعت کی اختیار کردہ تاویل ہے اور یہ بھی واضح ہوا کہ غا یۃ الحواشی اور سعایہ کے مزعومات میں کوئی درستی وصحت نہیں مگر اسی وقت جبکہ وہ تاویل جماعت کی طرف راجع ہوں۔ (ت)
الافادۃ ۵:اذاعلمت ان لامحید الاالبعد یۃ فالمراد بالصورۃ الاولی ما اذالم یکن معھا حدث اوکان قبل التیمم فمعنی الکلام ان الجنب الفاقد الغسل فی کلا الوجھین ان وجد وضوء لایتوضأ بل یتیمم خلافا للشافعی اما اذاکان حدث بعد ماتیمم لھا فحینئذ یجب علیہ الوضوء وھذا کلام صحیح عین مامر عن شرح الطحاوی للامام الاسبیجابی و غیرہ وبہ انحلت الشبھۃ الخامسۃ ومعھا شبھۃ التناقض ایضاباصح وجہ واحسنہ۔
افادہ ۵: جب یہ معلوم ہوا کہ چارہ کار بعدیت ہی ہے۔ صورت اولٰی سے مراد وہ ہے جب جنابت کے ساتھ کوئی حدث نہ ہو یا تیمم سے پہلے ہو۔ تو معنی کلام یہ ہُوا کہ جنب جسے ان دونوں صورتوں میں آبِ غسل دست یاب نہیں اگر اسے آبِ وضو مل جائے تو وضو نہیں کرے گا بلکہ تیمم کرے گا، بخلاف امام شافعی کے لیکن جب کوئی حدث جنابت کا تیمم کرلینے کے بعد ہو تو اب اس پر وضو واجب ہے۔ یہ درست کلام ہے ٹھیک یہی بات امام اسبیجابی کی شرح طحاوی و غیرہ کے حوالہ سے گزری اسی سے پانچواں شبہہ حل ہوگیا اور اس کے ساتھ شبہہ تناقض بھی اصح واحسن طریقہ پر حل ہوگیا۔ (ت)
الافادۃ ۶: قولہ فالتیمم للجنابۃ لاشک ان اللام فیہ للعھد ای التیمم المذکور الصادر من جنب معہ وضوء لان فرض المسألۃ فیہ اوبدل عن المضاف الیہ ای تیمم الجنب المذکور فمن البدیھی بطلان کون للاستغراق اوالطبیعۃ وکذا اخذ المضاف الیہ مطلق الجنب فانہ ان ارید التخصیص ای تیمم کل جنب انما یکون للجنابۃ لا غیر فبطلانہ ظاھر حتی علی مسلک التعویل فان جنبا معہ حدث ولاماء یکون تیممہ للحدثین قطعا الاتری الی قول شرح الوقا یۃ نفسہ اذاکان بہ حدثان حدث یوجب الغسل کالجنابۃ وحدث یوجب الوضوء یکفی تیمم واحد عنھما ۱؎ اھ وان لم یرد کانت المقدمۃ القائلۃ ان کل جنب یتیمم للجنابۃ خال یۃ عن الافادۃ لانہ معلوم لکل احد ولایصلح تعلیلا ولاتفریعا وبہ استبان ان الامام فی قولہ للجنابۃ لام التخصیص فکان المعنی ان تیمم الجنب المذکور للجنابۃ خاصۃ۔
افادہ ۶: ان کی عبارت ''فالتیمم للجنابۃ'' میں لام بلاشبہہ لام عہد ہے یعنی تیمم مذکور جو ایسے جنب سے عمل میں آ یا جس کے پاس آبِ وضو ہے۔ اس لئے کہ مسئلہ اسی کے بارے میں فرض کیا گیا ہے یا یہ لام مضاف الیہ کے عوض ہے یعنی جب مذکور تیمم جب واقعہ یہ ہے تو بدیہی بات ہے کہ اس کا لام استغراق یا لام طبیعت وماہیت ہونا باطل ہے۔ اسی طرح مضاف الیہ مطلق جنب لینا بھی باطل ہے۔ اس لئے کہ اگر تخصیص مراد ہو یعنی ہر جنب کا تیمم صرف جنابت کےلئے ہوتا ہے اور کسی چیز کےلئے نہیں۔ تو اس کا بطلان ظاہر ہے یہاں تک کہ مسلک اعتماد پر بھی۔ کیونکہ وہ جنب جس کے ساتھ کوئی حدث بھی ہو اور پانی نہ ہو اس کا تیمم یقینا دونوں ہی حدث کےلئے ہوگا خود شرح وقایہ کی یہ عبارت دیکھئے: ''جب اسے دو۲حدث ہوں، ایک حدث غسل واجب کرتا ہے،جیسے جنابت اور ایک حدث وضو واجب کرتا ہے تو ایک ہی تیمم دونوں سے کافی ہے'' اھ اور اگر تخصیص نہ مراد ہو تو یہ مقدمہ کہ ''ہر جنب جنابت کا تیمم کرے گا'' غیر مفید ہوجائے گا کیونکہ یہ تو سبھی کو معلوم ہے اور نہ تعلیل بن سکے گی نہ تفریع۔ اسی سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ ''للجنابۃ'' میں لام، لام تخصیص ہے تو معنٰی یہ ہوگا کہ جنب مذکور کا تیمم خاص جنابت کےلئے ہے۔ (ت)
(۱؎ شرح الوقایہ باب التیمم المکتبۃ الرشید یۃ دہلی ۱/۹۹)
افادہ ۷: لفظ ''بالاتفاق'' کا تعلق تیمم کے جنابت کےلئے ہونے سے ہی ظاہر اور عبارت سے متبادر ہے اس لئے کہ سمجھ میں یہی آتا ہے کہ جس جملہ کے ذیل میں یہ لفظ رکھا گیا ہے اسی کی طرف راجع ہے۔
اقول: لکن لاصحۃ لہ اصلا لان فرض المسألۃ فی جنب لہ ماء یکفی للوضوء ووجود ماء مامطلقا وان قل وان لم یکف للوضوء ایضا مانع للتیمم مطلقا عند الامام المطلبی سواء کان المتیمم جنبا اومحدثا لانہ یحمل قولہ عزوجل فلم تجدُوْا ماءً علی الاستغراق مع الاطلاق فکیف یوافقنا فی شیئ من الصور علی کون تیمم جنب لہ بعض الماء للجنابۃ بل باطل عندہ لفقد شرطہ وھو عدم الماء مطلقا والباطل لایکون لشیئ اللّھم الا علی مسلک التعویل وجعل الفاء للتفریع،
اقول: لیکن یہ بالکل درست نہیں اس لئے کہ مسئلہ اس جنب کے بارے میں فرض کیا گیا ہے جس کے پاس وضو کےلئے آب کافی موجود ہے اور مطلقاً کسی بھی پانی کا موجود ہونا اگرچہ کم ہی ہو، اگرچہ وضو کےلئے بھی کافی نہ ہوامام شافعی کے نزدیک تیمم سے مطلقاً مانع ہے خواہ تیمم کرنے والا جنب ہو یا محدث وجہ یہ ہے کہ وہ ارشاد باری عزّوجل ''فلم تجدوا ماءً'' (پھر تم کوئی پانی نہ پاؤ) کو استغراق مع اطلاق پر محمول کرتے ہیں تو وہ ہمارے ساتھ کسی بھی صورت میں اس پر کیسے اتفاق کرسکتے ہیں کہ وہ جنب جس کے پاس کچھ پانی موجود ہے اس کا تیمم جنابت کےلئے ہوگا بلکہ ان کے نزدیک ایسے جنب کا تیمم ہی باطل ہے کیونکہ تیمم کی شرط مطلقاً پانی نہ ہونا ہی مفقود ہے۔ اور جو باطل ہو وہ کسی چیز کےلئے نہیں ہوسکتا ہاں اگر مسلک اعتماد لیا جائے اور ف کو تفریع کےلئے قرار د یا جائے،
وفرض التیمم بعد الوضوء لوقوعہ ح عند نفاد الماء ولامساغ لہ علی مسلک التاویل لان فیہ التیمم قبل الحدث فکیف یکون بعد الوضوء وکذا علی مسلک التعویل واخذ لان للتعلیل اذلامعنی لقولک یجب الوضوء لان التیمم ان وقع بعدہ یکون للجنابۃ بالاتفاق ومسلک التعویل نفسہ من الاباطیل فلاصحۃ لتعلقہ بمایلیہ وبہ(۱) استبان قلۃ فھم الذی عــہ زعم ان قولہ بالاتفاق متعلق بوجوب الوضوء اوبکون التیمم للجنابۃ ۱؎ اھ فخیربین الصحیح والباطل،
اور فرض کیا جائے کہ تیمم بعد وضو ہے تو معنی مذکور صحیح ہوسکتا ہے اس لئے کہ اس صورت میں تیمم اس وقت ہوگا جب پانی ختم ہوچکا ہو اور مسلک تاویل پر معنی مذکور کی گنجائش نہیں۔ اس لئے کہ اس میں تیمم قبل حدث ہوگا تو بعد وضو کیسے ہوسکے گا؟ اسی طرح جب مسلک اعتماد مان کر فابرائے تعلیل قرار دیں تو بھی معنی بالا صحیح نہیں بن سکتا۔ کیوں کہ اس تقد یر پر کلام یہ ٹھہرے گا کہ ''وضو کرنا واجب ہے اس لئے کہ تیمم اگر اس کے بعد ہوگا تو بالاتفاق جنابت کےلئے ہوگا'' یہ کلام ہی بے معنی ہے اور مسلک اعتماد خود باطل ہے تو جس عبارت کے بعد یہ لفظ ہے اس سے اس کا تعلق کسی طرح درست نہیں۔ اسی سے اس کی کم فہمی بھی عیاں ہوگئی، جس کا یہ خیال ہے کہ ''لفظ بالاتفاق یا تو وجوب وضو سے متعلق ہے یا تیمم کے جنابت کےلئے ہونے سے متعلق ہے'' اھ یہ کہہ کر صحیح اور باطل کے درمیان تخییر کی راہ اختیار کی۔
(۱؎ عمدۃ الرعا یۃ مع شرح الوقا یۃ ، باب التیمم، المکتبۃ الرشیدیہ دہلی ۱/۹۵ )
وقد(۲) اضطرب کلامہ فیہ فاقرفی سعایتہ تعیین تعلقہ بیجب وقال فی عمدۃ فی تقر یر الا یراد الرابع ان فی الصورۃ السابقۃ ایضا التیمم للجنابۃ اتفاقا ۲؎ اھ
اور اس بارے میں قائل مذکور کا کلام اضطراب وانتشار کا حامل ہے، جس کی تفصیل یہ ہے کہ (۱) سعایہ میں تو یہ صورت متعین رکھی کہ اس کا تعلق ''یجب'' (وجوبِ وضو) سے ہے (۲) اور عمدۃ الرعایہ میں اعتراض چہارم کی تقر یر میں یہ لکھا کہ ''سابقہ صورت میں بھی تیمم جنابت کےلئے ہے اتفاقا''اھ
(۲؎ عمدۃ الرعا یۃ مع شرح الوقا یۃ ، باب التیمم ، المکتبۃ الرشیدیہ دہلی ، ۱/۹۵ )
فجعلہ متعلقابمایلیہ ثم ذکر ھذا التخییر ثم قال متصلا بہ اویقال معناہ فالتیمم ثابت اوباق للجنابۃ اتفاقا ۱؎ اھ فعاد(۱) الی الباطل الصریح ولایدری مامعنی(۲) اوعطفا علی التخییر فان ھذا داخل فیہ الا ان یرید انہ مخیربین الحق والباطل اولاتخییر بل علی الباطل عینا۔ ھذا۔
اس میں اس لفظ کو اسی عبارت سے متعلق قرار د یا جس سے یہ متصل ہے (۳) پھر یہی تخییر والی بات ذکر کی (۴) پھر اسی سے متصل یہ لکھ د یا کہ '' یا یہ کہا جائے کہ اس کا معنٰی یہ ہے کہ پس تیمم جنابت کےلئے ثابت یا باقی ہے اتفاقاً اھ اس عبارت میں پھر باطل صریح کی طرف عود کیا قائل کو یہ پتا نہیں کہ تخییر پر عطف کرکے ''او'' کہنے کا کیا معنٰی ہوگا؟ یہ بھی تو اس میں داخل ہے۔مگر یہ مقصد ہوسکتا ہے کہ حق اور باطل دونوں کے درمیان تخییر دی جائے یا تخییر بالکل نہ ہو بلکہ ٹھیک باطل ہی متعین ہو یہ ذہن نشین رہے۔(ت)
(۱؎ عمدۃ الرعا یۃ مع شرح الوقا یۃ باب التیمم المکتبۃ الرشیدیہ دہلی ۱/۹۵)