Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۴(کتاب الطہارۃ)
41 - 2323
فھذا کل مارأیت لھم من القال والقیل÷ والنقض والتاویل÷ والانکار عــہ والتعویل÷
یہ وہ سب قیل وقال، تاویل اعتراض، اور انکار واعتماد ہے جو میری نظر سے گزرا۔
عــہ الانکار لعلامۃ البرجندی والتعویل للفاضل القرہ باغی والنقوض خمسۃ۔ (م) انکار علامہ برجندی نے کیا، اعتماد فاضل قرہ باغی نے، اور اعتراضات پانچ ہیں۔ (ت)
واعلم ان السعا یۃ لیست عندی وانما ارسل الی بعض اصحابی من لکھنؤ نقل نحو ورقۃ منھا متعلقۃ بھذا المقام علی طلبی لکی اری ماعندہ فیہ عسی ان نقل عن کتاب مافیہ غناء فقد کان جمع من الکتب اکثر مما عندی فلما طالعتہ لم ارہ فازبطائل÷ ولاجاز بنائل÷ وانما جمع القال والقیل÷ وتکلم علی زوائد بفارغ عن التحصیل÷ اوباغالیط واباطیل÷ ولم یھتد لکثیر من الابحاث الراقۃ÷ والانظار الفائقۃ÷ واذا اتی علی المقصود جرح الصحیح÷ واعتمد الجریح÷ کما ستعرف کل ذلک ان شاء اللّٰہ المستعان÷ والاٰن اٰن ان نفیض فی تحقیق المرام بتوفیق المنان÷
معلوم رہے کہ سعایہ میرے پاس نہیں میرے ایک  دوست نے اس مقام سے متعلق اس کے تقریباً ایک  ورق کی نقل میرے پاس بھیجی جو میں نے اس خیال سے طلب کی تھی کہ اس مقام سے متعلق محشی صاحب سعایہ نے جو کچھ تحر یر کیا ہے وہ دیکھ سکوں۔ ہوسکتا ہے اس میں کسی کتاب سے کوئی اطمینان بخش بات نقل کی ہو۔ کیونکہ ان کے پاس میرے یہاں سے ز یادہ کتابوں کا ذخیرہ تھا۔مطالعہ کیا تو معلوم ہوا کہ انہیں کوئی کام کی بات نہ ملی اور کوئی مفید کلام نہ لاسکے بس قیل وقال جمع کرد یا۔اور کچھ زائد باتوں پر ایسا کلام کیا ہے جو افادیت سے خالی  یا باطل وغلط ہے۔اور اس مقام سے متعلق بہت سی دلکش بحثوں اور بلند فکروں تک ان کی رسائی نہ ہوئی،اور مقصود پر آئے تو صحیح کو مجروح اور مجروح کو معتمد بناد یا۔جیسا کہ یہ سب اِن شاء اللہ معلوم ہوگا اب وقت آ یا کہ بہ توفیق رب منان تحقیق مطلوب کا آغاز کریں۔
اقول: وباللّٰہ الاستعانۃ ومنہ الفیض والاعانۃ÷ الکلام ھھنا فی ثمان یۃ مواضع دفع(۱) النقوض وتقر یر(۲)معنی الکلام علی مسلک التأویل والتعویل اعنی اجراء ہ وبیان(۳) معنی قولہ فالتیمم للجنابۃ وان(۴) قولہ بالاتفاق متعلق بھذا ام بقولہ یجب علیہ الوضوء وان (۵) الفاء فی قولہ فالتیمم للتفریع ام للتعلیل÷ وبیان(۶) الحسن والقبیح والباطل والصحیح من مسالک التاویل÷ وانہ(۷) ھل ثم شبھات ترد علی المرام÷وماکشفھا وحلھا بتوفیق العلام÷ وھل(۸) للکلام تاویل اٰخر÷ خیر مما ذکرو اظھر÷ وھا انا اعطیک  بحول اللّٰہ تعالٰی افادات تحیط بکل ذلک÷ وتسلم بک ان شاء اللّٰہ تعالٰی احسن المسالک÷وما توفیقی الّا باللّٰہ خیر مالک÷
اقول:(میں کہتا ہوں) اور خدا ہی سے مدد طلبی ہے اور اسی کی جانب سے فیض ومدد ہے یہاں پر کلام آٹھ مقامات میں ہے: (۱) اعتراضات کا جواب (۲) معنی کلام کی تقر یر مسلک تاویل پر بھی اور مسلک اعتماد پر بھی یعنی ظاہر پر جاری رکھتے ہوئے بھی (۳) کلام شارح''فالتیمم للجنابۃ''(تو تیمم جنابت کےلئے ہے)کا معنی (۴) ان کا قول ''بالاتفاق'' اسی سے متعلق ہے (۵) فالتیمم میں ''ف'' برائے تفریع ہے  یا برائے تعلیل (۶) تاویل کے طریقوں میں سے حسن وقبیح اور باطل وصحیح کا بیان (۷)کیا یہاں کچھ اعتراضات بھی ہیں جو مقصود پر وارد ہوتے ہیں۔ پھر خدائے علام کی توفیق سے ان کا حل اور جواب کیا ہے ؟ (۸) کلام کی جن تاویلوں کا ذکر اور اظہار ہوا کیا ان سے بہتر کوئی دوسری تاویل بھی ہے؟ اب میں بعون اللہ تعالٰی کچھ افادات پیش کرتا ہُوں جو ان سارے مقامات ومباحث کا احاطہ کرتے ہوئے ان شاء اللہ تعالٰی ناظرین کو بہترین راہ پر گامزن کریں گے۔ اور مجھے توفیق نہیں مگر خدائے برتر ہی سے جو بہتر مالک ومنعم ہے۔ (ت)
الافاد ۱:کفی بحمدہ عزوجل لحل الاشکال الاول ماقدمت من تصو یر جنب تیمم فاحدث فتوضأ فمر علی ماء کاف لغسلہ
﴿۱؎ وقدذکرہ البرجندی ایضا﴾
افادہ ۱: بحمد خدائے غالب وبزرگ اشکال اوّل کے حل کےلئے وہی تصو یر مسئلہ کافی ہے جو میں نے پہلے پیش کی کہ کسی جنابت والے نے تیمم کیا پھر اسے حدث ہوا تو اس نے وضو کیا پھر وہ اتنے پانی کے پاس گزرا جو اس کے غسل کےلئے کافی ہے۔ اسے علامہ برجندی نے بھی ذکر کیا ہے۔
 (۱؎ شرح النقایہ للبرجندی  باب التیمم   مطبع نولکشور لکھنؤ  ۱/۴۴)
اقول: فھذا جنب لیس معہ حدث یوجب الوضوء لان الوضوء(۱) طرأ علی اعضاء الوضوء فطھرھا مطلقا الی ان یطرأ حدث اٰخر اصغرا واکبر حتی انہ اذاوجد ماء للغسل لم یکن علیہ غسل ھذہ الاعضاء لماسیاتی فی الافادۃ الحاد یۃ عشرۃ ان الحدث الحال بالاعضاء متجزئ فاذارأی ماء الغسل لم تعد عــہ الجنابۃ الافیما وراء تلک الاعضاء÷فھذا جنب متوضئ بلامراء÷
اقول: تو یہ ایسا جنب ہے جس کے ساتھ کوئی ایسا حدث نہیں جو وضو واجب کرتا ہو۔ اس لئے کہ عملِ وضو اعضائے وضو پر طاری ہوا تو انہیں مطلقاً پاک کرد یا جب تک کہ کوئی دُوسرا حدث اصغر  یا اکبر طاری ہو۔ یہاں تک کہ جب اسے غسل کےلئے پانی ملے تو اس پر ان اعضاء کا دھونا لازم نہیں- اس کی وجہ افادہ ۱۱میں آرہی ہے کہ اعضاء میں حلول کرنے والے حدث کی تجزی ہوتی ہے تو جب اس نے غسل کا پانی  دیکھا جنابت ان اعضا کے ماسوا میں ہی عود کرے گی۔ ان اعضا میں نہیں تو یہ بلاشبہہ ایسا جنب ہے جو باوضو ہے۔ (ت)
عــہ قال العلامۃ الحلبی فی الغنیۃ من مسح الخفین اجنب وتیمم فاحدث وتوضأ ومربعد ذلک علی مایکفی للاغتسال فلم یغتسل فالرجل (ای بکسر الراء) بعد غسلھا اذذاک لاتعود جنابتھا برؤ یۃ الماء ولایلزم غسلھا مرۃ اخری لاجل تلک الجنابۃ ۱؂ اھ۔ علامہ حلبی نے غنیہ میں مسح خفین کے تحت لکھا ہے: ''کسی کو جنابت لاحق ہُوئی اور تیمم کیا پھر اسے حدث ہوا اور وضو کیا۔ اس کے بعد وہ اتنے پانی پر گزرا جو غسل کےلئے کافی ہے مگر غسل نہ کیا تو پیر جب پہلے اس وقت دھولیا تھا اب پانی دیکھنے سے اس میں جنابت عود نہ کرے گی اور اس جنابت کی وجہ سے اسے دوبارہ دھونا لازم نہ ہوگا'' اھ
 (۱؎ منیۃ المستملی    فصل فی المسح علی الخفین، سہیل اکیڈمی لاہور ،  ص/۱۰۹،۱۰۸)
ونقلہ فی المنحۃ واقر وانما خص القدم بالذکرلان الکلام فی نزع الخف وغسل الرجل وسائر اعضاء الوضوء کمثلھا وفی البدائع(۱) ینقض المسح نزع الخفین لانہ سری الحدث السابق الی القدمین ثم ان کان محدثا یتوضأ بکمالہ وان لم یکن محدثا یغسل قدمیہ لا غیر وللشافعی فی قول یستقبل الوضوء وجہہ ان الحدث حل ببعض اعضائہ والحدث لایتجزء فیتعدی الی الباقی ولنا ان الحدث السابق ھو الذی حل بقدمیہ وقدغسل بعدہ سائر الاعضاء وبقیت القدمان فقط فلایجب علیہ الاغسلھما ۲ ؎ اھ۔ملخصا ۱۲ منہ غفرلہ (م)
یہ کلام علامہ شامی نے بھی منحۃ الخالق میں نقل کیا اور برقرار رکھا خاص قدم ہی کو اس لئے ذکر کیا ہے کہ کلام موزہ نکالنے اور پیر دھونے کے بارے میں ہے (اِسی سے دیگراعضائے وضو کا حکم بھی معلوم ہوجاتا ہے کیوں کہ) دیگر اعضائے وضو بھی قدم ہی کے مثل ہیں بدائع میں ہے: ''موزوں کا نکالنا مسح کو توڑ دیتا ہے اس لئے کہ سابقہ حدث قدموں تک سرایت کر آ یا پھر اگر وہ محدث تھا تو پورا وضو کرے اور اگر محدث نہ تھا تو صرف قدموں کو دھوئے کُچھ اور نہیں۔ اور امام شافعی -کا ایک  قول یہ ہے کہ ازسرِنو وضو کرے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حدث اس کے بعض اعضاء میں حلول کر آ یا اور حدث کی تجزی نہیں ہوتی تو باقی اعضاء کی طرف بھی تجاوز کرجائے گا ہماری دلیل یہ ہے کہ حدث سابق وہی ہے جو اس کے قدموں پر آ یا دیگراعضاء کو تو اس حدث کے بعد دھو چکا ہے صرف دونوں قدم رہ گئے تھے تو اسے ان دونوں کو ہی دھونا واجب ہے ۱۲ منہ غفرلہ۔ (ت)
 (۲؎ بدائع الصنائع    نواقض المسح  ایم ایم سعید کمپنی،کراچی    ۱/۱۲)
وان اعتراک شبھۃ فیہ فاعتبرہ بجنب واجد للماء فان المسنون لہ ان یقدم الوضوء ولاشک انہ مادام فی بدنہ لمعۃ لم یصبھا الماء یبقی جنبا فھو حین ھو متوضئ جنب ولیس علیہ الاافاضۃ الماء علی سائر جسدہ فاذافعل فقد طھر ولایعید الوضوء اجماعا فالجنابۃ الحالۃ بماوراء اعضاء الوضوء اذالم تناف الوضوء حینئذ بل الوضوء ھو الذی نفاھا من تلک الاعضاء فکیف ینقض عودھا فی  غیر الاعضاء اذمالایمنع وجودہ الطھارۃ بدء لن ینقضھا حدوثہ بقاء وھذا اظھر من ان یظھر۔
اگر اس میں کوئی شبہہ درانداز ہو تو اس کا قیاس اس جنب پر کیجئے جسے پانی دستیاب ہے۔ اس کےلئے مسنون یہی ہے کہ پہلے وضو کرے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ جب تک اس کے بدن پر کوئی ایسی جگہ رہ جائے گی جس پر پانی نہ گزرا ہو، تووہ جنب باقی رہے گا۔ تو جس وقت وہ باوضوہے اس وقت بھی جنابت والا ہے اور اس کے ذمہ یہی کام ہے کہ بقیہ سارے جسم پر پانی بہالے۔ یہ کام کرلیا تو وہ بالکل پاک ہوگیا۔ اب بالاجماع اس کو دوبارہ وضو نہیں کرنا ہے۔ تو اعضائے وضو کے ماسوا میں حلول کرنے والی جنابت جب اس وقت وضو کے منافی نہ ہوئی- بلکہ وضو ہی نے تو اس جنابت کو ان اعضا سے دُور کیا- تو دیگراعضا میں اس جنابت کا عود کرنا اس وضو کا ناقض کیسے ہوگا؟جس چیز کا وجود ابتداءً مانع طہارت نہیں ہرگز اس کا حدوث بقاءً ناقضِ طہارت نہیں۔ یہ معنی اتنا روشن و واضح ہے کہ اظہار وبیان سے بے نیاز ہے۔
ونعنی بالمتوضئ طھارۃ اعضاء وضوءہ ونزاھتھا عن الحدثین لاالتوضئ الذی تجوزلہ الصلاۃ فان ذلک بزوال الحدث القائم بنفس المکلف لاباعضائہ وھو تلبسہ بنجاسۃ حکمیۃ فانہ لایزول مالم یطھر بدنہ کلہ کماقدمنا فی الطرس المعدل وھذا معنی قولھم ان الحدث لایتجزأ۔
اور باوضو سے ہماری مراد یہ ہے کہ اس کے اعضائے وضو پاک اور حدثِ اکبر واصغر سے خالی ہیں۔ وہ باوضو مراد نہیں جس کےلئے نماز جائز ہو یہ بات تو اس حدث کے دُور ہونے سے حاصل ہوگی جو مکلف کے اعضاء سے نہیں بلکہ اس کی ذات سے لگا ہوا ہے۔ وہ تو نجاست حکمیہ سے اس کے تلبس وآلودگی کا نام ہے۔ یہ حدث اُس وقت تک دُور نہ ہوگا جب تک اس کا پُورا بدن پاک نہ ہوجائے، جیسا کہ ہم ''الطرس المعدل'' میں اسے بیان کرچکے ہیں۔ حضرات علماء کے قول ''حدث متجزی نہیں ہوتا'' کا یہی معنٰی ہے۔ (ت)
اماتصو یر البرجندی علی قول محمد فاقول یبتنی علی ان ینتشر فیولج فینزع فیفترکل ھذا قبل ان یمذی والالم یفارق الاکبر الاصغر وھو وان ندر محتمل ویکفی للتصو یر الاحتمال۔
برجندی نے امام محمد کے قول پر جو صورت مسئلہ پیش کی (فاقول) اس پر میں کہتا ہوں یہ اس پر مبنی ہے کہ انتشار ہو پھر داخل کرکے نکال لے اس کے بعد سست پڑے۔ یہ سب مذی آنے سے قبل ہو ورنہ حدثِ اکبر حدثِ اصغر سے جُدا نہ پا یا جاسکے گا۔ یہ صورت اگرچہ نادر ہے مگر محتمل ہے اور صورت مسئلہ بتانے کےلئے احتمال کافی ہے۔ (ت)
ورد اللکنوی (۱) علیہ مردود بما یاتی اما تصو یرہ الاخیر علی قول الشیخین ای الطرفین وقولہ فیہ لم یوجد ناقض الوضوء۔
اس پر مولوی عبدالحی فرنگی محلی نے جو رَد کیا ہے وہ خود غلط ہے۔ اس کی تردید آرہی ہے لیکن شیخین یعنی- طرفین - کے قول پر تصو یر مسئلہ اور اس میں یہ کہنا کہ ناقضِ وضو نہ پا یا گیا ۔
فاقول:  بلی(۲) اذ الامناء لایخلو عن امذاء سواء کان عند الاستمناء اوالامناء ولذا استشکل الامام شمس الائمۃ الحلوانی طھارۃ المنی بالفرک لان(۳)کل فحل یمذی ثم یمنی واجاب بانہ مغلوب بالمنی مستھلک فیہ فیجعل تبعا قال المحقق فی الفتح وھذا ظاھر فانہ اذاکان الواقع انہ لایمنی حتی یمذی وقدطھرہ الشرع بالفرک  یابسایلزم انہ اعتبر ذلک للضرورۃ ۱؎ اھ۔
فاقول:(تو اس پر میں کہتا ہوں)کیوں نہیں منی نکلنا بغیر مذی نکلنے کے نہیں ہوتا خواہ نکالنے کے وقت ہو  یا خود سے نکلنے کے وقت۔ اسی لئے امام شمس الائمہ حلوانی نے رگڑنے سے منی کی طہارت ہونے کو مشکل سمجھا اس لیے کہ ہر نر کو پہلے مذی آتی ہے پھر منی آتی ہے۔ اور اشکال کا جواب یہ د یا کہ مذی منی سے مغلوب اس میں مستہلک ہوتی ہے اس لئے اسی کے تابع قرار دے دی جاتی ہے محقق علی الاطلاق نے فتح القد یر میں فرما یا: ''یہ ظاہر ہے اس لئے کہ جب واقعہ یہ ہے کہ بغیر مذی کے منی نہیں آتی اور شرع نے خشک ہونے کی حالت میں رگڑنے سے اس کو پاک قرار د یا تو لازم ہے کہ ضرورت کی وجہ سے اس کا اعتبار کیا''۔ اھ (ت)
 (۱؎ فتح القد یر ،تطہیر الانجاس ، مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ،  ۱/۱۷۴)
Flag Counter