(۱؎ ذخیرۃ العقبی باب التیمم مطبع اسلامیہ لاہور ۱/۱۶۷)
قولہ ''مع الجنابۃ حدث یوجب الوضوء''(جنابت کے ساتھ کوئی ایسا حدث ہے جو وضو واجب کرتا ہے)یعنی جب غسل کرلے اور اس کے کسی عضو میں کچھ جگہ چھُوٹ جائے اور پانی ختم ہوجائے تو جنابت کےلئے تیمم کرلے پھر اسے کوئی ایسا حدث ہو جو وضو واجب کرتا ہے اور اس حدث کےلئے اس نے تیمم نہ کیا پھر اسے اتنا پانی ملا جو وضو کےلئے کافی ہے، اس چھُوٹی ہوئی جگہ کےلئے نہیں، تو اس کا تیمم باقی ہے اور اسے وضو کرنا ہے اھ (ت)
عــہ۱: اعترضہ فی السعا یۃ بان تقر یرہ یحکم یکون مع بمعنی بعد و اذاحمل علیہ فتصو یرہ سھل لایحتاج الی حدیث اللمعۃ۲؎ اھ۔اقول:الاعتراض(۱) علی التصو یر کالمناقشۃ فی المثال فانہ لایضر بالمقصود ۱۲ منہ غفرلہ (م)
سعایہ میں اس پر یہ اعتراض کیا ہے کہ اس تقر یر کا حکم یہ ہے کہ مع بمعنی بعد ہو اور جب اس پر محمول کرلیا جائے تو اس کی تصو یر آسان ہے۔حدیث لمعہ (چھوٹی ہوئی جگہ کی بات) درمیان میں لانے کی ضرورت ہی نہیں اھ اقول:کسی مسئلہ کی صورت نکالنے پر اعتراض ایسا ہی ہے جیسے مثال میں مناقشہ کہ یہ مقصود کےلئے مضر نہیں ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
(۲؎ السعایہ شرح وقایہ باب التیمم سہیل اکیڈمی،لاہور ۱/۴۹۱ )
عــہ۲ اقول:ھذہ(۲) ز یادۃ ضائعۃ فلوتیمم للحدث لکان الحکم کذا وانما زادہ مراعاۃ للتصو یر الذی ذکر فیہ الشارح الامام اٰخر الباب مانقل عنہ وھو(۳) ایضا غیر محوج فان الشارح ذکر ایضا مااذا تیمم للجنابۃ ثم احدث فتیمم للحدث وقال فکذا فی الوجوہ المذکورۃ ومن وجوہ المشار الیھا قولہ وان کفی لاحدھما بعینہ غسلہ ویبقی التیمم فی حق الاخر ۱۲ منہ غفرلہ (م)
اقول:یہ بیکار کا اضافہ ہے-اگر وہ حدث کےلئے تیمم کرلے جب بھی حکم یہی ہوگا-اسے انہوں نے اس تصو یر کی رعایت میں بڑھاد یا جس میں یہ منقولہ جملہ شارح امام نے آخر باب میں ذکر فرما یا ہے حالانکہ اضافہ کی ضرورت نہیں کیونکہ شارح نے یہ ذکر کیا ہے لیکن جنابت کا تیمم کیا۔پھر حدث ہوا تو حدث کا تیمم کیا۔اور آگے فرما یا مذکورہ صورتوں میں بھی ایسا ہے،جن صورتوں کی طرف اشارہ فرما یا ہے ان میں یہ بھی ہے کہ اگر ان میں سے بعینہٖ کسی ایک پر کفایت کرنے والا ہو تو اسے دھوئے اور دوسرے کے حق میں تیمم باقی رہے گا ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
وقال الشمس القھستانی فی شرح النقا یۃ بعد مانقلنا عنہ فی النصوص وھذا صورۃ ماقال المصنف واما اذاکان مع الجنابۃ حدث یوجب الوضوء یجب علیہ الوضوء فالتیمم للجنابۃ بالاتفاق فان (۱) مع فیہ بمعنی بعد کما قالوا فی قولہ تعالٰی ان مع العسر یسرا وبہ ینحل مافی ھذا المقام من الاشکال المشھور ۲؎ اھ۔
شمس قہستانی نے شرح نقایہ میں کہا اس عبارت کے بعد جو ہم نے نصوص میں ان سے نقل کی: اور یہی اس کی صورت ہے جو مصنف نے کہا: ''لیکن جب جنابت کے ساتھ کوئی ایسا حدث ہو جو وضو واجب کرتا ہے اس پر وضو لازم ہے تو تیمم جنابت کےلئے ہے بالاتفاق''۔کیونکہ اس میں ''مع'' بعد کے معنی میں ہے جیسا کہ علماء نے ارشادِ باری تعالٰی ''ان مع العسر یسراً''(بیشک دشواری کے ساتھ آسانی ہے) میں کہا ہے۔اسی سے وہ مشہور اشکال حل ہوجاتا ہے جو اس مقام پر پیش آتا ہے اھ
(۲؎ جامع الرموز باب التیمم مطبعہ کریمیہ قزان ا یران ۱/۶۴)
وتبعہ المدقق العلائی فی الدر واقرہ محشوہ واعترض ھذا المسلک فی السعا یۃ بانہ لواجنب ثم احدث فوجد مایکفی للوضوء فقط فانہ یتیمم ولایجب علیہ الوضوء یکون تیممہ کافیا لرفع الحدث الاکبر و الاصغر مع انہ یصدق علیہ انہ وجد بہ حدث یوجب الوضوء بعد الجنابۃ فیلزم بمقتضی عبارۃ الشارح ان یجب علیہ الوضوء قال فالاولی ان یقال مع بمعنی بعد والمضاف محذوف ای بعد تیم م الجنابۃ اویقال مع علی معناہ والمضاف محذوف ای مع تیمم الجنابۃ ۱؎ اھ۔ملخصا
مدقق علائی نے درمختار میں اس کا اتباع کیا اور اسے محشین نے بھی برقرار رکھا۔ سعایہ میں اس طریق پر اعتراض کیا کہ اگر اسے جنابت ہو پھر حدث ہو۔اس کے بعد اسے اتنا ہی پانی ملے جو صرف وضو کےلئے کفایت کرسکے تو وہ تیمم کرے گا اور اس پر وضو واجب نہیں۔اس کا تیمم حدثِ اکبر و اصغر دونوں کو رفع کرنے کےلئے کافی ہوگا-باوجودیکہ اس کے متعلق یہ صادق ہے کہ اس کے ساتھ جنابت کے بعد ایسا حدث پا یا گیا جو وضو واجب کرتا ہے تو بمقتضائے عبارت شارح لازم آئےگا کہ اس پر وضو واجب ہو۔کہا: تو اولٰی یہ کہنا ہے کہ مع بمعنی بعد ہے اور مضاف محذوف ہے یعنی ''مع تیمم الجنابۃ'' اھ (ت)
(۱؎ السعا یۃ باب التیمم مطبع سہیل اکیڈمی لاہور ۱/۴۹۱)
ھذا وعندی حاشیۃ علٰی شرح الوقا یۃ للفاضل محمد القرہ باغی اتمھا سنۃ تسعمائۃ وثلثین ای بعد خمس وعشرین سنۃ من وفاۃ اخی چلپی وقال قلت لتاریخہ ثم تسویدی(۹) وھی کتابۃ یوسف بن حسن بن عبداللّٰہ سنۃ تسعمائۃ وسبع۹۷۷وسبعین نقل فیھا کلام اخی چلپی بلفظۃ قال بعض المحشین ثم قال اقول لایخفی ان ھذا التصو یر تکلف بعید الاخذ من ھذہ العبارۃ علا ان الشارح سیصرح ھذہ المسألۃ بقولہ وان کفی للوضوء لاللمعۃ فتیممہ باق وعلیہ الوضوء فبحمل ھذہ العبارۃ علی ماذکرہ القائل یلزم التکرار ولعلہ انما ارتکبہ زعما بان الحدثین لایجتمعان فی شخص ابتداء ولاشک انہما یجتمعان لکن یکفی عنھما تیمم واحد اذا لم یوجد الماء الکافی للوضوء واما اذا وجد فلابد من الوضوء ثم التیمم للجنابۃ والمذکور فی الکتاب ھو ھذا المعنی۔
یہ سب ہوا۔ اور میرے پاس شرح وقایہ پر فاضل محمد قرہ باغی کا ایک حاشیہ ہے جسے انہوں نے ۹۳۰ میں مکمل کیا، یعنی اخی چلپی کی وفات کے پچیس۲۵سال بعد ۔اور اس کی تاریخ تکمیل کےلئے ثم تسویدی کہا ہے اور یہ ۹۷۷ میں یوسف بن حسن بن عبداللہ کا کتابت کیا ہُوا ہے اس میں اخی چلپی کاکلام ''قال بعض المحشین''کے لفظ سے نقل کیا ہے پھر لکھا ہے: ''میں کہتا ہوں مخفی نہیں کہ یہ صورت نکالنے میں تکلّف ہے اور اس عبارت سے اسے اخذ کرنا بعید ہے علاوہ ازیں شارح عنقریب اس مسئلہ کی تصریح اس عبارت میں کریں گے: ''اور اگر وضو کےلئے کافی ہے چھُوٹی ہوئی جگہ کےلئے نہیں تو اس کا تیمم باقی ہے اور اسے وضو کرنا ہے'' اب اگر اس عبارت کو اس پر محمول کیا جائے جو قائل نے ذکر کیا تو تکرار لازم آئےگی۔ اور اس نے اس تاویل کا ارتکاب شاید اس خیال سے کیا ہے کہ کسی شخص میں دونوں حدث ابتداءً جمع نہیں ہوتے حالانکہ بلا شبہہ دونوں جمع ہوتے ہیں، لیکن دونوں کی طرف سے ایک ہی تیمم کافی ہے جبکہ وضو کےلئے آب کافی دست یاب نہ ہو اور دست یاب ہو تو وضو پھر جنابت کا تیمم ضروری ہے۔کتاب میں یہی بات مذکور ہے۔
والعجب منہ انہ لم یلتفت الٰی ھذا المعنی مع ان عبارۃ الشارح بُعیدا ھذا صریح باجتماع الحدثین ابتداءً حیث قال لوکان بہ حدثان کالجنابۃ وحدث یوجب الوضوء ینبغی ان ینوی عنھما لایقال ان الجنابۃ لما اوجب غسل بعض الاجزاء الذی ھو عبارۃ عن الوضوء فلافائدۃ لاعتبار الحدث الذی یوجب الوضوء مع الجنابۃ لانا نقول بعد تسلیم جمیع المقدمات یجوز(۱) اجتماع العلل الشرعیۃ علی معلول واحد شرعی کماصرح بہ صاحب التلویح فقال لو(۲) حلف ان لایتوضأ من الرعاف فبال ثم رعف فتوضأ حنث ولہ نظائر فی الشرع ۱؎ اھ کلام القرہ باغی ببعض اختصار۔
قائل پر تعجب ہے کہ اس معنی کی طرف التفات نہ کیا حالانکہ اس کے کچھ ہی بعد شارح کی عبارت اس بارے میں صریح ہے کہ دونوں حدث ابتداءً جمع ہوتے ہیں۔ انہوں نے فرما یاہے: ''اگر اسے دو حدث ہوں جیسے جنابت اور کوئی ایسا حدث جو وضو واجب کرتا ہے تو اسے چاہئے کہ دونوں سے تیمم کی نیت کرے''۔اگر یہ کہا جائے کہ جنابت سے جب ان بعض اجزاء کا دھونا واجب ہوا جو وضو سے عبارت ہے تو جنابت کے ساتھ وضو واجب کرنے والے حدث کا اعتبار کرنے میں کوئی فائدہ نہیں تو ہم کہیں گے اگر اعتراض کے تمام مقدمات تسلیم کرلیے جائیں تو بھی جواب یہ ہے کہ ایک معلول شرعی پر چند علل شرعیہ کا اجتماع ہوسکتا ہے جیسا کہ صاحبِ تلویح نے اس کی صراحت کرتے ہوئے لکھا ہے: اگر قسم کھائی کہ نکسیر سے وضو نہ کرے گا پھر اس نے پیشاب کیا اس کے بعد نکسیر ٹوٹی پھر اس نے وضو کیا تو اس کی قسم ٹوٹ گئی۔اور شریعت میں اس کی بہت سی نظیریں ہیں''۔فاضل قرہ باغی کا کلام کچھ اختصار کے ساتھ ختم ہوا۔(ت)
(۱؎ تعلیق علٰی شرح الوقا یۃ للقرہ باغی)