والخامس: مخالفتہ لما تقرر فی المذھب کمابیناہ بالدلائل والنصوص العشرۃ ان الحدث مع الجنابۃ لایوجب الوضوء اصلا اذا لم یجد ماء یکفی للغسل الیہ اشار البرجندی بقولہ متصل العبارۃ المذکورۃ اٰنفا۔
پنجم: یہ اس کے مخالف ہے جو مذہب میں مقرر وثابت ہے جیسا کہ دس دلائل ونصوص سے ہم نے اسے بیان کیا۔ مذہب میں یہ ہے کہ جنابت کے ساتھ حدث بالکل موجبِ وضو نہیں جب اتنا پانی دستیاب نہ ہو جو غسل کےلئے کافی ہو اسی کی طرف برجندی نے ابھی ذکر شدہ عبارت سے متصل اپنے درج ذیل کلام سے اشارہ کیا ہے:
''لیکن کلام اس میں ہے کہ کیا دونوں صورتوں میں وضو کرنا واجب ہے جب حدث ہوا ہو۔ اس بارے میں تردّد ہے اور ظاہر نفی ہے۔احتیاجِ وضو کا حکم کرنے کےلئے کوئی صریح روایت ہونا ضروری ہے''۔ اھ
عــہ: ای الاخریین ولعمری لقد اصاب فی تخصیص الکلام بھما وعزل الصورۃ الاولی لان فیھا لاشک فی وجوب الوضوء اذا احدث کماسیاتی تحقیقہ فی الافادۃ ۱۱بعونہ تعالٰی ۱۲ منہ غفرلہ (م)
یعنی بعد والی دونوں صورتوں میں۔اور ان دونوں سے کلام خاص کرکے اور پہلی کو الگ کرکے یقینا انہوں نے صحیح کیا اس لئے کہ پہلی صورت میں حدث ہونے کے وقت وجوب وضو میں شک نہیں جیسا کہ اس کی تحقیق بعونہٖ تعالٰی افادہ(نمبر) ۱۱ میں آرہی ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
(۱؎ شرح النقا یۃ للبرجندی فصل فی التیمم نولکشور لکھنؤ ۱/۴۴)
اور ان سب حضرات کی تاویلات کا مآل یہ ہے کہ ''وجوب وضو کا حکم اس حدث کی طرف عائد ہے جو تیمم جنابت کے بعد ہو''-مگر اس بارے میں ان کے دو۲ مسلک ہیں:
احدھما تقد یرعــہ المضاف
طریق اوّل: (''اما اذاکان مع الجنابۃحدث'' میں جنابت سے پہلے) مضاف مقدر ماننا،
عــہ قال فی السعا یۃ فی غا یۃ الحواشی قولہ یجب جزاء اما وکلمۃ کان تامۃ وتقد یر الکلام اما اذا وجد مع تیمم الجنابۃ حدث یوجب الوضوء فیجب الوضوء اتفاقا یعنی احدث بالتیمم للجنابۃ مع وجود الماء الکافی للوضوء فیجب الوضوء مع انہ تیمم الجنب اتفاقا بخلاف الصورۃ المسطورۃ فان فیھا بعد تیمم الجنابۃ لایجب الوضوء فقولہ بالاتفاق متعلق بقولہ یجب وقولہ فالتیمم الفاء للتفریع ای فثبت التیمم للجنابۃ مع وجوب الوضوء فانہ ذکر فی الجامع عن شرح الطحاوی و غیرہ انہ لایجب للجنب صرف الماء الی بعض الاعضاء اوللحدث الا اذا تیمم للجنابۃ ثم وقع منہ حدث یوجب الوضوء لانہ یجب علیہ الوضوء ح لانہ قدر علی ماء کاف بہ ولم یجب التیمم لانہ بالتیمم خرج عن الجنابۃ الی ان یجدالماء الکافی للغسل انتھی فاندفع السؤال المشھور ان الجنابۃ تستلزم الحدث فکیف یصح قولہ اذاکان مع الجنابۃ حدث ومن فسر فالتیمم للجنابۃ واجب بعد الوضوء فما شم رائحۃ المقصود اھ۔۱۲ منہ غفرلہ (م)
سعایہ میں لکھا ہے: غا یۃ الحواشی میں ہے: لفظ ''یجب'' ''اما'' کی جزا ہے اور کان تامہ ہے۔ تقد یر کلام یہ ہوگی لیکن جب تیمم جنابت کے ساتھ کوئی حدث پا یا جائے تو بالاتفاق وضو واجب ہے- یعنی تیمم جنابت کے ساتھ، وضو کےلئے کافی پانی ہوتے ہوئے وہ محدث ہوا تو وضو واجب ہے باوجودیک ہ یہ جنب کا تیمم ہے اتفاقاً- بخلاف صورت مسطورہ کے، کہ اس میں تیمم جنابت کے بعد وضو واجب نہیں تو لفظ ''بالاتفاق'' لفظ ''یجب'' سے متعلق ہے۔ اور فالتیمم میں فا تفریع کےلئے ہے یعنی-تو وجوب وضو کے ساتھ، جنابت کےلئے تیمم ثابت ہوا۔کیونکہ جامع میں شرح طحاوی و غیرہ سے ذکر کیا ہے کہ جنب کے لئے بعض اعضاء میں پانی صرف کرنا یا حدث کےلئے صرف کرنا واجب نہیں مگر جب جنابت کا تیمم کرلے پھر اس سے کوئی ایسا حدث ہو جو وضو واجب کرتا ہے تو اب اس پر وضو واجب ہوگا اس لئے کہ وہ اتنے پانی پر قادر ہے جو وضو کےلئے کافی ہے- اور تیمم واجب نہیں اس لئے کہ وہ تیمم کرکے جنابت سے نکل چکا ہے یہاں تک کہ غسل کےلئے کافی پانی اسے ملے -انتہی- تو وہ مشہور اعتراض دفع ہوگیا کہ جنابت حدث کو مستلزم ہوتی ہے۔ پھر صدر الشریعۃ کا قول ''اذا کان مع الجنابۃ حدث'' (جب جنابت کے ساتھ کوئی حدث ہو) کیسے صحیح ہوگا۔ اور جس نے یہ تفسیر کی: فالتیمم للجنابۃ واجب بعد الوضوء(تو جنابت کےلئے تیمم وضو کے بعد واجب ہے) تو اسے مقصد کی بُو بھی نہ ملی اھ- عبارتِ سعایہ ختم ہوئی۔ ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
ای اذا وجدعــہ۱ مع تیمم الجنابۃ حدث یجب الوضوء بالاتفاق عــہ۲ فیبقی عــہ۳ ھذا التیمم للجنابۃ خاصۃً عــہ۴
بخلاف ما اذا وجد الحدث قبل التیمم فانہ عــہ۵ یکون لہ وللجنابۃ معاً کما افید فی شرح الطحاوی و غیرہ ۔
یعنی جب تیمم جنابت کے ساتھ کوئی حدث پا یا جائے تو بالاتفاق وضو واجب ہے تو یہ تیمم خاص جنابت کےلئے رہ جائےگا بخلاف اُس صورت کے جب حدث تیمم سے قبل پا یا جائے کہ یہ حدث اور جنابت دونوں کےلئے ہوگا۔ جیسا کہ شرح طحاوی و غیرہ میں اس کا افادہ ہوا ہے۔
عــہ۱: اشار الی ماقالہ فی غا یۃ الحواشی ان کان فی قول الشارح تامۃ ۱۲ منہ غفرلہ (م)
اس کی طرف اشارہ ہے جو غا یۃ الحواشی میں لکھا کہ شارح کی عبارت میں ''کان'' تامہ ہے ۱۲ منہ غفرلہ۔ (ت)
(تو اذا کان کی تفسیر ''اذاوجد'' (جب پا یا جائے) سے کی گئی۔ ۱۲ م الف)
عــہ۲: اشار الی ماقالہ ان بالاتفاق متعلق بیجب ۱۲ منہ غفرلہ (م) اس کی طرف اشارہ ہے جو اس میں لکھا ہے کہ ''بالاتفاق'' یجب سے متعلق ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
عــہ۳: اشار الی ماقالہ ان الفاء فی قولہ فالتیمم للتفریع ۱۲ منہ غفرلہ (م) اس کی طرف اشارہ ہے کہ فالتیمم میں ف برائے تفریع ہے جیسا کہ اس میں لکھا ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
عــہ۴: زدت(۱) خاصۃً اذبہ یتم المقصود و غیرت ماسلکہ ان المراد ثبت التیمم للجنابۃ مع وجوب الوضوء فان(۲) المقصود اذن فیما حذفہ قولہ مع وجوب الوضوء وفیہ الفرق بین الصورتین فتبقی الجملۃ بحذفہ ناقصۃ مختلۃ وحذفت(۱) قولہ اتفاقا لانہ خلاف المقصود وفی نفسہ مردود÷ کماستعلم بعون الودود ۱۲ منہ غفرلہ (م)
میں نے ''خاصۃً'' بڑھا د یا کیونکہ اسی سے مقصد پُورا ہوتا ہے اور اس میں جو طریقہ اختیار کیا کہ ''یہ مراد ہے کہ وجوب وضو کے ساتھ جنابت کا تیمم ثابت ہے'' میں نے اسے بدل د یا، کیونکہ اس طور پر مقصود اسی لفظ سے ادا ہوگا جو صدر الشریعۃ نے حذف کیا یعنی ''مع وجوب الوضوء'' اور اسی سے دونوں صورتوں کے درمیان فرق ہوسکے گا تو اسے حذف کر دینے سے جملہ ناقص اور مختل ہوجائےگا -اور غا یۃ الحواشی کا لفظ ''اتفاقًا'' میں نے حذف کرد یا اس لئے کہ خلاف مقصود ہے اور بجائے خود بھی نامقبول ہے جیسا کہ بعونِ الٰہی معلوم ہوگا ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
عــہ۵: زدتہ اذ بہ تمام التقرےب علی الوجہ الذی وصفنا ۱۲ منہ غفرلہ (م) میں نے اسے بڑھاد یا کیونکہ اس سے تقرےب تام ہوتی ہے اس طور پر جو ہم نے بیان کیا ۱۲ منہ غفرلہ(ت)
ھذا تھذیب مانقلتہ السعا یۃ عن غا یۃ الحواشی واعتمدتہ وان ناقشتہ عــہ فی زوائد ومن طالع عبارتھا و وازن بینھما وبین الفاظنا عرف کیف لخصنا ما اطال بہ وقربناہ ÷ونقحناہ وھذبناہ÷
یہ اس کی اصلاح وتنقیح ہے جو سعایہ میں غا یۃ الحواشی سے نقل کیا اور اس پر اعتماد کیا اگرچہ کچھ زوائد میں اس سے مناقشہ بھی کیا-عبارت سعایہ کا مطالعہ اور اس کا اور ہمارے الفاظ کا موازنہ کرنے والے کو معلوم ہوگا کہ اس میں جو طویل کلام تھا ہم نے اس کی کیسی تلخیص کردی اور فہم کے قریب بھی کرد یا۔الفاظ کی تنقیح وتہذیب بھی ہوگئی ۔ (ت)
عــہ: نازعہ فی کون کان تامۃ بانہ لادخل لہ فی المقصود ویمکن کونھا ناقصۃ وفی کون الفاء للتفریع وقال الاظھر علی ھذا ان تکون تعلیلیۃ یعنی لان التیمم للجنابۃ ووالحدث طار (ای طارئ) فلایکفی لہ اھ۔ملخصا مھذبا اقول:(۲) یحتاج الی ذکر الخصوص کمافعلنا والافکون التیمم للجنابۃ لایمنع کونہ للحدث الا ان یکون الحدث طارئافاذن ذکر فی التعلیل ما لادخل لہ وطوی ماھو التعلیل وکیفما کان لیس الاکلاما فی امر زائد ومن(۱) سلک مسلکا صحیحا لایقال ان کلامہ مخدوش کماقالہ فی عمدۃ الرعا یۃ وان اختار فی امر زائد ظاھرا مکان الاظھر وکون بحث کان بمعزل عن المقصود بالکل یۃ اظھر من ان یظھر ثم کونھا تامۃ ھو الظاھر المتبادر ذکرہ(۲) المحشی بیانا للواقع کعادتھم لالتوقف الجواب علیہ فلیس فیما نقل من عبارتہ دلالۃ علیہ ۱۲ منہ غفرلہ (م)
اس سے کان کے تامہ ہونے میں نزاع کیا کہ اس کا مقصد میں کچھ دخل نہیں ناقصہ بھی ہوسکتا ہے۔ اور فا کے برائے تفریع ہونے میں نزاع کیا اور کہا اس طور پر ظاہر تر یہ ہے کہ تعلیلیہ ہو یعنی اس لئے کہ تیمم جنابت کا ہے اور حدث طاری ہے تو اس کےلئے کافی نہیں اھ انکی عبارت تلخیص اور اصلاح وتنقیح کے ساتھ ختم ہوئی اقول:انہیں ''خصوص'' کے ذکر کی ضرورت ہے جیسا کہ ہم نے کیا ورنہ تیمم کا جنابت کےلئے ہونا اس سے مانع نہیں کہ حدث کےلئے بھی ہو مگر یہ کہ حدث (بعد تیمم) طاری ہو-تو تعلیل میں وہ ذکر کیا جسے کوئی دخل نہیں اور اسے چھوڑ د یاجو واقعۃً تعلیل ہے- خیر جو بھی ہو یہ ایک زائد معاملہ میں ہی کلام ہے-اور جو کسی صحیح رَوِش پر چلا ہو اس کےلئے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس کا کلام مخدوش ہے جیسا کہ عمدۃ الرعایہ میں کہا اگرچہ اس امر زائد میں وہاں ظاہر تر کی جگہ ظاہر اختیار کیا ہے ۔ اور کان کی بحث کا مقصود سے بالکل الگ ہونا بالکل محتاجِ بیان نہیں- پھر اس کا تامہ ہونا بھی ظاہر ومتبادر ہے۔محشی نے بیان واقع کے طور پر اسے ذکر کرد یا ہے جیسا کہ ان حضرات کی عادت ہے۔اس لئے نہیں ذکر کیا ہے کہ جواب اسی پر موقوف ہے منقولہ عبارت میں اس پر کوئی دلالت بھی نہیں ۱۲ منہ غفرلہ۔(ت)
والاٰخر: جعل مع بمعنی بعد وھو المسلک المشہور۔
طریق دوم: مع کو بعد کے معنی میں قرار دینا۔یہ مشہور طریقہ ہے۔
قال:المحقق مولٰی خسرو فی الدرر بعد بعارتہ التی قدمنا فی النصوص اما اذاکان مع الجنابۃ حدث یوجب الوضوء بان احدث بعد التیمم فیجب علیہ الوضوء فالتیمم للجنابۃ بالاتفاق ۱؎ اھ۔
محقق مولٰی خسرو نے درر الحکام-میں اس عبارت کے بعد جو ہم نے نصوص میں پیش کی فرما یا: ''لیکن جب جنابت کے ساتھ کوئی ایسا حدث ہو جو وضو واجب کرتا ہے اس طرح کہ تیمم کے بعد محدث ہوا تو اس پر وضو واجب ہے۔تو اس پر وضو واجب ہے۔ تو تیمم بالاتفاق جنابت کےلئے ہے'' اھ
(۱؎ درر مولٰی خسرو باب التیمم مکتبہ احمد کامل الکائنۃ فی دار السعادۃ مصر ۱/۲۹)