کیسا روشن نص ہے کہ جنب جسے غسل کو پانی نہ ملے اور وضو کے قابل موجود ہو اُسے اگر تیمم جنابت کے بعد حدث ہو جب تو وضو کرے اور تیمم سے پہلے ہو تو صرف تیمم کرے وضو نہ کرے۔
اقول:میرا استناد ان اصول احکام سے ہے جو امام فقیہ النفس رحمہ اللہ تعالٰی نے تعلیلات کے تحت ذکر کیے۔ ورنہ اس جزئیہ کے اس اصل کے اندر داخل ہونے میں بندہ ضعیف کو- مولائے لطیف اسے مغفرت سے نوازے- پر زور کلام ہے جیسا کہ اگر عطاؤں سے نوازنے والے رب نے چاہا تو افادات کے تحت معلوم ہوگا۔ (ت)
بالجملہ سات۷ روشن دلائل اور تین۳ نصوص جلائل تلک عشرۃ کاملۃ (وہ پُورے دس ہیں۔ ت) سے بحمدہ عزّوجل حکم آشکار ہوگیا۔
اور خدا ہی کےلئے حمد ہے کثیر، پاکیزہ، برکت والی حمد جیسی ہمارا رب چاہے اور پسند فرمائے۔ اور خدائے برتر کی طرف سے درود ہو سب سے ز یادہ پسندیدہ ذات گرامی پر اور ان کی آل واصحاب پر فیصلہ کے دن تک۔ الٰہی قبول فرما!
رہا امام صدر الشریعۃ کا کلام اور اُس میں تاویلات علمائے کرام ہم اولاً کلام پیشینیاں پیش کریں۔ پھر وہ جو قلب فقیر پر جفیض قد یر سے فائض ہوا ہدیہ انظار انصاف کش۔
قال الامام÷ صدر الشریعۃ الھمام÷ اعلی اللّٰہ تعالٰی مقامہ فی دارالسلام÷ ورحمنابہ وبسائر الائمۃ الکرام÷ فی کل حال ومقام÷ مدی اللیالی والا یام÷ اول باب التیمم من شرحہ للوقا یۃ اذاکان للجنب ماء یکفی للوضوء لاللغسل یتیمم ولایجب علیہ التوضی عندنا خلافا للشافعی اما اذاکان مع الجنابۃ حدث یوجب الوضوء یجب علیہ الوضوء فالتیمم للجنابۃ بالاتفاق واذاکان للمحدث ماء یکفی لغسل بعض اعضائہ فالخلاف ثابت ایضا ۱؎ اھ
امام بلند ہمت صدر الشریعۃ -خدائے برتر دارالسلام میں انہیں مقام بلند عطا فرمائے اور ہم پر ان کی برکت سے اور دیگر ائمہ کرام کی برکت سے ہر حال ومقام میں جب تک گردش شب وروز رہے ہمیشہ رحمت فرمائے -شرح وقایہ اولِ باب التیمم میں فرماتے ہیں: ''جب جنابت والے کے پاس اتنا پانی ہو جو وضو کےلئے کفایت کرے غسل کےلئے نہیں تو وہ تیمم کرے ہمارے نزدیک بخلاف امام شافعی کے۔ اس پر وضو کرنا واجب نہیں- لیکن جب جنابت کے ساتھ کوئی ایسا حدث ہو جو وضوکو واجب کرتا ہے تو اس پر وضو واجب ہے- تو جنابت کےلئے تیمم بالاتفاق ہے۔ اور جب محدث کے پاس اتنا ہی پانی ہو جو صرف اس کے بعض اعضا کے دھونے میں کفایت کرسکے تو اس صورت میں بھی اختلاف ثابت ہے''۔ (ت)
(۱؎ شرح الوقایہ باب التیمم مکتبہ رشیدیہ دہلی ۱/۹۵)
واعترضوہ بخمسۃ وجوہ: ناظرین نے اس پر پانچ طرح اعتراض کیا ہے:
الاول:قال البرجندی فی شرح النقا یۃ بعد نقل کلام الصدر الامام ھو مشعر بانہ قدتکون جنابۃ مع وجود الوضوء ولایخفی ان الجنابۃ تحصل بخروج المنی او بغیبۃ الحشفۃ وخروج الخارج من الذکر وغیبۃ الحشفۃ ناقضان للوضوء۔
اول: برجندی نے شرح نقایہ میں، امام صدر الشریعۃ کا کلام نقل کرنے کے بعد لکھا: یہ کلام اس کا پتا دیتا ہے کہ کبھی وضو رہتے ہوئے بھی جنابت ہوتی ہے حالانکہ مخفی نہیں کہ جنابت منی کے نکلنے یا حشفہ کے غائب ہونے سے ہوتی ہے۔ اور ذَکر سے نکلنے والی چیز کا باہر آنا اور حشفہ کا غائب ہونا دونوں ہی ناقض وضو ہیں۔
والجواب ان الجنب اذاتیمم واحدث ثم توضأ ومر بماء کاف للاغتسال ولم یغتسل ثم بعد عن الماء فانہ صار جنبا ومع عــہ ذلک وضوءہ باق۔
جواب یہ ہے کہ جنب جب تیمم کرلے اور بے وضو ہوکر پھر وضو کرے اور غسل کےلئے کافی پانی پر گزرے مگر غسل نہ کرے پھر پانی سے دور ہوجائے تو وہ جنابت والا ہوگیا۔ اس کے باوجود اس کا وضو باقی ہے۔
عــہ اقول:ای لم یعد حدثہ علی وزان ماقدمنا ۱۲ منہ غفرلہ (م)
اقول:یعنی دوبارہ اسے حدث نہ ہوا، اسی انداز پر جو ہم نے پہلے بیان کیا ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
ویمکن ان یصور ذلک علٰی قول محمد بان یجامع الرجل المتوضئ امرأۃ ولم ینزل فانہ قداجنب ولم ینتقض عــہ۱ وضوءہ فان المباشرۃ الفاحشۃ غیر ناقضۃ عندہ ولم یوجد عــہ۲ شیئ اٰخر من نواقض الوضوء۔
اس کی صورت امام محمد کے قول پر یہ بھی پیش کی جاسکتی ہے کہ باوضو مرد عورت سے مجامعت کرے اور انزال نہ ہو تو وہ جنابت زدہ ہوگیا اور اس کا وضو نہ ٹوٹا کیونکہ ان کے نزدیک مباشرت فاحشہ ناقض وضو نہیں اور نواقض وضو میں سے کوئی دوسری چیز بھی نہ پائی گئی۔
عــہ۱ اقول:قد علمت المعنی فاحتفظ ولاتزل ۱۲ منہ غفرلہ (م) اقول:ناظر کو مراد معلوم ہوگئی تو نگہداشت چاہئے اور لغزش سے پرہیز ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
عــہ۲ اقول:ای مما ھو حدث اصغر اذ لایقال نواقض الوضوء الاعلیھا فھھنا افصح عن المراد ۱۲ منہ غفرلہ (م)
اقول:یعنی اس چیز سے جو حدث اصغر ہوکیوں کہ نواقضِ وضو کا اطلاق اسی پر ہوتا ہے تو یہاں اپنی مراد واضح کردی ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
وعلی قول الشیخین عــہ۳ رضی اللّٰہ تعالٰی عنھم بان یستمنی بالید ثم یاخذ رأس الذکر حتی لایخرج المنی فقد عــہ۴ اجنب ولم یوجد ناقض للوضوء ۱؎ اھ۔
(۱؎ شرح النقا یۃ للبرجندی فصل فی التیمم نولکشور لکھنؤ ۱/۴۴)
اور شیخین رضی اللہ تعالٰی عنہما کے قول پر یہ صورت ہوسکتی ہے کہ ہاتھ سے منی نکالے پھر ذکر کا سرا پکڑلے تاکہ منی باہر نہ آئے تو وہ جنب ہوگیا اور ناقضِ وضونہ پا یا گیا اھ (ت) (برجندی کی عبارت ختم ہوگئی)
عــہ۳ اقول:ھذا(۱) سھو وانما ھو قول الطرفین واطلاق الشیخین علیھما بعید وان(۲) جاء فی بعض المواضع علی الصاحبین کمابینتہ فی کتابی فصل القضاء ۱۲ منہ غفرلہ (م)
اقول:یہ سہو ہے۔ وہ طرفین کا قول ہے اور ان پر اطلاقِ شیخین بعید ہے اگرچہ بعض مقامات میں صاحبین کے لئے شیخین کا اطلاق ہے جیسا کہ میں نے اپنی کتاب ''فصل القضاء'' میں بیان کیا ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
عــہ۴ اقول:ای(۳) اذاخرج المنی لان الخروج شرط بالاجماع انما النزاع فی اشتراط الشھوۃ عند الخروج اوکفایتھا عند الانفصال بہ قالا وبالاول ابویوسف فاحتمال ارادۃ خلافہ ظن مالایلیق بالعلماء ۱۲ منہ غفرلہ (م)
اقول: یعنی جب منی باہر آجائے اس لئے کہ باہر آنا بالاجماع شرط ہے نزاع صرف اس میں ہے کہ شہوت یعنی باہر آنے کے وقت ہونا شرط ہے یا بس اپنے مقر سے منی کے انفصال کے وقت (شہوت) ہونا کافی ہے۔دوم کے قائل طرفین ہیں اور اول کے قائل امام ابویوسف ہیں۔ تو یہ احتمال کہ اس کے خلاف مراد لے لیا ہو ایسا ظن ہے جو علماء کے لائق نہیں ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
واعترضہ عصری وھو اللکنوی فی سعایتہ بما تلخیصہ انہ فی صورۃ المباشرۃ الفاحشۃ ان لم یولج لم یجنب وان اولج فقد انتقض وضوءہ لان دخول الحشفۃ ناقض للغسل والوضوء جمیعا وکذا فی صورۃ الاستمناء ان خرج المنی فقد انتقض وضوءہ وان لم تحصل الجنابۃ وان لم یخرج فلاجنابۃ ولاحدث ۲؎ اھ۔ھذا حاصل ما اطال بہ فی نحو ثلثۃ امثال عبارتنا ھذہ۔
اس پر ایک معاصرعالم- مولوی عبدالحی لکھنوی فرنگی محلی -نے اپنی سعایہ (حاشیہ شرح وقایہ) میں اعتراض کیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے: ''مباشرت فاحشہ کی صورت میں اگر ایلاج نہ کیا تو جنب نہ ہوا۔ اور ایلاج کیا تو اس کا وضو ٹوٹ گیا اس لئے کہ دخولِ حشفہ غسل و وضو دونوں ہی کا ناقض ہے- اسی طرح منی نکالنے کی صورت میں اگر منی باہر آئی تو اس کا وضو ٹوٹ گیا اگرچہ جنابت نہ ہوئی اور اگر منی باہر نہ آئی تو نہ جنابت ہے نہ حدث اھ''یہ اس کا حاصل ہے جو انہوں نے ہماری اس عبارت سے تین گنا میں پھیلا کر لکھا ہے۔(ت)
(۲؎ السعا یۃ، باب التیمم، سہیل اکیڈمی لاہور، ۱/۴۹۱)
والثانی: التناقض وقررہ ش بمایبتنی علی الاول فجوابہ جوابہ وذلک قولہ فی ردالمحتار قول صدر الشریعۃ مشکل لان الجنابۃ لاتنفک عن حدث یوجب الوضوء وقد قال اولایجب علیہ التیمم لا الوضوء فقولہ ثان یا یجب علیہ الوضوء تناقض ۳؎ جاھ۔ثم ذکر الجواب الاٰتی عن القہستانی فی الاشکال الخامس فانہ دافع للتناقض ایضا بوجہ حسن صحیح۔
دوم: تناقض۔شامی نے اس کی تقر یر ایسے کلام سے کی ہے جو اشکال اول ہی پر مبنی ہے تو جو اُس کا جواب ہے اِس کا جواب ہے ردالمحتار میں ان کا یہ کلام ہے: ''صدر الشریعۃ کے قول میں اشکال ہے اس لئے کہ جنابت وضو واجب کرنے والے حدث سے جُدا نہیں ہوتی اور پہلے فرماچکے ہیں کہ اس پر تیمم واجب ہے ''وضو نہیں'' تو پھر اس کے بعد یہ کہنا کہ اس پر وضو واجب ''ہے'' دونوں میں تناقض ہے'' اھ۔ پھر اس کا وہ جواب ذکر کیا جو قہستانی کے حوالہ سے اشکال پنجم کے تحت آرہا ہے۔ وہ جواب بھی عمدہ وصحیح طرز پر تناقض دفع کردیتا ہے۔
(۳؎ ردالمحتار ، باب التیمم، مصطفی البابی مصر، ۱/۱۸۷)
ونقل ھھنا فی السعا یۃ مایمکن ان یؤخذ منہ تقر یر اٰخر للتناقض غیر مبتن علی الاشکال الاول وھو انہ اذا لم یکن معھا حدث فکیف یوجب الشافعی ھناک الوضوء ۱؎ اھ۔فیؤخذ منہ ان الحدث الاصغر وان لم یلزم الاکبر ولکن کلام الصدر الامام فی الصورۃ الاولی ایضا فی جنابۃ معھا حدث بدلیل ایجاب الشافعی الوضوء فجاء التناقض۔
یہاں سعایہ میں وہ نقل کیا جس سے تناقض کی ایک دوسری تقر یر اخذ کی جاسکتی ہے جو اشکال اول پر مبنی نہ ہو ''وہ یہ کہ جب جنابت کے ساتھ حدث نہ ہو تو وہاں امام شافعی وضو کیسے واجب کریں گے؟ اھ اور اس سے یہ اخذ ہوتا ہے کہ حدث اصغر اگرچہ حدث اکبر کو لازم نہیں لیکن صدر الشریعۃ کا کلام پہلی صورت میں بھی ایسی ہی جنابت کے بارے میں ہے جس کے ساتھ حدث بھی ہو اس دلیل سے کہ اس میں امام شافعی وضو واجب کرتے ہیں۔ تو تناقض ہوگا۔
(۱ السعا یۃ باب التیمم مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ۱/۴۹۰)
والثالث: ان قولہ فالتیمم للجنابۃ بالفاء ان کان تفریعا فلامحصل لہ لان کون التیمم للجنابۃ غیر مفرع علی وجوب الوضوء وان کان تعلیلا ورد علیہ ان فی الصورۃ السابقۃ ایضا التیمم للجنابۃ فیلزم ان یجب الوضوء ھناک ایضا ۲؎۔
سوم: ان کی عبارت ''فالتیمم للجنابۃ'' (تو تیمم جنابت کےلئے ہے) میں ''فا'' اگر تفریع کےلئے ہے تو اس کا کوئی حاصل نہیں اس لئے کہ تیمم جنابت کے لئے ہونا وجوبِ وضو پر متفرع نہیں - اور اگر تعلیل کےلئے ہے تو یہ اعتراض ہوگا کہ سابقہ صورت میں بھی تیمم جنابت ہی کے سبب ہے تو لازم آئے کہ وہاں بھی وضو واجب ہو۔