عــہ۱ الثلثۃ بالثلثۃ علی الولاء ۱۲ منہ غفرلہ (م)
تینوں، تینوں کے مقابل پَے بہ پے ہیں ۱۲ منہ غفرلہ (ت) (یعنی سب سے معتبر صحاح پھر سنن پھر مسانید، اسی طرح متون پھر شروح پھر فتاوٰی۔ م الف)
عـــہ۲ کصحاح(۴) الشیخین والمنتقی وابن السکن والمختارۃ وعندی منھا موطا مالک ویتلوھاابن حبان لا کالمستدرک ۱۲ منہ غفرلہ (م)
جیسے صحاح شیخین ومنتقی وابن السکن ومختارہ -اور میرے نزدیک ان ہی میں مؤطا امام مالک بھی ہے اور انہی سے متصل صحیح ابنِ حبان بھی- مستدرک جیسی کتب نہیں ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
عـــہ۳ کسنن(۵) ابی داؤد والنسائی والترمذی وفی مرتبتھا مسند الرؤ یانی ومثلھا بل فوق(۶)بعضھا شرح معانی الاٰثار للطحاوی وکتاب الاٰ ثار لمحمد والحجج لعیسی بن ابان عن محمد وکتاب الخراج لابی یوسف رضی اللّٰہ تعالٰی عن الجمیع ۱۲ منہ غفرلہ (م)
جیسے ابوداؤد، نسائی اور ترمذی کی سنن- ان ہی کے درجہ میں مسندرو یانی بھی ہے اور ان ہی کے مثل بلکہ ان میں بعض سے بالاتر امام طحاوی کی شرح معانی الآثار، امام محمد کی کتاب الآثار، امام محمد سے روایت شدہ حججِ عیسٰی بن ابان اور امام ابویوسف کی کتاب الخراج ہے۔ اللہ تعالٰی سب سے راضی ہو۔ (ت)
والمسانید عــہ۱ فی الحدیث انما یشعر باعتمادہ÷ علی مایتقرر من مرادہ÷ لابخصوص العمل علی ظاھر مفادہ÷ واللّٰہ اعلم بنیات عبادہ÷
اور مسانید کا حال ہے۔ مگر اس سے قطع نظر تقر یر ہندیہ سے یہی پتا چلتا ہے کہ اس کا اعتماد اس مراد پر ہے جو اس تقریر سے ثابت ہوتی ہے خاص اس کے ظاہر مفاد پر عمل معتمد نہیں -اور خدا ہی اپنے بندوں کی نیتیں خُوب جانتا ہے۔ (ت)
عـــہ۱: اجلھا(۱) مسند الامام احمد ومن ھذۃ الدرجۃ المصنفان ومعاجیم الطبرانی لا کمسندالفردوس وامثالہ ولیس مسندا بھذا المعنی بل ھو تخریج احادیث الفردوس ومن احب تمامہ فلینظر رسالتی مدارج طبقات الحدیث ۱۲ منہ غفرلہ (م)
ان میں سب سے بزرگ تر مسند امام احمد ہے اور اسی درجہ میں دونوں مصنف (مصنف عبدالرزاق ومصنف ابن ابی شیبہ) اور طبرانی کی معجم کبیر وصغیر واوسط بھی ہیں۔ مسند الفردوس اور اس جیسی کتابیں نہیں۔ وہ اس معنی میں مسند ہے بھی نہیں۔ بلکہ اس میں احادیث فردوس کی تخریج ہے۔ اس سے متعلق پوری بحث کا جسے شوق ہو وہ میرا رسالہ ''مدارج طبقات الحدیث'' ملاحظہ کرے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
شرح نقایہ علامہ برجندی میں بعد نقل کلام شرح وقایہ وبحث وجواب جس کا ذکر اِن شاء اللہ تعالٰی آگے آتا ہے حکم مذکور پر انکار کرد یا،
حیث قال اجنب ولم یوجد ناقض الوضوء ھل یجب التیمم والتوضئ جمیعا اذا احدث ومعہ ماء یکفی للوضؤ فقط فیہ تردد والظاھر انہ اذاتیمم للجنابۃ لاحاجۃ الی التوضی ولابد للحکم بالاحتیاج الیھما من روا یۃ صریحۃ ۱؎۔
ان کے الفاظ یہ ہیں: جنابت ہوئی اور کوئی ناقضِ وضو نہ پا یا گیا تو کیا اس پر تیمم اور وضو دونوں ہی واجب ہوں گے جبکہ اسے حدث ہوا ہو اور اس کے پاس اتنا ہی پانی ہے جو صرف وضو کے لئے کفایت کرسکے۔اس بارے میں تردّد ہے۔ اور ظاہر یہ ہے کہ وہ جب جنابت کا تیمم کرلے تو وضو کی کوئی ضرورت نہیں۔ دونوں ہی کی ضرورت ہونے کا حکم کرنے کےلئے کوئی صریح روایت ہونا ضروری ہے۔ (ت)
(۱؎ شرح النقا یۃ للبرجندی فصل فی التیمم مطبع نولکشور ۱/۴۴)
اقول: فاضل(۱) شارح کو تردّد ہُوا اور وضو کی حاجت نہ ہونے کو ظاہر رکھا اور جانب خلاف کسی روایت صریحہ کا انتظار کیا حالانکہ یہ محلِ جزم ہے اور روا یاتِ صریحہ اس طرف موجود کماعرفت وتعرف اِن شاء اللّٰہ تعالٰی (جیسا کہ معلوم ہوا اور بمشیت خدائے برتر آئندہ بھی معلوم ہوگا۔ ت)
اسی کے قریب حاشیہ درمختار میں سید علامہ احمد طحطاوی کا قول ہے:
فی صدر الشریعۃ اذاکان مع الجنابۃ حدث یوجب الوضوء یجب علیہ الوضوء ای اذاوجد الحدث بعد التیمم للجنابۃ کمانص علیہ القھستانی وظاھر ھذا انہ اذاوجد حین التیمم المذکور ماء یکفی للوضوء لایتوضأ بہ للاستغناء بھذا التیمم عنہ وانما یستعملہ اذاوجد الحدث بعد ذلک وھو صریح عبارۃ القھستانی ۲؎ اھ فنقل عنہ ما یاتی اٰنفا۔
شرح صدر الشریعۃ میں ہے: ''جب جنابت کے ساتھ کوئی ایسا حدث ہو جو وضو واجب کرتا ہے تو اس پر وضو واجب ہے''- یعنی جب تیمم جنابت کے بعد حدث پا یا گیا ہو جیسا کہ اس پر قہستانی نے نص کیا ہے- اس کا ظاہر یہ ہے کہ جب تیمم مذکور کے وقت وضو کےلئے کفایت کرجانے والا پانی ملے تو اس سے وضو نہیں کرےگا کیونکہ اس تیمم کی وجہ سے اُس وضو سے بے نیازی ہے وہ پانی اسی وقت استعمال کرےگا جب اس کے بعد حدث پا یا جائے۔ یہی قہستانی کی صریح عبارت ہے''۔ اور اس کے بعد قہستانی کی وہ عبارت نقل کی جو ابھی آرہی ہے۔ (ت)
(۲؎ طحطاوی علی الدرالمختار باب التیمم مطبوعہ بیروت ، ۱/۱۳۴)
اقول:لم(۲) یصل فھمی الی سرجعلہ ظاھر نص القھستانی ثم صریح عبارتہ وھو(۳) صریحھا لاشک ثمّ(۴) انما عاقہ عن الجزم بہ قصر نسبتہ علی القھستانی وماھولہ بل للامام الجلیل الاسبیجابی۔
اقول: انہوں نے پہلے اسے نص قہستانی کا ظاہر کہا پھر اس کو صریح عبارت کہا، اس میں کیا رمز ہے میرے فہم کی رسائی وہاں تک نہ ہوئی۔ یقینًا یہ قہستانی کی صریح عبارت ہے۔ اس پر جزم سے ان کےلئے یہی چیز مانع ہُوئی کہ اس کی نسبت قہستانی تک محدود ہے حالانکہ یہ قہستانی کا کلام نہیں بلکہ امام جلیل اسبیجابی کا ہے۔ (ت)
یہ سات۷ دلائل ہیں اور بحمداللہ تعالٰی روشن وکامل ہیں، اب صریح تر نصوص جزئیہ لیجئے وباللہ التوفیق۔
نص اول:محقق علامہ محمد بن فراموز دررالحکام میں فرماتے ہیں: لوان رجلا انتبہ من النوم محتملا وکان لہ ماء یکفی للوضوء لاللغسل تیمم ولم یجب علیہ الوضوء عندنا خلافا للشافعی ۱؎۔
اگر کوئی شخص احتلام کی حالت میں نیند سے بیدار ہو اور اس کے پاس اتنا پانی ہے جو صرف وضو کےلئے کافی ہے غسل کےلئے نہیں تو وہ تیمم کرے گا ہمارے نزدیک - بخلاف امام شافعی کے- اس پر وضو واجب نہیں۔ (ت)
صریح تصریح ہے کہ سوتے سے مُحتلم اٹھا جنابت وحدث دونوں تھے اور وضو کے قابل پانی موجود، وضو نہ کرے صرف تیمم کرے اور یہ کہ جنب کو حدث کےلئے وضو کا حکم دینا ہمارا مذہب نہیں امام شافعی رضی اللہ تعالٰی عنہ کا مذہب ہے۔
نص دوم:شرح مختصر امام اجل طحاوی للامام علی الاسبیجابی و غیرہ پھر جامع الرموز پھر طحطاوی علی الدر پھر ردالمحتار میں ہے:
الجنب اذاکان لہ ماء یکفی لبعض اعضائہ اوالمحدث عــہ للوضوء تیمم ولم یجب علیہ صرفہ الیہ الا اذا تیمم للجنابۃ ثم وقع منہ حدث موجب للوضوءفانہ یجب علیہ الوضوء حینئذ لانہ قدرعلی ماء کان لہ ۱؎۔
جنب کے پاس جب اتنا ہی پانی ہو جو اس کے بعض اعضاء کےلئے کفایت کرسکے۔ یا محدث کو،وضو کےلئے۔ تو وہ تیمم کرے اور اس پر اس پانی کو بعض اعضاء کےلئے صرف کرنا واجب نہیں مگر جب جنابت کا تیمم کرلے پھر اس سے کوئی ایسا حدث ہو جو وضو واجب کرتا ہے تو اب اس پر وضو واجب ہے اس لئے کہ وہ وضو کےلئے کافی پانی پر قادر ہے۔ (ت)
عــہ ھکذا ھو فی جامع الرموز وعنہ فی ردالمحتار ووقع نسخۃ ط المصر یۃ طبع المیری بدون لفظ المحدث وھو یشبہ التکرار فما اعضاء الوضوء الابعض اعضاء الجنب ۱۲ منہ غفرلہ (م)
یہ لفظ اسی طرح جامع الرموز میں ہے اور اس سے ردالمحتار میں بھی ایسے ہی نقل ہے اور طحطاوی کے مصری نسخہ طبع میری میں لفظ ''محدث'' کے بغیر ہے اور اس سے تکرار سی معلوم ہوتی ہے اس لئے کہ اعضائے وضو جنب کے بعض اعضاء ہی تو ہیں ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
(۱؎ جامع الرموز باب التیمم مطبعہ کریمیہ قزان ا یران ۱/۶۴)
صاف ارشاد ہے کہ جنب کو حدث کےلئے وضو صرف اسی وقت ہے کہ جنابت کا تیمم کرچکنے کے بعد حدث ہو اُس سے پہلے جتنے بھی حدث تھے اُن کےلئے وضو کی اصلاً حاجت نہیں۔
اقول:یعنی دونوں حالتوں میں جنب مذکور پر حدث کےلئے وضو نہیں۔ جب تک تیمم نہ کیا تھا جنب تھا اور حدث کےلئے وضو کا حکم نہ تھا اب کہ تیمم کرلیا پھر حدث ہوا اور اس پر حکم وضو آ یا اس وقت وہ جنب نہیں کہ جنابت کےلئے تیمم کرچکا اور وہ وقوعِ حدثِ اصغر سے نہیں ٹوٹ سکتا عبارت مذکورہ شرح طحاوی کا تتمہ ہے
ولم یجب علیہ التیمم لانہ بالتیمم خرج عن الجنابۃ الی ان یجد ماء کافیا للغسل ۲؎
(اور اس پر تیمم واجب نہیں کیونکہ وہ تیمم کرکے جنابت سے نکل چکا ہے یہاں تک کہ غسل کےلئے کافی پانی پائے۔ت)
(۲؎ السعا یۃ شرح الوقا یۃ، باب التیمم، سہیل اکیڈمی لاہور،۱/۴۹۱)
نص سوم عــہ: فتاوٰی امام اجل فقیہ النفس فخر الملّۃ والدّین قاضی خان میں ہے:
عــہ ردالمحتار کی عبارت کہ دلیل پنجم میں گزری کہ جس جنب کو صرف وضو کے قابل پانی ملے اس پر وضو فقط اس وقت ہے کہ تیمم جنابت کے بعد حدث ہو اگر اس تیمم سے پہلے حدث تھا اس کےلئے وضو عبث ہے، گو یا نص چہارم ہے کہ نصوص ائمہ واکابر ہی اس کے مأخذ ہیں ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)
جنب تیمم للظھر وصلی ثم احدث فحضرتہ العصر ومعہ ماء یکفی للوضوء فانہ یتوضأ لان الجنابۃ قد زالت بالتیمم فاذا احدث بعد التیمم ومعہ ماء یکفی للوضوء فانہ یتوضأ بہ فان توضأ للعصر وصلی ثم مربماء وعلم بہ ولم یغتسل حتی حضرتہ المغرب وقداحدث اولم یحدث ومعہ ماء قدر مایتوضأ بہ فانہ عــہ یتیمم ولایتوضأ بہ لانہ لمامر بماء یکفی للاغتسال عادجنبا فھذا جنب معہ ماء لایکفی للاغتسال فیتیمم ۱؎۔
کسی جنب نے ظہر کےلئے تیمم کیا اور نماز پڑھی پھر اسے حدث ہُوا تو نمازِ عصر کا وقت آ یا اور اس کے پاس اتنا پانی ہے جو وضو کےلئے کافی ہو تو وہ وضو کرے گاکیونکہ جنابت تو تیمم سے دُور ہوگئی۔ پھر جب بعد تیمم اسے حدث ہُوا اور اس کے پاس اتنا پانی بھی ہے جو وضو کےلئے کافی ہو تو وہ اس سے وضو کرے گا۔ تو اگر عصر کےلئے وضو کیا اور نماز پڑھی پھر پانی کے پاس سے گزرا اور اس سے باخبربھی ہُوا مگر غسل نہ کیا، یہاں تک کہ مغرب کا وقت آگیا اور اسے حدث بھی ہوا یا حدث نہ ہوا۔ اتنا پانی بھی اس کے پاس ہے جس سے وضو کرسکے تو اسے تیمم کرنا ہے وضو نہیں کرنا ہےکیونکہ جب وہ غسل کےلئے کافی پانی پر گزرا تو پھر جنب ہوگیا۔ اب یہ ایسا جنب ہے جس کے پاس غسل کےلئے ناکافی پانی ہے تو اسے تیمم کرنا ہے۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی قاضی خان باب التیمم مطبع نولکشور لکھنؤ ۱/۳۰)
عــہ فقیر کے پاس خانیہ کے چار۴ نسخے ہیں ایک مطبع العلوم کا مطبوعہ ۱۲۷۲ ہجریہ اس کی جلد اول نہیں۔ دوسرا مطبوعہ کلکتہ ۱۸۳۵ء جسے چوراسی۸۴ برس ہُوئے۔ تیسرا مطبوعہ مصر ۱۳۱۰ھ کہ ہامش ہندیہ پر ہے۔ چوتھا مطبع مصطفائی ۱۳۱۰ھ جس کے ہامش پر سراجیہ ہے۔ عجب کہ ان سب میں ومعہ ماء قدر مایتوضأبہ کے بعد الفاظ حکم ساقط ہیں اس کے بعد لانہ لمامر تعلیل ہے عجب نہیں کہ مصری ومصطفائی دونوں نسخے اسی نسخہ کلکتہ سے نقل ہوئے ہوں جس میں عبارت چھُوٹ گئی اگرچہ خود فحوائے عبارت نیز ملاحظہ ارشاد امام محمد کتاب الاصل سے کہ بعونہٖ تعالٰی افادات میں آتا ہے الفاظ ساقطہ ظاہر تھے کہ فانہ یتیمم ولایتوضأ بہ ہوں گے کاتب کی نظر ایک لایتوضأبہ سے دوسرے کی طرف منتقل ہوگئی بحمدہ تعالٰی نسخ قدیمہ سے اس کی تصدیق ہوگئی۔ چند سال ہوئے فقیر کے پاس ایک پُرانا قلمی نسخہ لکھنؤ سے آ یا تھا اس میں بعینہ عبارت یونہی تھی جس طرح فقیر نے خیال کی ومعہ من الماء قدر مایتوضأ بہ فانہ یتیمم ولایتوضأ بہ لانہ لمامر۔۔۔الخ اس کے بعد ولد عزیز ذوالعلم والتمیز فاضل بہار مولوی محمد ظفرالدین وفقہ اللّٰہ تعالٰی لحما یۃ الدین÷ ونکا یۃ للمفسدین÷ وجعلہ کاسمہ ظفرالدین÷ نے اپنے زمانہ مدرسی مدرسہ شمس الہدی بانکی پور میں عظیم آباد کے مشہور کتب خانہ خدابخش خان سے ایک بہت قدیم قلمی نسخے مکتوبہ ۹۰۰ ہجریہ سے جسے لکھے ہوئے ۴۳۵ برس ہوئے یہ مسئلہ نقل کرکے بھیجا اس میں بھی یہی صحیح عبارت ہے ومعہ ماء قدرما یتوضأ بہ فانہ یتیمم ولایتوضأبہ لانہ لمامر۔۔۔الخ۔ دوسری نقل ایک نسخہ مکتوبہ ۹۲۷ھ سے بھیجی جسے ۴۰۸ برس ہُوئے اُس میں یوں ہے ومعہ ماء قدرمایتوضأ بہ فانہ یتیمم لانہ لمامر۔۔۔الخ اس کا بھی حاصل وہی ہے کمالایخفی ۱۲ منہ غفرلہ (م)