Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۴(کتاب الطہارۃ)
36 - 2323
تبیین الحقائق امام فخر الدین میں ہے: الغسل الماموربہ ھو المبیح للصلاۃ ومالایبیحھا فوجودہ وعدمہ سواء ۲؎۔
جس دھونے کا حکم دے د یا گیا ہے یہ وہ ہے جس سے نماز جائز ہوجائے اور جس سے نماز جائز نہ ہو اس کا ہونا نہ ہونا برابر ہے۔ (ت)
(۲؎ تبیین الحقائق     باب التیمم،   مکتبہ امیریہ بولاق مصر     ۱/۴۱)
بنایہ امام بدر محمود میں ہے: المحدث اوالجنب اذا وجد بعض مایکفیہ من الماء لطھارتہ فعدم وجوب الاستعمال مذھبنا ومذھب مالک واکثر العلماء لان الاٰ یۃ سیقت لبیان الطھارۃ الحکمیۃ فکان قولہ تعالٰی فلم تجدوا ماء ای طھوراً محللا للصلاۃ وبوجود مالایکفی لم یوجد مایحلل ۳؎۔
بے وضو  یا جنب کو جب اپنی طہارت کےلئے کفایت کرنے والے پانی میں سے کُچھ ہی ملے تو اس کا استعمال واجب نہیں۔ یہ ہمارا، امام مالک اور اکثر علماء کا مذہب ہے۔ اس لئے کہ آیت کریمہ طہارت حکمیہ کے بیان کےلئے آئی ہے، تو ارشاد باری تعالٰی ''فلم تجدوا ماءً'' (پھر تم پانی نہ پاؤ) سے مراد ایسا آبِ طہارت ہے جو نمازمباح کردے اور ناکافی پانی ہونے سے وہ نا پا یا گیا جو نماز حلال کردے۔ (ت)
 (۳؎ البنا یۃ شرح الہدا یۃ    باب الماء الذی یجوزبہ الوضوء     ملک سنز فیصل آباد کراچی، ۱/۳۲۳)
فتح محقق حیث اطلق میں مجملاً پھر حلیہ میں موضحاً مفصلاً ہے: واللفظ لھا قلنا المراد بالماء فی النص مایکفی لازالۃ المانع لانہ سبحنہ امر بغسل جمیع البدن فی حق الجنب ومعلوم ان ذلک بالماء ثم نقل الی التیمم عند عدمہ بقولہ عزّوجل فلم تجدوا ماء فبالضرورۃ یکون التقد یر ان لم تجدوا ماء تغسلون بہ جمیع ابدانکم جنبا فتیمموا وھذا کمایصدق عند عدم الماء اصلا یصدق عند وجود الماء  غیر کاف لذلک فیتعین التیمم فی ھذا کالاول ۱؎۔
الفاظ حلیہ کے ہیں: ہم کہتے ہیں نص میں پانی سے مراد وہ ہے جو ازالہ مانع کےلئے کافی ہو اس لئے کہ خدائے پاک نے حق جنب میں پُورا بدن دھونے کا حکم فرما یا ہے اور معلوم ہے کہ یہ پانی ہی سے ہوگا۔ پھر پانی نہ ہونے کے وقت ارشاد باری عزوجل ''فلم تجدواماء'' (پھر تم پانی نہ پاؤ) سے حکم تیمم کی طرف منتقل ہوگیا۔ تو ضروری طور پر تقد یر کلام یہ ہوگی:اگر تم ایسا پانی نہ پاؤ جس سے اپنا پُورا بدن بحالتِ جنابت دھو سکو تو تیمم کرو۔ اور یہ بات جیسے بالکل پانی نہ ہونے کے وقت صادق ہے ویسے ہی ناکافی پانی ہونے کے وقت بھی صادق ہے تو اوّل کی طرح اس میں بھی تیمم متعین ہے۔ (ت)
)۱؎ فتح القد یر    باب التیمم        مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر            ۱/۱۱۹)
کفایہ امام جلال الدین پھر بحر محقق زین العابدین میں ہے: واللفظ لہ الاٰ یۃ سےقت لبیان الطھارۃ الحکم یۃ فکان التقد یر فلم تجدوا ماء محللا للصلاۃ وباستعمال القلیل لم یثبت شیئ من الحل فان الحل حکم والعلۃ غسل الاعضاء کلھا وشیئ من الحکم لایثبت ببعض العلۃ کبعض النصاب فی حق الزکاۃ وبعض الرقبۃ فی حق الکفارۃ ۲؎ کذا ذکر فی کثیر من الشروح۔
الفاظ بحر کے ہیں: آیت طہارت حکمیہ کے بیان کے لئے آئی ہے، تو تقد یر کلام یہ ہوگی: پھر تمام نماز کو حلال کرنے والا پانی نہ پاؤ -اور قلیل کے استعمال کرنے سے کچھ بھی حلّت ثابت نہ ہوئی،کیونکہ حلت حکم ہے،اور سارے اعضا کو دھونا علّت ہے۔اور کوئی حکم بعض علّت سے ثابت نہیں ہوتا جیسے حق زکاۃ میں بعض نصاب،اور حق کفارہ میں بعض بردہ کا حال ہے۔اسی طرح بہت سی شروح میں مذکور ہے۔(ت)
 (۲؎ البحرالرائق ،   باب التیمم ،  ایچ ایم سعید کمپنی کراچی  ۱/۱۳۹)
اور ظاہرہے کہ جنابت کے ساتھ اگرچہ سَو حدث ہوں وضو کرلینا ہرگز اُسے نماز کے قابل نہیں کرسکتا تو جب اسی قدر پانی پر قدرت ہے اُس کا ہونا نہ ہونا یکساں۔اگر اتنا پانی بھی نہ پاتا کیا کرتا۔صرف تیمم اب بھی صرف تیمم ہی کرے۔

دلیل ہفتم: شرح وقایہ میں جو خود اپنی اور تمام ائمہ کی تصریحات کے خلاف ایک  موہم عبارت واقع ہُوئی جس سے یہ متبادر کہ جنابت کے ساتھ حدث بھی ہو تو وضو کرے اور جنابت کےلئے تیمم عامہ محشین وکبرائے ناظرین یک  زبان اُس کی تاویل کی طرف جھُکے کہ ساتھ سے مراد بعد ہے یعنی جنب نے تیمم کرلیا اس کے بعد حدث ہوا اور پانی قابلِ وضو حاضر ہے تو اب وضو کرے کہ گزشتہ تیمم بعد کے حدث میں کام نہیں دے سکتا جیسے نہالینے کے بعد حدث ہوتا تو وضو کرنا لازم تھا نہ یہ کہ جنابت کا تیمم رفع حدث سابق کو کافی نہیں تیمم کے ساتھ وضو بھی کرنا پڑے کہ یہ بلاشبہہ مذہب کے خلاف اور اس کا بطلان ظاہر وصاف۔خلاصہ یہ کہ طہارت وحدث میں جو متأخر ہے سابق کو رفع کردیتا ہے تو جنابت کے ساتھ اگر ہزار حدث ہوں جب تیمم کرے گا سب رفع ہوجائیں گے لہذا واجب کہ عبارت شرح وقایہ کو حدث بعد تیمم پر حمل کریں۔علماء کا تاویل پر ہجوم روشن دلیل ہے کہ حکم وہ نہیں جو اُس کے ظاہر سے مفہوم ولہذا جس نے تاویل نہ پائی اعتراض کرد یا بہرحال اس کا ظاہر کسی نے مسلّم نہ رکھا۔
اللھم الا الفاضل القرہ باغی فی حاشیتہ علی شرح الوقا یۃ کماس یاتی اِن شاء اللّٰہ تعالٰی۔
ہاں مگر فاضل قرہ باغی نے شرح وقایہ پر اپنے حاشیہ میں جیسا کہ ان کا کلام اِن شاء اللہ تعالٰی آئےگا۔(ت)
اقول: والعجب من علامۃ الوز یر سکت عنہ فی الایضاح مع شدۃ ولوعہ بالاعتراض علی الامامین الشارح والماتن رحم اللّٰہ الجمیع حتی تجاوز الی المؤاخذات اللفظ یۃ وسمی متنہ الفقھی الاصلاح والاصولی تغییر التنقیح  غیر انہ لاینسب الی ساکت قول اما اثبات الھند یۃ کلام شرح الوقا یۃ ھذا بالتقر یر فمع قطع النظر عن ان غالب الفتاوی المنسوجۃ علی ھذا المنوال جل ھمتھا الجمع والتلفیق ولذا(۱) رجحت علیھا الشروح الباحثۃ بالتنقیح والتحقیق۔
اقول: تعجب ہے کہ علامہ وز یر اس پر ایضاح میں خاموش رہے جبکہ امامین شارح وماتن پر اعتراض سے ان کو بہت ز یادہ دلچسپی ہے-خدا سب پر رحمت فرمائے یہاں تک کہ لفظی گرفتوں تک تجاوز کرگئے اور اپنے فقہی متن کا نام ''اصلاح'' اور اصولی متن کا نام ''تغییر التنقیح'' رکھا مگر (یہاں وہ ساکت رہے تو) ساکت کی طرف تو کوئی قول منسوب نہیں کیا جا سکتا۔ہندیہ نے شرح وقایہ کا یہ کلام ایک  تقر یر سے ثابت کیا ہے۔ یوں تو اس انداز پر جمع شدہ ز یادہ تر فتاوٰی کا بڑا مقصد جمع وتلفیق ہوتا ہے اسی لئے تنقیح وتحقیق سے بحث کرنے والی شروح کو ایسے فتاوٰی پر ترجیح حاصل ہے۔(ت)
اقول:وعندی مَثَل المتون عــہ
اقول:میرے نزدیک  فقہ میں متون،
عــہ اقول:  ای کمختصرات(۱) الائمۃ الطحاوی والکرخی والقدوری والکنز والوافی والوقا یۃ والنقا یۃ والاصلاح والمختار ومجمع البحرین ومواھب الرحمٰن والملتقی وامثالھا الموضوعۃ لنقل المذھب لا کامثال(۲) المنیۃ فانھا لاتعد والفتاوی وقد رأیت التنو یر(۳) یدخل روا یات عن القنیۃ مع مصادمھا للمذھب المنصوص علیہ فی کتب محمد کمابینت بعضہ فی کتابی کفل الفقیہ الفاھم فی حکم قرطاس الدراھم وقد(۴) جھل بعض ضلّال الزمان وھو الگنگوھی فی رسالتہ فی الجماعۃ الثانیۃ اذجعل الاشباہ من المتون(۵) ولم یدر السفیہ مامعنی المتن المراد ھنا وزعم بجھلہ ان کل بیضاء شحمۃ وکل سوداء تمرۃ وھذا کتاب الاشباہ مشحونا بالنقول عن الفتاوی وبابحاثہ فمامرتبتہ الافی الفتاوی اوفی الشروح ھذا وقد(۶) عدوا الھدا یۃ من المتون مع انھا شرح بالصورۃ ۱۲ منہ غفرلہ (م)

اقول: یعنی جیسے مختصر امام طحاوی، مختصر امام کرخی، مختصر امام قدوری، کنز الدقائق، وافی، وقایہ، نقایہ، اصلاح، مختار، مجمع البحرین، مواہب الرحمن ملتقی۔اور ایسی ہی دوسری کتابیں جو نقل مذہب کےلئے لکھی گئی ہیں۔ منیہ جیسی کتاب نہیں کہ اس کا درجہ فتاوٰی سے ز یادہ نہیں اور میں نے  دیکھا کہ تنو یر الابصار میں قنیہ سے نقل شدہ روا یات داخل ہیں جب کہ وہ امام محمد کی کتابوں میں منصوص مذہب سے متصادم ہیں۔جیسا کہ ان میں سے بعض کا میں نے اپنی کتاب ''کفل الفقیہ الفاہم فی حکم قرطاس الدراہم'' میں بیان کیا ہے ایک  گمراہ زمانہ گنگوہی کی بے خبری دیکھیے کہ جماعت ثانیہ سے متعلق اپنے رسالہ میں ''اشباہ'' کو متون سے قرار د یا۔نادان کو یہ پتا نہیں کہ یہاں متن سے کون سا معنی مراد ہے اور اپنی بے خبری سے یہ سمجھ لیا کہ ''ہر سفید چیز چربی اور ہر سیاہ چیز کھجور ہے''۔( یا اردو مثل میں: ہر چمکتی چیز سونا ہے ۱۲م ۔الف) یہ کتاب الاشباہ فتاوٰی کی نقول وابحاث سے بھری ہوئی ہے تو اس کا درجہ فتاوٰی ہی کا ہے  یا شروح کا۔یہ ذہن نشین رہے، اور علما نے ہدایہ کو متون سے شمار کیا ہے باوجودیہ کہ وہ صورۃً شرح ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
والشروح عــہ۱ والفتاوی عــہ۲ فی الفقہ۔
شروح اور فتاوٰی کا حال وہی ہے
عـــہ۱ اقول:کشروح(۱) کتب الاصول الجامعین والاصل والز یادات والسیرین للائمۃ وشروح المختصر المذکورۃ المبنیۃ علی التحقیق ومبسوط الامام السرخسی وبدائع ملک العلماء والتبیین والفتح والعنا یۃ والبنا یۃ وغا یۃ البیان والدرا یۃ والکفا یۃ والنھا یۃ والحلیۃ والغنیۃ والبحر والنھر والدرر والدر وجامع المضمرات والجوھرۃ النیرۃ والایضاح وامثالھا وتدخل فیھا عندی حواشی المحققین مثل  غنیۃ الشرنبلالی وحواشی الخیر الرملی وردالمحتار ومنحۃ الخالق واشباھھا لا کالمجتبی(۲) وجامع الرموز وابی المکارم ونظرائھا بل ولا کالسراج الوھاج ومسکین ۱۲ منہ غفرلہ (م)

اقول:جیسے کتبِ اصول کی شرحیں جو ائمہ نے لکھیں (کتبِ اصول یہ ہیں: جامع کبیر، جامع صغیر، مبسوط، ز یادات، سِیر کبیر، سیر صغیر) اور (حاشیہ بالا میں) مذکورہ مختصرات کی شرحیں جو تحقیق پر مبنی ہوں -اور مبسوط امام سرخسی، بدائع ملک العلماء، تبیین الحقائق، فتح القد یر، عنایہ، بنایہ، غا یۃ البیان، درایہ، کفایہ، نہایہ، حلیہ، غنیہ، البحرالرائق، النہرالفائق، درر احکام، دُرمختار، جامع المضمرات، جوہرہ نیرہ، ایضاح۔ اور ایسی ہی دیگرکتابیں- میرے نزدیک  ان ہی میں محققین کے حواشی بھی داخل ہیں جیسے غنیہ شرنبلالی، حواشی خیر الدین رملی، ردالمحتار، منحۃ الخالق، اور ایسے ہی حواشی -مجتبٰی، جامع الرموز، شرح ابی المکارم جیسی کتابیں نہیں -بلکہ سراج وہاج اور شرح مسکین بھی نہیں ۱۲ منہ غفرلہ (ت)

عــہ۲ اقول مثل الخانیۃ(۳) والخلاصۃ والبزاز یۃ وخزانۃ المفتین وجواہر الفتاوی والمحیطات والذخیرۃ والواقعات للناطفی وللصدر الشھیدونوازل الفقیہ ومجموع النوازل والولوالجیۃ والظھیر یۃ والعمدۃ والکبری والصغری وتتمۃ الفتاوٰی والصیرفیۃ وفصول العمادی وفصول الاستروشنی وجامع الصغار والتاتارخانیۃ والھند یۃ وامثالھا ومنھا المنیۃ کماذکرت لا کالقن یۃ(۱) والرحمانیۃ وخزانۃ الروا یات ومجمع البرکات وبرھانہ اما المعروضات(۲) فمابنی منھا علی التنقر والتنقید والتنقیح فھی عندی فی مرتبۃ الشروح کالفتاوی الخیر یۃ والعقود الدر یۃ للعلامۃ شامی واطمع ان یسلک ربی بمنہ وکرمہ فتاوای ھذہ فی سلکھا فللارض من کأس الکرام نصیب اما فتاوی(۳) الطوری والمحقق ابن نجیم فقدقیل انہ لایعمد علیھا واللّٰہ تعالٰی اعلم ۱۲ منہ غفرلہ (م)

اقول:جیسے خانیہ، خلاصہ، بزازیہ، خزانۃ المفتین، جواہر الفتاوی، محیطات (محیط نام کی متعدد کتابیں ہیں) ذخیرہ، واقعاتِ ناطفی، واقعات صدر شہید، نوازل فقیہ، مجموع النوازل، ولوالجیہ، ظہیریہ، عمدہ، کبری، صغری، تتمہ الفتاوٰی، صیرفیہ، فصول عمادی، فصول استروشنی، جامع صغار، تاتارخانیہ، ہندیہ - اورایسی ہی کتابیں- ان ہی فتاوٰی میں منیہ بھی ہے جیسا کہ میں نے ذکر کیا -قنیہ، رحمانیہ، خزانۃ الروا یات، مجمع البرکات، اور ان کی برہان جیسی کتابیں نہیں۔ لیکن معروضات تو ان میں جو چھان بین اور تنقید وتنقیح پر مبنی ہوں وہ میرے نزدیک  شروح کے درجہ میں ہیں جیسے فتاوٰی خیریہ اور علامہ شامی کی العقود الدریہ- اور مجھے امید ہے کہ میرا رب اپنے احسان وکرم سے میرے ان فتاوی کو بھی ان ہی کی سلک میں منسلک فرمائے گا کہ اہلِ کرم کے جام سے زمین کو بھی حصہ مل جاتا ہے۔ رہے فتاوٰی طوری اور فتاوٰی محقق ابن نجیم تو ان کے بارے میں کہا گیا ہے کہ قابلِ اعتماد نہیں -اور خدائے برتر ہی خُوب جاننے والا ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
Flag Counter