Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۴(کتاب الطہارۃ)
35 - 2323
فالعبارۃ عین عبارۃ العنا یۃ وقدابرز کل ماقدرہ ورحم اللّٰہ اخی چلپی اذنقل عبارۃ العنا یۃ ھذہ واسقط منھا قولہ ویتیمم للجنابۃ واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
یہ عبارت بعینہ عنا یۃ کی عبارت ہے اور ہر ایک  نے اپنا اندازہ بیان کیا ہے اللہ تعالٰی اخی چلپی پر رحم کرے کیونکہ انہوں نے عنا یۃ کی یہی عبارت نقل کی ہے اور اس سے اس کا یہ قول ''ویتیمم للجنابۃ'' ساقط کرد یا ہے واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت) 

دلیل چہارم: اُس کی تعلیل فرماتے ہیں کہ تیمم جو پہلے ہوچکا حدث متأخر کو زائل نہ کرے ظاہر ہوا کہ جنابت کے لئے تیمم سے پہلے جو حدث ہوگا تیمم اسے بھی زائل کردے گا۔
کافی امام جلیل ابو البرکات نسفی میں ہے: جنب(۱) اغتسل وبقی لمعۃ وفنی ماؤہ یتیمم لبقاء الجنابۃ لانھا لاتتجزی زوالا وثبوتا فان تیمم ثم احدث تیمم للحدث لان تیممہ للجنابۃ متقدم علی الحدث فلم یجز عن الحدث المتؤخر کمالو اغتسل عن الجنابۃ ثم احدث علیہ ان یتوضأ ولم یجز الاغتسال عن الحدث المتأخر ۱؎۔
جنب نے غسل کیا کچھ جگہ چمکتی رہ گئی اور اس کا پانی ختم ہوگیا تو جنابت باقی رہنے کی وجہ سے وہ تیمم کرے اس لئے کہ زائل ہونے اور ثابت ہونے کسی معاملہ میں جنابت حصہ حصہ نہیں ہوتی (جاتی ہے تو ایک  ساتھ، آتی ہے تو ایک  ساتھ) تو اگر اس نے تیمم کیا پھر اسے حدث ہُوا تو حدث کےلئے تیمم کرے اس لئے کہ اس کا تیمم جنابت حدث سے پہلے ہوچکا۔ تو بعد والے حدث سے کفایت نہ کرے گا۔ جیسے اگر جنابت کا غسل کیا پھر اسے حدث ہوا تو اسے وضو کرنا ہے اور غسل سابق، حدث متأخر سے کفایت نہ کرسکے گا۔ (ت)
(۱؎ کافی)
دلیل پنجم: اُس کی توجیہ میں یہ بھی ارشاد فرماتے ہیں کہ جنابت کےلئے تیمم کرلینے کے بعد جو حدث ہوا تو اب یہ جنب نہیں کہ جنابت تو تیمم سے زائل ہوچکی نرامحدث ہے اور وضو کےلئے پانی موجود ہے تو وضو لازم ہے صاف اشعار فرما یا کہ اس وقت بھی اگر یہ جنب ہوتا وضو نہ کرتا صرف تیمم جنابت وحدث دونوں کے رفع کو کافی ہوتا ورنہ اس فرمانے کے کیا معنی کہ اور یہ جنب نہیں وھذا اظھر من ان یظھر (یہ اس سے ز یادہ واضح ہے کہ اس کی وضاحت کی جائے۔ ت)
بدائع ملک العلماء میں ہے: الجنب اذاوجد من الماء قدرمایتوضأ بہ لا غیر اجزأہ التیمم عندنا لان الغسل اذالم یفد الجواز کان الاشتغال بہ سفھا مع ان فیہ تضییع(۱) الماء وانہ حرام فصار کمن وجد(۲) مایطعم بہ خمسۃ مساکین فکفر بالصوم یجوز ولایؤمر باطعام الخمسۃ لعدم الفائدۃ فکذا ھذا بل اولی لان ھناک لایؤدی الٰی تضییع المال لحصول الثواب بالتصدق ومع ذلک لم یؤمر بہ لماقلنا فھھنا اولٰی ۲؎
جنب کو جب اتنا ہی پانی ملے جس سے صرف وضو کرسکے تو ہمارے نزدیک  تیمم اسے کافی ہوگا اس لئے کہ دھونے سے جب جواز نماز کا فائدہ نہیں حاصل ہوسکتا تو اس میں مشغولی بے وقوفی ہے۔ ساتھ ہی اس میں پانی کی بربادی بھی ہے اور یقینا یہ حرام ہے۔ تو اس کا حال اس کی طرح ہوا جسے اسی قدر ملاکہ اس سے پانچ مسکینوں کو کھلاسکے اس لئے اس نے روزوں سے کفارہ ادا کیا تو جائز ہے اور اسے پانچ کو کھلانے کا حکم نہیں د یا جائےگا اس لئے کہ بے فائدہ ہے۔ اسی طرح یہ بھی ہے بلکہ اس سے بڑھ کر ہے اس لئے کہ وہاں مال کی بربادی تک معاملہ نہیں پہنچتا کیونکہ صدقہ کرنے کا ثواب مل جائےگا، اس کے باوجود اس کا اسے حکم نہ د یا گیا تو یہاں بدرجہ اولٰی حکم نہ ہوگا۔
 (۲؎ بدائع الصنائع        شرائط تیمم        ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۵۰)
ولوتیمم الجنب ثم احدث بعد ذلک ومعہ من الماء قدرمایتوضأ بہ فانہ یتوضأ بہ لان ھذا محدث ولیس بجنب ومعہ من المائقدر مایکفیہ للوضؤ فیتوضأبہ ۱؎۔
بعد اسے حدث ہوا اور اس کے پاس اتنا پانی ہے جس سے وضو کرلے تو وہ وضو کرے گا کیونکہ یہ بے وضو ہے جنب نہیں ہے اور اس کے پاس اتنا پانی ہے جو وضو کےلئے کافی ہے تو اس سے وضو کرے گا۔ (ت)
 (۱؎ بدائع الصنائع    شرائط التیمم ، مکتبہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی،  ۱/۵۰)
یونہی درمختار میں ہے: لوتیمم للجنابۃ ثم احدث صار محدثا لاجنبا فیتوضأ ۲؎۔
اور اگر جنابت کا تیمم کیا پھر اسے حدث ہوا تو وہ محدث ہے جنب نہیں اس لئے وضو کرےگا۔ (ت)
 (۲؎ دُرمختار، باب التیمم ، مطبع مجتبائی دہلی ،۱/۴۵)
تیمم کے بعد حدث پر حکم وضو کو اس پر متفرع کیا کہ اب وہ محدث ہے جنب نہیں یعنی جنب ہوتا تو حدث کے باعث وضو نہ کرتا ولہذا ردالمحتار میں فرما یا:
افاد انہ اذا وجد ماء یکفیہ للوضوء فقط انما یتوضأ بہ اذا احدث بعد تیممہ عن الجنابۃ امالووجدہ وقت التیمم قبل الحدث لایلزمہ عندنا الوضوء بہ عن الحدث الذی مع الجنابۃ لانہ عبث اذ لابد لہ من التیمم ۳؎ اھ۔
اس سے یہ افادہ فرما یا کہ جب اسے اتنا پانی ملے جس سے صرف اس کا وضو ہوسکتا ہو تو وہ اس سے وضو کرے گا جبکہ اسے اپنے تیمم جنابت کے بعد حدث ہوا ہو۔ لیکن اگر یہ پانی تیمم ہی کے وقت قبل حدث ملا تو ہمارے نزدیک  اسے اس حدث سے جو جنابت کے ساتھ ہے وضو کرنا لازم نہیں کیونکہ عبث ہے اس لئے کہ تیمم اس کےلئے ضروری ہے۔ اھ (ت)
 (۳؎ ردالمحتار  باب التیمم  ، مکتبہ مصطفی البابی مصر ، ۱/۱۸۷)
تنبیہ:قول ملک العلماء قدس سرہ فیہ تضییع الماء تبعہ فیہ الامام النسفی فی الکافی فقال لنا انہ اذالم یطھر عن الجنابۃ باستعمالہ تکون تضییعا ۴؎ اھ۔
تنبیہ: ملک العلماء قدس سرہ، کا ارشاد ''فیہ تضییع الماء'' (اس میں پانی برباد کرنا ہے) اس پر امام نسفی نے ان کی پیروی کی ہے-وہ فرماتے ہیں: ''ہماری دلیل یہ ہے کہ اس کے استعمال سے جب وہ جنابت سے پاک نہ ہوا تو یہ برباد کرنا ہی ہے'' اھ (ت)
 (۴؎ کافی للامام النسفی)
وتبعھما الامام الزیلعی فی التبیین فقال اذا لم یفدکان الاشتغال عبثا وتضییعا للماء فی موضع عزتہ وتضییع(۱) المال حرام ۱؎ اھ۔
تبیین میں امام زیلعی نے ان دونوں حضرات کی پیروی کی ہے۔ تو فرما یا: ''جب یہ بے فائدہ ہے تو اس میں مشغول عبث ہے اور ایسی جگہ پانی برباد کرنا ہے جہاں پانی کم  یاب ہے اور مال برباد کرنا حرام ہے اھ''
 (۱؎ تبیین الحقائق    باب التیمم،   مطبعہ امیریہ بولاق مصر    ۱/۴۱)
وتبعھم المحقق فی الفتح فقال لایفید اذلایتجزأ بل الحدث قائم مابقی ادنی لمعۃ فیبقی مجرد اضاعۃ مال خصوصا فی موضع عزتہ مع بقاء الحدث کماھو ۲؎ اھ۔
اور محقق علی الاطلاق نے فتح القد یر میں ان حضرات کی پیروی کرتے ہوئے فرما یا: ''بے فائدہ ہے اس لئے کہ حدث کی تجزّی نہیں ہوتی بلکہ جب تک ذرا سا بھی حصّہ چھُوٹا رہے گا حدث رہے گا تو صرف مال کی بربادی باقی رہ جائے گی خصوصاً ایسی جگہ جہاں پانی کم یاب ہے باوجودیک ہ حدث جیسے تھا ویسے ہی باقی رہے گا''۔ اھ (ت)
 (۲؎ فتح القد یر     باب التیمم،  مکتبہ نوریہ رضویہ سکھّر        ۱/۱۱۹)
وتبعہ فی الحلیۃ والبحر علی الفاظہ وزادت الحلیۃ وقدصح عن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم انہ قال وانھی امتی عن اضاعۃ المال ۳؎ اھ والفقیر تبعھم فیما مضی واَجدر بھم للاتباع۔
اب حلیہ اور بحر نے الفاظ میں بھی ان کی پیروی کی۔ حلیہ نے مزید یہ فرما یا: حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے بروایت صحیحہ ثابت ہے کہ فرما یا: ''اور میں اپنی اُمت کو مال برباد کرنے سے منع فرماتا ہُوں'' اھ۔ فقیر نے بھی ماضی میں انہی حضرات کی پیروی کی اور وہ ان کی پیروی کا ز یادہ مستحق ہے۔
(۳؎ حلیہ)
اقول: لکن(۲) للعبد الضعیف نظر فیہ قوی فانہ وان لم  یرفع الحدث لعدم تجزیہ فلاشک انہ یسقط الفرض عما یصیبہ وکفی بہ فائدۃ ویعظم وقعہ اذاوجد بعدہ مایکفی للباقی بعد ھذا الاستعمال ولوترکہ وراح ثم وجد ھذالم یکف۔
اقول: لیکن بندہ ضعیف کو اس میں نظر قوی ہے کیونکہ اس سے حدث  غیر متجزی ہونے کے باعث اگرچہ ختم نہیں ہوتا لیکن اس میں شک نہیں کہ جس حصّے تک پہنچے گا اس سے فرض ساقط کردے گا۔ اتنی افادیت کافی ہے۔ اس کی وقعت اس وقت اور بڑھ جائےگی جب اس کے بعد اسے اتنا پانی ملے جو اسے استعمال کرنے کے بعد بقیہ اعضا کےلئے کافی ہو۔ اور اگر اسے چھوڑ کر چلاجائے پھر یہ ملے تو ناکافی ہوگا۔
وقدقال الامام رضی الدین السرخسی فی المحیط فیما اذا(۱) اغتسل وبقیت لمعۃ ثم وجد ماء لایکفی لھا یغسل شیئا من اللمعۃ ان شاء تقلیلا للجنابۃ ۱؎ اھ
 (۱؎ محیط رضی الدین السرخسی)
امام رضی الدین سرخسینے محیط میں فرما یا ہے: ''اس صورت میں جبکہ غسل کرلیا اور کچھ جگہ چمکتی رہ گئی پھر اتنا پانی ملا جو اس کےلئے کافی نہیں تو اگر چاہے جنابت کم کرنے کےلئے اس جگہ کا کچھ حصّہ دھولے''۔ اھ
قال فی الحل یۃ بعد نقلہ فی مسألۃ اُخری نظیرہ مانصہ یغسل من اللمعۃ مایتأتی تقلیلا للجنابۃ ۲؎ اھ
حلیہ کے اندر اسے نقل کرنے کے بعد ویسے ہی ایک  دوسرے مسئلہ میں یہ لکھا: ''چھوٹی ہوئی جگہ سے جو ہوسکے جنابت کم کرنے کی خاطر دھولے'' اھ
 ( ۲؎ حلیہ)
وفی خزانۃ المفتین عن شرح الطحاوی للامام الاسبیجابی وان کان لایکفی یغسل مقدار ما یکفیہ  حتی تقل الجنابۃ  ویتیمم۳؂ اھ
خزانۃ المفتین میں امام اسبیجابی کی شرح طحاوی سے نقل ہے: ''اگر کافی نہ ہو تو جس قدر کفایت کرے دھولے تاکہ جنابت کم ہوسکے اور تیمم کرے''۔ اھ
(۳؎ خزانۃ المفتین)
ومثلہ فی الخلاصۃ وشرح الوقا یۃ وکثیر من الکتب بل قدقال فی الکافی نفسہ جنب(۲) علی ظھرہ لمعۃ ونسی اعضاء وضوئہ وماؤہ یکفی احدھما صرفہ الی ایھما شاء لان کل واحد نجاسۃ الجنابۃ فاعضاء الوضؤ اولی اقامۃ للسنۃ ۱؎ اھ
اسی کے مثل خلاصہ، شرح وقایہ اور بہت سی کتابوں میں ہے بلکہ خود ''کافی'' میں لکھا ہے: ''جنب کی پشت پر چھُوٹی ہوئی جگہ ہے اور اعضائے وضو دھونا بھُول گیا اب جو پانی ہے کسی ایک  ہی کےلئے کفایت کرسکتا ہے تو دونوں میں سے جس میں چاہے اسے صرف کرے۔ اس لئے کہ ہر ایک  نجاست جنابتہی ہے تو اعضائے وضو بہتر ہوں گے تاکہ سنّت کی ادائیگی ہوجائے''۔ اھ
( ۱؎ فتاوٰی ہند یۃ    باب التیمم         نورانی کتب خانہ پشاور    ۱/۲۹)
وبمعناہ فی الھند یۃ عن شرح الز یادات للعتابی فھذا الصرف لیس الاتقلیلا للجنابۃ کماصرح بہ الائمۃ الاسبیجابی ورضی الدین السرخسی وطاھر البخاری وصدر الشریعۃ ومحمد الحلبی و غیرھم والالزم الجمع بین الوظیفتین فعلم انہ لیس باضاعۃ ولایوجب حرمۃ ولاشناعۃ۔
اسی کے ہم معنٰی ہندیہ میں عتابی کی شرح ز یادات سے نقل ہے۔ تو یہ صرف کرنا تقلیل جنابت کے لئے ہے جیسا کہ امام اسبیجابی، امام رضی الدین سرخسی، امام طاہر بخاری، امام صدر الشریعۃ، امام محمد حلبی و غیرہم نے اس کی صراحت فرمائی ورنہ دونوں عمل (دھونا اور تیمم) جمع کرنا لازم آتا اس سے معلوم ہوا کہ یہ پانی برباد کرنا نہیں اور اس سے کوئی حرمت وشناعت لازم نہیں آتی۔ (ت)
اقول: بل لایبعد ان یعد مستحبا لمافیہ من الخروج عن خلاف الامام الشافعی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ والخروج(۱) عن الخلاف مستحب بلاخلاف مالم یلزم مکروہ مذھبہ وانتفاء الکراھۃ قد علم ممااثرنا من النصوص۔
اقول: بلکہ اسے اگر مستحب شمار کیا جائے تو بعید نہ ہوگا کیونکہ اس میں امام شافعی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے اختلاف سے بچنا ہے اور اختلاف سے بچنا جب تک کہ اپنے مذہب کا کوئی مکروہ نہ لازم آئے بلاخلاف مستحب ہے۔ اور کراہت نہ ہونا ان نصوص سے معلوم ہوگیا جو ہم نے نقل کئے۔ (ت)
دلیل ششم: تصریحات ہیں کہ آیہ کریمہ فلم تجدوا ماء میں وہ پانی مراد ہے جس کا استعمال اسے قابلِ نماز کردے اتنا پانی کہ اسے استعمال کیے پر بھی قابلیت نماز نہ پیدا ہو (اقول: یعنی یُوں کہ اتنا پانی جس کے استعمال پر اسے قدرت ہے اور زائد بوجہ فقدان  یا ضرر  یا تنگی وقت مقدور نہیں تحصیل طہارت کےلئے کافی نہ ہو اس سے ز یادہ کی حاجت ہو ورنہ اگر یہ فی نفسہٖ مقدار مطلوب پر ہے اور کوئی اور وجہ مانع تو اس پانی کی مورثِ قابلیت ہونے میں خلل نہیں) نہ ابتداءً مانع تیمم ہے نہ انتہاءً اُس کا ناقض اُس کا وجود وعدم برابر ہے۔ بدائع امام ملک العلماء میں ہے:
المراد من الماء المطلق فی الاٰ یۃ ھو المقید وھو الماء المقید لاباحۃ الصلاۃ عند الغسل ۱؎ بہ۔
آیت میں مائے مطلق سے مراد مقید ہے اوریہ وہ پانی ہے کہ اگر اس سے دھو یا جائے تو جواز نماز کا فائدہ دے۔ (ت)
 (۱؎ بدائع الصنائع    باب التیمم    مکتبہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۵۱)
Flag Counter