خلاصہ میں ہے:فان اجنب المسافر ولم یجد من الماء الاقدرما یتوضأ فانہ یتیمم ولایتوضأ عندنا ۳؎۔
اگر مسافر جنب ہوا اور اسے اسی قدر پانی ملاکہ وضو کرے تو ہمارے نزدیک وہ تیمم کرے گا اور وضو نہیں کرے گا۔ (ت)
( ۳؎ خلاصۃ الفتاوٰی ، الفصل الخامس فی التیمم ، نولکشور لکھنؤ ۱/۳۳)
کافی میں ہے:جنب معہ ماء کاف للوضؤ تیمم ولم یتوضأ وعند الشافعی توضأ ثم تیمم ۴؎۔
جنب ہے جس کے پاس وضو کےلئے بقدر کفایت پانی ہے وہ تیمم کرے اور وضو نہ کرے اور امام شافعی کے نزدیک وضو کرے پھر تیمم کرے۔ (ت)
)۴؎ کافی)
حلیہ میں ہے: انما تنقض رؤیۃ الماء اذاکان یکفی للوضؤ ان کان محدثا اوالاغتسال ان کان جنبا والا لا وھذا فرع انہ فی الابتداء اذاوجد مالایکفیہ لایستعملہ فی بعض محل الطھارۃ بل یترکہ ویتیمم لاغیر وھذا قول اصحابنا ومالک و غیرہ بل حکاہ البغوی عن اکثر العلماء ۱؎۔
پانی دیکھنا اسی وقت ناقض ہوتا ہے جبکہ بے وضو تھا تو اتنا پانی ہو جو وضو کےلئے کافی ہو اور جنب تھا تو اتنا جو غسل کےلئے کافی ہو ورنہ ناقض نہیں اور یہ اس کی فرع ہے کہ ابتدا میں جب اسے ناکافی پانی ملے تو اسے محل طہارت کے ایک حصے میں استعمال نہیں کرے گا بلکہ اسے چھوڑ دے گا اور صرف تیمم کرےگا۔ یہ ہمارے اصحاب اور امام مالک و غیرہ کا قول ہے بلکہ بغوی نے اسے اکثر علماء سے حکایت کیا ہے۔ (ت)
( ۱؎ حلیہ)
غنیہ میں ہے: من علیہ الغسل اذاتیمم ثم وجد ماء لایکفی لغسلہ اوالمحدث ماء غیر کاف لوضوئہ لاینتقض تیممہ ولوکان معہ ذلک قبل التیمم جازلہ التیمم بدون استعمال خلافا للشافعی واحمد رحمھما اللّٰہ تعالٰی ۲؎۔
جس کے اوپر غسل فرض ہے جب وہ تیمم کرلے پھر اسے اتنا پانی ملے جو غسل کےلئے ناکافی ہو یا بے وضو کو اتنا پانی ملے جو وضو کےلئے نہ کافی ہو تو تیمم نہ ٹوٹے گا اور اگر قبل تیمم اتنا پانی ہوتا تو بھی اسے استعمال کیے بغیر اس کےلئے تیمم جائز ہوتا بخلاف امام شافعی وامام احمد رحمہما اللہ تعالٰی کے۔ (ت)
اذاکان للجنب ماء یکفی للوضوء لاللغسل یتیمم ولایجب علیہ التوضی عندنا خلافا للشافعی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ ۳؎۔
جب جنب کے پاس اتنا پانی ہو جو وضو کےلئے کافی ہو غسل کےلئے نہیں، تو وہ تیمم کرے اور اس پر وضو ہمارے نزدیک واجب نہیں بخلاف امام شافعی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے۔ (ت)
(۳؎ شرح الوقا یۃ ، باب التیمم ، مکتبہ رشیدیہ دہلی ، ۱/۹۵)
اور سب سے اجل واعظم محرر المذہب امام محمد رضی اللہ تعالٰی عنہ کا کتاب الاصل میں ارشاد ہے: اجنبب وعندہ ماء یکفی للوضوء تیمم وصلی ۴؎ اھ اثرہ فی الکفایۃ والغنیۃ فصل مسح الخفین تحت قولہ لایجوز المسح لمن علیہ الغسل ۵؎۔
جنب ہوا اور اس کے پاس اتنا ہی پانی ہے جو وضو کےلئے کافی ہو تو وہ تیمم کرے اور نماز پڑھے ۔ اھ اسے کفایہ اور غنیہ فصل مسح الخفین میں ز یرقول ''لایجوز المسح لمن علیہ الغسل'' نقل کیا۔ (ت)
(۴؎ الکفا یۃ مع فتح القد یر باب المسح علی الخفین مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/۱۳۵)
(۰۵؎ الکفا یۃ مع فتح القد یر باب المسح علی الخفین مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/۱۳۵)
ظاہر ہے کہ جنابت غالباً حدث سے جُدا نہیں ہوتی اگر جماع کیا تو اس سے پہلے مباشرت فاحشہ تھی اور احتلام ہوا تو
اُس سے پہلے سونا تھا اور مطلقاً انزال بے سبقت خروج مذی نہیں ہوتا یوں ہی بعد ہر انزال بول عادات مستمرہ عامہ سے ہے اور طبًّا بلکہ شرعاً(۱) بھی مطلوب کہ منی منفصل بشہوت کا جو بقیہ ہو خارج ہوجائے ورنہ بعد(۲) غسل نکلا تو دوبارہ نہانا ہوگا تو ظاہر ہوا کہ عام جنابتیں حدث سابق وحدث لاحق دونوں اپنے ساتھ رکھتی ہیں پھر تمام کتب کی تصریح کہ جنب غسل سے عاجز ہو اور وضو پر قادر جب بھی وضو نہ کرے صرف تیمم کرے دلیل صریح ہے کہ جنابت کا تیمم اس وقت جتنے بھی حدث موجود ہوں سب کا رافع ہے تو وضو کیا ضرور فقہائے(۳) کرام نادر صورت کا اکثر لحاظ نہیں فرماتے جنابت کے ساتھ حدث کا ہونا تو اس درجہ کثیر وغالب ہے کہ مفارقت ہی شاذ نادر ہے تو اس حالت میں اگر تیمم جنابت کے ساتھ حدث کےلئے وضو بھی درکار ہوتا تو یوں عام حکم معقول تھا کہ جنب اگر غسل نہ کرسکے اور وضو پر قادر ہو تو تیمم کے ساتھ وضو لازم ہے کہ صورت نادرہ افتراق کا لحاظ نہ فرما یا نہ کہ غالب کو ساقط النظر فرماکر یوں عام حکم دیں
بل فی ش الجنابۃ لاتنفک عن حدث یوجب الوضوء ۱؎ اھ
(بلکہ شامی میں ہے: جنابت وضو واجب کرنے والے حدث سے جُدا نہیں ہوتی۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار باب التیمم مطبع مصطفی البابی مصر ۱/۱۸۷)
وھذا ظاھرہ اللزوم اقول:ان(۴) حمل علی الغالب والافبلی کمن اجنب ولم یجد الامایکفی للوضوء فتیمم ثم احدث فتوضأ ثم وجد مایکفی للغسل فقد عاد جنبا من دون حدث۔
اس عبارت کا ظاہر یہی بتاتا ہے کہ جنابت اور حدث میں لزوم اقول اسے اگر اکثر پر محمول کریں تو ٹھیک ہے ورنہ جنابت حدث سے جدا کیوں نہیں ہوتی؟ اس کی مثال یہ ہے کہ کوئی شخص جنب ہوا اور اسے اتنا ہی پانی ملا جو وضو کےلئے کفایت کرسکے تو اس نے تیمم کیا پھر اسے حدث ہوا تو وضو کیا پھر اسے اتنا پانی ملا جو غسل کےلئے کافی ہے اب وہ پھر جنب ہوگیا اس کی جنابت حدث سے جُدا ہے۔ (ت)
دلیل سوم: تصریح فرماتے ہیں کہ جنب کے پاس وضو کےلئے کافی پانی ہو تو اُس پر وضو اُس حالت میں ہے کہ جنابت کےلئے تیمم کے بعد حدث واقع ہو بہت عبارات آگے آتی ہیں
اور نوازل امام فقیہ ابواللیث پھر خزانۃ المفتین میں ہے:
جب اس تیمم کے بعد حدث ہو اور اس کے پاس وضوکے لئے بقدر کفایت پانی ہو تو اس سے وضو کرےگا۔ (ت)
(۱؎ خزانۃ المفتین)
فتح القد یر ودرالحکام وشرح نقایہ عــہ برجندی وبحرالرائق حتی کہ خود شرح وقایہ مسح الخفین میں ہے:
واللفظ لہ تیمم للجنابت فان احدث بعد ذلک توضأ ۲؎۔
الفاظ شرح وقایہ ہی کے ہیں: جنابت کا تیمم کیا اگر اس کے بعد حدث ہو تو وضو کرے۔ (ت)
(۲؎ شرح الوقایہ باب التیمم مکتبہ رشیدیہ دہلی ۱/۱۰۸)
عــہ ھو فی نسختی البرجندی معز وللنھا یۃ لکن فی البحر عن النھا یۃ لایتأتی الاغتسال مع وجوہ الخف ملبوسا اھ واللّٰہ تعالٰی اعلم ۱۲ منہ غفرلہ (م)
میری نسخہ برجندی میں اس پر نہایہ کا حوالہ ہے لیکن بحر میں نہایہ سے یہ نقل ہے: ''موزہ ملبوس ہوتے ہوئے غسل نہیں ہوسکتا اھ'' اور خدائے بزرگ وبرتر خوب جاننے والا ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
یہ تقیید صاف بتارہی ہے کہ تیمم جنابت سے پہلے جو حدث ہو اس کےلئے وضو نہیں یہی تیمم اُسے بھی رفع کردےگا بلکہ خود کتاب مبسوط میں ارشاد محرر المذہب بعد بعد عبارت مذکورہ ہے:
فان(۱) احدث وعندہ ذلک الماء توضأ ۳؎۔
پھر اگر حدث ہو اور اس کے پاس وہ پانی موجود ہے تو وضو کرے۔ (ت)
(۳؎ مبسوط امام محمد، باب التیمم ، ادارۃ القرآن کراچی، ۱/۱۰۷)
تیمم جنابت کے بعد جو حدث ہُوا اس میں حکم وضو فرما یا۔
فان قلت ماتفعل بمانقل فی العنا یۃ ولوبلفظۃ قیل فی مسألۃ الاصل ھذہ اذقال تحت قول الھدا یۃ لایجوز المسح لمن علیہ الغسل قیل صورتہ توضأ ولبس الخف ثم اجنب ثم وجد ماء یکفی للوضوء لاللاغتسال فانہ یتوضأ ویغسل رجلیہ ولایمسح ویتیمم للجنابۃ ۱؎ اھ۔
اگر سوال ہو اسے کیا کیا جائے جو عنا یۃ کے اندر اسی مسئلہ مبسوط میں نقل ہے اگرچہ ''قیل'' کے لفظ سے ہے۔ ہدایہ کی عبارت ہے: ''اس کےلئے مسح جائز نہیں جس کے اوپر غسل ہو'' اس کے تحت صاحبِ عنایہ لکھتے ہیں: ''کہا گیا اس کی صورت یہ ہے کہ وضو کرکے موزہ پہن لیا پھر جنابت ہوئی پھر اتنا پانی ملا جو وضو کےلئے کفایت کرسکتا ہے غسل کےلئے نہیں تو یہ وضو کرےگا اور اپنے پَیروں کو دھوئے گا، مسح نہیں کرےگا اور جنابت کا تیمم کرے گا۔ (ت)
ج(۱؎ العنا یۃ مع فتح القد یر، باب التیمم ، مکتبہ نوریہ رضویہ سکھّر ، ۱/۱۳۴)
اقول: رحمہ اللّٰہ تعالٰی فلم یذکر الحدث اصلافان احتُج بارسالہ وجب الوضوء علی جنب لاحدث معہ ووجد وضوء وھو باطل قطعا باجماع الحنفیۃ حتی ظاھر العبارۃ الاٰتیۃ للامام شارح الوقا یۃ بل معناہ قطعا انہ اذا احتاج بعد ذلک للوضوء یتوضأ ویغسل رجلیہ کماھو عبارۃ العلامۃ الوز یر فی الایضاح وشیخی زادہ فی مجمع الانھر فی نفس ھذا التصو یر اذقالا من(۱) لبس خفیہ علی وضوء ثم اجنب فی مدۃ المسح ینزع خفیہ ویغسل رجلیہ اذاتوضأ ۲؎ اھ۔
اقول: اللہ تعالٰی ان پر رحمت فرمائے۔ انہوں نے حدث کا تو کوئی ذکر ہی نہ کیا۔ اگر ان کے بلاقید ذکر کرنے سے استدلال ہے تو وضو ایسے جنب پر بھی واجب ہوگا جس کے ساتھ کوئی حدث نہیں اور اسے وضو کا پانی مل گیا اور یہ باجماع حنفیہ قطعاً باطل ہے یہاں تک کہ امام شارح وقایہ کی آنے والی عبارت کا ظاہر بھی یہ نہیں بلکہ عنایہ کی عبارتِ بالا کا مطلب یہ ہے کہ اس کے بعد جب اسے وضو کی ضرورت ہو تو وضو کرےگا اور اپنے پَیروں کو دھوئے گا جیسا کہ ایضاح میں علامہ وز یر کی عبارت اور مجمع الانہر میں شیخی زادہ کی عبارت خود اسی صورت مسئلہ کے بیان میں ہے دونوں حضرات فرماتے ہیں: ''جس نے وضو پر اپنے موزے پہنے پھر مدت مسح میں جنابت لاحق ہُوئی تو وقتِ وضو اپنے موزے نکالے اور پیروں کو دھوئے'' اھ (ت)
(۲؎ مجمع الانہر باب المسح دار احیاء التراث العربی بیروت ۱/۴۶)
واذا ابتنی الامر علی حاجۃ الوضوءلم تبق للعبارۃ دلالۃ علٰی ماتوھمت فانا نقول انما یحتاج الیہ اذا احدث بعد تیممہ للجنابۃ والواو فی قولہ ویتیمم لیست للترتیب فالمعنی ثم اجنب فتیمم للجنابۃ ثم احدث ثم وجد الماء۔الخ
جب بنائے امر وضو کی احت یاج پر ہے تو مذکورہ وہم پر عبارت کی کوئی دلالت ہی نہیں۔ اس لئے کہ ہم کہتے ہیں اسے اس کی ضرورت اس وقت ہوگی جب جنابت کا تیمم کرنے کے بعد پھر اسے حدث ہو۔ ان کی عبارت ''ویتیمم'' میں واو ترتیب کا نہیں۔ تو معنی یہ ہے کہ پھر وہ جنب ہو تو جنابت کا تیمم کرے پھر اسے حدث ہو پھر پانی پائے الخ
وانظر عبارۃ الفاضل معین الھروی فی شرح الکنز فی نفس التصو یر توضأ ولیس الخف ثم اجنب فتیمم للجنابۃ ثم احدث ثم جوجد ماء یکفی للوضوء لا للاغتسال فانہ یتوضأ ویغسل رجلیہ ولایمسح ویتیمم للجنابۃ ۱؎ اھ
شرح کنز میں فاضل معین ہروی کی عبارت خود اسی صورت مسئلہ کے بیان میں ملاحظہ ہو: ''وضو کیا اور موزہ پہن لیا پھر اسے جنابت ہوئی تو جنابت کا تیمم کیا پھر اسے حدث ہُوا پھر اسے اتنا پانی ملا جو صرف وضو کےلئے کافی ہے غسل کےلئے نہیں تو وہ وضو کرے گا اور اپنے پَیروں کو دھوئے گا اور مسح نہیں کرے گا اور جنابت کے لئے تیمم کرے گا'' اھ (ت)
( ۱؎ شرح الکنز للہروی مع فتح المعین باب مسح الخفین ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۱۰۱)