رسالہ
الطلبۃ البدیعۃ فی قول صدر الشریعۃ (۱۳۳۵ھ)
کلام صدر الشریعۃ سے متعلق انوکھا مطلوب (ت)
نمبر ۱۵۷ میں تھا کہ نہانا ہو اور پانی صرف وضو کے قابل ہے تو فقط تميم کرے۔ یہاں شرح وقایہ امام صدر الشریعۃ رحمۃ اللہ علیہ کی ایک عبارت نے اس مسئلہ کو معرکۃ الآرا کردیا اُس کے حواشی کے علاوہ اور کتب مثل شرح نقایہ قہستانی ودرر علّامہ خسرو ودرمختار وغيرہا میں اُس کی طرف توجہ مبذول ہُوئی اس بحث کو بھی وہاں سے جدا کیا کہ یہ رسالہ ہوا وباللّٰہ التوفیق۔
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحيم
الحمدللّٰہ وھو المستعان÷ الذی شرح صدر الشریعۃ والايمان÷ بارسال سيد الانس والجان÷ وقایۃ للمومنین من النيران÷ وطھرنا بہ عن خبث الکفر وحدث الضلال÷ ونھانا عن اضاعۃ الماء والمال÷ علیہ وعلی اٰلہ الطیبن÷ واصحابہ المطیبین المُطیبین÷ وتابعيھم باحسان الٰی يوم الدّین÷ صلاۃ اللّٰہ وسلامہ کل اٰن وحین÷ من ازل الاٰزال الٰی ابد الاٰبدین÷ اٰمین وعلینا بھم یاارحم الراحمین÷
ساری خُوبیاں خدا کيلئے اور وہی ہے جس سے مدد طلب کی جاتی ہے جس نے جِن وانس کے سردار کو نار سے اہلِ ايمان کو بچانے کيلئے بھيج کر شریعت اور ايمان کا سینہ کھولا۔ اور ان کے ذریعہ ہمیں کُفر کے خُبث اور ضلالت کے حدث سے پاک کیا۔ اور ہمیں پانی اور مال برباد کرنے سے منع فرمایا ان پر اور ان کی پاکيزہ آل، پاکيزہ کيے ہوئے پاکيزہ کرنے والے اصحاب، اور روزِ جزا تک بھلائی کے ساتھ ان حضرات کی پيروی کرنے والوں پر خدا کی جانب سے ہر لمحہ وہر آن، ازلوں کے ازل سے، ابدوں کے ابد تک درود وسلام قبول فرما اور ان کے طفيل ہم پر بھی اے سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم فرمانے والے۔ (ت)
اقول: وباللّٰہ التوفیق (میں کہتا ہوں اللہ تعالٰی کی مدد سے۔ ت) اگر کوئی(۱) شخص جنب ہو اور اس کے ساتھ کوئی ایسا حدث بھی ہو جو وضو واجب کرے مثلاً پيشاب کیا تھا اس کے بعد جماع کیا یا احتلام سے اٹھا پھر پيشاب کیا اور حالت یہ ہو کہ وہ نہانہ سکے اور وضو کرسکے خواہ يوں کہ جنگل میں ہے اور پانی صرف وضو کے قابل ہے یا يوں کہ مریض ہے نہانا مضر ہے وضو سے ضرر نہیں یا يوں کہ صبح تنگ وقت محتلم اٹھا نہائے تو وقت نکل جائے گا اور وضو کی گنجائش ہے اس صورت میں قول امام زفر پر فتوٰی ہے کہ محافظت وقت کيلئے تميم سے پڑھ لے احتیاطاً اس پر عمل کرے پھر برعايت اصل مذہب بعد خروج وقت پانی سے طہارت کرکے اعادہ کرے جس کا بیان ہمارے رسالہ "الظفر لقول زفر" میں گزرا۔ اور اب بحمدہ(۲) تعالٰی اُس کی اور تائيد قوی پائی کتب جليلہ معتمدہ محیط وذخيرہ وبنایہ امام عینی میں ہے:
شرع التيمم لدفع الحرج وصیانۃ الوقت عن الفوات ۱؎۔
تميم حرج کے دفعیہ اور وقت کو فوت ہونے سے بچانے کيلئے مشروع ہوا ہے۔ (ت)
(۱؎ البنایۃ شرح الہدایہ باب التميم مطبع ملک سنز، فيصل آباد ۱/۳۲۷)
کفایہ میں ہے: التيمم شرع لصیانۃ الصلاۃ عن الفوات (الی ان قال) فلما جوز الشرع التيمم لتوھم الفوات لأن يجوز عند تحقق الفوات اولی ۲؎۔
تميم اس لئے مشروع ہُوا کہ فوت ہونے سے نماز کی حفاظت ہو (یہاں تک کہ فرمایا) تو جب شریعت نے فوت ہونے کے وہم کی وجہ سے تميم جائز کیا تو فوت ہونے کے تحقق ویقین کے وقت بدرجہ اولٰی جائز ہوگا۔ (ت)
(۲؎ الکفایۃ مع فتح القدیر باب التميم مطبع نوریہ رضویہ سکھّر ۱/۱۶۶)
ان سب صورتوں میں حکم یہ ہے کہ صرف تميم کرے اور وضو اگرچہ مضر نہیں اور اس کے قابل پانی بھی موجود اور وقت میں بھی اس کی وسعت ہے اصلا نہ کرے وہی تميم کہ جنابت کيلئے کرے گا حدث کے لئے بھی کافی ہوجائےگا۔ کتب مذہب سے اس پر دلائل کثيرہ ہیں:
دليل اوّل: عامہ معتمدات میں تصريح ہے کہ ہمارے(۱) ائمہ رضی اللہ تعالٰی عنہم کے نزدیک ایک طہارت میں پانی اور مٹی جمع نہیں ہوسکتے مثلاً محدث کے پاس اتنا پانی ہے کہ ہاتھ مُنہ دھولے یا جُنب کے پاس اتنا کہ وضو کرلے یا سارا بدن دھولے مگر چند اُنگل جگہ رہ جائے تو اُسے حکم ہے کہ صرف تميم کرے اُن مواضع میں پانی خرچ کرنے کی اصلاً حاجت نہیں کہ جب تک ناخن بھر جگہ باقی رہ جائے گی حدث وجنابت بدستور رہیں گے اُن میں ذرّہ بھر بھی کم نہ ہوگا کہ ہر حدث(۲) چھوٹا یا بڑا آتا ہے تو ایک ساتھ اور جاتا ہے تو ایک ساتھ اُس میں حصّے نہیں کہ بعض بدن کو حدث یا جنابت اب لاحق ہو بعض کو پھر یا بعض بدن سے اب دُور ہوجائے اور بعض سے کُچھ دیر میں اور جب بعد صرف بھی حدث بدستور تو پانی کا خرچ کیا ضرور۔ يوں(۳) ہی اگر محدث کے اکثر اعضائے وضو یا جنب کا اکثر بدن مجروح ہو تميم کریں یہ نہیں کہ جتنا بدن صحيح ہے اتنا دھوئیں اور باقی کے لئے تميم۔ تبيین الحقائق امام فخرالدین زيلعی میں ہے:
انہ تعالٰی امرنا باحدی الطھارتین علی البدل ولم یامرنا بالجمع بینہما ومن جمع بینہما فقد جمع بین الاصل والبدل فصار مخالفاللنص ۱؎۔
اللہ تعالٰی نے ہمیں بطور بدل دو طہارتوں میں سے ایک کا حکم دیا، دونوں کو جمع کرنے کا حکم نہ دیا۔ جو دونوں کو اکٹھا کرے وہ اصل اور بدل کو یکجا کرکے نص کا مخالف ہوا۔ (ت)
(۱؎ تبيین الحقائق ، باب التميم ، مطبعہ اميریہ مصر ۱/۴۱)
بنایہ امام عینی میں ہے : انہ عجز عن بعض الاصل فیسقط الاعتداد بہ مع البدل فی حالۃ واحدۃ کمن عجز عن بعض الرقبۃ فی الکفارۃ ولايلزم(۴) اذاغسل بعض الاعضاء ثم نضب الماء لان ماتقدم یسقط ويصیر مؤدیا للفرض بالتيمم خاصۃ ۲؎۔
وہ اصل کے کچھ حصہ سے عاجز ہوگیا تو بدل کے ساتھ بیک وقت اس کا شمار ساقط ہے جیسے دو شخص کفارہ میں بَردہ کے بعض حصہ سے عاجز ہوجائے اس پر اس صورت سے اعتراض نہ لازم آئے گا جب کچھ اعضاء دھوچکا ہو پھر پانی ختم ہوگیا اس لئے کہ جو پہلے ہوا وہ ساقط ہوجائے گا اور وہ خاص تميم سے فرض ادا کرنے والا ہوگا۔ (ت)
(۲؎ البنایۃ شرح الہدایۃ باب الماء الذی يجوزبہ الوضوء ملک سنز فيصل آباد ۱/۳۲۴)
حلیہ محقق ابن امیر الحاج میں ہے: اعلم ان الجواب فی ھذہ المسائل يتفرع علی اصل مذھبی وھو ان تلفیق اقامۃ الطھارۃ الواحدۃ بالماء والتراب معاغیر مشروع عنہ اصحابنا لان الماء اصل والتراب خلف والجمع بین الاصل والبدل فی حکم واحد لانظيرلہ فی الشرع الاتری ان(۱) التکفیر بالمال لایکمل بالصوم ولابالعکس ولاعدۃ(۲) الحائض بالاشھر ولاذوات الاشھر بالحیض ۱؎۔
واضح ہو کہ ان مسائل کا جواب ایک مذہبی قاعدہ پر متفرع ہے۔ وہ یہ کہ ایک ہی طہارت کی ادائيگی بیک وقت پانی اور مٹّی دونوں سے مخلوط کرنا ہمارے اصحاب کے نزدیک نامشروع ہے۔ اس لئے کہ پانی اصل ہے اور مٹی نائب ہے۔ اور ایک حکم کے اندر اصل اور بدل دونوں کو جمع کرنے کی شریعت میں کوئی نظیر نہیں دیکھئے مال کے ذریعہ کفارہ کی ادائيگی روزے سے پُوری نہیں کی جاتی۔ اسی طرح برعکس بھی نہیں يونہی حیض والی کی عدّت مہینوں سے اور مہینوں والی کی عدّت حیض سے تکميل نہیں پاتی۔ (ت)
(۱؎ حلیہ)
اختیار شرح مختار پھر خزانۃ المفتین میں ہے: من بہ جراحۃ وعلیہ الغسل غسل بدنہ الاموضعھا ولايتيمم وکذلک اذاکانت فی اعضاء الوضوء لان الجمع بینھما جمع بین البدل والمبدل ولانظيرلہ فی الشرع ۲؎۔
جسے زخم ہو اور اس کو غسل کرنا ہے تو وہ جگہ چھوڑ کر اپنے بدن کو دھوئے اور تميم نہ کرے۔ اسی طرح جب اعضائے وضو میں جراحت ہو (تو وہ جگہ چھوڑ کر باقی دھوئے) اس لئے کہ دونوں کو جمع کرنا بدل اور مُبدَل کو جمع کرنا ہے اور شریعت میں اس کی کوئی نظیر نہیں۔ (ت)
( ۲؎ اختیار شرح مختار آخر باب التميم مطبع البابی مصر ۱/۲۳)
بدائع امام ملک العلماء میں ہے: لوکان ببعض اعضاء الجنب جراحۃ اوجُدری فان کان الغالب ھو السقيم تيمم لان العبرۃ للغالب ولايغسل الصحيح عندنا خلافا للشافعی لان الجمع بین الغسل و التيمم ممتنع الا فی حال وقوع الشک فی طھوریۃ الماء ولم يوجد ۱؎ اھ کلامہ الشريف۔
جنب کے بعض اعضاء میں زخم یا چيچک ہو تو اگر اکثر حصّہ سقيم ہے تميم کرے اس لئے کہ اعتبار اکثر کا ہے اور صحيح حصّہ کو ہمارے نزدیک دھونا نہیں ہے بخلاف امام شافعی کے۔ وجہ یہ ہے کہ دھونا اور تميم دونوں کو جمع کرنا ممتنع ہے مگر جبکہ پانی کی طہوريت میں شک ہو اور یہ شک موجود نہیں۔ (ان کا کلام شريف ختم ہوا) (ت)
اقول: عہ بل ولافيھا(۱) لان الصحيح فی الواقع احدھما والاٰخر معدوم شرعا فلاجمع الاصورۃ۔
اقول : بلکہ اس حالت میں بھی نہیں اس لئے کہ فی الواقع دونوں میں سے ایک ہی درست ہے اور دوسرا شرعا معدوم ہے تو جمع کرنا صرف صورۃً ہے۔ (ت)
کنز الدقائق وتنویر الابصار میں ہے: لايجمع بینھما اھ ای تيمم وغسل ۲؎ درمختار بفتح الغین لیعم الطھارتین ۳؎ ش عن ح۔
دونوں کو جمع نہ کرے گا اھ یعنی تيمم اور غسل (دھونے) کو -- درمختار غسل عین کے فتحہ کے ساتھ تاکہ دونوں طہارتوں کو شامل ہوجائے۔ شامی ازحلبی۔ (ت)
(۲؎ درمختار ، باب التیمم ، مجتبائی دہلی ۱/۴۵)
(۳؎ ردالمحتار ، باب التیمم ، مصطفی البابی مصر ۱/۱۸۹)
عــہ ثم رأیتہ فی ش عن البحر قال لان الفرض یتأدی باحدھما لابھما فجمعنا بینھما بالشک۴ اھ ثم رأیتہ بعینہ فی التبیین ۱۲ منہ غفرلہ (م)
پھر میں نے اسے شامی میں بحر کے حوالہ سے دیکھا فرما یا: اس لئے کہ فرض ایک ہی سے ادا ہوتا ہے دونوں سے نہیں تو شک کی وجہ سے ہم نے دونوں کو جمع کیا اھ پھر بعینہٖ یہی میں نے تبیین میں بھی دیکھا ۱۲ منہ غفرلہ۔ (ت)
(۴؎ ردالمحتار ، باب التیمم ، مصطفی البابی مصر ، ۱/۱۸۹)
اقول:کل(۲) لیس لمتوھم ان یتوھم الجمع بین التیمم والغسل بالضم ۔
اقول: بلکہ کوئی یہ وہم نہیں کرسکتا کہ تیمم اور غسل (بالضم) جمع ہوگا۔ (ت)
دلیل دوم: صاف مطلق ارشاد ہے کہ جنب کے پاس اگرچہ وضو کےلئے کافی پانی موجود ہو وضو نہ کرے صرف تیمم کرے اور یہ کہ مذہب حنفی کا اس پر اجماع ہے شافعی وحنبلی کو نزاع ہے۔ جواہر الفتاوٰی امام کرمانی باب رابع میں ہے:
جنب فی مفازۃ معہ من الماء مایکفی لوضوئہ فانہ یتیمم ولایستعمل الماء ۱؎۔
کسی بیابان میں جنابت والا ہے جس کے پاس اتنا پانی ہے جو اس کے وضو کےلئے کفایت کرے تو وہ تیمم کرے گا اور پانی استعمال نہیں کرے گا۔ (ت)
)۱؎ جواہر الفتاوٰی)
نوازل امام اجل فقیہ ابو اللیث پھر خزانۃ المفتین میں ہے:مسافرا جنب ومعہ ماء یکفی للوضوء فانہ یتیمم ۲؎۔
کوئی مسافر جنب ہوا اور اس کے پاس اتنا پانی ہے جو وضو کےلئے کفایت کرے تو وہ تیمم کرے گا۔ (ت)