Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۴(کتاب الطہارۃ)
32 - 2323
وبالجملۃ جمیع صور العطاء الاٰتیۃ فی سائر الاقسام الماضیۃ ومنھا مؤثرات باحد الاٰثار الثلٰثۃ وھی کل القسم الاول اربعۃ وخمسون وثلثۃ اسباع الثانی ستۃ وثلثون لان العطاء قبل التيمم اوالصلاۃ اوفيھا وکل فی الوقت بعد السؤال اوبدونہ اوبعد الوقت فھی ثلثۃ فی کل والاولان ثلاثیان والثالث سداسی ونصف الرابع اربعۃ وعشرون وکل الخامس خمسۃ واربعون والسابع سبعۃ وعشرون والثانی عشر ثمانیۃ واربعون مجموعھا مائتان واربعۃ وثلثون۔
بالجملہ آنے والی عطا کی ساری صورتیں گزشتہ ساری اقسام میں ہے ان میں سے کچھ تینوں اثرات میں سے کوئی ایک اثر بھی رکھتی ہیں اور یہ قسم اول کی سبھی ہیں جن کی تعداد چوّن۵۴ ہے اور ثانی کی ۷/۳ چھتّیس۳۶ اس لئے کہ عطا تميم سے پہلے ہوگی یا نماز سے پہلے یا نماز کے اندر، اور ہر ایک وقت کے(۱) اندر بعد سوال یا بلاسوال(۲) یا بعد وقت تو ہر ایک میں یہ تین ہیں اور پہلی دونوں ثلاثی ہیں تیسری سداسی ہے اور چہارم کی نصف چوبیس۲۴ اور خامس کی سبھی پینتالیس۴۵ اور سابع کی ستائیس۲۷ اور بارھویں کی اڑتالیس۴۸۔ کل دوسوچونتیس۲۳۴۔
ومنھا مالاےؤثر لکونہ بعد الوقت وھو ثلث الثالث اثنا عشر وثلث السادس ثمانیۃ عشرلان فیہ وجھین للعطاء ووجھا لعدمہ ونصف العطاء بعد الوقت فکان ثلث الکل۔
ان میں سے کچھ غیر مؤثر ہیں کيونکہ بعد وقت ہیں، یہ سوم کی تہائی بارہ ہیں اور ششم کی تہائی اٹھارہ اس لئے کہ اس میں عطائی دو شکلیں ہیں اور عدم عطا کی ایک شکل ہے اور نصف عطا بعد وقت تو کل کی تہائی ہوئیں۔
وربع الثامن ثمانیۃ عشرلان فیہ وجھا لعدم العطاء وثلثۃ وجوہ للعطاء منھا وجھان لمافی الوقت فکان لعدم الوقت ربع الکل ومن الثالث عشر ثمانیۃ واربعون مجموعھا ستۃ وتسعون ومع المؤثرات ثلثمائۃ(۳۳۰) وثلثون فلتخزن فان ھذہ لايفارق فيھا المنع والعطاء فی الموقع اما فی الفریق الثانی فظاھر لان العطاء بعد الوقت فلایکون المنع الابعدہ۔
اور ہشتم کی چوتھائی اٹھارہ اس لئے کہ اس میں عدمِ عطا کی ایک صورت، اور عطا کی تین صورتیں ہیں۔ دو صورتیں اس کی ہیں جو وقت کے اندر ہو۔ تو عدم وقت کے لئے کل کی چوتھائی ہوئی اور تيرھویں سے اڑتالیس۴۸ جن کا مجموعہ چھیانوے۹۶ ہوگا اور مؤثرات کے ساتھ تین سوتیس۳۳۰۔ انہیں جمع کرلیا جائے کہ ان کے اندر منع وعطا میں موقع کا اختلاف نہیں۔ فریق ثانی میں تو ظاہر ہے اس لئے کہ عطا بعد وقت ہے تو منع بھی بعد وقت ہی ہوگا۔
واما فی فریق المؤثرات فلان الفرض منعہ قبل الاستعمال فان اعطی قبل التيمم لایکون لہ ان يتيمم حتی یقع المنع بعد التيمم وان اعطاہ قبل الصلاۃ لایکون لہ ان يصلی حتی یقع فی الصلاۃ وقس علیہ و
اور فریق مؤثرات میں اس لئے کہ فرض یہ کیا گیا ہے ہے کہ استعمال سے پہلے منع کردیا ہو تو اگر تميم سے پہلے دے دیا اسے تميم کرنا روانہ ہوگا یہاں تک کہ تميم کے بعد منع واقع ہو اور اگر نماز سے پہلے دے دیا تو اس کيلئے نماز ادا کرنا روانہ ہوگا یہاں تک کہ منع اندرونِ نماز واقع ہو اور اسی پر قیاس کرلیا جائے۔
ومنھا مافی الوقت ولايؤثر وھی ثلث السادس ثمانیۃ عشر ونصف الثامن ستۃ وثلثون ومن الثالث عشر ثمانیۃ واربعون مجموعھا مائۃ واثنان ففی ھذہ يمکن الافتراق لانہ اذا اعطی فی الوقت ولم يؤثر فلہ ان لایستعمل لماء الاٰن ويدخرہ للوقت الاٰتی فيصح المنع قبل استعمالہ بعد الوقت فھذہ تنقسم الی قسمین المنع فی الوقت وبعدہ فتصیر مائتین(۲۰۴) واربعۃ ومع المخزونات خسمائۃ(۵۳۴) واربعۃ وثلثین ھذہ وجوہ ھذا القسم الخامس عشر۔
اور ان میں سے کچھ وہ ہیں جو وقت میں ہوںاور مؤثر نہ ہوں یہ ششم کی تہائی اٹھارہ ہیں اور ہشتم کی نصف چھتیس۳۶، اور تيرھویں سے اڑتالیس۔ کل ایک سودو۱۰۲ ہیں۔ ان میں افتراق ہوسکتا ہے۔ اس لئے کہ اگر وہ وقت میں دے اور مؤثر نہ ہو تو اسے حق ہے کہ اس وقت پانی استعمال نہ کرے اور وقت آئندہ کيلئے ذخيرہ کر رکھے تو بعد وقت اس کے استعمال سے پہلے منع صحيح ہوگا۔ تو ان کی دو قسمیں ہوں گی منع(۱) اندرون وقت، منع(۲) بعد وقت تو دوسوچار۲۰۴ ہوجائیں گی اور جمع شدہ کو ملاکر پانچ سوچونتیس۵۳۴  ہونگی یہ اس پندرھویں قسم کی صورتیں ہیں۔
حکمہ اباحۃ التيمم الاٰن ان کان العطاء منعہ ولا اثرلہ علی مامضی من تيمم اوصلاۃ بل ان کان فللعطاء السابق مجموع ھذہ الاقسام الخمسۃ تسعمائۃ واربعۃ وخمسون ومع السابقات الف وثلثمائۃ وثمانون واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
حکم: اس وقت تميم مباح ہونا ہے اگر عطا اس سے مانع تھی۔ اور گزشتہ تميم یا نماز پر اس کا کوئی اثر نہیں۔ بلکہ اگر اثر ہوگا تو عطائے سابق کا ہوگا۔ ان پانچوں اقسام کا مجموعہ نوسوچوّن۹۵۴ ہُوا اور سابقہ قسموں کو ملاکر ایک ہزارتین سو اسّی۱۳۸۰ ہوا اور خدائے برتر خُوب جاننے والا ہے۔

اضافۃ اخرٰی

اقول: وھھنا وجوہ اُخر فان احوال اربعۃ:

عطا، وعد، سکوت، منع۔ وقد ذکروا العطاء بعد المنع وذکرنا فی وجوہ قوانینھم العطاء بعد الوعد وبعد السکوت وزدنا المنع بعد العطاء فمن وزانھا الوعد ثم الاباء والاباء ثم الوعد والسکوت ثم الاباء اوالوعد فھذہ اربعۃ ترکیبات اُخر ثنائیات اماما فوق الثنائی فلا امکان لاحصائہ جل من احصی کل شیئ عددا والاسترسال فی بیان تقاسيم ھزہ الاربعۃ ایضا مخرج عن القصد ومن عرف تصرفنا فی ابانۃ الاقسام لم یعسر علیہ فلنقتصر علی بیان الاحکام الکلیۃ بانین علی استظھارا تنا السالفۃ غیر قاطعی القول فيما يتعلق بابحاثنا۔
اضافہ ديگر

اقول: یہاں کچھ اور صورتیں ہیں۔ اس لئے کہ حالتیں چار۴ ہیں:

عطا، وعدہ، سکوت، منع۔ علما نے عطا بعد منع بھی ذکر کیا ہے اور ہم نے ان کے قوانین کی صورتوں کے اندر عطا بعد وعدہ وبعد سکوت بھی ذکر کیا ہے اور منع بعد عطا کا اضافہ کیا ہے۔ تو اسی کے مقابلہ میں وعدہ(۱) پھر انکار، انکار(۲) پھر وعدہ، سکوت(۳) پھر انکار، یا وعدہ(۴) بھی ہیں۔ تو یہ چار دوسری ثنائی ترکیبیں ہُوئیں لیکن ثنائی سے اوپر تو ان کا شمار ممکن نہیں بزرگ ہے وہ جس نے ہر چيز کا شمار رکھا ہے۔ اب ان چاروں کی تقسيموں کی توضیع میں چلیں تو اعتدال سے باہر ہوجائیں گے۔ توضيح اقسام میں ہمارا تصرف جس نے سمجھ لیا اس کيلئے یہ مشکل نہ ہوگا۔ تو ہم احکام کلیہ کے بیان پر اقتصار کریں بنائے کلام ہمارے سابقہ استظہاروں پر ہوگی مگر جو ہماری ابحاث سے متعلق ہے اس میں ہم قطعی قول نہ کریں گے۔
فاقول: اذا(۱) وعدثم ابی فان کان الوعد قبل التيمم واذن لایکون الاباء ایضا الاقبہ لان الوعد حاجز عن التيمم فھذا الاباء یبيح التيمم وان کان الوعد بعد التيمم نقضہ فلایعيدہ الاباء بل يجيز تجديدہ وکذا ان کان فی الصلاۃ قطعھا فلايصلھا الاباء بعدہ وان کان بعدھا تمت الصلاۃ وزال ماکان يخشی علیہ من جانب الوعد ان لم یظھر خلفہ۔
فاقول: (۱) جب وعدہ کرے پھر انکار کردے تو اگر وعدہ قبل تميم ہو اور اِس صورت میں انکار بھی قبل تميم ہی ہوگا۔ اس لئے کہ وعدہ تميم میں رکاوٹ ڈالتا ہے تو یہ۰ انکار تميم مباح کردے گا اور اگر وعدہ تميم کے بعد ہو تو اسے توڑ دے گا۔ تو انکار اسے واپس نہ لائےگا بلکہ اس کی تجديد جائز کردے گا اسی طرح اگر وعدہ نماز کے اندر ہو تو نماز کو توڑ دے گا تو اس کے بعد انکار اسے جوڑ نہ دے گا اور اگر وعدہ بعد نماز ہو تو نماز تام ہے اور وہ زائل ہے جس کا وعدہ کی جانب سے خطرہ رہتا ہے کہ اس کے خلاف نہ ظاہر ہو۔
وان(۲) ابی ثم وعد فان وقع الوی قبل تمام الصلاۃ نسخ الاباء ومنع ونقض وقطع وان وقع بعدھا لم يؤثر لان العطاء بعد الصلاۃ لایضر اذاکان بعد المنع فکيف بالوعد۔
 (۲) اور اگر انکار کرے پھر وعدہ کرے تو اگر وعدہ قبل تکميل نماز واقع ہوا انکار کو منسوخ کردے گا اور مانع، ناقض اور قاطع ہوگا۔ اور اگر بعد نماز ہوا تو مؤثر نہ ہوگا اس لئے کہ بعد نماز عطا مضر نہیں جبکہ بعد منح ہو۔ تو وعدہ کا کیا حال ہوگا۔
وان(۱) سکت ثم ابی فالسکوت کان نفسہ دليل الاباء والاٰن قداتی الصريح۔ وان(۲) سکت ثم وعد فان کان السکوت يحتمل ان یکون لاللاباء کماوصفنا فی ابحاثہ فھذا الوعد جعل ذلک المحتمل متعینا فیعمل عملہ من الاٰثار الثلثہ والا لافصح التيمم وتمت الصلاۃ واللّٰہ سبحنہ وتعالٰی اعلم÷ وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم÷ وصلی اللّٰہ تعالٰی علٰی سيدنا ومولٰنا محمد واٰلہ وصحبہ وابنہ وحزبہ وبارک وسلم÷ الی ابدالابدین÷ فی کل اٰن وحین÷ والحمدللّٰہ رب العٰلمین÷
 (۳) اگر خاموش رہا پھر انکار کیا تو سکوت خود ہی دليل انکار تھا اور اب تو صريح ہوگا۔(۴) اگر خاموش رہا پھر وعدہ کیا تو اگر سکوت میں یہ احتمال ہو کہ انکار کی وجہ سے نہ ہوگا جیسا کہ اس کی بحثوں میں ہم نے بتایا تو یہ وعدہ اس محتمل کو متعین کردے گا۔ تو اپنا کام کرے گا کہ تینوں اثرات ڈالے گا۔ ورنہ نہیں تو تميم صحيح اور نماز تام ہوگی۔اور خدائے پاک وبرتر خوب جاننے والا ہے اس مجدِ بزرگ والے کا علم زیادہ تام اور محکم ہے، اور خدائے برتر کی طرف سے ہمارے آقا ومولٰی محمد اور ان کی آل، اصحاب، فرزند اور گروہ پر ہميشہ ہميشہ، ہر لمحہ وہر آن درود اور برکت وسلام ہو۔ اور ساری تعريفیں سارے جہانوں کے مالک خدا کيلئے ہیں۔ (ت)
Flag Counter