Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۴(کتاب الطہارۃ)
31 - 2323
فان قيل لااثر لھذہ لمامر ان الوعد بعد النفاد لایعتبر والوعد الابائی لااثرلہ فی الوقت الحاضر بل فی الوقت الموعود بہ والمنع بعد العطاء ان اثر فاباحۃ تيمم منعہ العطاء لاغیر کماقدمت فی المسألۃ العاشرۃ۔
اگر کہا جائے کہ اس کا کوئی اثر نہیں اس لئے کہ ختم ہونے کے بعد وعدہ کا اعتبار نہیں اور موجودہ وقت میں وعدہ ابائی کا کوئی اثر نہیں بلکہ وقت موعود میں ہے اور دینے کے بعد انکار اگر اثر کرے گا تو یہی کہ وہ تميم جو عطا سے ممنوع ہوگیا تھا اب مباح ہوجائے گا کچھ اور اثر نہ ہوگا جیسا کہ مسئلہ وہم میں بیان ہوا۔
اقول:  الیس ھذا اثرا والوعد کيفما کان ان لحقہ العطاء قبل تمام الصلاۃ تحصل الاٰثار الثلثۃ وان کان حصولھا بالعطاء کما بالعطاء قبلہ بعد المنع وان لم يلحقہ جاز تيممّہ وبقی وتمّت الصّلوۃ۔
اقول: کیا یہ اثر نہیں۔ اور وعدہ جیسا بھی ہو اگر قبل تکميل نماز اسے عطا لاحق ہوئی تو تینوں اثرات حاصل ہوں گے اگرچہ یہ عطا سے حاصل ہوں گے جیسا کہ اس سے قبل، منع کے بعد دینے سے اگر عطا نہ لاحق ہو تو اس کا تميم جائز وباقی اور نماز تام ہے۔
وقد ذکروا المنع ولااثرلہ الا ھذا وذکر المنع لايغنی عنہ فانہ من الوعد فيشتبہ الامر فیہ
علماء نے انکار کا ذکر کیا ہے اور اس کا سوائے اس کے کوئی اثر نہیں اور انکار کا ذکر کارآمد نہیں اس لئے کہ وہ وعدہ سے (انکار) ہے۔تو معاملہ اس میں مشتبہ ہو جائے گا ۔
ثم قد ذکروا العطاء بعد الاباء وخصوہ بالعطاء بعد الصلاۃ وھو لااثرلہ اصلا وانما ذکروہ لبیان خلوہ عن الاثر فان اردنا ايرادھا زدنا فی الضابطۃ ان الوعد باظھار النفاد والوعد الابائی کلاھما لااثرلہ الا اذالحقہ العطاء قبل تمام الصلاۃ ولایسمع منع بعد عطاء الا اذابقی الماء ولم يخرج عن ملک المعطی فیبيح التيمم ان منعہ  عہ  العطاء واذن تصیر اقسام الوعد سبعۃ لانہ باظھار نفاد الماء اوبدونہ علی الاول یعطی(۱) قبل ختم الصلاۃ مؤولا بسھوہ مثلا اولا(۲) وعلی الثانی ام ان یعد ابائیا(۳) یعطی بعدہ قبل تمام الصلاۃ لان تاجيل وعدہ لايمنعہ عن تعجيلہ اولا(۴) واما(۵) رجائیا وقع قبل تمامھا او(۶)بعدہ وفی ھذا ظھر خلفہ اولا(۷)۔
پھر عطا بعد انکار کا ذکر کیا ہے اور اسے عطا بعد نماز سے خاص کیا ہے۔ اس کا بھی کوئی اثر نہیں۔ا س کی بے اثری بتانے ہی کيلئے علما نے اسے ذکر کیا ہے۔ اگر ہم اسے بھی لانا چاہیں تو ضابطہ میں یہ اضافہ کردیں گے کہ ختم ہونے کا اظاہر کرکے وعدہ اور وعدہ ابائی دونوں بے اثر ہیں مگر جب کہ قبل تکميل نماز انہیں عطا لاحق ہو۔ اور منع بعد عطا مسموع نہیں مگر جب کہ پانی باقی ہو اور دینے والے کی ملک سے باہر نہ ہوا ہو تو تميم کو مباح کردے گا اگر عطا اس سے مانع ہو۔ اور اب وعدہ کی قسمیں سات۷ ہوجائیں گی اس لئے کہ وعدہ پانی ختم ہونے کا اظہار کے ساتھ ہوگا یا اس کے بغیر ہوگا برتقدیر اول ختم نماز سے پہلے۔ مثلاً اپنے بھول جانے کا عذر کرتے ہوئے دے دےگا۔ (۲) یا نہیں برتقدیر ثانی (۳) یا تو ایسا وعد ابائی کرے گا جس کے بعد قبل تکميل نماز دے دے اس لئے کہ وعدہ کو مؤجل کرنا اس کی تعجيل سے مانع نہیں (۴) یا ایسا نہ ہوگا (۵) یا وعدہ رجائی کرے گا جو قبل تکميل نماز واقع ہو (۶) یا اس کے بعد ہو، اور اس میں اس کا خلف ظاہر ہو (۷) یا ایسا نہ ہو۔
عہ:  احتراز عن البیع بخیار البائع کماتقدم فی المسألۃ العاشرۃ ۱۲ منہ غفرلہ (م) بیع بشرط خیار بائع سے احتراز ہے، جیسا کہ مسئلہ دہم میں گزرا ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
والمنع ثلثۃ باضافۃ مااذا کان بعد العطاء مع بقاء الماء وملکہ اما خلافہ وھو المنع بعد مانفد اوخرج عن ملک المانع فلايحتاج الی ادخالہ فی الاقسام لانہ يرجی الامن مجنون فتصیر جمیع الاقسام خمسۃ عشر۔
اور منع کی تین۳ قسمیں ہوجائیں گی اس کا اضافہ کردینے کی وجہ سے جو منع بعد عطا پانی اور ملک باقی رہے کے ساتھ ہو۔ لیکن اس کا خلاف۔ وہ یہ کہ پانی ختم ہونے کے بعد یا مانع کی ملک سے نکل جانے کے بعد منع ہو۔ تو اسے داخل اقسام کرنے کی ضرورت نہیں کہ ایسا منع وانکار مجنون کے سوا کسی سے متوقع نہیں اب کل اقسام پندرہ۱۵ ہوجائیں گی۔
اما انواع ھذہ الخمسۃ المزيدۃ فاقول: (۱۱) وعد(۱)باظھار النفاد واعطی قبل تمام الصلاۃ صورہ ثمان واربعون۔
لیکن ان اضافہ شدہ پانچ کی نوعیں فاقول (تو میں کہتا ہوں): (۱۱) ختم ہونا ظاہر کرکے وعدہ کیا اور تکميل نماز سے پہلے دے دیا۔ اس کی اڑتالیس۴۸ صورتیں ہیں۔
حکم التأثير۔ (۱۲) وعد(۲)کذلک ولم یعط قبل تمامھا صورہ ۱۶۲۔
اس کا حکم مؤثر ہے۔ (۱۲) اسی طرح وعدہ کیا اور قبل تکميل نماز نہ دیا۔ اس کی ۱۶۲ صورتیں ہیں۔
حکمہ تمت ویظھر لک ھذا بتاليیہ لان ھذا الوعد لايخالف الابائی احکاما ولااقساما اجمالا ولاتفصيلا۔
حکم نماز تام ہے۔ یہ اپنے بعد والی دونوں قسموں سے واضح ہوگی اس لئے کہ یہ وعدہ احکام، اقسام، اجمال، تفصيل کسی وعدہ ابائی کے برخلاف نہیں۔
 (۱۳) وعد(۳)ابائیا واعطی قبل تمام الصلاۃ مواقعہ ثلثۃ:

(i) قبل التيمم     (ii)اوالصلاۃ  (iii) اوفيھا

فعلی الاول الثلاثی للعطاء المواقع الثلثۃ وعلی الثانی الثلاثی اثنان فخمسۃ فی ثلثۃ خمسۃ عشر وبالتثنیۃ ثلثون عن اما الثالث ففیہ وجھان لان الوعد فی الصّلاۃ ان کان بسؤال فقد لزمہ استئناف الصلاۃ والامضت لان ھذا الوعد لاینقض التيمم فعلی الثانی ماللعطاء الاوجہ واحد ان یعطی قبل تمام ھذہ الصلاۃ وعلی الاول يحتمل ان یعطی قبل شروع الصلاۃ المستأنفۃ اوفيھا فصار الثالث وھو سداسی علی ثلثۃ وجوہ بثمانیۃ عشر ومع الثلثین ثمانیۃ واربعون(۴۸)۔
 (۱۳) وعدہ ابائی کیا اور قبل تکميل نماز دے دیا۔ اس کے تین۳ مواقع ہیں:

(i) قبل تميم (ii) قبل نماز (iii) اندرونِ نماز

تو اوّل ثلاثی میں عطا کے تینوں مواقع ہیں۔ اور دوم ثلاثی میں دو۲ ہیں تو پانچ کو تین میں ضرب دینے سے پندرہ۱۵ صورتیں ہوں گی اور پندرہ کو دو میں ضرب دینے سے تیس ہوں گی۔ تقدیر سوم پر دو۲ صورتیں ہیں اس لئے کہ نماز میں وعدہ اگر اس کے مانگنے پر ہوا تو اس پر ازسرِنو پڑھنا لازم ہے ورنہ نافذ وتام ہوگئی اس لئے کہ یہ وعدہ تميم نہیں توڑتا۔ تو دوسری صورت میں عطا کی صرف ایک شکل ہوگی وہ یہ کہ قبل تکميل نماز دے دے اور پہلی صورت میں احتمال ہے کہ ازسرِنو پڑھی جانے والی نماز شروع کرنے سے پہلے دے یا اس نماز کے اندر ہی دے تو سوم جو سُداسی ہے تین شکلوں پر ہوکر اٹھارہ۱۸ ہوگئی۔ یہ تیس۳۰ کے ساتھ مل کر کُل اڑتالیس۴۸ ہوئیں۔
حکمہ التأثیر لاللوعد فانہ منع بالنظر للوقت بل للعطاء۔

(۱۴) وعدا(۱)بائیا ولم یعط قبل تمامھا لہ المواقع الخمسۃ بزیادۃ ما(۴) بعد الصلاۃ مطلعا(۵) اوغیر مطلع فان کان قبل التيمم اوالصلاۃ احتمل اربعۃ:

(۱) ان یعطی بعد الصلاۃ فی الوقت مع الاطلاع۔ (۲) اوبدونہ  (۳) اوبعد الوقت  (۴) اولا۔ وان کان بعد الصلاۃ قبل الاطلاع خرج الاول بعدہ خرج الثانی لان العطاء لايخالف الوعد فی ھذین فان المراد الاطلاع حین تيمم وصلی بہ ليتوھم اویثبت السکوت اذذاک دليل المنع۔
حکم: تاثیر وعدہ کی وجہ سے نہیں کيونکہ یہ تو بنظر وقت منع ہے بلکہ عطا کی وجہ سے۔

(۱۴) وعدابائی کیا اور قبل تکميل نماز نہ دیا نماز(۴) کے بعد مطلع ہوکر یا غیر مطلع(۵) رہ کر نہ دینے کی صورت کا اضافہ کرکے اس کے پانچ مواقع ہوں گے اگر تميم یا نماز سے پہلے ہو تو اس میں چار۴ احتمال ہوں گے:



(۱) نماز کے بعد، وقت کے اندر اسے اطلاع دینا۔(۲) بغیر اطلاع دینا(۳) بعد وقت دینا(۴) ایسا کُچھ نہ ہو۔

اگر بعد نماز قبل اطلاع ہو تو احتمال اول خارج ہوجائے گا اور اگر بعد اطلاع ہو تو احتمال دوم خارج ہوجائےگا۔ اس لئے کہ ان دونوں میں عطا خلاف وعدہ نہیں۔ کيونکہ مراد ہے اس وقت اطلاع جب تميم کیا اور اس سے نماز ادا کی تاکہ یہ وہم یا ثبوت ہوسکے کہ اس وقت سکوت دليل منع ہے۔
فاذن کل من الاولین الثلاثین اثناعشر وکل من الاٰخرین السداسيین ثمانیۃ عشر فھی ستون وبالتثنیۃ مائۃ وعشرون۔
اب پہلی دونوں ثلاثی میں سے ہر ایک بارہ، اور بعد والی دونوں سُداسی میں سے ہر ایک اٹھارہ، تو یہ ساٹھ۶۰ صورتیں ہُوئیں اور دو۲ میں ضرب دینے سے ایک سوبیس۱۲۰ ہوئیں۔
بقی الثالث الوسطانی ان یکون الوعد فی الصّلاۃ فان لم یکن عن سؤالہ احتمل ان یعطی بعدھا فی الوقت اوبعدہ اولا وان کان بسؤالہ فلاجل الاستئناف احتمل ان یعطی فی الوقت بعد المستأنفۃ مع الاطلاع اوبغيرہ اوبعد الوقت اولا فھذہ سبعۃ سداسیات باثنین واربعین والکل مائۃ واثنان۱۶۲ وستون۔
تیسری درمیانی باقی رہ گئی وہ یہ کہ وعدہ نماز میں ہو، تو اگر اس کے سوال پر نہ ہو تو احتمال ہے کہ بنا کے بعد وقت کے اندر یا بعد وقت دے دے یا نہ دے اور اگر اس کے سوال پر ہے تو استیناف نماز کی وجہ سے احتمال پيدا ہوا کہ ازسرِنو پڑھی جانے والی نماز کے بعد وقت میں بحالتِ اطلاع یا بلااطلاع دے دے، یا بعد وقت دے یا نہ دے۔ یہ سات۷ احتمالات ہوئے سب سُداسی ہیں تو بیالیس۴۲ ہوئے اور کُل ایک سو باسٹھ۱۶۲ ہوئے۔
حکمہ تمت وینتقض تيممہ الاٰن ان اعطی۔

(۱۵) اعطی(۱) ثم منع وملکہ والماء باق ھذا العطاء يحتمل انیکون بلاسؤال اوبعدہ عاجلا اوبعد وعدا وصمت اومنع وعلی کل یکون قبل التيمم اوالصلاۃ اوفيھا اوبعدھا بالاطلاع اوبدونہ اوبعد الوقت۔
حکم: نماز تام ہے اور تميم اس وقت ٹوٹ جائےگا اگر دے دے۔ 

(۱۵) دیا پھر منع کیا اور اس کی ملک اور پانی باقی ہے۔ اس عطا میں احتمال ہے کہ بلا سوال ہو یا بعد سوال فوراً ہو یا وعدہ یا خموشی یا انکار کے بعد ہو اور بہرتقدیر یا تو دینا قبل تميم ہوگا یا قبل نماز یا اندرونِ نماز یا بعد نماز بحالتِ اطلاع یا بلا اطلاع یا بعد الوقت۔
Flag Counter