حکمہ الاٰثار الثلثۃ بالوجہ المذکور
(۳) وعد بعد الصلاۃ فظھر خلفہ لہ وجھان ان لایعطی اصلا من دون عذر اویعطی بعد الوقت لماقدمنا ان الوعد فی حاجۃ موقتۃ يتعلق بالوقت خاصۃ وعلی کل یکون بعد الاطلاع اوبدونہ والکل سداسی فھی اربعۃ وعشرون نصفھا الاول اعنی مالاعطاء فيھا تثنی فتصیر اربعۃ وعشرین ونصفھا الاٰخر اعنی العطاء بعد الوقت لایثنی لمامر فیکون لکل ستۃ(۳۶) وثلثین اثنا عشر منھا لسؤال۔
حکم وہی تینوں اثرات بطریق مذکور(۳) وعدہ بعد نماز جس کا خلف ظاہر ہوا۔ اس کی دو۲ صورتیں ہیں، یا(۱) تو بالکل نہ دے بغیر کسی عذر کے یا(۲) وقت کے بعد دے اس لئے کہ ہم بتاچکے کہ وقتی حاجت کے لئے وعدہ خاص وقت سے متعلق ہوتا ہے اور بہردو صورت یا تو بعد(۳) اطلاعِ مذکور ہوگا یا اس(۳) کے بغیر اور ہر صورت سُداسی ہے تو چوبیس۲۴ صورتیں ہوئیں، ان میں سے نصف اول یعنی وہ جن میں عطا نہیں ڈبل ہوکر چوبیس۲۴ ہوجائیں گی اور نصف ديگر یعنی عطا بعد وقت والی ڈبل نہ ہوں گی وجہ گزر چُکی تو کُل چھتیس۳۶ ہوجائیں گی جن میں سے بارہ سوال والی ہیں۔
حکمہ تمت۔ حکم نماز تام ہے۔
(۴) (۱) لم یظھر خلفہ لہ ایضا وجھان یعطی فی الوقت اولا یعطی لنحو وجوہ قدمنا فی المسألۃ الثامنۃ کأن کان قال لہ تعالِ فی الوقت الفلانی اعطک فلم یذھب ھذا والاقسام ھھنا ثمانیۃ(۴۸) واربعون لان التقسيم کسابقہ وھھنا الفریقان مثنیان۔
(۴) اس کا خلف ظاہر نہ ہوا۔ اس کی بھی دو۲ صورتیں ہیں وقت(۱) کے اندر دے دے گا یا(۲) نہ دے گا۔ اور اسی قسم کی وجہوں کے باعث جو ہم نے مسئلہ ہشتم میں بیان کیں۔ مثلاً اس سے کہا تھا فلاں وقت آنا تمہیں دُوں گا۔ یہ نہ گیا قسمیں یہاں اڑتالیس۴۸ ہیں۔ اس لئے کہ تقسيم اس سے پہلے والی کی طرح ہے اور یہاں دونوں ہی فریق ڈبل ہیں۔
حکمہ یعيد الصلاۃ۔
حکم اعادہ نماز ہے۔
(۵) سکت واعطی فی الوقت قبل الاطلاع حیث ان السکوت يتقدمہ السؤال فللسؤال اربعۃ مواقع قبل التيمم(۱) او(۲)الصلاۃ او(۳)فيھا او(۴)بعدھا والعطاء علی الاول رباعی کذلک وعلی الثانی ثلاثی باسقاط الاول وعلی الثالث کذلک لانہ قطع الصلاۃ بالسؤال ولم ینتقض تيممہ فالعطاء اما ان یکون قبل المستانفۃ اوفيھا اوبعدھا وعلی الرابع مالہ الاوجہ واحد لانہ لایعيد الصلاۃ بالسکوت والاذلان ثلاثیان فسبعتھما احد وعشرون والاخيران سداسیان فاربعتھما اربعۃ وعشرون والکل خمسۃ(۴۵) واربعون۔
(۵) خاموش رہا اور وقت کے اندر قبل اطلاع مذکور دے دیا۔ چونکہ سکوت سے پہلے سوال ہوگا۔ تو سوال کے چار مواقع ہیں (۱) قبل تميم (۲) قبل نماز (۳) دورانِ نماز (۴) بعد نماز اور برتقدیر اول عطا کی بھی ایسے ہی چار۴ چار۴ صورتیں ہیں، اور برتقدیر دوم ثلاثی ہے باسقاطِ اول اور برتقديم سوم بھی ایسا ہی ہے۔ اس لئے کہ اس نے مانگ کر نماز توڑ دی اور اس کا تميم ابھی نہ ٹوٹا تو دینا ازسرِنو پڑھی جانے والی نماز سے پہلے ہوگا یا اس کے اندر یا اس کے بعد اور برتقدیر چہارم اس کی صرف ایک صورت ہے اس لئے کہ سکوت کی وجہ سے اس کو نماز کا اعادہ نہیں کرنا ہے پہلی دونوں ثلاثی ہیں تو ان کی ساتوں مل کر اکیس۲۱ ہونگی اور آخر والی دونوں سُداسی ہیں تو ان کی چاروں چوبیس۲۴ ہوں گی اور کُل پینتالیس۴۵ ہوں گی۔
حکمہ الاٰثار الثلثۃ۔ حکم تینوں اثرات۔
(۶) سکت(۱) ولم یعط فی الوقت قبل الاطلاع فاما فی الوقت بعد الاطلاع اوبعدہ اولا اصلا وفی کلھا السؤال علی مواقعہ الاربعۃ فکل من الاولین الثلاثین بثلثۃ وجوہ العطاء وعدمہ تسعۃ وکل من الاخيرین السداسيین ثمانیۃ عشر فھی اربعۃ(۵۴) وخمسون۔
(۶) خاموش رہا اور وقت کے اندر اطلاع مذکور سے قبل نہ دیا یا تو(۱) وقت کے اندر بعد اطلاع نہ دیا یا وقت(۲) کے بعد نہ دیا یا بالکل(۳) نہ دیا اور ان میں سے ہر ایک میں سوال اپنے چاروں مواقع پر ہے۔ تو پہلی دونوں ثلاثی میں سے ہر ایک عطا وعدم عطا کی تین صورتوں کے ساتھ نو۹ ہوگی اور بعد والی دونوں سُداسی میں سے ہر ایک اٹھارہ۱۸ ہوگی۔ تو کُل چوّن۵۴ ہوں گی۔
حکمہ تمّت۔ حکم نماز تام ہے۔
(۷) منع(۲) فاعطی قبل تمام الصلاۃ لسؤال ثلثۃ مواقع غیر الاخیر وکذا للعطاء علی الاول وعلی الباقین اثنان لانہ بقطع الصلاۃ یستأنفھا فھی سبعۃ وکل فی الاولین الثالث سداسیان باثنی عشر فھی سبعۃ(۲۷) وعشرون۔
(۷) انکار کیا پھر قبل تکميل نماز دے دیا۔ اس کے سوال کے تین مواقع ہیں آخری چھوڑ کر اسی طرح پہی صورت میں عطا کے مواقع اور باقی دو۲ میں دو۲ ہیں اس لئے کہ نماز توڑ دینے کی وجہ سے اس کو ازسرِنو ادا کرے گا۔ تو یہ سات۷ ہوئیں۔ اور اولَین میں سے ہر ایک ثلاثی ہے تو ان کی پانچوں پندرہ۱۵ ہونگی اور سوم کی دونوں قسمیں سداسی ہیں تو بارہ۱۲ ہوں گی کل ستائیس۲۷ ہوں گی۔
حکمہ الاٰثار الثلثۃ لاجل لعطاء لاللمنع۔
حکم تینوں اثرات، اس وجہ سے کہ عطا ہُوئی، اس وجہ سے نہیں کہ انکار ہُوا۔
(۸) منع(۳) ولم یعط قبلہ فاما بعدھا فی الوقت قبل الاطلاع اوبعدہ اوبعد الوقت اولا ولسؤالہ المواقع الاربعۃ ثلاثیان فیضرب اربعۃ اربعۃ وعشرون وسداسیان ثمانیۃ واربعون کلھا اثنان(۷۲) وسبعون۔
(۸) انکار کیا اور قبل تکميل نماز نہ دیا۔ یہ یا(۱) تو بعد نماز وقت کے اندر قبل اطلاع یا بعد(۲) اطلاع ہوگا، یا بعد(۳) وقت ہوگا یا ایسا نہ(۴) ہوگا اس میں سوال کے وہی چاروں مواقع ہیں دو ثلاثی تو چار سے ضرب دینے سے چوبیس۲۴ صورتیں ہوں گی اور دو۲ سداسی ہیں تو اڑتالیس۴۸ ہوں گی۔ کُل بہتر(۷۲) ہونگی۔
(۱۰) کچھ نہ ہوا اور اسے ظن عطا بھی نہ تھا۔ دونوں وجہوں کو ظن منع یا شک کے ساتھ ملاکر اس کی چار صورتیں ہوں گی۔
حکمہ تمّت۔حکم نماز تام ہے۔
وبہ تمت احاطۃ(۳) عہ الاقسام÷ مع بیان الاحکام÷ والحمد الدائم لولی الانعام÷ ذی الجلال والاکرام÷ وافضل الصلاۃ والسلام÷ علی السيد المنعام÷ واٰلہ الکرام÷ وصحبہ العظام÷ وامتہ الی يوم القیام÷ اٰمین۔
اسی سے احاطہ اقسام مع بیانِ احکام مکمل ہوگیا۔ اور دائمی حمد ہے ولی انعام مالک عزّت وبزرگی کيلئے۔ اور افضل درودوسلام بہت انعام فرمانے والے آقا، اور ان کی کريم آل، عظيم اصحاب اور ان کی امت پر روزِ قیامت تک الٰہی قبول فرما!
عہ : وھذا جدول الاجمال باعتبار التقسيم الاول الی خمسۃ اقسام
پانچ اقسام کی طرف تقسيم اول کے اعتبار سے یہ اجمالی نقشہ ہے۔
قسم تعداد جو سوال سے ہے جو بلا سوال ہے
4_4.jpg
وھذا بعینہ ماحصل بالتقسيم الاول تحت قانون البحر فتوا فقھما مع شدۃ تباینھما فی الطریق دليل الصحۃ والتحقیق ۱۲ منہ غفرلہ (م)
بعینہ یہی قانون بحر کے تحت تقسيم اول سے حاصل ہوا تو طریق میں شديد مباینت کے باوجود دونوں کا باہم موافق ہوجانا صحت وتحقیق کی دليل ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
تنبیہ: اتبعنا ھم فی ترک اقسام الوعد باظھار النفاد والوعد الابائی والمنع بعد العطاء مع ذکرھم العطاء بعد المنع۔
چند اقسام ديگر پر تنبیہ: درج ذيل قسموں کو ترک کرنے میں ہم نے بھی ان ہی حضرات کی پيروی کی۔ (۱)پانی ختم ہونے کا اظہار کرکے وعدہ (۲) وعدہ ابائی (۳)منع بعد عطا -- جبکہ ان حضرات نے عطا بعد منع کو ذکر کیا ہے۔