وسادسا:لم(۱) کان الاحوط قولھما عند ظن المنع فی محل البذل لافی محل العزۃ فقد حققنا فی المسألۃ السادسۃ ان ذکر الموضع ذکر المظنۃ والمناط حقیقۃ ظنہ ولربما یظن العطاء فی محل المنع والمنع فی محل العطاء ظناً صحیحاً صادقاً ناشئا عن دلیل معتمد فان ادیرالامر علٰی ظنہ کما ھوالتحقیق سقط الفرق بحال المحل وکان الاحوط قولھما اذاشک فی محل ما مطلقا لا اذا ظن المنع ولوفی محل البذل وان حکم بالمظنۃ مع قطع النظر عن ظنہ فلم جعلتم المختار قولھما فی ظن العطاء ولوکان فی محل العزۃ۔
سادسا: قول صاحبین میں زیادہ احتیاط ظن منع کے وقت صرف کم یابی ہی کی جگہ کیوں ہے؟ ہم نے مسئلہ ششم میں تحقیق کی ہے کہ جگہ کا ذکر ایک جائے گمان کا ذکر ہے ورنہ مدار حقیقت ظن پر ہے۔ ہوسکتا ہے کہ کبھی منع کی جگہ اسے عطا کا گمان ہو اور عطا کی جگہ منع کا، ایسا صحیح گمان جو کہ معتمد دلیل سے پیدا ہوا ہو۔ تو اگر مدار کار اس کے گمان پر ہو جیسا کہ یہی تحقیق ہے تو حالت محل کا فرق ساقط ہوجائےگا اور قولِ صاحبین میں مطلقاً زیادہ احتیاط ہوگی جبکہ کسی بھی جگہ شک ہو نہ اس وقت جبکہ اسے منع کا ظن ہو اگرچہ بذل کی جگہ۔ اور اگر اس کے ظن سے قطع نظر کرکے مظنہ پر حکم ہے تو آپ نے صاحبین کا قول اس صورت میں مختار کیسے ٹھہرایا جبکہ اسے ظن عطا ہوا اگرچہ وہ کم یابی کی جگہ ہو۔
وسابعا:ان(۲) ارید بالاحوط مافیہ الخروج عن العھدۃ بیقین کان قولھما احوط مطلقا وان اریدبہ الاقوی دلیلا فکیف یکون احوط عند الشک فقد حققنا اٰخر المسألۃ السادسۃ ان الشک ملحق بظن المنع الی ھناتمت قوانین العلماء مع ما لھا وعلیھا الآن آن ان نذکر مافاض من فیض القدیر علی العاجزالفقیر وباللّٰہ التوفیق۔
سابعا: اگر احوط سے مراد وہ ہو جس میں یقینی طور پر عُہدہ برآ ہونا ہو تو صاحبین کا قول مطلقاً احوط ہوگا اور اگر اس سے مراد وہ ہو جس کی دلیل زیادہ قوی ہے تو وہ شک کے وقت احوط کیسے ہوگا؟ ہم نے تو مسئلہ ششم کے آخر میں تحقیق کی ہے کہ شک ظن منع سے ملحق ہے۔ یہاں تک قوانین علماء مع شرح فوائد وذکر ایرادات تمام ہُوئے۔ اب ہم وہ بیان کرتے ہیں جو فیض قدیر سے عاجز فقیر پر فائض ہوا۔ فاقول (میں کہتا ہوں) اور توفیق اللہ تعالٰی سے ہے۔ (ت)
الرابع القانون الرضوی
العطاء(عـہ)بعد الوقت لایؤثر فما مضی الا اذاعلم ولم یسأل فیہ اصلا وفیہ مؤثرمطلقا الا اذاکان بعد الصلاۃ عقیب اباء سابق اولا حق ولوحکمیاوالوعدکھذا الااذا کان بعد الصلاۃ وظھر خلفہ ای العطاء فی الوقت ۱۲ والمنع لایمنع شیاا ولایرفع والسکوت منع الا اذا لحقہ العطاء فی الوقت قبل ان یراہ یتیمم ویصلی وان لم یعط ولم یعد ولم یسأل فان ظن العطاء بطلت والاتمت۔
چہارم:قانون رضوی
وقت کے بعد دینا جو نافذ ہوچکا اس میں مؤثرنہیں مگر جبکہ علم ہو اور وقت کے اندر بالکل نہ مانگے اور وقت کے اندر دینا مطلقاً مؤثر ہے مگر جبکہ نماز کے بعد انکار سابق یا لاحق کے بعد ہو خواہ انکار حکمی ہی ہو وعدہ بھی اسی (وقت میں دینے)کی طرح ہے مگر جب کہ نماز کے بعد ہو اور اس کے خلاف ظاہر ہوجائے اور منع کسی چیز کو روکنے اور ختم کرنے والا نہیں اور سکوت منع ہی ہے مگر جب کہ اسے وقت کے اندر دینا لاحق ہو اس سے پہلے کہ اسے تیمم کرتے اور نماز پڑھتے دیکھے اور اگر نہ دیا نہ وعدہ کیا نہ اس نے مانگا اگر دینے کا ظن رہا ہو نماز باطل ہوگئی ورنہ تام ہے ۔
(عـہ)لم یذکرعلی طریق التشقیق روماللاختصار فان العبارۃ تطول فیہ کأن تقول لایخلو اما ان یعطی(۱) اویعد(۲) اویمنع(۳) اویسکت(۴) اولا(۵)شیئ علی الاول اما ان یعطی فی الوقت اوبعدہ فان کان(۱) فی الوقت فاما بعد ختم الصلاۃ عقیب اباء حقیقی اوحکمی کائن قبل الصلاۃ اوبعدھا اولا(۲) وان (۳) کان بعدہ فلایخلو اما ان کان علمہ فی الوقت ولم یسألہ اولا(۴) وعلی(۵) الثانی اما ان یعد بعد الصلاۃ ویظھر خلفہ اولا(۶)وعلی(۷)الثالث یکون المنع قبل فعل کالتیمم والصلاۃ او(۸) بعدہ وعلی(۹) الرابع اما ان یلحقہ العطائفی الوقت قبل ان یتیمم ویصلی اولا(۱۰) وعلی(۱۱) الخامس اما ان یظن العطاء اولا(۱۲) فھی اثنا عشرلاتزید ولاحاجۃ فھذا بیان الشقوق ثم یفیض فی بیان الاحکام فیطول الکلام فادمجنا الاقسام فی بیان الاحکام واختصرنا الکلام مع الاستیعاب التام والحمداللّٰہ ذی الجلال والاکرام وقد علمت انالم نقسم قسمین الاحیث یختلفا فی الحکم وحصرنا الاربعمائۃ والستۃ والعشرین فی اثنی عشر بل رددناھا فی المتن الی عشرۃ کماتری وللّٰہ الحمد ۱۲ منہ غفرلہ (م)
اختصار کے ارادہ سے تشقیق کے طور پر اس کا ذکر نہ ہوا اس لئے کہ اس میں عبارت لمبی ہوجاتی ہے۔ مثلاً یوں کہا جائے۔ اس سے خالی نہ ہوگا کہ یا تو دے(۱) یا وعدہ(۲) کرے یا انکار(۳) کرے یا خاموش(۴) رہے یا کچھ(۵) نہ ہو برتقدیر اوّل یا تو وقت میں دے گا یا اس کے بعد اگر وقت(۱) میں دے تو یا تو ختم نماز کے بعد دے گا اس انکار حقیقی یا حکمی کے بعد جو نماز سے پہلے رہا ہو یا نماز کے بعد یا ایسا(۲) نہیں ہوگا اور اگر وقت(۳) کے بعد ہو تو اس سے خالی نہیں کہ یا تو وقت کے اندر علم ہوا اور اس سے نہ مانگا یا ایسا(۴) نہ ہوگا اور بتقدیر(۵) ثانی یا تو بعد نماز وعدہ کرے گا اور اس کا خلف ظاہر ہوگا یا ایسا(۶) نہ ہوگا اور برتقدیر سوم(۷) انکار کسی فعل مثلاً تیمم ونماز سے پہلے ہوگا یا اس(۸) کے بعد اور برتقدیر رابع(۹) یا تو عطا اسے وقت کے اندر تیمم ونماز کی ادائےگی سے پہلے لاحق ہوگی یا ایسا(۱۰) نہ ہوگا اور برتقدیر(۱۱) خامس یا تو اسے ظن عطا ہوگا یا نہیں(۱۲) یہ بارہ۱۲ صورتیں ہیں زیادہ نہیں۔ اور اس کی حاجت نہیں کیونکہ یہ تو شقوں کا بیان ہے پھر احکام کا بیان چلے گا تو کلام اور دراز ہوگا اس لئے ہم نے اقسام کو بیان احکام ہی میں ملا دیا اور مکمل احاطہ کے باوجود کلام مختصر رکھا اور ساری حمد عزّت وبزرگی کے مالک خدائے برتر ہی کیلئے ہے یہ بھی معلوم ہوا کہ ہم نے دو۲ قسمیں وہیں کی ہیں جہاں ان دونوں کا حکم مختلف ہو اس طرح چار سوچھبیس۴۲۶ کو ہم نے بارہ۱۲ میں محصور کیا بلکہ متن میں بارہ۱۲ کو بھی دس۱۰ کی جانب پھیر دیا جیسا کہ پیش نظر ہے۔ اور خدا تعالٰی ہی کیلئے ساری تعریف ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
وبہ تمّت الضابطۃ÷ لجمیع الصور الاربعمائۃ والستۃ والعشرین ضابطۃ÷ بیانہ انی رددت الاقسام طرا الی عشرۃ لانہ اما ان یعطی اویعد اویسکت اویمنع اولاشیئ ولایکون الثالث الابعد السؤال ولاالخامس الابدونہ والاولان شاملان لھما فیصلحان للتثنیۃ بکون کل بعد السؤال اوبلاسؤال۔
ان ہی الفاظ میں تمام چارسوچھبیس۴۲۶ منضبط صورتوں کے لئے ضابطہ مکمل ہوگیا اس کا بیان یہ ہے کہ میں نے ساری قسموں کو دس صورتوں کی جانب پھیر دیا ہے وہ اس لئے کہ یا تو وہ دے(۱) گا یا وعدہ(۲) کرے گا یا سکوت(۳) کرے گا یا منع(۴) کرے گا یا کچھ(۵) نہ کرے گا۔ اور تیسری صورت سوال کے بعد ہی ہوگی، اور پانچویں بلاسوال ہی ہوگی۔ اور پہلی دونوں، سوال وعدم سوال دونوں کو شامل ہیں تو وہ دو دو ہونے کی صلاحےت رکھتی ہیں اس طرح کہ ہر ایک بعد سوال ہوگی یا بلاسوال۔ (ت)
فالعطاء (۱)قسم واحد وھو غیر الاٰجل الذی یتأخر عن السؤال بزمان فلابدان یتقدمہ وعدا وصمت اومنع وھذا مقابل لھا فی التقسیم فلاجرم ان یکون عاجلا ای علٰی فور السؤال اولاعاجلا ولا اٰجلا بل بدون سؤال۔
تو عطا ایک قسم ہے اور یہ عطائے آجل نہیں جو زمان میں سوال سے کچھ بعد میں ہوتی ہے تو ضروری ہے کہ اس سے پہلے وعدہ یا خموشی یا انکار ہو۔ اور یہ تقسیم میں ان سب کے مقابل ہے تو ضروری ہے کہ عاجل ہو۔ یعنی سوال ہوتے ہی دینا ہو یا نہ عاجل ہو نہ آجل بلکہ بغیر سوال ہو۔
والوعد (۲)والمراد بہ الرجائی حال بقاء الماء کماھو المتبادر من اطلاقہ ثلثۃ اقسام لانہ اما قبل تمام الصلاۃ اوبعدہ وفی ھذا ظھر خلفہ اولا۔
وعدہ اس سے مراد ہے وعدہ رجائی جو بقائے آب کی حالت میں ہو جیسا کہ اطلاق سے یہی متبادر ہوتا ہے اس کی تین قسمیں ہیں اس لئے کہ یا تو قبل تکمیل نماز ہوگا یا بعد تکمیل اور اس میں یا تو اس کا خلف ظاہر ہوگا یا ایسانہ ہوگا۔
والسکوت قسمان لانہ یعطی بعدہ فی الوقت قبل الاطلاع علی تیممہ وصلاتہ اولا۔
سکوت کی دو قسمیں ہیں اس لئے کہ وہ بعد سکوت وقت کے اندر اس کے تیمم ونماز پر اطلاع سے پہلے پانی دے دے گا یا ایسانہ ہوگا۔
والمنع قسمان یعطی قبل تمام الصلاۃ اولا۔
انکار کی بھی دو قسمیں ہیں یا تو قبل تکمیل نماز دے گا یا نہ دے گا۔
پانچویں کی بھی دو قسمیں ہیں۔ اسے ظنِ عطا تھا یا نہیں۔ یہ دس۱۰صورتیں ہیں اور ہر صورت دوسری سے حکم میں جُدا ہے کیونکہ حکم الگ ہونے ہی کی وجہ سے ان کو الگ الگ کیا گیا ہے۔ (ت)
بیان احاطتھا الاقسام
(۱) العطاء(۱)غیر اٰجل مواقعہ ستۃ قبل(۱)التیمم اوبعدہ(۲)قبل الصلاۃ اوفیھا(۳) اوبعدھا(۴) فی الوقت قبل الاطلاع المذکور اوبعدہ(۵)اوبعد(۶)الوقت الاولان ثلاثیان بالظنین والشک والبواقی سداسیات باضافۃ الرؤیۃ فی الصلاۃ اوقبلھا فکانت ثلثین وبتثنیۃ کونہ بعد سؤال اوبدونہ کان ینبغی ان تکون ستین غیران الستۃ الاخیرۃ اعنی التی بعد الوقت لاتثنی لان السؤال بصلاۃ الوقت لایکون بعد الوقت فتبقی اربعۃ(۵۴) وخمسین اربعۃ وعشرون منھا بالسؤال وثلثون بلاسؤال۔
اس کا بیان کہ یہ صورتیں ساری قسموں کو محیط ہیں
(۱) عطائے غیر آجل کے مواقع چھ۶ ہیں:(۱) قبل تیمم (۲) بعد تیمم قبل نماز (۳) یا اندرونِ نماز (۴) یا بعد نماز وقت کے اندر، اطلاع مذکور سے پہلے (۵) یا اطلاع مذکور کے بعد (۶) یا وقت کے بعد پہلی دونوں صورتیں ظن عطا ومنع اور شک کی وجہ سے ثلاثی ہیں اور نماز کے اندر دیکھنے یا اس سے قبل دیکھنے کے اضافہ کی وجہ سے باقی سب سُداسی ہیں تو تیس۳۰ ہوئیں ۔اور عطا کے بعد سوال یا بلاسوال ہونے سے ہر ایک کو دو کر کے ساٹھ ۶۰ ہو جا نا چاہے تھا مگر آخری چھ ۶ صورتیں یعنی جو وقت کے لیے مانگنا وقت کے بعد نہ ہوگا تو چوّن۵۴ صورتیں رہ جائیں گی، چوبیس ۲۴ سوال والی اور تیس۳۰ بلا سوال ۔
حکمہ التأثیر ای ان وقع قبل التیمم منعہ اوبعدہ نقضہ اوفی الصلاۃ قطعھا اوبعدھا ابطلھا غیر ان الابطال فیما اذاسأل فی الصلاۃ مضاف الی السؤال فیبقی للعطاء نقض التیمّم۔
اس عطا کا حکم یہ ہے کہ (بہرحال) مؤثر ہے۔ یعنی (۱) اگر یہ دینا قبل تمیم ہو تو تمیم سے مانع ہوگا۔ (۲) اگر بعد تمیم ہو تو اسے توڑے دے گا (۳) اگر دوران نماز ہو تو اسے قطع کردے گا (۴) بعد نماز ہو تو اسے باطل کردے گا۔ مگر یہ کہ اندرون نماز مانگنے کی صورت میں ابطال کی نسبت مانگنے کی جانب ہے تو عطاء کی وجہ سے تمیم ٹوٹتا رہے گا۔
(۲) وعد قبل تمام الصلاۃ مواقعہ الثلثۃ الاول ثلاثیان ثم سداسی ویحتمل الکل اربعۃ وجوہ لاغیر علی ماقدمنا تحت قانون البحر یعطی فی الوقت اوبعدہ اولا یعطی فیظھر خلفہ اولا فھی اربعۃ وعشرون فی الاولین ومثلھا فی الثالث فکانت ثمانیۃ واربعین فی ربعھا اعنی اثنی عشر العطاء بعد الوقت وھی لاتثنی کماعلمت وستۃ وثلثون البواقی تثنی فالمجموع اربعۃ(۸۴) وثمانون۔
(۲) وعدہ قبل تکمیل نماز اس کے مواقع وہ پہلے تینوں مواقع ہیں وہ ثلاثی پھر ایک سداسی ہے، اور ہر ایک میں چار صورتوں کا احتمال ہے۔ زیادہ نہیں جیسا کہ قانونِ بحر کے تحت ہم نے پہلے بیان کیا۔ (۱) وقت میں دے دے گا (۲) بعد وقت دے گا (۳) نہ دے گا تو اس کا خلف ظاہر ہوگا (۴) یا نہ ظاہر ہوگا تو پہلی دونوں میں یہ چوبیس۲۴ ہوگئیں۔ ان ہی کے مثل تیسری میں ہوں گی تو اڑتالیس۴۸ ہوئیں ان کی چوتھائی یعنی بارہ۱۲ میں عطا بعد وقت ہے۔ اور یہ دوگنا نہ ہوں گی جیسا کہ معلوم ہوا، اور باقی چھتیس۳۶ دو۲دو۲ ہوں گی تو کل چوراسی۸۴ ہوئیں۔