| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۴(کتاب الطہارۃ) |
الثالث القانون الحلبی قال رحمہ اللّٰہ تعالٰی ھذا علی وجوہ اما ان یغلب علی ظنہ الاعطاء اوالمنع اواستویا وعلی کل تقدیر اما ان یسأل اویتیمم ویصلی من غیر سؤال واذاسأل فاما ان یعطی اویمنع واذا منع قبل الصلاۃ فاما ان یسأل بعدھا اولا وعلی کلا التقدیرین یعطی اولا واذا تیمم وصلی فاما ان یسأل بعد الصلاۃ اولا وعلی کلا التقدیرین یعطی اولا فالاقسام سبعۃ وعشرون اما ان تیمم وصلی بلاسؤال ثم سأل فاعطی اواعطی بلاسؤال فانہ یلزمہ الاعادۃ علی کل تقدیر امافی ظن الاعطاء فظاھر واما فی غیرہ فلزوال الشک وظھور خطأ الظن وان سألہ فمنع جازت صلاتہ سواء کان السؤال قبلھا اوبعدھا لانہ قدتحقق العجز من الابتداء ولافائدۃ فی العطاء بعدھا بعد المنع قبلھا واما اذاتیمم وصلی من غیر سؤال ولم یسأل بعد لیتبین لہ الحال فعلی قول ابی حنیفۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ صلاتہ صحیحۃ فی الوجوہ کلھا وقالا لایجزئہ والوجہ ھو التفصیل فینبغی ان یجب الطلب ولاتصح الصلاۃ بدونہ اذاظن الاعطاء دون ما اذاظن عدمہ لکونہ فی موضع عزۃ الماء اما اذاشک فی موضع عزۃ الماء اوظن المنع فی غیرہ فالاحتیاط فی قولھما والتوسعۃ فی قولہ ۱؎ اھ وقدمر بحثہ مستوعبا فی المسألۃ السادسۃ۔
سوم: قانون محقق ابراہیم حلبی محقق حلبی رحمہ اللہ تعالٰی فرماتے ہیں: ''اس کی چند صورتیں ہیں یا تو اسے عطا یا منع کا غلبہ ظن ہوگا یا دونوں میں برابری ہوگی بہرتقدیر یا تو مانگے گا یا بغیر مانگے تیمم ونماز ادا کرے گا بصورتِ سؤال یا تو عطا ہوگی یا منع اور منع قبل نماز ہو تو بعد نماز پھر سوال ہوگا یا نہ ہوگا بہر دو تقدیر وہ دے گا یا نہ دے گا۔ اور جب تیمم کیا اور نماز پڑھ لی تو بعد نماز سوال کرے گا یا نہیں۔ بہر دو تقدیر وہ دے گا یا نہیں۔ تو ستائیس۲۷ قسمیں ہوئیں۔ اگر مانگے بغیر تیمم کیا اور نماز پڑھ لی پھر مانگا تو اس نے دے دیا یا مانگے بغیر دے دیا تو بہرتقدیر اس پر اعادہ لازم ہے۔ ظن عطا کی صورت میں تو وجہ ظاہر ہے۔ اس کے علاوہ میں اس لئے کہ شک زائل ہوگیا اور ظن کی خطا ظاہر ہوگئی اگر مانگنے پر منع وانکار کیا تو اس کی نماز ہوگئی خواہ مانگنا قبل نماز ہو یا بعد نماز۔ اس لئے کہ عجز ابتدا سے ہی متحقق ہوگیا۔ اور نماز سے پہلے انکار کے بعد، نماز کے بعد دینے میں کوئی فائدہ نہیں اور جب بغیر مانگے تیمم کیا اور نماز پڑھ لی۔ بعد میں بھی نہ مانگا کہ حال منکشف ہو تو امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے قول پر تمام صورتوں میں اس کی نماز صحیح ہے۔ اور صاحبین نے فرمایا: یہ اسے کفایت نہیں کرسکتا۔ اور مناسب طریقہ یہ ہے کہ تفصیل کی جائے۔ تو ہونا یہ چاہے کہ طلب واجب ہو اور اس کے بغیر نماز صحیح نہ ہو جبکہ اسے عطا کا گمان رہا ہو۔ اس صورت میں نہیں جبکہ پانی کی کم یابی کی جگہ ہونے کی وجہ سے اس کو عدمِ عطا کا گمان رہا ہو اور جب پانی کی کم یابی کی جگہ شک کی صورت ہو یا دُوسری جگہ منع کا ظن ہو تو احتیاط صاحبین کے قول میں ہے اور وسعت امام صاحب کے قول میں ہے'' اھ اس کی بحث مکمل طور پر مسئلہ ششم میں گزرچکی۔ (ت)
(۱؎ غنیۃ المستملی باب التیمم مطبع سہیل اکیڈمی لاہور ص۶۸)
اقول: اتی علی جمیع ماذکر فی الشقوق غیر انہ ترک حکم مااذا سأل قبل الصلاۃ فاعطی لظھور فانہ ان کان قبل التیمم منعہ اوبعدہ نقضہ اوفی الصلاۃ ابطلھا بل وسواء کان ذلک عطاء عاجلا اواٰجلا بعدو عدا وسکوت اواباء کماقدمنا فالمراد بماقبل الصلاۃ قبل اتمامھا ولوفیھا اوقبلھا بعد التیمم اوقبلہ وارسالہ صورۃ ترک السؤال مطلقۃ عن قید عدم العطاء وجعلُھا خلافیۃ قد تدارکہ قولہ قبلھا اواعطی بلاسؤال فعلم ان الکلام ھنا فی مالم یسأل ولم یعط وبالجملۃ ھی احسن ضابطۃ رأیت لولا ان فیھا:
اقول: پہلے جو شقیں ذکر کیں سبھی کے احکام بیان کردئے مگر اس صورت کا حکم چھوڑ دیا جب قبل نماز مانگنے پر اس نے دے دیا۔اس لئے کہ اس صورت کا حکم ظاہر ہے۔کیونکہ اگریہ قبل تیمم ہے تو تیمم سے مانع ہوگا اور اگر بعدتیمم ہے تواسے توڑ دے گا اور اگر اندرونِ نمازہے تواسے باطل کردے گا خواہ یہ دینافوراً ہو یا دیرمیں،وعدہ کے بعد ہویاسکوت کے بعدیاانکارکے بعد جیساکہ پہلے ہم نے بیان کیا تو قبل نماز سے مراد قبل تکمیل نماز ہے اگرچہ دورانِ نمازہویاقبل نمازتیمم کے بعد ہو یا اس سے پہلے انہوں نے مطلقاسوال نہ کرنے کی صورت میں عدم عطا کی قید نہ لگائی اور اسے اختلافی قراردیا مگر اس سے پہلے اپنی عبارت ''اواعطی بلاسؤال'' (یابغیرمانگے دے دیا) سے اس کا تدارک کردیا جس سے معلوم ہوا کہ یہاں کلام اس صورت میں ہے جب نہ مانگا ہو نہ دیا ہو بالجملہ یہ سب سے عمدہ ضابطہ ہے جو میری نظرسے گزرا اگر اس میں یہ چند باتیں نہ ہوتیں:
اولا :ترک(۱) صورالوعدوالسکوت(۲)مع ان فیھا مالایغنی عنہ الصموت÷ فلوانھم ذکروھا لافادونا وخلصونا عن التردد فی احکامھا ولم یحوجوا مثلی الی النظر فیھا۔
اولا: وعدہ اور سکوت کی صورتیں ترک کردیں جب کہ ان میں وہ کچھ ہے جس سے سکوت کام نہیں دے سکتا اگر یہ حضرات ان صورتوں کو ذکر کرتے تو ہمیں مستفید فرماتے اور ان کے احکام میں تردد سے نجات دیتے اور مجھ جیسے کو ان میں نظر کی ضرورت نہ ہوتی۔
وثانیا: بترکھا(۱) اشتملت صورۃ عدم السؤال ما اذا وعد ولم یعط ولیست خلافیۃ اذاوقع الموعد قبل تمام الصلاۃ بل یمنع وینقض ویبطل اتفاقا سواء ظھر خلفہ اولا فھی ستۃ اربعۃ (عــہ۱) منھا ثلاثیات واثنان (عــہ۲) سداسیان لان کلامہ لایختص بخارج الصلاۃ ککلام البحر فھی اربعۃ وعشرون وکذلک(۲) اذا وعد بعدھا ولم یظھر خلفہ وھما (عــہ۳) اثنان کلاھما سداسی فسری الغلط الی ستۃ وثلثین قسما وان لم یسلم استظھاری وجعل الوعد ولوکان بعدُ مبطلا مطلقا زاد اثنان (عــہ۴) اعنی اثنی عشر اُخروشمل الغلظ ثمانیۃ واربعین۔
ثانیا :ان صورتوں کو چھوڑ دینے کی وجہ سے عدمِ سوال کی صورت اسے بھی شامل ہے جب وعدہ کیا ہو اور نہ دیا ہو حالانکہ یہ صورت اختلافی نہیں جبکہ وعدہ تکمیل نماز سے پہلے ہوگیا ہو بلکہ یہ بالاتفاق مانع، ناقض اور مبطل ہے خواہ اس کے خلاف ظاہر ہو یا نہ ہو۔ یہ چھ۶ صورتیں ہیں جن میں سے چار ثلاثی اور دو سداسی ہیں اس لئے کہ ان کا کلام، صاحبِ بحر کے کلام کی طرح خارج نماز سے خاص نہیں تو کل چوبیس۲۴ صورتیں ہوئیں۔ اسی طرح جب بعد نماز وعدہ ہو اور اس کے خلاف نہ ظاہر ہو اور یہ دو صورتیں ہیں دونوں ہی سداسی ہیں تو چھتیس۳۶ قسموں تک غلطی سرایت کر آئی۔ اور اگر میرا استظہار اور وعدہ کو اگرچہ بعد ہی ہیں ہو مطلقا مبطل قرار دینا تسلیم نہ ہو تو دو۲ یعنی بارہ صورتوں کا اور اضافہ ہوگا اور غلطی اڑتالیس۴۸ صورتوں کو شامل ہوجائے گی۔
(عــہ۱) ھی ۹ و ۱۰ و ۱۳ و ۱۴ (م) (یہ ۹، ۱۰، ۱۳، ۱۴ ہیں۔ ت) (عــہ۲)ھما ۱۷ و ۱۸ (م ) (یہ ۱۷ اور ۱۸ ہیں۔ ت) (عــہ۳) ھما ۲۲ و ۲۶ (م) (یہ ۲۲ اور ۲۶ ہیں۔ ت) (عــہ۴) ھما ۲۱ و ۲۵ (م) (یہ ۲۱ اور ۲۵ ہیں۔ ت)
وثالثا: قولہ(۳) وان سأل فمنع یشمل کماصرح بہ السؤال قبل الصلاۃوبعدھا فیشمل المنع قبلھا وبعدھا فتخصیص المنع بماقبلھا فی قولہ ولافائدۃ الخ لافائدۃ فیہ بل قدیوھم ان لیس الحکم کذا ان منع بعدھا ثم اعطی ولیس کذلک کماقدمنا فی شرح القانون الصدری والمسألۃ العاشرۃ فالوجہ اسقاط لفظۃ قبلھا۔
ثالثا: ان کا قول ''وان سأل فمنع'' (اگر مانگنے پر اس نے انکار کیا) جیسا کہ انہوں نے تصریح کی قبل نماز اور بعد نماز دونوں وقت مانگنے کو شامل ہے تو قبل نماز اور بعد نماز انکار کو بھی شامل ہوگا تو اپنی عبارت ''ولافائدۃ فی العطاء بعدھا بعد المنع قبلھا'' (بعد نماز دینے میں کوئی فائدہ نہیں اس کے بعد کہ نماز سے پہلے انکار کردیا ہو) میں منع کو قبل نماز سے خاص کرنے میں کوئی فائدہ نہیں بلکہ اس سے یہ وہم پیدا ہوتا ہے کہ اگر بعد نماز انکار کیا پھر دے دیا تو یہ حکم نہیں حالانکہ ایسا نہیں جیسا کہ قانون صدر الشریعۃ کی شرح اور مسئلہ وہم میں بیان کرچکے۔ تو مناسب یہی تھا کہ لفظ ''قبلھا'' ساقط کردیا جاتا۔
ورابعا: لم تکن(۱) حاجۃ الی التشقیق بالظنین والتشکیک من اول الامر لانہ انما تمس الیہ الحاجۃ فیما اذا لم یسأل ولم یعط ولم یعد وھی خلافیۃ علی فرض الخلاف۔
رابعا :اوّل امر سے ہی دونوں ظن اور شک کی شقیں نکالنے کی کوئی ضرورت نہ تھی اس کی ضرورت تو اس وقت ہوتی ہے جب اِس نے نہ مانگا اور اس نے نہ دیا نہ وعدہ کیا اور یہی اختلافی صورت ہے اگر فرض کیا جائے کہ خلاف ہے۔
وخامسا :حط(۲) کلامہ فی ھذا اعنی الذی جعلہ خلافیۃ علی انہ ان ظن العطاء فالمختار مذھب الصاحبین ای سواء کان الموضع موضع عزۃ الماء اوموضع بذلہ بدلیل اطلاق ھنا والتفصیل فی المنع والشک وان ظن المنع فان کان الموضع موضع العزۃ فالمختار مذھب الامام وان کان موضع البذل اوشک فی موضع العزۃ فقولھما احوط وقولہ اوسع ولاادری لم ترک الشک فی موضع البذل۔
خامسا: جس کو خلاف قرار دیا ہے اس میں اپنا کلام اس پر اتارا کہ اگر اسے ظن عطا ہو تو مختار صاحبین کا مذہب ہے یعنی خواہ وہ جگہ پانی کی کم یابی کی ہو یا پانی دئے جانے کی جگہ ہو اس کی دلیل یہاں اس کو مطلق ذکر کرنا اور منع وشک میں تفصیل کرنا ہے اگر اسے ظن منع ہو اگر وہ جگہ پانی کی کمیابی کی ہو تو مختار امام صاحب کا مذہب ہے اور اگر جگہ پانی خرچ کیے جانے کی ہو یا اسے پانی کی کمیابی کی جگہ میں شک ہو تو صاحبین کے قول میں زیادہ احتیاط ہے اور امام صاحب کے قول میں زیادہ وسعت ہے۔ پتا نہیں بذل کی جگہ شک ہونے کا ذکر کیوں چھوڑ دیا۔ (ت)
فان قیل الاصل فی الماء الاباحۃ فلایعتری الشک الافی محل العزۃ۔
اگر کہا جائے کہ پانی میں اصل اباحت ہے تو شک صرف اسی جگہ ہوگا جہاں پانی کم یاب ہو۔
اقول: فکیف ظن المنع فی محل البذل فان جاز ذلک لامور خارجۃ فالشک اولٰی۔
اقول: (میں کہوں گا) پھر بذل دے دئے جانے) کی جگہ ظن منع کا ذکر کیسے کیا؟ اگر خارجی امور کی بنا پر اس کے ذکر کا جواز تھا تو شک کا بدرجہ اولٰی ہوگا۔