Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۴(کتاب الطہارۃ)
26 - 2323
اما العطاء العاجل فلایفارق السؤال فی زمانہ والاٰجل فی غیر  الوعد یحتمل ان(۱) یکون قبل التیمم او(۲)بعدہ قبل الصلاۃ او(۳) فیھا او(۴) بعدھا فی الوقت قبل الاطلاع علی تیممہ وصلاتہ او(۵) بعدہ او(۶) بعد الوقت اما فی الوعد فلا الاوجھین وھما العطاء فی الوقت اوبعدہ لان الوعد یوجب الانتظار الٰی خروج الوقت فمھما وعدلم یکن لہ ان یتیمم اویصلی بداء اوعودا اذاعرفت ھذافاذا کان السؤال قبل التیمم ساغ الکل فثمٰنیتہ صار بتسدیس کل عطاء اٰجل فی غیر  الوعد وتثنیتہ فیہ مع اربعۃ وجوہ عدم العطاء ووجہ واحد للعطاء العاجل تسعۃ عشر(عـہ) ولکونہ ثلاثیاسبعۃوخمسین(۵۷)، (۲)اذا کان بعدہ قبل الصلاۃ خرج الاول من ستۃ العطاء الاٰجل وھو العطاء قبل التیمم فھو فی کل من السکوت والاباء خمسۃ سادسھا عدم العطاء صارت اثننی عشر وللوعد اربعۃ کماکانت ای یعطی فی الوقت اوبعدہ اولایعطی مخلفااوغیرمخلف وواحد ھوالعطاء العاجل فھی سبعۃ عشروبالتثلیث احدو خمسون(۵۱) و(۳)اذا کان فیھا فالاقسام کسابقہ سبعۃ عشر غیر  ان ھذا سداسی فصارت مائۃ(۱۰۲) واثنین۔
عطائے عاجل تو سوال سے وقت میں جدا نہیں ہوتی اور عطائے آجل غیر  وعدہ میں احتمال ہے کہ قبل(۱) تیمم ہو یا بعد تیمم (۲)قبل نماز یا اندرونِ نماز(۳) یا بعد نماز (۴)اندرون وقت اس کے تیمم ونماز پر اطلاع سے قبل یا بعد(۵) یا وقت کے بعد(۶) لیکن وعدہ میں دو۲ ہی شکلیں ہیں۔ وقت میں یا بعد وقت دینا، اس لئے کہ وعدہ وقت نکلنے تک انتظار واجب کرتا ہے تو جب اس سے وعدہ ہوا تو اسے روا نہیں کہ تیمم کرے یا نماز پڑھے خواہ ابتداءً یا دوبارہ۔ جب یہ معلوم ہوگیا تو دیکھئے جب سوال قبل تیمم ہو تو سب صورتیں ہوسکتی ہیں۔ تو اس کی آٹھ صورتیں ہر عطائے آجل غیر  وعدہ کی چھ۶ صورتوں کے ساتھ اور وعدہ کی دو صورتیں عدم عطا کی چار۴ اور عطائے آجل کی ایک صورت کے ساتھ کُل انیس۱۹ صورتیں ہوئیں اور ثلاثی ہونے کی وجہ سے ستاون۵۷ ہوئیں۔ اور جب سوال بعد تیمم قبل نماز ہو تو عطائے آجل کی چھ۶ میں سے پہلی شکل نکل جائے گی اور وہ یہ کہ عطا قبل تیمم ہو اب سکوت وانکار ہر ایک میں پانچ صورتیں ہیں چھٹی شکل عدم عطا ہے تو بارہ صورتیں ہوئیں اور وعدہ کی چار صورتیں رہیں جیسے پہلے تھیں یعنی وقت کے اندر دے یا اس کے بعد یا وعدہ خلافی کرتے ہُوئے نہ دے یا بغیر  وعدہ خلافی کے نہ دے اور ایک عطائے عاجل والی صورت ہےتو سترہ۱۷ صورتیں ہُوئیں اور تین میں ضرب دینے سے اکیاون۵۱ ہوگئیں۔ اور جب سوال اندرونِ نماز ہو تو اس سے پہلے والے کی طرح یہاں بھی سترہ۱۷ قسمیں ہوں گی مگر یہ کہ ان میں سے ہر ایک میں چھ صورتیں ہیں تو ایک سو دو۱۰۲ صورتیں ہوگئیں،
 (عـہ) لانہ فی الوعد یعطی فی الوقت اوبعدہ اولایعطی مخلفا اوغیر  مخلف ھذہ اربعۃ وفی کل من السکوت والاباء لایعطی اویعطی قبل التیمم اوقبل الصلاۃ اوفیھا اوبعدھا فی الوقت فھی سبعۃ فی کلیھما فاربعۃ مع اربعۃ عشرو واحد ھو العطاء العاجل صارت تسعۃ عشر ۱۲ منہ غفرلہ (م)

اس لئے کہ بصورت وعدہ یا تو وقت(۱) میں دے دے گا یا بعد(۲) وقت دے گا یا وعدہ(۳) خلافی کرتے ہوئے یا بغیر  وعدہ(۴) خلافی کے نہ دے گا۔ یہ چار(۴) صورتیں ہوئیں اور سکوت وانکار ہر ایک میں یا تو نہ(۱) دے گا یا قبل(۲) تیمم دے گا یا قبل(۳) نماز یا دورانِ نماز (۴)یا بعد نماز (۵)وقت میں اطلاع سے قبل یا بعد(۶)، یا بعدِ وقت (۷)تو دونوں میں یہ سات۷ صورتیں ہیں تو چار۴ صورتیں، ان چودہ صورتوں کے ساتھ اور ایک صورت عطائے عاجل کے ساتھ کُل انیس۱۹ صورتیں ہُوئیں ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
واذا کان بعدھا خرج من عطایا السکوت والاباء الثلثۃ الاُول ففی کل مع عدم العطاء اربعۃ وفی الوعد اربعۃ کالرسم فھی اثنا عشر والعطاء العاجل ھھنا وجھان اعطاہ بعد مارأہ یتیمم ویصلی بہ اولم یطلع علیہ ویحتاج الٰی ھذا التقسیم لدفع توھم ان لورأہ فسکت دل علی المنع فلاینفع العطاء بعدہ وقد ازحناہ فی المسألۃ التاسعۃ فصارت اربعۃ عشرو بالتسدیس اربعۃ وثمانین ففریق السؤال مائتان واربعۃ وتسعون۔
اور جب بعد نماز ہو تو سکوت وانکار کی عطا والی صورتوں میں سے پہلی تین نکل جائیں گی تو ہر ایک میں عدم عطا کے ساتھ چار اور وعدہ میں بدستور چار رہیں گی۔ یہ بارہ صورتیں ہیں اور عطائے عاجل کی یہاں دو شکلیں ہیں اسے تیمم کرتے اور نماز پڑھتے ہوئے دیکھنے کے بعد دیا یا اس پر مطلع نہ ہوا۔ اور اس تقسیم کی ضرورت یہ وہم دفع کرنے کیلئے ہے کہ اگر اسے دیکھ کر سکوت کرتا تو یہ دلیل منع ہوتا اس کے بعد دینا کار آمد نہ ہوتا۔ مسئلہ نہم میں ہم یہ وہم دُور کر آئے ہیں تو چودہ۱۴ صورتیں ہوئیں جو چھ میں ضرب دینے سے چوراسی۸۴ بنیں۔ اس طرح سوال کی شق میں کُل دوسوچورانوے۲۹۴ صورتیں ہوئیں۔ (ت)
واذالم یسأل فیعطی من دون وعد اویعد اولا ولاوھھنا نفس ھذا العطاء علٰی ستۃ وجوہ العطاءِ الاٰجل ثمہ الاولان منھا ثلاثیان وسائر ھن سداسیات کثالث ھذہ الاقسام اعنی لاولا فکانت ستۃ وثلثین والوعد علٰی خمسۃ وجوہ الاولین الثلاثین وثلثۃ تلیھا سداسیات لان الوعد بلاسؤال فی وقت اٰخرلا تعلق لہ بھذہ الصلاۃ فکانت اربعۃ وعشرین ثم فی کل وعد اربعۃ کالرسم فھی ستۃ وتسعون ومع ستۃ وثلثین المزبورات مائۃواثنان وثلثون۱۳۲ فصارت مع صور السؤال اربعمائۃ وستۃ وعشرین۔۴۲۶
اور جب سوال نہ کرے تو وہ یا تو بغیر  وعدہ کیے دے دے گا یا وعدہ کرے گا یا نہ دے گا نہ وعدہ کرے گا۔ یہاں خود یہ عطا وہاں کی عطائے آجل کی چھ۶ صورتوں پر ہے۔ ان میں سے پہلی دو، ثلاثی ہیں اور باقی سُداسی ہیں جیسے اِن اقسام میں سے تیسری،یعنی نہ عطا ہو نہ وعدہ۔ تو چھتیس۳۶ صورتیں ہوئیں۔ اور وعدہ میں پانچ صورتیں ہیں پہلی دو، ثلاثی اور ان کے بعد تین سُداسی۔ اس لئے کہ دوسرے وقت میں بلاسوال وعدہ کو اِس نماز سے کوئی تعلق نہیں تو یہ چوبیس۲۴ صورتیں ہوئیں۔ پھر ہر وعدہ پر بدستور چار۴ صورتیں۔ یہ چھیانوے۹۶صورتیں ہیں اور مذکور چھتیس۳۶ کے ساتھ مل کر ایک سوبتیس۱۳۲ صورتیں بنتی ہیں پھر سوال کی (۲۹۴) صورتوں کے ساتھ مل کر کُل چارسوچھبیس۴۲۶ صورتیں ہوجاتی ہیں۔ (ت)
اقول: واعلم ان الظاھر من کلماتھم نفعنااللّٰہ تعالٰی ببرکاتھم قصر النظر علی الاعطاء والاباء فبھماعبروا فی الزیادات وجامع الامام الکرخی وبدائع ملک العلماء وحلیۃ المحقق وضابطۃ الامام صدر الشریعۃ کماسمعت نصوصھم والمحقق الحلبی فی الغنیۃ تارۃ قال فی التصویر  اما ان یعطی اویمنع تارۃ قال فی التصویر  اما ان یعطی اویمنع وتارۃ قال اماان یعطی اولا فاذا اتی علی الحکم قال ان سأل فاعطی وان سأل فمنع ولم یذکرالواسطۃ کماستسمع نصہ ان شاء اللّٰہ تعالٰی وکذلک المحقق البحرقال فی الشقوق اعطاہ اولاوفی بیان الاحکام فی ما اذا رأی فی الصلاۃ اتی مرتین بالنفی والاثبات ومرتین بان اعطی وان ابی وفی خارج الصلاۃ مرۃ کالاول ومرۃ کالثانی واخوہ فی النھرلخص کلامہ فعبر فی موضعین عن قولہ وان ابی بقولہ والاولذالم نعدلہ ضابطۃ بحیالھافظھران مرادھم ھھنابنفی الاعطاء ھوالاباء فلایرد علی البحرولاعلی الغنیۃ انھما ذکرافی التشقیق العطاء وعدمہ واقتصر البحر فی نصف الاحکام علی العطاء والاباء والغنیۃ لم تذکر غیرھما۔
اقول: معلوم رہے کہ ان حضرات (خدا ہمیں ان کے برکات سے نفع بخشے) کے کلمات سے ظاہر یہ ہے کہ انہوں نے عطا وانکار پر نظر محدود رکھی ہے۔ عطاء وِاباء سے ہی زیادات، جامع کرخی، بدائع ملک العلماء، حلیہ محقق، اور ضابطہ امام صدر الشریعۃ میں تعبیر  آئی، جیسا کہ ان کی عبارتیں پیش ہوئیں۔ محقق حلبی نے غنیہ کے اندر بیان صورت میں کبھی کہا اما ان یعطی اویمنع (یا تو دے گا یا منع کرے گا) اور کبھی کہا اما ان یعطی اولا (یا تو دے گا یا نہ دے) پھر جب بیان حکم پر آئے تو کہا ان سأل فاعطی وان سأل فمنع (اگر مانگا تودے دیا، اور اگر مانگا تو مانع ہوا) اور کوئی واسطہ ذکر نہ کیا، جیسا کہ ان کی عبارت اِن شاء اللہ تعالٰی پیش ہوگی۔ اسی طرح محقق بحر نے شقوں کو بتاتے ہوئے کہا اعطاہ اولا (اسے دے گا یا نہ دے گا)( اور بیان احکام میں اندرونِ نماز دیکھنے کی صورت میں دوبار نفی واثبات لائے اور دوبار ''ان اعطی وان ابی'' (اگر دیا، اگر انکار کیا) لائے۔ اور بیرون نماز دیکھنے کی صورت میں ایک بار بطرز اول اور ایک بار بطرز ثانی۔ ان کے برادر نے النہرالفائق میں انہی کے کلام کی تلخیص کی ہے تودو جگہ ان کے قول ''وان ابی ''(اگر انکار کریں )کی تعبیر ''والا'' (ورنہ) سے کی ہے اسی لئے ہم نے ان کا کوئی مستقل ضابطہ نہ شمارکیاتوظاہر ہواکہ یہاں نفی عطاء سے ان حضرات کی مراد انکار ہے۔ تو بحر اور غنیہ پر یہ اعتراض نہ وارد ہوگا کہ دونوں نے شقوں کے بیان میں عطا وعدم عطا ذکر کیا اور بحر میں نصف احکام کے اندر عطاء واِباء پر اقتصار کیا۔اور غنیہ نے عطا واِباء کے سوا کچھ ذکر ہی نہ کیا۔ (ت)
ولا ان قول البحر مرتین ان اعطاہ توضأ والافتیممہ باق وکذا قول النھر ان لم یعطہ بقی تیممہ صادق بمااذالم یعط بل وعدولم یعط بعدالوعد ایضا مثلا مع ان تیممہ ینتقض باجماع اصحابنا رضی اللّٰہ تعالٰی عنھم اذاعلم ھذا فمن سبرظھر لہ وفورما ترک البحر من الصور واستبان ان(۱) جعلہ عدم السؤال خلافیۃ بین الھدایۃ والمبسوط مطلقا لایصح فی احد وخمسین من ستۃ وستین لان اقسام عدم السؤال قبل التثلیث والتسدیس سبعۃ وعشرون فی ستۃ (عـہ۱) منھا ثلاثیین (عـہ۲) واربعۃ سداسیات عطاء الماء فھی ثلثون (عـہ۳)،
نہ ہی یہ اعتراض ہوگا کہ دوبار بحر کا یہ کہنا ''ان اعطاہ توضأ والافتیممہ باق'' (اگر دے دے وضو کرے ورنہ اس کا تیمم باقی ہے) اسی طرح نہر کا کہنا ان لم یعطہ بقی تیممہ (اگر نہ دے تو اس کا تیمم باقی ہے اس صورت میں بھی صادق ہے جب عطا نہ ہو بلکہ وعدہ ہو مثلاً وعدہ ہو اور بعد وعدہ بھی نہ دے باوجودیکہ اس کا تیمم ٹوٹ جائے گا۔ اس پر ہمارے اصحاب رضی اللہ تعالٰی عنہم کا اجماع ہے۔ جب یہ معلوم ہوگیا تو جو جانچ کرے گا اس پر منکشف ہوگا کہ بحر نے کتنی زیادہ صورتیں چھوڑ دی ہیں یہ بھی روشن ہوگیا کہ عدمِ سوال کو ہدایہ ومبسوط کے درمیان مطلقاً خلافی ٹھہرانا چھیاسٹھ۶۶ میں سے اکیاون۵۱ صورتوں میں صحیح نہیں۔ اس لئے کہ تین اور چھ میں ضرب دینے سے پہلے عدم سوال کی قسمیں ستائیس۲۷ ہوتی ہیں، ان میں سے چھ۶ صورتوں دو ثلاثی اور چار سداسی میں پانی دینا ہے تو یہ تیس۳۰ صورتیں ہیں،
 (عـہ۱)وھی المرسومۃ فی التصویر  تحت اعطی ۱۲ منہ۔ م (یہ وہ صورتیں ہیں جو نقشے میں اعطی (دیا) کے تحت درج ہیں ۱۲ منہ۔ ت)

(عـہ۲) مرسومتین تحت قبل الصلاۃ ۱۲ منہ۔ م (جو قبل صلاۃ کے تحت درج ہیں ۱۲ منہ۔ ت)

(عـہ۳) المرسومات تحت وعدمن ۷ الی ۱۸۔ م (جو وعدہ کے تحت ۷ سے ۱۸ تک درج ہیں۔ ت)
وفی اثنی عشر الوعد قبل الصلاۃاوفیھا ثمانیۃ (عـہ۱)منھاثلاثیات واربعۃ سداسیات فھی ثمانیۃ واربعون فھذہ الثمانیۃ والسبعون لایشک احد ان بطلان الصلاۃ فیھامتفق علیہ لایجری فیھاخلاف الھدایۃ والمبسوط لان العطاء والوعد السابق علی تمام الصلاۃ کلیھمامانع للتیمم وناقض لہ ومبطل للصلاۃ بلاخلاف سواء اعطی بعدالوعدفی الوقت اوبعدہ اولم یعط مخلفا اوغیر  مخلف(۱) ومثلھا فی الوعد بعد الصلاۃ صورتاالعطاء (عـہ۲) فی الوقت لانہ مبطل وان لم یکن وعد ولم یزدہ الوعد الاقوۃ وکذلک(۲) صورتا عدم العطاء(عـہ۳) فیہ اذالم یظھر خلفہ لان الوعد یورث ظن العطاء ولم یظھر خلافہ وقدفات درک الحقیقۃ فبنی الامر علی ظنہ فھذہ اربعۃ کلھن سداسی فکانت اربعۃ وعشرین ومع السابقات مائۃ واثنین لکن البحر خص الکلام بما اذارأی خارج الصلاۃ فانتصفت ولم یبق من السبع والعشرین الاخمس اربع فی الوعد بعد الصلاۃ اذا (عـہ۴) اعطی بعد الوقت اولم (عـہ۵) یعط مخلفا،والعطاء بعدالوقت ایضا خلف کماقدمت،
اور بارہ صورتوں میں قبل نماز یا دورانِ نماز وعدہ ہے ان میں سے آٹھ ثلاثی اور چار سداسی ہیں تو یہ اڑتالیس۴۸ صورتیں ہُوئیں تو کل اٹھتّر۷۸ صورتیں ایسی ہیں کہ کسی کو شک نہ ہوگا کہ ان میں نماز کا بطلان متفق علیہ ہے جس میں ہدایہ ومبسوط کا اختلاف جاری نہیں اس لئے کہ تکمیل نماز سے پہلے عطا اور وعدہ دونوں ہی تیمم سے مانع اس کیلئے ناقض اور نماز کے لئے مبطل ہیں جس میں کوئی اختلاف نہیں خواہ بعد وعدہ وقت میں دے یا بعد وقت یا وعدہ خلافی کرتے ہوئے یا بلا وعدہ خلافی کے نہ دے ان ہی کی مثل وعدہ بعد نماز میں وقت کے اندر دینے کی دو صورتیں ہیں اس لئے کہ دینا باطل کردیتا ہے اگرچہ وعدہ نہ ہوا، اور وعدہ بھی ہے تو اس کی قوت میں اور اضافہ ہی کرے گا اسی طرح وقت کے اندر عدم عطا کی دو۲ صورتیں جبکہ وعدہ خلافی نہ ظاہر ہو اس لئے کہ وعدہ عطا کا ظن پیدا کرتا ہے اور اس کے خلاف ظاہر نہ ہُوا اور حقیقت کا ادراک ہاتھ میں نہ رہا تو بنائے کار اس کے ظن پر ہوگی تو یہ چار جن میں سب سُداسی ہوکر چوبیس۲۴ ہوئیں سابقہ کے ساتھ مل کر ایک سودو۱۰۲ ہوگئیں لیکن بحر نے خاص اس صورت پر کلام کیا ہے جب بیرونِ نماز دیکھا ہو تو آدھی رہ گئیں اور ستائیس۲۷ میں سے صرف پانچ بچیں چار وعدہ بعد نماز میں جب کہ بعد وقت دیا، یا وعدہ خلافی کرتے ہوئے نہ دیا۔ اور بعد وقت دینا بھی وعدہ خلافی ہی ہے جیسا کہ میں نے پہلے بیان کیا۔
عـہ۱) وھی ۷ الی ۱۴۔ (م) (یہ ۷ سے ۱۴ تک ہیں۔ ت)

(عـہ۲)ھما ۱۹ و ۲۳۔ (م) (یہ ۱۹ و ۲۳ ہیں۔ ت)

(عـہ۳) ھما ۲۲ و ۲۶ (م) (یہ ۲۲ و ۲۶ ہیں۔ ت)

(عـہ۴) ھما ۲۰ و ۲۴ (م) (یہ ۲۰ و ۲۴ ہیں۔ ت)

(عـہ۵) ھما ۲۱ و ۲۵ (م) (یہ ۲۱ و ۲۵ ہیں۔ ت)
والخامس: (عـہ) لاوعد ولااعطی فھذہ یجری فیھاالخلاف علی فرض ابقائہ فالمبسوط یقول بطلت لترک السؤال والھدایۃ صحت لان السؤال غیر  واجب ولم یوجد عطاء ولاوعداو زال ظن الوعد بالاخلاف ولاجل ان کل ھذہ الخمس سداسیات ھی ثلثون وعلی تشطیر  البحر خمسۃ عشر ھذاکلہ علی استظھاری ان الوعد بعدالصلاۃ اذاظھرخلفہ لم یؤثرفی صلاۃ مضت فان لم یسلم لم یبق للخلاف محل غیر  صورۃ واحدۃ من السبع والعشرین وھی مااذالم یعد ولم یعط فیکون الغلط فی ثلثۃ وستین من ستۃ وستین وان اکملناباخذ متروکاتہ کمافعلناکان الغلط فی مائۃ واثنین اومائۃ وستۃ وعشرین من مائۃ واثنین وثلثین وھا انالک اصورھا÷ کی یسھل علیک تصورھا÷ وباللّٰہ التوفیق÷
اور پانچویں صورت وہ کہ نہ وعدہ ہو نہ عطا۔ یہ وہ صورتیں ہیں جن میں اختلاف جاری ہوگا اگر یہ مانیں کہ اختلاف باقی ہے تو مبسوط کا قول ہے کہ ترک سوال کی وجہ سے نماز باطل ہے اور ہدایہ کا قول ہے کہ صحیح ہے اس لئے کہ سوال واجب نہیں اور عطا نہ پائی گئی نہ ہی وعدہ ہوا یا ہوا ظن وعدہ، خلف کی وجہ سے زائل ہوگیا۔ چونکہ ان پانچ میں سے ہر ایک سداسی ہے کل تیس۳۰ صورتیں ہُوئیں اور بحر کے آدھے بیان کی وجہ سے پندرہ۱۵ ہوئیں یہ سب اس بنیاد پر ہے کہ میں نے کہا کہ ظاہر یہ ہے کہ بعد نماز وعدہ کے خلاف جب ظاہر ہوجائے تو وہ ادا شدہ نماز میں اثر انداز نہ ہوگا۔ اگر میرا یہ خیال تسلیم نہ ہو تو ستائیس۲۷ میں سے ایک صورت کے سوا کہیں اختلاف نہ رہ جائے گا۔ وہ صورت یہ ہے کہ نہ وعدہ ہو نہ عطا ہو۔ تو چھیاسٹھ۶۶ میں سے تریسٹھ۶۳ میں خطا ثابت ہوگی اور اگر ان کی متروکات کولے کر ہم کامل کریں جیسا کہ پہلے ہم نے کیا تو غلطی ایک سو بتیس۱۳۲ میں سے ایک سوچھبیس۱۲۶ میں ہوگی ان صورتوں کا ایک نقشہ پیش کیا جاتا ہے تاکہ انہیں ذہن نشین کرنے میں سہولت ہو اور خدا ہی سے توفیق ہے۔ (ت)
(عـہ) وھی ۲۷۔ (م) (یہ ۲۷ ہے۔ ت)
Flag Counter