اقول: بلی فائدتہ اعطاء ھذاالحکم الاتری الی قولہ فی الضابطۃ فیمااذارأی فی الصلاۃ وکذااذاابی ثم اعطی وفیمااذارأی خارجھافان منعہ واعطاہ بعدھا لااعادۃ ۱؎ اھ ولذا اخذہ المحقق الحلبی فی شقوق ضابطتہ کماسیاتی ان شاء اللّٰہ تعالٰی وان فرض فالکلام علی مسلکہ رحمہ اللّٰہ تعالٰی وھو لم یعتبر فی الاقسام تمایز الاحکام کماسیاتی وان سلمنا فھی ثمان واربعون ثمان فی ست کماتری وقد تضمن کلامہ حکم ست وثلثین وترک اثنتی عشرۃ۔
اقول: کیوں نہیں۔ یہ حکم دینا ہی اس کا فائدہ ہے۔ ضابطہ میں صاحبِ بحر کا کلام دیکھئے، اندرونِ نماز دیکھنے کے تحت ہے ''اور ایسے ہی جب انکار کردے پھر دے دے'' اور بیرونِ نماز دیکھنے کے تحت ہے ''تو اگر (اس وقت) نہ دیا اور بعد نماز دے دیا تو اعادہ نہیں'' اھ۔ اسی لئے محقق حلبی نے بھی اسے اپنے ضابطہ کی شقوں میں لیا ہے جیسا کہ ان کا کلام اِن شاء اللہ تعالٰی آئے گا۔ اور اگر بے فائدہ ہی فرض کرلیا جائے تو یہاں کلام صاحبِ بحر رحمہ اللہ تعالٰی کے مسلک پر ہے اور انہوں نے قسموں کے اندر احکام کے جُدا گانہ ہونے کا اعتبار نہیں کیا ہے جیسا کہ اس کا بیان آرہا ہے اور اگر ہم تسلیم ہی کرلیں تو یہ اڑتالیس۴۸ صورتیں ہیں چھ میں آٹھ۔ ۸*۶ = ۴۸ جیسا کہ پیش نظر ہے اور ان کا کلام صرف چھتیس۳۶ صورتوں کے حکم پر مشتمل ہے۔
(۱؎ البحرالرائق باب التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۱۵۴)
وثانیا: نقل(۱) التوفیق عن الذخیرۃ عن الجصاص وھو التحقیق فارسالہ مااذا کان خارج الصلاۃ ولم یسأل اصلا خلافیۃ غیرمقطوع فیھا بقول ممالاینبغی۔
ثانیا: ذخیرہ کے ذریعہ امام جصاص سے تطبیق نقل کی۔ وہی تحقیق بھی ہے اس کے باوجود بیرونِ نماز رہ کر بالکل نہ مانگنے والی صورت کو کوئی قطعی قول پیش کیے بغیر اختلافی چھوڑ دینا مناسب نہیں۔
وثالثا: قد(۲)مشی علیہ فیمن رأی فی الصلاۃ یقطع ان ظن العطاء والالا ومامبناہ الاذلک التوفیق انہ یجب السؤال ان ظن العطاء والالا کماقدمنافقدمشی علی التوفیق ثم جعل الکل خلافیۃ وانماکان الوجہ ان یحیل ھذہ ایضا علی الخلاف اویقطع القول فی تلک ایضا۔
ثالثا: اسی پر اس کے بارے میں چلے ہیں جو اندرونِ نماز دیکھے تو اگر ظنِ عطا ہو نماز توڑدے ورنہ نہیں۔ اس کی بنیاد وہی تطبیق ہے کہ مانگنا واجب ہے اگر عطا کا گمان ہو ورنہ نہیں جیسا کہ ہم نے بیان کیا تو یہاں تطبیق پر چلے پھر سب کو خلافی بنادیا۔مناسب طریقہ یہی تھا کہ یا تو اِسے بھی اختلاف کے حوالے کرتے یا اُس میں بھی قطعی قول کرتے۔
ورابعا:قولہ(۳) فیمااذارأی خارجھا فسأل فمنع فتیمم فصلی انہ لایتأتی فیہ الظن والشک فیہ شک ای شک فان اراد عدم تأتیھمابعد المنع فالمنع لایختص بھذاالقسم وایضا لاتأتی لھمابعد الاعطاء ایضا بل اولی لانہ تم الامر وفی المنع یحتمل ان یحملہ علی حالۃ راھنۃ ویظن بہ عطاء اومنعااویشک فیمابعدذلک وان ارادمطلقاوھوالظاہرمن کلامہ فعدم تأتیھمابعد المنع لایمنع تأتیھما قبلہ وقد جعل(۴)الاقسام اولا ستایکون فی الصلاۃ اوخارجھا وعلی کل یظن عطاء اومنعا اویشک ثم فصل کلامنھا الی السؤال وعدمہ والعطاء والاباء فکیف یخرج ھذامن الظن والشک وان خرج کیف تصیر اربعا وعشرین۔
رابعا: یہ صورت کہ ''بیرونِ نماز دیکھنے پر مانگا تو اس نے نہ دیا پھر تیمم کرکے نماز پڑھ لی''۔ اس کے بارے میں انہوں نے فرمایا کہ ''اس قسم میں ظن یا شک کی صورت نہیں'' یہ کلام بڑے شک واعتراض کا محل ہے اگر یہ مراد ہے کہ بعد منع ظن یا شک نہیں ہوتا تو منع اسی قسم کے ساتھ خاص نہیں بلکہ بدرجہ اولٰی نہیں، اس لئے کہ کام پُورا ہوگیا۔ اور منع میں تو یہ احتمال ہے کہ اس منع کو موجودہ حالت پر محمولہ کرے اور اس کے بعد اس سے دینے یا نہ دینے کا گمان یا شک رکھے۔ اور اگر یہ مراد ہے کہ مطلقاً ظن یا شک نہیں ہوتا۔ یہی ان کے کلام سے ظاہر بھی ہے تو اس پر یہ کلام ہے کہ بعد منع ظن وشک کی صورت نہ ہونا اس سے مانع نہیں کہ قبل منع ظن یا شک رہا ہو۔ انہوں نے پہلے چھ۶ قسمیں بنائی ہیں اس طرح کہ وہ اندرونِ(۱) نماز ہوگا یا بیرونِ(۲) نماز اور بہر دو تقدیر یا تو اسے ظن(۱) عطا ہوگا یا ظن منع(۲) یا شک ہوگا_ پھر ان میں سے ہر ایک میں سوال(۱) وعدم سوال(۲) اور عطا(۱) وعدم ِ(۲) عطا کی تفصیل ہے تو یہ قسم ظن وشک سے خارج کیسے ہوگی اور اگر خارج ہو تو چوبیس۲۴ صورتیں کیسے بنیں گی؟
وخامسا: لاتخالف الرؤیۃ فی الصلاۃ وخارجھا فی شیئ من الاحکام ولااقسام الرؤیۃ فی الصلاۃ فیمابینھا غیر انہ یقطع ان ظن العطاء والالا فماکان لیدخل فی الشقوق فیطول الامر وکان یجمع جمیع(۱)ماقالہ بل مع الزیادۃ واحاطۃ الست المتروکۃ ان یقول من علم مع غیرہ ماء یکفی لطھرہ قبل الصلاۃ اوفیھا فان لم یسأل فعلی الخلاف وان سأل فان اعطی توضأ وان کان تیمم انتقض وان کان صلی بطلت وان منع تیمم اولم ینتقض اومضت ولاعبرۃ بالعطاء بعد الاباء فی الوجھین وسواء فی کل ذلک ظن عطاء قطع الصلاۃ والالا فھذا نحوثلث سطورہ بیدان الثلث کثیر۔
خامسا: اندرونِ نماز وبیرونِ نماز دیکھنے میں اور اندرون نماز دیکھنے کی قسموں میں باہم احکام کا کوئی فرق نہیں سوائے اس کے کہ اگر اسے عطا کا ظن ہو نماز توڑ دے ورنہ نہیں تو ان سب کو شقوں میں داخل کرکے طویل کرنا مناسب نہ تھا اگر یوں کہتے تو ان کی پوری بات مع اضافے اور متروکہ چھ صورتوں کے احاطے کے سمٹ آتی: ''جسے کسی کے پاس طہارت کیلئے کفایت کرنے والے پانی کا قبل نماز یا اندرونِ نماز علم ہوا تو اگر نہ مانگا تو اس صورت میں اختلاف ہے اور اگر مانگا اس نے دے دیا تو وضو کرے اور اگر تیمم تھا تو ٹوٹ گیا اور اگر نماز پڑھ لی تو باطل ہوگئی اور اگر نہ دیا تو تیمم کرے یا تیمم ٹوٹا ہی نہیں یا نماز بھی ہوگئی اور دونوں ہی شکلوں میں انکار کے بعد دینے کا کوئی اعتبار نہیں اور ان سب صورتوں میں خواہ اسے عطا کا گمان ہو یا منع کا، یا شک ہو مگر یہ ہے کہ اگر ظن عطا ہو نماز توڑ دے ورنہ نہیں۔ تو یہ ان کی سطروں کے تہائی کے قریب ہے مگر یہ کہ تہائی زیادہ ہے۔ (ت)
وسادسا: قولہ(۱)فی خارج الصلاۃ ان لم یسأل وتیمم وصلی یرید بہ کمااشرنا الیہ مااذالم یسأل قبلھا ولابعدھا لانہ سیذکرھما من بعد فھو مشتمل علی اثنی عشرقسماکماعلمت یظن منحااومنعااویشک وعلٰی کل یعطیہ صاحبہ قبل الصلاۃ اوفیھا اوبعدھا اولا اصلا ولاخلاف ان کان الا فی ثلث منھا وھی مااذا لم یعطہ اصلا وھذا ایضا بشرط ان لایوجد الوعد قبل تمام الصلاۃ والا لمنع ونقض وابطل ولو اعطی قبل الصلاۃ وجب الوضؤ وان کان تیمم انتقض اوفیھا وجب الاستئناف بعد التوضی اوبعدھا بطلت کل ذلک بالاجماع لان القدرۃ علی الماء تحصل باجماع اصحابنارضی اللّٰہ تعالٰی عنھم بالاباحۃ فکیف بالعطاء والعطاء عطاء وان لم یکن عن سؤال کما اذاکان عندہ من یسألہ فلم یسأل وصلی فاخبرہ مبتدئا اومجیبا اعاد مطلقا کماتقدم وقد(۲)احسن الدراذقال لوصلی بتیمم وثمہ من یسألہ ثم اخبرہ بالماء اعاد ۱؎ ،
سادسا: بیرونِ نماز والی صورت کے تحت ان کاقول ''اگر نہ مانگا اور تیمم کیا اور نماز پڑھ لی''۔ اس سے جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا ان کی مراد یہ ہے کہ ''نہ قبل نماز مانگا نہ بعد نماز'' اس لئے کہ آگے ان دونوں کو ذکر کررہے ہیں جیسا کہ معلوم ہوایہ بارہ۱۲ قسموں پر مشتمل ہے:اسے(۱) دینے کا ظن ہوگا یا نہ(۲) دینے کا شک ہوگا اور بہرتقدیر پانی والا اسے قبل(۱) نماز دے گا یا اندرونِ(۲) نماز یا بعد نماز، یا بالکل(۴) نہ دے گا اگر مانا جائے کہ اختلاف ہے تو ان میں سے صرف تین صورتوں میں ہوگا یہ جب کہ بالکل نہ دیا اور یہ بھی اس شرط کے ساتھ کہ قبل تکمیل نماز وعدہ نہ پایا جائے ورنہ وہ مانع، ناقض اور مبطل ہوگا (تیمم سے مانع ہوگا اور اگر تیمم ہے تو اسے توڑ دے گا تیمم سے نماز پڑھ لی تو اسے باطل بھی کردے گا) اگر قبل نماز دیا تو وضو واجب ہے اور اگر تیمم تھا تو ٹوٹ گیا اندرون نماز دیا تو وضو کرکے ازسرِنو پڑھنا ضروری ہے بعد نماز دیاتو سب بالاجماع باطل ہوگیا اس لئے کہ ہمارے اصحاب رضی اللہ تعالٰی عنہم کا اجماع ہے کہ اباحت سے پانی پرقدرت ہوجاتی ہے تو عطا سے کیوں نہ ہوگی اور عطاء عطاء ہی ہے اگرچہ بغیر سوال ہو، جیسے اس صورت میں جب کہ اس کے پاس کوئی ایسا شخص ہو جس سے دریافت کرسکے مگر نہ دریافت کیااور نماز پڑھ لی پھر اس نے ازخود بتایا یا پُوچھنے پر بتایا بہرصورت اعادہ کرے۔ جیسا کہ گزرا۔ درمختار نے یہ عمدہ تعبیر کی: ''اگر تیمم سے نماز پڑھ لی جبکہ وہاں کوئی ایسا تھا جس سے دریافت کرلے پھر اس نے پانی کی خبر دی تو اعادہ کرے''۔
(۱؎ درمختار باب التیمم مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱/۴۴)
فلم یقل ثم سألہ فاخبرہ لاجرم ان قال فی الجوھرۃ النیرۃ رأی رجلا معہ ماء فلم یسألہ فصلی ثم اعطاہ بعد فراغہ من غیر سؤال توضأ و اعاد وان لم یعط فصلاتہ تامۃ ۱؎ اھ فجعلھا خلافیۃ مطلقا غیر سدید فی تسعۃ من اثنی عشروان(۱)اخذت المتروکات ایضاکمافعلنا ففی ثمانیۃ عشرای علی ھذا التقسیم اما علی اخذ صور الوعد فکثیر جدا کمایاتی۔
یہ نہ فرمایا کہ ''پھر اس نے سوال کیا تو اس نے بتایا''۔ لاجرم جوہرہ نیرہ میں یہ کہا: کسی ایسے شخص کو دیکھا جس کے پاس پانی ہے اس سے طلب نہ کیا۔ نماز پڑھ لی۔ پھر اس کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد اس نے بغیر مانگے دے دیا تو وضو کرکے اعادہ کرے اور اگر نہ دیا تو اس کی نماز تام ہے'' اھ تو اسے بارہ۱۲ میں سے نو۹ صورتوں میں مطلقاً خلافی قرار دینا درست نہیں۔اور اگر متروکات بھی لے لیے جائیں جیسا کہ ہم نے کیا تو اٹھارہ۱۸ صورتوں میں۔ یعنی اس تقسیم پر لیکن وعدہ کی صورتیں بھی لی جائیں تو بہت زیادہ ہوجائیں گی، جیسا کہ ذکر آرہا ہے۔ (ت)
(۱ الجوہرۃ النیرۃ باب التیمم مکتبہ امدادیہ ملتان ۱/۲۹)
وسابعا: ترک(۱)صورالوعد والسکوت وفیھامباحث تھم فالاقسام علی ماسلک لااربعۃ وعشرون ولاستۃ وستون بل اربعمائۃ وستۃ وعشرون وذلک لانہ اما(۱)ان یسأل قبل التیمم او(۲)بعدہ قبل الشروع فی الصلاۃ او(۳)فیھا بقطعھااو(۴) بعدھا اولا(۵)اصلا فھی خمس ولایکون الاولان الابالعلم قبل الصلاۃ والبواقی تحتمل العلم فیھاوقبلھا فھی ثمانیۃ وعلی کل تقدیر یظن منحااومنعااویشک فھی اربعۃ وعشرون۔ فریق السؤال منھا ثمانیۃ عشروفریق عدمہ ستۃ والسؤال قبل التیمم اوبعدہ قبل الصلاۃ ثلاثی باعتبار الظنین والشک والسؤال فیھا اوبعدھا کل سداسی باضافۃ کون الرؤیۃ فی الصلاۃ اوقبلھا وصورۃ عدم السؤال تشمل الوجھین کماستعرف۔
سابعا: وعدہ اس سکوت کی صورتیں چھوڑ دیں جبکہ اس میں اہم بحثیں ہیں تو ان کے طرز پر قسمیں نہ چوبیس۲۴ ہوں گی نہ چھیاسٹھ۶۶ بلکہ چارسوچھبیس۴۲۶ ہوں گی۔ وہ اس لئے کہ سوال یا تو قبل تیمم(۱) ہوگا، یا بعد(۲) تیمم قبل شروع نماز، یا اندرون(۳) نماز اس طرح کہ نماز توڑدے، یا بعد(۴) نماز یا سوال بالکل نہ ہوگا(۵) یہ پانچ صورتیں ہوئیں پہلی دونوں صورتیں قبل نماز علم کے بغیر نہ ہوں گی اور بقیہ میں احتمال ہے کہ اندرون نماز معلوم ہو یا قبل نماز ہو۔ تو یہ آٹھ ہوئیں اور بہرتقدیر اسے ظن عطا ہوگا یا ظن منع یا شک ہوگا تو یہ چوبیس۲۴ صورتیں ہوئیں۔ ان میں سے اٹھارہ۱۸ سوال والی ہیں اور چھ۶ عدم سوال والی اور ظن عطا ومنع اور شک کے اعتبار سے سوال قبل تیمم یا بعد تیمم قبل نماز کی تین تین صورتیں ہیں اور نماز کے اندر یا نماز کے بعد سوال کی چھ چھ صورتیں ہیں اس طرح کہ رؤیت اندرون نماز یا قبل نماز ہونے کا اضافہ ہوگا اور عدم سوال والی صورت دونوں شکلوں کو شامل ہے، جیسا کہ معلوم ہوگا۔ (ت)
ثمّ علٰی کل سؤال اما ان یعطی من فورہ وھو العطاء العاجل اویعد اویسکت اویابی وبعدکل من الثلثۃ اما ان یعطی وھو العطاء الاٰجل اولا واذالم یعط فی الوعد فاما ان یظھر خلفہ اولا کماقدمنا فی التنبیہ الخامس ففی کل سؤال ثمانیۃ (عـہ) وجوہ ،
پھر ہر سوال پر یا تو اسے فوراً دے دے گا اس کا نام عطائے عاجل ہے یا وعدہ یا سکوت یا انکار کرے گا۔ اور ان تینوں میں سے ہر ایک کے بعد یا تو دے دے گا اور یہ عطائے آجل ہے یا نہ دے گا اور جب صورت وعدہ میں نہ دے گا تو یا تو اس کے خلاف ظاہر ہوگا یا نہیں جیسا کہ تنبیہ پنجم میں ہم پہلے بیان کرچکے تو ہر سوال میں آٹھ(۸) صورتیں ہوئیں ،
(عـہ) یعطی عاجلا(۱) یعدفیعطی(۲) اولایعطی(۳) مخلفااوغیر مخلف(۴) یسکت فیعطی(۵) اولا(۶) یابی فیعطی (۷) اولا(۸) ۱۲ منہ (م)
(۱) فوراً دے دے (۲) وعدہ کرے پھر دے دے۔ (۳) وعدہ خلافی کرتے ہوئے نہ دے (۴) یا بغیر وعدہ خلافی کے نہ دے (۵) سکوت اختیار کرے پھر دے دے (۶) یا نہ دے (۷) انکار کرے پھر دے دے (۸) یا نہ دے ۱۲ منہ (ت)