بل کیف یتأخر عنھا سؤال کان شرطالھا (عـہ) والشرط لایتأخر عن المشروط وعلی الاول لم قلتم بطلت صلاتہ بترک السؤال بعدھا وان ظن منعا اوشک فترک المرء بعض مایجب علیہ لایفسد صلاتہ مالم یخل ذلک بشیئ من شروط صحتھا۔
بلکہ جو سوال نمازکی شرط تھا وہ نماز سے مؤخر کیسے ہوگا؟ شرط تو مشروط سے مؤخرنہیں ہوتی۔ برتقدیر اول آپ نے یہ کیوں فرمایا کہ بعد نماز ترک سوال سے اس کی نماز باطل ہوگئی اگرچہ اسے انکار کا گمان ہو یا شک کی صورت ہو۔ ترک واجب سے نماز فاسد نہیں ہوجاتی جب کہ یہ صحت نماز کی کسی شرط میں خلل انداز نہ ہو۔
(عـہ) فان قلت کیف تقول ھذا مع تصریحھم بان(۱) علم المقتدی بحال الامام من سفر واقامۃ شرط صحۃ الاقتداء کمافی الخانیۃ والبحروالدر وغیرھا ثم صرحوا بأنہ لایشترط حصولہ من الابتداء بل یکفی حصولہ بعد الصلاۃ باخبار الامام مثلا انہ مسافر کما اشیر الیہ فی المتون وصرح بہ فی التوشیح والنھایۃ والسراج والتتارخانیۃ والبحر والدر وغیرھا فقدجوزوا تأخر الشرط عن المشروط اقول لیس ھکذا بل التحقیق(۱) فیہ انہ شرط الحکم بصحۃ الاقتداء لاشرط نفسہ وھو مرادما ذکروا من الاشتراط کما افادہ فی الفتح واوضحناہ فی صلاۃ المسافر من فتاوٰنا وباللّٰہ التوفیق ۱۲ منہ غفرلہ (م)
اگر یہ سوال ہو کہ آپ یہ کیسے کہہ رہے ہیں کہ فقہاء نے صراحت فرمائی ہے کہ مقتدی کو امام کی حالت سفر واقامت کا علم ہونا ''صحت اقتدا کی شرط ہے'' جیسا کہ خانیہ، بحر اور درمختار وغیرہا میں ہے۔ پھر یہ بھی صراحت فرمائی ہے کہ شروع ہی سے یہ علم ہونا شرط نہیں بلکہ بعد نماز یہ علم ہوجانابھی کافی ہے مثلاً اس طرح کہ امام(بعد نماز)بتادے کہ وہ مسافر ہے جیسا کہ متون میں اس صورت کی طرف اشارہ آیاہے اور توشیح، نہایہ، سراج، تاتارخانیہ، بحر اور درمختار وغیرہا میں اس کی صراحت آئی ہے تو ان حضرات نے مشروط سے شرط کا مؤخر ہونا جائز رکھا اقول(میں جواباً کہوں گا) معاملہ اس طرح نہیں بلکہ اس بارے میں تحقیق یہ ہے کہ وہ علم صحت اقتدا کے حکم کیلئے شرط ہے خود صحت اقتدا کی شرط نہیں۔ علماء نے جو شرط ہونا ذکر کیا اس سے یہی مراد ہے جیساکہ فتح القدیر سے یہ مستفاد ہے اور ہم نے اپنے فتاوٰی کے اندر نمازِ مسافر کے بیان میں اسے واضح کیا ہے اور خدا ہی سے توفیق ہے ۲۱ منہ غفرلہ (ت)
فان قلت کیف حکمتم ببطلان صلاتہ اذاظن العطاء ولم یسأل فمامنہ الاترک مالیس شرطا لصحۃ الصلاۃ۔
اگریہ سوال ہوکہ جب اسے عطا کا ظن ہو اور نہ مانگے تو آپ نے اس کی نماز باطل ہونے کا کیسے حکم کردیا جبکہ اس نے ایک ایسا ہی کام ترک کیا جو صحت نماز کی شرط نہیں۔
اقول: (میں کہوں گا)کیوں نہیں نماز صحیح ہونے کی شرط طہارت ہے اور اس طہارت کی شرط یہ ہے کہ اس کا عجز ظاہر ہو۔ اور ظہور عجز ایسے ظن عطا سے ختم ہوجاتا ہے جس کے خلاف ظاہر نہ ہو۔ تو جب اسے عطا کا گمان ہوجائے حکم کیا جائے گاکہ اس کی نماز کا فاسد ہونا موقوف رہے گا یہاں تک کہ اس گمان عطا کے خلاف ظاہر ہو تو نماز صحیح ہوجائے گی یا اس کے خلاف ظاہر نہ ہو تو نماز قطعی طورپر فاسد ہوجائے گی جیسا کہ میں نے آخری مسئلہ میں بیان کیا جب اس نے سوال نہ کیا اس کے ظن عطا کے خلاف ظاہر نہ ہوا تو فسادِ نماز قطعی ہوگیا اس لئے نہیں کہ سوال شرط ہے بلکہ اس لئے کہ ظہور عجز مفقود ہے بخلاف اس صورت کے جب انکار کاظن ہو اس لئے کہ ظہور عجز کا کوئی معارض نہ پایاگیا یہ تو واضح ہے اسی طرح جب شک رہا ہو اس لئے کہ یہ احتمال بلادلیل ہے تو ظاہر کے معارض نہ ہوگا جیسا کہ میں نے مسئلہ ششم کے آخر میں اس کی تحقیق کی ہے۔ اور خدا ہی کیلئے حمد ہے۔ (ت)
اقول: ثم ھھناعدۃ اسئلۃ ترد علی ظاھرکلام الامام فی النظرالظاھر اجبنا ان نوردھا ونردھا الاول جعلتم الشک فی الاعطاء والمنع شکا فی القدرۃ والعجز فاذن ظن المنع ظن العجز وقد قلتم ان غلبۃ الظن اقیم مقام حقیقۃ القدرۃ والعجز تیسیرا فاذا ظھرخلافہ لم یبق قائما مقامھما فقد افدتم انہ اذالم یظھرخلافہ یبقی قائمامقامھمافلم قلتم ان من ظن المنع ولم یسأل بعد ولم یعطہ صاحبہ بطلت صلاتہ مع ان عندہ ظن العجزولم یظھرخلافہ فیکون قائما مقام حقیقۃ العجز۔
اقول: اب یہ دیکھئے کہ یہاں امام صدر الشریعۃ کے ظاہر کلام پر بادی النظر میں چند اعتراض وارد ہوتے ہیں جنہیں ہم ذکر کرکے ان کی تردید کردینا چاہتے ہیں۔پہلا اعتراض: عطاء ومنع میں شک کو آپ نے قدرت وعجز میں شک قرار دیا ہے اس لحاظ سے ظن منع ظن عجز ہوگا جبکہ آپ نے فرمایا ہے کہ غلبہ ظن کو آسانی کیلئے قدرت وعجزکی حقیقت ویقین کے قائم مقام رکھاگیا ہے پھر جب اس کے خلاف ظاہر ہوجائے تو وہ حقیقت قدرت وعجز کے قائم مقام نہیں رہ جاتا اس سے یہ مستفاد ہُوا کہ جب اس کے خلاف نہ ظاہر ہو تو وہ ان دونوں کے قائم مقام رہتا ہے پھر آپ نے یہ کیسے فرمایا کہ جسے انکار کا گمان ہو اور اس نے ابھی مانگا نہیں اور پانی والے نے اسے دیا بھی نہیں تو اس کی نماز باطل ہوگئی باوجودیکہ اسے عجز کا گمان ہے اور اس کے خلاف ظاہر بھی نہ ہوا تو وہ حقیقت عجز کے قائم مقام رہے گا۔
الثانی: رأی الماء وھو یصلی وظن المنع فاتم کماامرتم فلما فرغ وجد صاحبہ قدذھب ولایدری مکانہ فمتی توجبون علیہ السؤال افی صلاتہ فیجب القطع وقد نھیتموہ ام بعدھا وقد ذھب وغاب فایجاب السؤال ایجاب المحال فوجب القول بادارۃ الحکم علی ظنہ۔
دُوسرا اعتراض:اس نے نماز پڑھتے وقت پانی دیکھا اور اسے انکار کا گمان ہُوا تو جیسا کہ آپ نے حکم دیا ہے اس نے نماز پُوری کرلی جب فارغ ہُوا تو دیکھا کہ پانی والا چلاگیا اب کہاں ہے پتا نہیں۔ تو اب اس کے ذمہ آپ مانگنا کب واجب کرتے ہیں اگر نماز کے دوران ہی واجب کرتے ہیں تو نماز توڑنا واجب ہوگا جب کہ اس سے آپ نے منع فرمایا ہے اور اگر بعد نماز واجب کرتے ہیں تو اب وہ چلا گیا اور غائب ہوگیا ایسی صورت میں اس سے مانگنے کو واجب کرنا ایک امر محال کو واجب کرنا ہے لامحالہ اس کے ظن ہی پر مدرا حکم رکھنے کا قائل ہونا پڑے گا۔
الثالث: اذا اوجبتم السؤال بکل حال÷ وان لم یسأل حکمتم مطلقا بالابطال÷ فلاشک ان ظنہ بمعزل عن الحکم عند ترک السؤال÷ واذا سأل ظھرت الحقیقۃ وانسلّ الظن عن المجال÷ فمتی اقیم مقامھا ومالہ الاالزوال÷
تیسرا اعتراض: جب آپ نے ہر حال میں مانگنا واجب کیا اور اگر نہ مانگا تو مطلقاً ابطال کا حکم دیا اب دو ہی صورتیں ہیں سوال یا ترک سوال۔ ترک سوال کی صورت میں تو صاف ظاہر ہے کہ اس کے ظن کا حکم سے کوئی تعلق نہیں اور سوال کی صورت میں حقیقت خود ہی منکشف ہوجاتی ہے اور ظن میدان سے نکل جاتا ہے تو ظن کو حقیقت کے قائم مقام کب رکھا گیا جبکہ اس کے حصہ میں زوال کے سوا کچھ بھی نہیں۔
اقول: والجواب عن الکل فی حرف واحدان السؤال واجب مھما امکن فاذا تعذر دار الامر علی الظن÷وقولہ(۱) فاذا ظھرخلافہ لیس فی الحکم حتی یؤخذ مفھومہ بل فی تعلیل مسألۃ وکان الواقع فیھاظھور خلافہ فبنی الامر علیہ واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
اقول: ایک حرف میں سب کا جواب یہ ہے کہ بصورت امکان سوال واجب ہے جب یہ معتذر ہو تو حکم کا مدار ظن پر ہے۔اور صدر الشریعۃ کا قول ''فاذا ظھر خلافہ'' (تو جب اس کے خلاف ظاہر ہوا)حکم کے تحت نہیں کہ اس کا مفہوم لیا جائے بلکہ وہ ایک مسئلہ کی تعلیل کے تحت ہے اور اس میں واقع یہی تھا کہ اس کے خلاف ظاہر ہوا، تو بنائے کار اسی پر رکھی اور خدائے برتر خُوب جاننے والا ہے۔ (ت)
الثانی القانون البحری
قال رحمہ اللّٰہ تعالٰی ان المتیمم اذارأی مع رجل ماء کافیا فلا یخلو اماان یکون فی الصلاۃ اوخارجھا وفی کل منھما اما ان یغلب علی ظنہ الاعطاء اوعدمہ اویشک وفی کل منھا اما ان سألہ اولا وفی کل منھا اما ان اعطاہ اولافھی اربعۃ وعشرون فان کان فی الصلاۃ وغلب علی ظنہ الاعطاء قطع وطلب الماء فان اعطاہ توضأ والا فتیممہ باق فلو اتمھا ثم سألہ فان اعطاہ استأنف وان ابی تمت وکذا اذا ابی ثم اعطی وان غلب علی ظنہ عدم الاعطاء اوشک لایقطع صلاتہ فان قطع وسأل فان اعطاہ توضأ والا فتیممہ باق وان اتم ثم سأل فان اعطاہ بطلت وان ابی تمت وان کان خارج الصلاۃ فان لم یسأل وتیمم وصلی جازت الصلاۃ علی مافی الھدایۃ ولاتجوز علی مافی المبسوط فان سأل بعدھا فان اعطاہ اعاد والافلا سواء ظن الاعطاء اوالمنع اوشک وان سأل فان اعطاہ توضأ وان منعہ تیمم وصلی فان اعطاہ بعدھا لااعادۃ علیہ وینتقض تیممہ ولایتأتی فی ھذ القسم الظن اوالشک وھذا حاصل مافی الزیادات وغیرھا وھذا الضبط من خواص ھذا الکتاب ۱؎ اھ وتبعہ اخوہ وتلمیذہ المدقق فی النھر اثر عنہ ش واقر۔
دوم: قانون علامہ صاحب البحر
صاحبِ بحر رحمہ اللہ تعالٰی نے فرمایا: ''معلوم ہوا کہ تیمم والا جب کسی آدمی کے ساتھ آب کافی دیکھے تو دو صورتوں سے خالی نہیں یاتویہ دیکھنا اندرون نمازہوگایابیرونِ نماز ہوگا۔ اور ہر ایک میں یا تو دینے یا نہ دینے کا غلبہ ظن ہوگا یا شک ہوگا۔ اور ان میں سے ہر ایک میں یا تو اس سے طلب کیا ہوگا یا نہ کیا ہوگا ۔اور ہر ایک میں یا تو اس نے دیا ہوگا یا نہ دیا ہوگا تو یہ چوبیس۲۴ صورتیں ہوئیں۔ اگر اندرونِ نماز ہو اور دینے کا غلبہ ظن ہو تو نماز توڑ دے اور پانی طلب کرے۔ اگر دے دے تو وضو کرے ورنہ اس کا تیمم باقی ہے اگر نماز پُوری کرلی پھر مانگا تو اگر دے دے ازسرِنو نماز پڑھے اور اگر انکار کردے تو اس کی نماز پُوری ہوگئی۔ اسی طرح جب انکار کردے پھر دے دے۔ اور اگر اسے نہ دینے کا غلبہ ظن ہو یا شک ہو تو نماز نہ توڑے۔اور اگر توڑ دی اور مانگا تو اگر دے دے وضو کرے ورنہ اس کا تیمم باقی ہے۔ اور اگر پُوری کرلی پھر مانگا تو اگر دے دے نماز باطل ہوگئی اور اگر انکار کردے تو تام ہے اور اگر بیرونِ نماز ہو تو اگر نہ مانگااور تیمم سے نماز ادا کرلی تو کلامِ ہدایہ کے مطابق نمازہوگئی اور بیانِ مبسوط کے مطابق نہ ہُوئی اگر بعد نماز مانگا تو اگر وہ دے دے اعادہ کرے ورنہ نہیں خواہ عطا کا گمان رہا ہو یا منع کا یا شک رہا ہو۔ اور اگر مانگا تو دینے کی صورت میں وضو کرے اور انکار کی صورت میں تیمم کرے اور نماز پڑھے۔ اب اگربعد نماز دے دے تو اس پر اعادہ نہیں، تیمم ٹوٹ جائے گا۔ اس قسم میں ظن یا شک کی صورت ہی نہیں یہ سب اس کا حاصل ہے جو زیادات وغیرہا میں ہے۔اور یہ انداز ضبط اس کتاب کی خصوصیات سے ہے اھ۔ ان کے برادر تلمیذ مدقق نے النہرالفائق میں اسی کی پیروی کی۔ ان سے علّامہ شامی نے نقل کیا اور برقرار رکھا۔ (ت)
۱؎ البحرالرائق باب التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۱۵۴)
اقول: اولا:(۱)بل ھی علی ماسلک ست وستون تضمن کلامہ بیان اربع وخمسین وبقیت علیہ اثنتا عشرۃ وذلک لانہ اما ان یراہ فی الصلاۃ اوقبلھا وعلی کل یظن العطاء اوالمنع اویشک فھی ست وفی کل منھااحدی عشرۃ لانہ اما ان یسأل قبل الصلاۃ او بعدھا اولاولا کیف وقدمر علی ھذاالتقسیم فی قولہ قطع وطلب فلواتم ثم سأل وفی قولہ قطع وسأل وان اتم ثم سأل وفی قولہ فان سأل بعدھاوان سأل ای قبلھا وقال فان لم یسأل ای اصلا (واعنی بالسؤال قبل الصلاۃ قبل تمامھاسواء کان قبل شروعھااوبقطعھا اذارأہ فیھا)وعلی کل من الاولین یعطی اولا وعلی الثالث یعطی قبل الصلاۃ اوفیھا اوبعدھا اولا اصلا فھی ثمان وواحدۃ منھاتصیراربعاوھی مااذا سأل قبلھا فابی فانہ اما ان یعید السؤال بعدھا اولا وعلی کل یعطی اولا فصارت احدی عشرۃ فبلغت ستاوستین وانااصورلک احدی الاسداس لتقیس علیھا سائرھابان تضع ظن المنع مقام ظن العطاء ثم الشک فھی ثلاث وثلثون ثم تضع رأی قبلھا مکان رأی فی الصلاۃ فھی ثلاث وثلثون اخری وھذہ صورتہ۔
اقول: اولا: بلکہ یہ ان کی روشِ کلام کے مطابق چھیاسٹھ۶۶ صورتیں ہیں جن میں سے چوّن۵۴ صورتوں کا بیان ان کے کلام کے ضمن میں آگیا اور بارہ۱۲ صورتیں رہ گئیں۔ وہ اس لئے کہ یا تو وہ اندرونِ نماز دیکھے گا یا قبل نماز۔ اور بہر دو صورت یا تو اسے عطا کا ظن ہوگا یا انکار کا، یا شک ہوگا۔یہ چھ۶ صورتیں ہوئیں اور ان میں سے ہر ایک گیارہ۱۱ صورتیں ہیں اس لئے کہ وہ یا تو قبل نماز مانگے گا یا بعد نماز یا نہ قبل نمازنہ بعد نماز۔ یہ صورتیں کیسے نہ ہونگی جب کہ ان کی روِشِ بیان درج ذیل عبارتوں میں اسی تقسیم پر جاری ہے (دیکھئے ان کی عبارت خط کشیدہ الفاظ ۱۲م۔ الف) (۱) نماز توڑ دے اور پانی طلب کرے اگر نماز پُوری کرلی پھر مانگا (۲) توڑی دی اور مانگا اور اگر پُوری کرلی پھر مانگا (۳) اگر بعد نماز مانگا اور اگر مانگا (۳) اگر بعد نماز مانگا اور اگر مانگا یعنی قبل نماز اور فرمایا: تو اگر نہ مانگا یعنی بالکل مانگا ہی نہیں (نہ قبل نماز نہ بعد نماز) میری عبارت میں جو ''قبل نماز'' آیا ہے اس سے میری مراد ہے ''تکمیل نماز سے''خواہ یوں کہ نماز شروع کرنے سے پہلے ہو یا یوں کہ جب اندرونِ نماز پانی دیکھنا نماز توڑدی ہو (اب سلسلہ کلام وہیں سے ملا لیجئے ۱۲م۔ الف) اور ان میں کی پہلی دونوں میں سے ہر تقدیر پر یاتووہ دے گا یا نہ دے گا اور تیسری تقدیر پر قبل نماز(۱) دے گا،یا اندرون(۲) نمازِ، یا بعد(۳) نماز، یا بالکل(۴) نہ دے گا۔ یہ آٹھ صورتیں ہوئیں اور ان میں سے ایک وہ ہے جس کی چار(۴) صورتیں بن جائیں گی۔ یہ قبل نماز مانگنے پر انکار والی صورت ہے کیونکہ اس صورت میں یا تو بعد نماز دوبارہ مانگے گا، یا نہ مانگے گا اور بہر تقدیر یا تو وہ دے گا یا نہ دے گا۔ تو گیارہ صورتیں ہوکر چھاسٹھ۶۶ کو پہنچ جائیں گی اب ان میں سے ایک سدس (گیارہ) کی شکل پیش کی جاتی ہے تاکہ بقیہ کو اسی پر قیاس کیا جاسکے اس طرح کہ ظن عطا کی جگہ ظن منع پھر شک رکھ دیں تو یہ تینتیس صورتیں ہوجائیں گی، پھر ''اندرونِ نماز دیکھا'' کی جگہ ''قبل نماز دیکھا'' رکھ دیں تو یہ دوسری تینتیس۳۳ صورتیں ہوجائیں گی۔ نقشہ یہ ہے:
4_1.jpg
ولم یذکر فیما اذارأی فی الصلاۃ الا السؤال قبلھا اوبعدھا فبقی ان لایسأل اصلا وصاحبہ یعطیہ قبل الصلاۃ اوفیھا اوبعدھا اولا فھی اربع علی کل من صور الظنین والشک فکانت اثنتی عشرۃ لم یذکرھا۔
علامہ صاحب بحر نے اندرونِ نماز دیکھنے کی تقدیر پر صرف مانگنے کا ذکر کیا ہے قبل نماز ہویا بعد نماز۔ اور یہ شکل رہ گئی کہ بالکل نہ مانگا اور پانی والے نے اسے قبل نماز یا اندرونِ نماز یا بعد نماز دے دیا، یا نہ دیا تو ظنِ عطا، ظنِ منع اور شک ہر ایک پر یہ چار چار صورتیں ہوکر بارہ۱۲ ایسی ہوئیں جن کو انہوں نے نہیں ذکر کیا۔ (ت)
فان قلت لافائدۃ فی التشقیق بعد الاباء قبل الصلاۃ بأنہ سأل بعدھااولا وعلی کل اعطی اولافان الحکم لایختلف وھو صحۃ صلاتہ لان العطاء بعد الاباء غیر مفید کمامر فی المسألۃ العاشرۃ۔
اگر یہ سوال ہو کہ قبل نماز انکار ہوجانے کے بعد یہ شقیں نکالنے میں کوئی فائدہ نہیں کہ بعد نماز اس نے مانگا یا نہ مانگا اور بہرتقدیر اس نے دیا یا نہ دیا۔اس لئے کہ حکم مختلف نہیں، حکم یہی ہے کہ اس کی نماز صحیح ہے اس لئے کہ انکار کے بعد دینا مفید نہیں جیسا کہ مسئلہ دہم میں گزرا۔(ت)