قولہ لکن تبقی صورتان) اقول الاخری(۱)ان فرض ترکھا فی الزیادات فلم تترک فی کلامکم لان من رأی فی الصلاۃ وسأل بعدھا یشملھا قطعا والاحالۃ علی الزیادات للحکم لاللتصویر۔
(۹) الفاظ صدر الشریعۃ (لیکن دو۲ صورتیں رہ جاتی ہیں) اقول اگر فرض کرلیا جائے کہ دوسری صورت میں زیادات میں متروک ہے تو آپ کے کلام میں متروک نہیں اس لئے کہ ''جس نے اندرونِ نماز دیکھا اور بعد نماز طلب کیا'' یہ صورت اس دوسری صورت کو بھی قطعاً شامل ہے۔رہ گیا زیادات کا حوالہ تو وہ حکم سے متعلق ہے، بیان صورت سے متعلق نہیں۔ (ت)
قولہ احدھما) قال اخی چلپی یمکن انفھامھا من قولہ وکذا ابی ثم اعطی لانہ صریح فی ان الاعطاء ناقض والاباء متمم فتأمل ۱؎ اھ
(۱۰) لفظ صدر الشریعۃ ''احدھما''(ایک صورت یہ کہ الخ)اخی چلپی نے کہا: ''یہ صورت ان کے قول ''اور اسی طرح جب انکار کرے پھر دے دے'' سے سمجھ میں آسکتی ہے اس لئے کہ وہ اس بارے میں صریح ہے کہ دینا ناقض ہے اور انکار سے نماز تام ہوجاتی ہے فتامل اھ،
(۱؎ ذخیرۃ العقبٰی باب التیمم مطبع اسلامیہ لاہور ۱/۱۸۲)
اقول: قولہ(۲)کذا ای تمت صلاتہ فاین فیہ ان الاعطاء ناقض بل فیہ ان الاعطاء بعد الاباء ھباء نعم لوقال یمکن انفھامھا من قولہ اذا اعطاہ استأنف واذا ابی تمت فانہ صریح الخ لاتجہ ولعلہ سبق قلم ومن التقصیر(۳) قول من (عـہ)قال لاذکرلھما فی العبارات السابقۃ صریحا وان کان قول الزیادات وان ابی تمت یدل علٰی حکمھما باطلاقہ واشارتہ ۲؎ اھ فلم ترک قولہ اذا اعطی استأنف لیدل علی حکم الوجھین فی الصورتین۔
اقول: ان کا لفظ ہے ''کذا'' (اس طرح) یعنی اس کی نماز پُوری ہوگئی۔ اس میں یہ کہاں ہے کہ دینا ناقض ہے بلکہ اس میں یہ ہے کہ انکار کے بعددینا دُھول ہے۔ہاں اگریہ کہتے کہ ان کے قول(جب دے دے تو ازسرِنو ادا کرے اور انکار کردے تو نماز پُوری ہوگئی) سے یہ دوسری صورت سمجھ میں آسکتی ہے اس لئے کہ وہ اس بارے میں صریح ہے کہ دینا ناقض ہے اور انکار نماز کو تام کردینے والا ہے'' تو یہ کہنا درست ہوتا۔ شاید یہ سبقت قلم ہے یہ کہنے میں تقصیر ہے کہ ''ان دونوں صورتوں کا سابقہ عبارتوں میں صراحۃً کوئی ذکر نہیں اگرچہ زیادات کے الفاظ(وان ابی تمت اور اگر انکار کردے تو نماز پُوری ہوگئی)اپنے اطلاق اور اشارہ سے ان کے حکم پر دال ہیں'ـ' اھ زیادات کے الفاظ(اذا اعطی استانف جب دے دے تو از سرنو پڑھے) کو بھی کیوں نہ ذکر کیا کہ دونوں صورتوں کی دونوں شکلوں پر دلالت ظاہر ہو۔ (ت)
(عـہ) وھو صاحب عمدۃ الرعایۃ ۱۲ (م)
(قائل صاحب عمدۃ الرعایۃ (مولٰنا عبدالحی فرنگی محلی) ہیں ۱۲۔ ت)
(۲؎ عمدۃ الرعایۃ حاشیۃ شرح الوقایۃ باب التیمم المکتبۃ الرشیدیہ ۱/۱۰۳)
ثمّ ان کان فی(۱) قول الزیادات مرجع فرغ من صلاتہ المصلی مطلقالم یصح قولہ لاذکرلھما فی العبارات السابقۃ صریحا وان کان مرجعہ خصوص من ظن منعاً اوشک لم یصح قولہ باطلاقہ فان المباین لایدخل فی اطلاق مباینہ۔
پھر اگر زیادات کی عبارت میں فرغ من صلاتہ (وہ اپنی نماز سے فارغ ہو) کا مرجع مطلقا مصلی ہے تو یہ کہنا درست نہیں کہ ''سابقہ عبارتوں میں صریحاً ان دونوں صورتوں کا کوئی ذکر نہیں''اور اگر اس کا مرجع خاص من ظن منعا اوشک'' (وہ جسے انکار کا گمان یا شک ہو)ہے تو ''باطلاقہ''(اپنے اطلاق سے) کہنا درست نہیں۔اس لئے کہ مباین اپنے مباین کے اطلاق میں داخل نہیں ہوتا۔ (ت)
اگر یہ کہو کہ شاید انہوں نے بطور توزیع وتقسیم ذکر کیا ہو تو جسے عطا کا گمان ہو اور نماز پوری کرلے اس کے لئے لفظ ''اشارہ'' رکھا اور جسے انکار کا گمان ہو یا شک ہو اور نماز توڑ دے اس کیلئے لفظ ''اطلاق'' رکھا۔ (ت)
اقول : ولایصح فان القطع یباین الفراغ فاین الدخول فی الاطلاق۔ھذا واقول ضبط کل کلام ھذا الامام فی نصف سطر انہ ان لم یسأل اواعطاہ بطل مافعل من تیمم وصلاۃ وان ابی تم فالشرط الاول یشمل مااذالم یسأل فاعطی اولم یعط وما اذاسأل فاعطی ویبقی للثانی مااذاسأل فلم یعط ویدل باطلاقہ علی انہ سواء فی کل ذلک ظن منحا اومنعا اوشک ورأہ خارج الصلاۃ اوفیھا فقطع اواتم وان اردنا زیادۃ ماقدم عن الزیادات زدنا فی الشرط الاخری ولواعطاہ بعد الصلاۃ فیبقی العطاء فی الاولٰی مقیدا بما اذالم یکن بعد الصلاۃ عقیب اباء ویبقی للثانیۃ شقان سأل فلم یعط اواعطی بعد الصلاۃ مسبوقا باباء ثم زدنا بعدہ سواء ظن منحا اومنعاً اوشک غیرانہ ان ظن العطاء قطع الصلاۃ والالا۔
اقول: (میں کہوں گا) یہ بھی صحیح نہیں اس لئے کہ نماز توڑنا نماز پڑھ چکنے اور اس سے فارغ ہونے کے مباین ہے تو ''اطلاق'' میں کیسے داخل ہوگا۔یہ ذہن نشین رہے اقول امام صدر الشریعۃ کے پُورے کلام کا ضبط نصف سطر میں یہ ہے کہ ''اگر وہ سوال نہ کرے یا اسے دے دے تو جو تیمم اور نماز اس نے ادا کیا وہ باطل ہوگیا اور اگر انکار کردے تو تام ہوا'' تو پہلی شرط اس صورت کو شامل ہے جب اس نے مانگا نہیں اور اس نے دے دیایانہ دیا اور اس صورت کو بھی جب اس کے مانگنے پر اس نے دیا اور دوسری شرط کے تحت وہ صورت رہے گی جب اس کے مانگنے پر اس نے نہ دیا۔ اور کلام اپنے اطلاق سے یہ بھی بتائے گا کہ ان باتوں میں یہ سب صورتیں یکساں ہیں اسے دینے کا گمان رہا ہو یا نہ دینے کا یا شک رہا ہو اور اس نے بیرونِ نماز دیکھا ہو یا اندرونِ نماز دیکھ کر نماز توڑ دی ہو یا پُوری کی ہو۔اور انہوں نے زیادات کے حوالہ سے جو پہلے بیان کیااگر ہم اس کا بھی اضافہ کرنا چاہیں تو دوسرے جملہ شرطیہ میں یہ الفاظ بڑھادیں ''اگرچہ بعد نماز اسے دے دیا ہو'' تو پہلے جملہ شرطیہ میں دینا اس سے مقیدرہے گا کہ انکار کرکے بعد نمازدینا نہ ہو اور دوسرے جملہ کے تحت دو۲ شقیں رہ جائیں گی(۱)مانگنے پر دیا نہیں(۲)یا انکار کرکے بعد نماز دیا پھر اس کے بعد ہم یہ بڑھادیں ''خواہ اسے دینے کا گمان رہا ہو یا انکار کا،یا شک رہا ہو مگر یہ ہے کہ اگر دینے کا گمان ہو تو نماز توڑ دے ورنہ نہیں''۔ (ت)
اقول: ولایخرج منہ مااذا سأل فلم یعط ولم یاب بل سکت وذلک لماقدمنا ان اعطاہ بعد السکوت قبل ان یراہ یصلی بالتیمم لم یکن السکوت اباہ فدخل فی الاول اعنی اعطاہ وان کان ھذا بعد الصلاۃ فلم یتقدمہ اباء وکان الحکم ح للعطاء دون السکوت والا کان اباء فدخل فی الثانی وکان الحکم ح للسکوت من جھۃ انہ دلیل المنع۔
لکن اولا بقی(۱)مااذاسأل فلااعطی ولاابی بل وعدثم اخلف فان کان ھذاالوعد قبل الصلاۃ اوفیھابطل تیممہ قطعا وان لم یعطہ ولم یدخل فی قولہ ان لم یسأل اواعطاہ لانہ سأل ولم یعط وکذلک ان وقع بعدھاواختیربطلانھا مطلقاوان قلنا کماھوالظاھرواللّٰہ تعالٰی اعلم ان الصلاۃ ماضیۃ ان ظھر خلفہ فھذہ صورۃ تمام الصلاۃ ولم تدخل فی قولہ ان ابی لان من وعد لایقال انہ منع وابی الاان یدعی ان الوعد عطاء فتدخل فی الاول ولکن یحتاج الی دلیل واین الدلیل بل الدلیل علٰی خلافہ کمابینا۔
لیکن اولا وہ صورت رہ گئی جب اس نے مانگا تو اس نے نہ دیا نہ انکار کیا بلکہ وعدہ کیا پھر اس کے خلاف کیا تو اگر یہ وعدہ نماز سے پہلے یا نماز کے دوران ہوا ہو تو اس کا تیمم قطعاً باطل ہوگیا اگرچہ اس نہ دیا اور یہ ''ان لم یسأل او اعطاہ '' (اگر اس نے نہ مانگا یا اس نے دے دیا)کے تحت داخل نہ ہُوا۔ اس لئے کہ اس نے مانگااور اس نے نہ دیا اسی طرح اگر یہ وعدہ بعد نماز ہوا۔ اس میں مطلقاً بطلان نماز اختیار کیا گیا ہے اگرچہ ہم نے جیسا کہ ظاہر ہے اور خدائے برتر خُوب جاننے والاہے یہ کہا کہ نماز ہوگئی اگر وعدہ خلاف ظاہر ہوئی کہ یہ نماز تام ہونے کی صورت ہے اور ''ان ابی''(اگر انکار کیا)کے تحت داخل نہیں اس لئے کہ جس نے وعدہ کیا اس کے بارے میں یہ نہ کہا جائے گاکہ اس نے منع وانکار کیا لیکن اگر یہ دعوٰی کیا جائے کہ وعدہ عطاہے تو یہ صورت شرطِ اوّل کے تحت داخل ہے۔لیکن اس دعوٰی پر دلیل کی ضرورت ہے۔ اور دلیل کہاں؟ بلکہ دلیل تو اس کے خلاف پر موجود ہے جیسا کہ ہم نے بیان کیا۔ (ت)
فان قلت بل نختار ان الوعد المخلف اباء فتدخل فی الثانی ولعل ھذا غیر بعید بالنظر الی مااٰل الیہ الامر۔
اگر یہ کہے کہ ہم یہ اختیار کرتے ہیں کہ وہ وعدہ جس کے خلاف عمل ہو وہ انکار ہی ہے تو یہ صورت شرط ثانی کے تحت داخل ہوگی۔ اور یہ مآل کار کے اعتبار سے کچھ بعید بھی نہ ہوگا۔
اقول: ان لم یجعل الوعد عطاء لم ینفع وان جعل لم یحتج الیہ وذلک لان الاخلاف ان کان اباء مستند ای من حین وعد وردت المسألۃ الاولی حیث وعد قبل تمام الصلاۃ واخلف فقد اثرمع کونہ اباء وان کان اباء مقتصرا ای من حین اخلف ولم یکن اعطاء حین وقع وردت ایضا لانہ سأل ولم یعط فلم توجد شریطۃ الابطال فلم بطلت فلامحید الاجعل الوعد عطاء بعینہ وھو خلاف المعقول والمدلول واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
اقول: (میں کہوں گا) اگر وعدہ کو عطا نہ قرار دیا جائے تو سُودمند نہیں اور اگر عطا قرار دیا جائے تو اس کی ضرورت نہیں۔ وجہ یہ ہے کہ وعدہ خلافی اگر انکار مستند ہے یعنی وقت وعدہ سے،توپہلا سوال وارد ہوگا کیوں کہ اس نے قبل تمام نماز وعدہ کیااور خلاف کیا تو یہ انکار ہونے کے باوجود اثرانداز ہوا(جب کہ صورتِ انکار میں نماز تام ہوتی ہے) اور اگر انکار مقتصرہو یعنی وقت عدم وفا سے، اور جب وعدہ ہوا ہے اس وقت دینا نہ ہو تو بھی پہلا سوال وارد ہوگا۔اس لئے کہ ''اس نے مانگا اور اس نے نہ دیا''تو ابطال کی جو شرط تھی(نہ مانگا یا اس نے دے دیا)وہ نہ پائی گئی پھر نماز کیوں باطل ہوئی توکوئی مفر نہیں سوااس کے کہ وہ وعدہ کو بعینہٖ عطا قرار دیں اور یہ معقول ومدلول دونوں کے خلاف ہے۔ (ت)
وثانیا: کون(۱) ماء الطھارۃ مبذولا عادۃ فی کل مکان÷ بطلانہ غنی عن البیان÷ یعرفہ البلہ والصبیان وشان المبسوط یجل عن ارادتہ فوجب ردہ الی ماوفق بہ الائمۃ الجلۃ ابوبکر الجصاص وابوزید الدبوسی وابونصر الاصغار علیھم رحمۃ الغفاران المراد موضع لایعز فیہ الماء فاذن کلام المبسوط حیث یظن العطاء فکیف یقال سواء غلب علی ظنہ الاعطاء اوعدمہ اوشک۔
ثانیا: آب طہارت ہر جگہ عادۃً دے دیا جاتا ہے اس کا بطلان بیان سے بے نیاز ہے بے وقوفوں اور بچّوں کو بھی معلوم ہے اور مبسوط کا مقام ایسا معنی مراد لینے سے بلند ہے تو اس کے کلام کو اسی طرف پھیرنا ضروری ہے جس سے امام ابوبکر جصاص، امام ابوزید دبوسی اور امام ابونصر صغار علیہم الرحمۃ نے تطبیق دی کہ مراد ایسی جگہ ہے جہاں پانی کم یاب نہ ہو اب مبسوط کا کلام یہ ہوگا کہ(ایسی جگہ سوال نہ کیا) جہاں پانی دینے کا گمان ہو۔ پھر یہ کیسے کہاجائےگاکہ (عدم سوال مبطل ہے)خواہ اسے دینے کا ظن ہو یا نہ دینے کا یا شک کی صورت ہو۔
وثالثا: ھل(۲) السؤال مطلقا سواء ظن ظنا اوشک واجب علیہ غیرمشترط لصحۃ الصلاۃ ام ھو شرطھا علی الثانی کیف صح الشروع فیھا بلاسؤال وکیف جاز المضی فیھا لمن ظن منعااوشک بل وکیف قلتم فیمن یظن العطاء یقطعھا وانما القطع لماانعقد وما ذانفع الفرق ھھنا بین ظن العطاء وغیرہ فترک الشرط مبطل مطلقا وکیف امضیتموھا اذا سأل بعدھا فابی وان کان یظن العطاء فان ماوقع باطلا لفقد شرط من شروط الصحۃ لاینقلب جائزا بعد کمن ظن قربہ ولم یطلب وصلی بالتیمم ثم طلب فلم یجد بطلت ایضا کما تقدم عن السراج الوھاج والجوھرۃ۔
ثالثا: کیا ایسا ہے کہ مانگنا خواہ کوئی گمان ہو یا شک ہو مطلقاً اس پر واجب ہے مگر صحتِ نماز کی شرط نہیں یا اس کی شرط بھی ہے۔ برتقدیر ثانی بغیر مانگے اس کا نماز شروع کرنا کیسے صحیح ہوا؟ اور ظن منع یا شک والے کیلئے اس نماز کی ادائیگی پر برقرار رہنا کیسے جائز ہوا؟بلکہ یہ سوال بھی ہے کہ جو عطاء کا ظن رکھتا ہو اس کیلئے آپ نے یہ کیوں کہاکہ نماز توڑدے؟ توڑنا تو اسی کا ہوتاہے جو بندھ چکا ہو اور جس کا انعقاد ہوگیا ہواوریہاں ظن عطااوراس کے ماسوا میں فرق سے کیا فائدہ؟شرط کا ترک تو مطلقاً مبطل ہے اور اُس صورت میں آپ نے نماز کو تام قرار دیا جب اس نےبعد نماز طلب کیا اور اس نے انکار کردیا اگرچہ اسے عطا کا گمان رہا ہو اس پر سوال یہ ہے کہ آپ نے نماز کو تام کیسے قرار دیا؟جو عمل کسی شرط صحت کے فقدان کی وجہ سے باطل واقع ہوا وہ بعد میں جائز کی صورت میں تبدیل نہیں ہوسکتا ۔
یسے اس کا حال ہے جسے قربِ آب کا ظن تھا اور اس نے پانی تلاش نہ کیا۔ تیمم سے نماز پڑھ لی پھر تلاش کیا تو نہ پایا جب بھی اس کی نماز باطل ہے جیسا کہ سراج وہاج اور جوہرہ کے حوالہ سے بیان ہوا۔