ثم عن الزیادات ماتقدم فی المسألۃ الثالثۃ من انہ یقطع الصلاۃ ان ظن العطاء والالا وادرج فیہ مامر فی المقام الثانی من وجوب السؤال فی الشک ایضا اذارأی خارج الصلاۃ لان العجز مشکوک۔
پھر زیادات سے وہ کلام نقل کیا جو مسئلہ سوم میں گزرا کہ ''اگر دینے کا گمان ہو تو نماز توڑ دے ورنہ نہیں''۔ اور اسی میں وہ بات بھی اپنی طرف سے درج کردی جو مقام دوم میں گزری کہ ''شک کی صورت میں بھی مانگنا ضروری ہے جب کہ نماز کے باہر دیکھا ہو اس لئے کہ عجز مشکوک ہے''۔
قال ثم قال فی الزیادات فاذا فرغ من صلاتہ فسألہ فاعطاہ اواعطی بثمن المثل وھو قادر علیہ استأنف الصّلاۃواذا ابی تمت صلاتہ وکذا اذا ابی ثم اعطی لکن ینتقض تیممہ الاٰن۔
تحریر فرمایا کہ پھر زیادات میں یہ لکھا ہے: ''پھر جب نمازسے فارغ ہوکر اس سے مانگا اس نے دے دیا یا ثمن مثل پر زور دیا اور یہ ثمن مثل پر قادر ہے تو وہ ازسرِنو نماز پڑھے اور انکار کردیا تو اس کی نماز پوری ہوگئی۔ اسی طرح جب انکار کرے پھر (بعد میں) دے دے لیکن اب اس کا تیمم ٹوٹ جائے گا''۔
ثم قال رحمہ اللّٰہ تعالٰی اقول ان اردت ان تستوعب الاقسام کلھا فاعلم انہ اذارأی الماء خارج الصلاۃ وصلی ولم یسأل بعد الصّلوٰۃ لیظھرالعجز والقدرۃ فعلی ماذکر فی المبسوط سواء غلب علی ظنہ الاعطاء اوعدمہ اوشک فیھماوھی مسألۃ المتن۔
پھر صدر الشریعۃ رحمہ اللہ تعالٰی نے تحریر فرمایا: ''میں کہتا ہوں اگر ساری قسموں کا احاطہ منظور ہو تو معلوم ہو کہ جب اس نے بیرونِ نماز پانی دیکھا اور نماز پڑھ لی، بعد نماز مانگا بھی نہیں کہ عجز یا قدرت کا انکشاف ہو تو اس کا حکم وہ ہے جو مبسوط میں ذکر ہوا۔ خواہ اسے دینے کا گمان ہو یا نہ دینے کا یا دونوں میں شک ہو۔ یہ وہ مسئلہ ہے جو متن میں مذکور ہے۔
واذا رأی فی الصلاۃ ولم یسأل بعدھافکذاوان رأی خارج الصّلاۃ ولم یسأل وصلی ثم سألہ فان اعطی بطلت صلاتہ وان ابی تمت سواء ظن الاعطاء اوالمنع اوشک فیھماوان رأی فی الصلاۃ فکما ذکر فی الزیادات لکن یبقی صورتان احدھما انہ قطع الصلاۃ فیمااذا ظن المنع اوشک فسألہ فان اعطی بطل تیممہ وان ابی فھو باق والاخری انہ اذااتم الصلاۃ فیما اذاظن انہ یعطی ثم سأل فان اعطی بطل صلاتہ وان ابی تمت لانہ ظھران ظنہ کان خطاء بخلاف مسألۃ التحری ۱؎ الٰی اٰخر ماتقدم فی الافادۃ الخامسۃ۔
اور جب اندرونِ نماز دیکھا اور بعد نمازطلب نہ کیا تو بھی یہی حکم ہے اور اگر بیرونِ نماز دیکھا اور طلب نہ کیا، نماز پڑھ لی پھر مانگا تو اب اگر دے دے اس کی نماز باطل ہوگئی اور انکار کردے تو پُوری ہوگئی خواہ پہلے اسے عطا کا گمان رہا ہو یا منع کا، یا دونوں میں شک رہا ہو اور اگر اندرونِ نمازدیکھا تو حکم وہی ہے جو زیادات میں بیان ہوا۔ لیکن اس میں دو۲ صورتیں رہ جاتی ہیں:ایک یہ کہ اس نے ظن منع یا شک کی صورت میں نماز توڑ دی پھر اس سے مانگا اب اگر وہ دے دے تو اس کا تیمم باطل ہوگیا اور انکار کردے تو باقی ہے۔ دوسری صورت یہ کہ ظنِّ عطا کی صورت میں اس نے نماز پُوری کرلی پھر مانگا اب اگر وہ دے دے تو اس کی نماز باطل ہوگئی اور انکار کردے تو پوری ہوگئی کیونکہ ظاہر ہوگیا کہ اس کا گمان غلط تھا برخلاف مسئلہ تحری کے اس کے بعد آخر تک وہ بیان کیا ہے جو افادہ پنجم کے تحت گزرا۔
(۱؎ شرح الوقایۃ باب التیمم مکتبہ رشیدیہ دہلی ۱/۱۰۲)
قولہ العجز مشکوک)تقدم مافیہ قولہ (فاذا فرغ من صلاتہ)اقول لم ینقل عبارۃ الزیادات متسقۃفان تعین فیھامرجع فرغ الٰی من ظن منعااوشک فذاک والا فھو للمصلی مطلقا لاسیما وقد وقع بعد قولہ وان غلب علی ظنہ انہ یعطیہ فیشمل الصورۃ الاخری التی ذکر رحمہ اللّٰہ تعالٰی انھا متروکۃ۔
(۱) عبارت زیادات میں صدر الشریعۃ کے مندرج قول (عجز مشکوک ہے) پر کلام گزر چکا (۲) عبارت زیادات کے یہ الفاظ ''پھر جب وہ اپنی نماز فارغ ہوجائے'' اقول صدر الشریعۃ نے زیادات کی عبارت مرتب ومسلسل نہ ذکر کی۔ اس کی عبارت میں اگر ''فرغ'' (فارغ ہوجائےگی) ضمیر کا مرجع ''من ظن منعااوشک''(جو نہ دینے کا گمان کرے یا اسے شک ہو) متعین ہے تب تو کلام ویسے ہی ہے جیسے صدر الشریعۃ نے لکھا ورنہ یہ ضمیر مطلقا''مصلی'' کیلئے ہوگی خصوصاً جبکہ اس کے بعد یہ الفاظ آئے ہیں ''اور اگر اسے غالب گمان ہو کہ دے دے گا''اس تقدیر پر یہ کلامِ زیادات اُس صورت دوم کو بھی شامل ہوگا جسے صدر الشریعۃ نے بتایا کہ وہ متروک ہے۔ (ت)
قولہ وکذا اذا ابی ثم اعطی)اقول الکلام فیمابعدالصلاۃلکن البعدیۃانما تلزم فی العطاء سواء کان الاباء قبل الصلاۃ کمااذاسأل قبلھا فابی فتیمم فصلّی ثم اعطی بسؤالہ اوبدونہ اوبعد الصلاۃ کما اذاعلم فیھا فاتمھا ثم سألہ فابی ثم اعطی سؤالہ الاٰخر اوبغیرہ مضت الصلاۃ فی الوجھین امالوکان العطاء قبل تمام الصّلوٰۃ بعد الاباء فانہ ینسخ الاباء مطلقا کماقدمنا فی المسألۃ العاشرۃ۔
(۳)عبارت زیادات(اسی طرح جب وہ انکار کرے پھر دے دے) اقول کلام بعد نماز کے احوال سے متعلق ہے لیکن بعدیت صرف دینے میں لازم ہے۔انکار خواہ قبل نماز ہو جیسے یہ صورت ہوکہ قبل نماز اس نے مانگا تو اس نے انکار کردیا اب اس نے تیمم کرکے نماز پڑھ لی پھر اس نے مانگنے پر یا بغیر مانگے دے دیایا بعد نماز ہو جیسے یہ صورت ہوکہ اسے اندرون نماز علم ہُوا تو اس نے نماز پُوری کرلی پھر اس سے مانگا اس نے انکار کردیا اس کے بعد دوبارہ اس کے مانگنے پر یا بغیر مانگے دے دیا تو دونوں صورتوں میں نماز ہوگئی۔لیکن اگر بعد انکار دینا نماز پُوری ہونے سے قبل ہوگیا تو یہ دینا انکار سابق کو مطلقاً منسوخ کردےگا جیسا کہ مسئلہ دہم میں نے ہم نے بیان کیا۔ (ت)
قولہ فعلی ماذکرفی المبسوط)ای لم تجزصلاتہ لترکہ الطلب وجوز اخی چلپی ان یکون المراد بمافی المبسوط قول الحسن اقول: انما(۱) یسند الی الکتاب مااعتمدہ لامااوردہ وردہ۔
(۴) صدر الشریعۃ کے الفاظ(تو اس کا حکم وہ ہے جو مبسوط میں ذکر ہوا) یعنی اس کی نماز جائز نہ ہوئی کیونکہ اس نے طلب ترک کردی اخی چلپی نے فرمایا ہے کہ ہوسکتا ہے (مافی المبسوط جو مبسوط میں ہے) سے مراد حسن کا قول ہو۔ اقول کتاب کی طرف سے اسی بات کی نسبت کی جائے گی جس پر اس نے اعتماد کیا نہ وہ جس کو اس نے نقل کرکے اس کی تردید بھی کردی۔ (ت)
قولہ وھی مسألۃ المتن)اعتاص ھذااللفظ علی اخی چلپی فان فی المبسوط عدم الجواز قبل الطلب وانہ باتفاق ائمتنا الثلثۃرضی اللّٰہ تعالٰی عنھم ولفظ المتن قبل طلبہ جاز خلافا لھمافھمامختلفان حکماوروایۃ معاً فکیف یقال ان مافی المبسوط ھی مسألۃ المتن فاولہ بقولہ معناہ ان الخلاف المطلق ثابت فیھا غایۃ مافی الباب ان روایۃ المتن علی خلاف روایۃ المبسوط فی بیان الاختلاف ۱؎ اھ ولاجل ھذا جوز ان یکون المرادبہ قول الحسن کی یحصل الوفاق بینہ وبین حکم المتن اقول وکیف یصح لمجرد الاتفاق فی مطلق الاختلاف جعل نقیضین واحداوانماالمعنی ان الصورۃ المذکورۃ فی المبسوط ھی المذکورۃ فی المتن وھی الرؤیۃ خارج الصلاۃ وان اختلفا فیھا حکما وروایۃ۔
(۵) الفاظ صدر الشریعۃ(وھی مسألۃ المتن یہ وہ مسئلہ ہے جو متن میں مذکور ہے)یہ لفظ اخی چلپی کیلئے پیچیدہ ثابت ہوا اس طرح کہ مبسوط میں ذکر ہے کہ ''قبل طلب نماز جائز نہیں''اور یہ بھی کہ اس پر ہمارے تینوں اصحاب رضی اللہ تعالٰی عنہم کا اتفاق ہے اور متن میں یہ ہے کہ ''قبل طلب نماز جائز ہے'' اور ''صاحبین کے نزدیک حکم اس کے برخلاف ہے''۔ تو مبسوط اور متن کے درمیان حکم اور روایت دونوں ہی کا اختلاف موجود ہے۔ پھر یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ ''جو مبسوط میں ہے وہی مسئلہ متن ہے۔اب اخی چلپی نے اس تعبیر کی یوں تاویل فرمائی: ''اس کا مطلب ہے کہ اس میں مطلق اختلاف تو یقینا ثابت ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ بیانِ اختلاف میں متن کی روایت، مبسوط کی روایت کے برخلاف ہے'' اھ اسی لئے انہوں نے کہاکہ ہوسکتا ہے کہ''ماذکر فی المبسوط'' (مبسوط میں جو مذکور ہے) سے مراد حسن کا قول ہوتا کہ اس میں اور حکمِ متن میں مطابقت ہوجائے۔ اقول محض مطلق اختلاف میں اتفاق کی وجہ سے نقیضین کو ایک قرار دینا کیسے صحیح ہوسکتا ہے؟ وھی مسألۃ المتن(یہی مسئلہ متن ہے) کا معنٰی یہ ہے کہ جو صورت مبسوط میں مذکور ہے وہی متن میں مذکور ہے وہ ہے بیرونِ نماز پانی دیکھنا اگرچہ مبسوط ومتن کے درمیان اس بارے میں حکم اور روایت دونوں کا اختلاف ہے۔ (ت)
(۱؎ ذخیرۃ العقبٰی باب التیمم مکتبہ اسلامیہ لاہور ۱/۱۸۲)
قولہ فکذا)ای لم تجز صلاتہ سواء ظن منحااومنعااوشک۔
(۶)لفظ صدرالشریعۃ ''فکذا''(توبھی یہی حکم ہے)یعنی اس کی نماز جائز نہیں خواہ دینے کا ظن ہویا نہ دینے کا یا شک کی صورت ہو۔ (ت)
قولہ وان رأی فی الصلاۃ) اقول ای وسأل بعدھا لیفارق المذکور سابقاولانہ المذکور فی الزیادات۔
(۷) الفاظ صدر الشریعۃ وان رأی فی الصّلاۃ (اور اگر اندرونِ نماز دیکھا اقول یعنی اور بعد نماز طلب کیا تاکہ یہ صورت اس سے جُدا ہوجو پہلے ذکر ہُوئی اور اس لئے بھی کہ زیادات میں یہی مذکور ہے۔ (ت)
قولہ فکماذکر فی الزیادات اقول ای ان اعطاہ استأنف وان ابی تمت ولم یقل ھھنا فکذا کماقال قبل لان ثمہ ذکراولا ماھو مذکور فی المبسوط فاسندہ الیہ ثم صورۃ اخری یوافقہ فی الحکم فاحالھا علیہ اماھھنا فذکراولا مالیس فی الزیادات فاذا اتی علی مافیھا اسندہ الیھا ولم یفھم الکلام من(عـہ)فسرہ بقولہ ای الحکم علی التفصیل المذکور وھو انہ ان غلب علی ظنہ الاعطاء قطع الصلاۃ والالا ۱؎ اھ فان(۱) الکلام فیمن سأل بعد الصلاۃ وماذا بقی لہ حتی یقال یقطع اویتم۔
(۸)الفاظ صدر الشریعۃ (تو حکم وہی ہے جو زیادات میں بیان ہوا) اقول یعنی اگر اسے دے دیا تو ازسرِنو نماز پڑھے اور انکار کردیا تو اس کی نماز پُوری ہوگئی یہاں پر ''فکذا''(تو بھی یہی حکم ہے)نہ کہا جیسے پہلے کہا۔ وجہ یہ ہے کہ وہاں پر پہلے وہ ذکر کیا جو مبسوط میں مذکور ہے تو اس کی نسبت اس کی طرف کی۔ پھر ایک اور صورت ذکر کی جو حکم میں اس کے موافق تھی تو اس کیلئے اوپر والے حکم کا حوالہ دے دیا لیکن یہاں پر پہلے وہ ذکر کیا ہے جو زیادات میں نہیں پھر جب اس کے بیان پر آئے جو زیادات میں ہے تو اسے اس کی طرف منسوب کیا۔اور بالفاظ ذیل اس کی تفسیر کرنے والے نے سمجھا ہی نہیں: ''یعنی حکم برتفصیل مذکور ہے۔ وہ یہ ہے کہ اگر اسے غالب گمان دینے کا ہو تو نماز توڑ دے ورنہ نہیں'' اھ بات یہ ہے کہ کلام اس کے بارے میں ہورہا ہے جو نماز کے بعد مانگے۔ اور (جب وہ نماز پڑھ چکا ہے تو) اس کیلئے باقی کیا رہا کہ ''توڑے''یا''مکمل کرے ''بولاجاسکے ۔(ت)
(عـہ) وھو صاحب عمدۃ الرعایۃ ۱۲ (م) (یعنی صاحب عمدۃ الرعایۃ ۱۲۔ ت)یعنی مولانا عبدالحی فرنگی محلی م ۱۳۰۴ھ۔
(۱؎ عمدۃ الرعایۃ حاشیۃ شرح الوقایۃ باب التیمم المکتبۃ الرشیدیہ ۱/۱۰۳)