اقول: رحمھم(۱)اللّٰہ تعالٰی ورحمنابھم این ھھنا وجوب الطلب وکیف یجب وھو لایدری ان الماء قریب ام لافضلاعن غلبۃ الظن بالقرب انما الواجب ھھنا السؤال عمن یظن ان عندہ علما بحال الماء وفرق بیّن بین المسألتین فان من ظن القرب فقد ظنہ قادرا علی الماء فبطل تیممہ مالم یطلب قبل التیمم فیظھرخطؤ ظنہ امامن ظن ان عند ھذاعلما بحال الماء فھو لایدری انہ ان سألہ یخبرہ بقرب الماء اوبعدہ فلم یکن للقرب حظ من الظن فلم یوجد معارض لعجزہ الظاھرفصح تیممہ وتمت صلاتہ الا ان یظھرالقرب فتجب الاعادۃ لان التفریط جاء من قبلہ بترک السؤال۔
اقول: (میں کہتا ہوں) خدا ان حضرات پر رحمت فرمائے اور ان کی برکت سے ہم پر بھی رحمت فرمائے یہاں پر تلاش کہاں واجب ہے اور کیسے واجب ہوگی جب کہ وہ جانتا ہی نہیں کہ پانی قریب ہے یا نہیں؟ قریب کا غلبہ ظن ہونا تو دُور کی بات ہے یہاں پر واجب صرف یہ ہے کہ ایسے شخص سے دریافت کرے جس کے بارے میں اس کا یہ گمان ہو کہ وہ پانی کی حالت کچھ جانتا ہوگااوران دونوں مسئلوں میں کھلا ہوا فرق ہے۔ اس لئے کہ جسے قربِ آب کا گمان ہے اسے پانی پر اپنی قدرت کا گمان ہے تو اس کا تیمم باطل ہے جبکہ قبل تیمم تلاش نہ کرلے کہ اس کے گمان کی غلطی ظاہر ہو لیکن جسے یہ گمان ہو کہ اس شخص کو پانی سے متعلق کچھ آگاہی ہوگی تو اسے یہ پتا نہیں کہ اگر اس شخص سے دریافت کرے تو وہ پانی کا قریب ہونا بتائے گا یا دُور ہونا بتائے گا توقرب کا ظن کسی طرح نہ حاصل ہُوا تو یہ اس کے عجز ظاہر کے معارض نہ ہوا اس لئے اس کا تیمم صحیح ہے اور اس کی نماز تام ہے مگر یہ کہ پانی کا قریب ہونا منکشف ہو تو اعادہ لازم ہوگا اس لئے کہ کوتاہی اسی کی جانب سے ہُوئی اس نے دریافت نہ کیا۔ (ت)
کلام دُوسرے مسئلہ میں ہے کہ یہاں بھی وجوب اسی معنی اشتراط پر ہے کہ بحالِ ظن عطا اگر بے مانگے تیمم کرلے سرے سے صحیح ہی نہ ہو اور نماز باطل ہو اگرچہ بعد کو نہ دینا ہی ظاہر ہو یا ایسا نہیں عجب یہ ہے کہ یہاں عبارات جانب مبنی افادہ اشتراط پرآئیں اور جانب حکم صحت تیمم ونماز پر۔ اُدھر کافی وخانیہ وخزانۃ المفتین ونہایہ وچلپی وخزانہ وبرجندی کی عبارتیں جن میں تیمم کی نسبت لایجوز ہے مثلاً
لایجوز التیمم قبل الطلب ۱؎
(قبل طلب تیمم جائز نہیں۔ ت)
( ۱؎ البرجندی فصل فی التیمم مطبع نولکشور بالسرور ۱/۴۸)
اگر معنی نفی حل کو محتمل بھی رکھے جائیں تو امام صفار وقدوری وہدایہ وتبیین ومنیہ وغنیہ وہروی علی الکنز کے نصوص جن میں صراحۃً لایجزئہ (کفایت نہیں کرسکتا۔ ت)ہے۔ مثلاً
صلی بالتیمم قبل الطلب لایجزئہ ۲؎
(قبل طلب تیمم سے نماز ادا کرلی تو یہ اسے کفایت نہیں کرسکتا۔ ت)قابلِ تاویل نہیں۔
(۲؎ المختصر للقدوری باب التیمم مکتبہ مجتبائی کانپور ص۱۲)
منیہ نے مسئلہ اولٰی سے اس کی تشبیہ امام صفار سے نقل کی کہ
لایجزئہ قبل الطلب کمافی عمرانات ۳؎
(قبل طلب یہ اسے کام نہیں دے سکتا جیسے آبادیوں میں۔ ت)
(۳؎ غنیۃ المستملی باب التیمم سہیل اکیڈمی لاہور ص۷۰)
انہیں کے قریب ہے مبسوط وشرح وقایہ وجواہر اخلاطی وغیرہا کی عبارتیں جن میں عدم جواز بہ نسبت نماز ہے کہ
ان لم یطلب وصلی لم یجز ۴؎ ولفظ الجواھر شرع فی الصلاۃ قبل الطلب لایجوز ۵؎
(اگر طلب نہ کیا اور نماز اداکرلی تو جائز نہیں۔ اور جواہر کے الفاظ یہ ہیں: طلب کرنے سے پہلے نماز شروع کردی تو یہ جائز نہیں۔ ت)
(۴؎ شرح الوقایۃ باب التیمم مکتبہ رشیدیہ دہلی ۱/۱۰۱)
(۵ جواہر اخلاطی(قلمی ) باب للتیمم ۱۳)
بحث علّامہ ابراہیم حلبی سے گزرا
لاتصح الصلاۃ بدونہ ۶؎
(اس کے بغیر نماز درست نہیں۔ ت)
(۶؎ غنیۃ المستملی باب التیمم سہیل اکیڈمی لاہور ص۶۹)
حلیہ میں زیر مسئلہ جنب وجد الماء فی المسجد ۷؎
(جنابت والا جسے مسجد میں پانی ملا۔ ت)
(۷؎ حلیہ)
اسی مسئلہ سوال از رفیق پر تفریعات میں فرمایا
وحیث یجب لایصح تیممہ الابعد المنع ۱؎
جہاں مانگنا واجب ہے اس کا تیمم درست نہیں مگر بعد انکار جن سے لازم کو بے مانگے تیمم ہوگا ہی نہیں تو نماز مطلقاً باطل ہوگی اگرچہ بعد کو ظن عطا کی خطا ظاہر ہوجائے کہ مانگے سے نہ دے۔
( ۱؎ حلیۃ المحلی)
ادھر مسئلہ پنجم میں زیادات وجامع کرخی ومحیط سرخسی وخلاصہ ووجیز وشرح وقایہ وحلیہ وعالمگیریہ وبحر اور مسئلہ ہفتم میں حلیہ وصدر الشریعۃ وغنیہ (عـہ۱) وبحر سے روشن ہوا کہ سرے سے بطلان نماز کا حکم صحیح نہیں صحیح ومعتمد ظاہر الروایۃ یہی ہے کہ صرف غلبہ ظن عطا سے نہ تیمم باطل ہو نہ نماز اگر ظن عطا کی خطا ظاہر ہو دونوں صحیح وتام ہیں۔ کتب حاضرہ میں اس صاف تعارض کی طرف کوئی توجہ مبذول نہ ہُوئی۔
(عـہ۱) یہ عبارت قوانین ہیں جن کا حوالہ مسئلہ ہفتم میں ہے ۱۲ (م)
وانا اقول: وباللّٰہ التوفیق(میں اللہ تعالٰی کی توفیق سے کہتا ہوں۔ ت) مخلص وہی ہے کہ ہم نے تاویل روایت نادرہ امام محمد رحمہ اللہ تعالٰی میں ذکر کیا بحال ظن عطا حکم ظاہر وحاضر عدم صحت نمازہے مگر یہ کہ بعد کو مانگے اور نہ دے (عـہ۲)اور بحال شک وظن منع حکم ظاہر وحاضر صحت ہے مگریہ کہ بعد کو مانگے سے یا آپ دے دے بالجملہ اول میں فساد اور ثانی میں صحت کا حکم حکم موقوف ہے ظہور خلاف نہ ہو تو رہے گا ورنہ بدل جائے گا جیسے(۱) صاحبِ ترتیب کو فائتہ یاد اور وقت میں وسعت ہے اور وقتیہ پڑھ لی اس کے فساد کا حکم دیا جائے گا مگر فساد موقوف اگر قبل قضائے فائتہ چار وقتیہ اور پڑھ لے گا اور سب میں پچھلی کا وقت نکل جائے گا سب صحیح ہوجائیں گی اور اگر اس بیچ میں فائتہ کی قضا کرلے گا تو اُس سے پہلے ایک سے پانچ تک جتنی وقتیہ پڑھی تھیں سب کی فرضیت باطل ہوکر نفل رہ جائیں گی کمامصرح بہ فی محلہ (جیسا کہ اس کے موقع پر اس کی صاف صراحت موجود ہے۔ ت) رہا فرق کہ پہلے مسئلے میں اُس کے ظن کا اعتبار رہا اگرچہ واقع اُس کے خلاف ہو اور یہاں نہیں اس کی کیا وجہ ہے؟
(عـہ۲) اس میں منع کی پانچوں صورتیں داخل ہیں صراحۃً ہو یا حکماً ۱۲ منہ غفرلہ (م)
اقول: قریب پانی شرعاً مقدور ہے تو ظنِ قرب عین ظن قدرت ہے اور ظن ملتحق بیقین تو قدرت معلوم تو تیمم شرعاً معدوم اور معدوم صحیح نہ ہوجائے گا بخلاف ظنِ عطا کہ عجز معلوم اور ظن اس کا ہے کہ اگر مانگوں تو دے دے گا اور قدرت نہ ہوگی مگر بعد عطا تو یہ اس کا ظن نہ ہُوا کہ قدرت ہے بلکہ اس کا کہ آئندہ ہوسکتی ہے نظیرماقدمناہ فی مسألۃ الوعد ووجدناالتصریح بہ فی مسألۃ الرجاء فی الکافی والکفایۃ (یہ اسی کی نظیر ہے جو مسئلہ وعدہ میں ہم نے پیش کیا اور جس کی تصریح ہمیں کافی وکفایہ میں مسئلہ اُمید کے اندر ملی۔ ت) لہذا یہ ظن مناطِ حکم نہ ہوا مگر جب کہ واقع نہ ظاہر ہوکہ ہنگام فواتِ ذریعہ علم فقہیات میں ظن معمول بہ ہے،اور ایک توجیہ مع اشارہ تضعیف افادہ پنجم صفحہ۶۶۱ طبع اول میں گزری کہ جب تک علم متیسر ہو ظن پر عمل نہیں۔فتح القدیر بحثِ استقبال میں ہے:
المصیر(۱) الی الدلیل الظنی وترک القاطع مع امکانہ لایجوز ۱؎۔
دلیل قطعی میسر ہونے کے باوجود اسے چھوڑنا اور دلیل ظنی کو لینا جائز نہیں۔ (ت)
(۱؎ فتح القدیر باب شروط الصّلوٰۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکّھر ۱/۲۳۵)
مسئلہ قُرب وبُعد میں تحصیل علم بے دقَّت متیسر نہیں لہذا ظن پر مدار رہا اور مسئلہ عطا ومنع میں متیسر لہذا ظن معتبر نہ ہُوا مگر جب کہ درک حقیقت نہ ہو۔
اشرت الٰی ضعفہ بقولی یمکن ان یوجہ اقول ووجہ ضعفہ انہ یوجب السؤال عند ظن المنع ایضا فیکون ترجیحا للثانی من اقوال المسألۃ السادسۃ وانما الراجح بل الراجع الیہ الکل بالتوفیق ھو القول الثالث ان لاوجوب الا عند ظن العطاء۔
میں نے''یمکن ان یوجہ''(اس کی یہ توجیہ کی جاسکتی ہے) کہہ کر اس کے ضعف کی طرف اشارہ کیا اقول اس توجیہ کے ضعف کی وجہ یہ ہے کہ اس سے لازم ہوتا ہے کہ انکار کا ظن غالب ہو جب بھی سوال کرے تو اس سے مسئلہ ششم کے اقوال میں سے دوسرے قول کی ترجیح ہوگی جب کہ راجح بلکہ بعد تطبیق سبھی اقوال کا مرجع ومآل تیسرا قول ہے کہ صرف ظنِّ عطا کی صورت میں سوال واجب ہے۔ (ت)
فان قلت اذن ماالجواب عمامرمن منع بالظن مع تیسرتحصیل العلم اقول لاتیسر اذالم یظن العطاء لان السؤال ممن یمنع ذلۃ شدیدۃ وھی مظنونۃ ھنا اومحتملۃ علی سواء وقد نھی(عـہ) المشرع المطھر المؤمن عن عرض نفسہ للذل۔
اگر سوال ہوکہ پھر یہ جو گزرا کہ تحصیل یقین میسر ہوتے ہوئے ظن پر عمل جائز نہیں،اس کا کیا جواب ہے؟ اقول ظن عطا نہ ہونے کی صورت میں تحصیل یقین میسر وآسان نہیں اس لئے کہ ایسے شخص سے مانگنا جو نہ دے سخت ذلت ہے اور یہاں اس کا یا تو ظن غالب ہے یا احتمالِ مساوی۔اور شرع مطہر نے مومن کو اس سے روکا ہے کہ وہ اپنی ذات کو معرضِ ذلّت میں لائے۔ (ت)
(عـہ) کماتقدم فی المسألۃ السادسۃ ۱۲ منہ غفرلہ (م) (جیسا کہ مسئلہ ششم میں گزرا۔ ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
فان قلت اذن یجب ادارۃ الامر علی ظنہ فی ظن المنع لتعسر تحصیل العلم فتصح صلاتہ وان اعطی بعدفیترجح مافھمہ المحقق من تفریعاتھم فی الخلاصۃ وغیرھاکمامر فی المسألۃ الخامسہ اقول وقدکان الاصل ایجاب السؤال لتیسرہ فی نفسہ وانما رفع عنہ لعارض فاذا ظھرت الحقیقۃ عملت عملھا وزال ماکان لعارض وھو اقامۃ الظن مقامھا کماتقدم عن صدر الشریعۃوھذاماوعدنا ثمہ÷ من ان للکلام تتمۃ÷ھذا کلہ ماظھر للقلبی÷ والعلم بالحق عند ربّی÷ ان ربی کل شیئ علیم÷وصلی اللّٰہ تعالٰی علی الحبیب الکریم÷ واٰلہ وصحبہٖ اولی التکریم÷ والحمدللّٰہ رب العٰلمین۔
اب اگر یہ سوال ہو کہ پھر تو ظن منع کی صورت میں مدار کا اس کے گمان پر رکھناضروری ہوگاکیونکہ تحصیل یقین دشوار ہے تو اگر وہ بعدمیں دے دے جب بھی اس کی نماز صحیح رہے گی تو راجح وہی ہوگا جو خلاصہ وغیرہا کی تفریعات مشائخ سے محقق علی الاطلاق نے سمجھاجس کا ذکر مسئلہ پنجم میں گزرا اقول (جواباً میں کہوں گا) اصل تو یہی تھاکہ مانگنا واجب کیا جائے کیونکہ فی نفسہٖ یہ میسر وآسان ہے اور عارض کی وجہ سے یہ حکم اس سے اٹھا لیا گیا پھر جب حقیقت ظاہر ہوجائے تو وہ اپنا کام کرے گی اور ظن کو حقیقت کے قائم مقام رکھنے کا جو حکم عارض کی وجہ سے تھا وہ بھی ختم ہوجائے گا، جیساکہ صدر الشریعۃ کے حوالے سے بیان ہوا۔یہی وہ ہے جس کا ہم نے وہاں(افادہ پنجم صفحہ۶۶۲ طبع اول میں)وعدہ کیا تھاکہ اس کلام کا کچھ تکملہ بھی ہے۔یہ سب وہ ہے جو قلبِ فقیرپر ظاہر ہُوا اور حق کا علم میرے رب کے یہاں ہے۔ بلاشبہہ میرے رب کو ہر چیز کاعلم ہے خدائے برتر اپنے حبیب کریم اور ان کی مکرم آل واصحاب پر درود نازل فرمائے۔اور سب خوبیاں سارے جہانوں کے مالک خدا ہی کیلئے ہیں۔ (ت)
یہ ہیں وہ مسائل جن کا یہاں لانا منظور تھا۔
ذکرِ قوانین:.یہ مسائل بفضلہ تعالٰی ایسی وجہ پر بیان ہوئے کہ فہیم ذی علم ان سے خود وضع قانون بھی کرسکتا ہے اور قوانین موضوعہ کی جانچ بھی،اور یہ کہ خلافیات میں وہ کس کس قول پر مبنی ہیں اور اقوال منقحہ پر کیا ہونا چاہے۔ یہ معیار پیش نظر رکھ کر قوانین علما مطالعہ ہوں:
الاول القانون الصدری الامام صدر الشریعۃ نقل اولا عن المبسوط ان لم یطلب وصلی لم یجز لان الماء مبذول عادۃ وعن موضع اٰخر منہ علیہ ان یسأل الاعلی قول حسن بن زیاد فان السؤال ذل ونقول ماء الطھارۃ مبذول عادۃ ۱؎۔
اول قانون امام صدر الشریعۃ: امام صدر الشریعۃ نے پہلے مبسوط سے یہ عبارت نقل کی: ''اگر اس نے طلب نہ کیا اور نماز اداکرلی تو جائز نہیں اس لئے کہ پانی عادۃً دے دیا جاتا ہے''۔ اور مبسوط ہی کے دوسرے مقام سے یہ عبارت بھی: ''اس پر یہ ہے کہ مانگے مگر حسن بن زیاد کے قول پر یہ نہیں اس لئے کہ مانگنے میں ذلّت ہے۔ اور ہم یہ کہتے ہیں کہ طہارت کا پانی عادۃً دے دیا جاتا ہے''۔
(۱؎ شرح الوقایۃ باب التیمم مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ دہلی ۱/۱۰۱)