اقول: تقررہ ان الاصل فی الماء الاباحۃ والحظرعارض کماقالوہ فی الحلیۃ وغیرھافی دلیل قول الامام اذاوعدہ احد اعطاء الماء یجب الانتظار وان فات الوقت وانما یمنع لحاجۃاوشح وقدظھرانتفاؤھما ببذلہ الاٰن فظھر انہ لوسئل قبل لبذل لان خصوصیۃ الوقت ملغاۃبل تاخرالوقت ادل علی البذل قبلہ اذلوکان محتاجا الیہ قبل لانفقہ اوبقی محتاجا الیہ الاٰن فاذا کان ھذا فی البذل بعد السؤال وقد ارسلوہ ارسالا ولم یقیدوہ بما اذالم یرہ یصلی متیمّما فالبذل بدون سؤال اولٰی کمالایخفی واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
اقول: اس کی تقریر یہ ہے کہ پانی میں اصل اباحت ہے۔اور منع عارضی چیز ہے۔جیساکہ حلیہ وغیرہا نے اسے بیان کیا ہے۔ امام اعظم کے اس قول کے تحت: ''جب اس سے کوئی پانی دینے کا وعدہ کرے تو انتظار واجب ہے اگرچہ وقت نکل جائے'' پانی سے انکار بخل کی وجہ سے ہوتا ہے یااس لئے کہ خود اسے ضرورت ہے اور اِس وقت دے دینے سے دونوں باتوں کا نہ ہونا ظاہر ہوگیا۔ اس سے یہ ظاہر ہوا کہ اگرپہلے بھی اس سے مانگاجاتاتو وہ دے دیتا۔اس لئے کہ خصوصیّتِ وقت ساقط وبیکار ہے۔ بلکہ وقت کا مؤخر کرنا اس سے پہلے دے دینے پر زیادہ دلالت کرتا ہے اس لئے کہ اگر پہلے اسے خود اس کی ضرورت ہوتی تو خرچ کرلیاہوتا یا اب بھی اس کا ضرورت مند رہتا۔جب یہ مانگنے کے بعد دینے کا معاملہ ہے اور علماء نے اسے ارسالاً ذکر کیا یہ قید نہ لگائی کہ ''جب اسے تیمم سے نماز ادا کرتے دیکھا نہ ہو'' تو بغیرمانگے دے دینا تو اس سے بڑھا ہوا ہے جیسا کہ واضح ہے اور خدائے برتر خُوب جاننے والا ہے۔ (ت)
اور یہاں دو۲ صورتیں وعدہ کی ہیں ایک یہ کہ نماز سے پہلے اس کے سوال پر خواہ بطور خود اُس نے پانی دینے کا وعدہ کیا اور بعدِ خروج وقت دیا یا اُس وقت کہ یہ تیمم کرکے پڑھ چکا تھا خواہ اس نے اسے دیکھا یا نہ دیکھا اس میں کوئی صورت محلِ بحث نہیں کہ وعدہ کو ہمارے علماء نے خود ہی موجب قدرت جانا ہے وقت میں اُسے تیمم سے نماز جائز ہی نہیں خواہ وہ پانی کبھی دے یاکبھی نہ دے مگر باتباع امام زفر کہ اخیر وقت تیمم سے پڑھے گا اُس کے خود اعادہ کا حکم ہے۔
دوسرے یہ کہ بعد نماز وعدہ کیا اور بعد خروج وقت دیا، تنبیہ پنجم میں گزرا کہ اس کا نماز پر کچھ اثر نہ ہونا چاہے بالجملہ (۱) نماز کے بعد وقت کے اندر دینے میں (عـہ۱) مطلقاً نماز کا اعادہ ہے مگر یہ کہ نماز سے پہلے یا بعد انکار کرکے دیا یا پہلے سکوت کیا اور اسے تیمم کرتے اور تیمم سے نماز پڑھتے دیکھا اور اُس وقت بھی ساکت رہا بعد نماز دیا کہ یہ بھی حکماً عطا بعد منع ہے اور عنقریب آتا ہے کہ وہ مفید نہیں اور بعد خروج وقت دینا (عـہ۲) مطلقاً مبطل نماز نہیں مگر اُس حالت میں کہ اُس نے دیکھا اور اصلاً نہ مانگا اور اُس نے بعد وقت دے دیا یہ تمام مباحث اوّل تاآخر سوائے استہلاک کہ دُرمختار میں مصرح تھا اس فقیر بارگاہِ رسالت علیہ افضل الصلاۃ والتحیۃ نے تفقہاً ذکر کیں
فلیراجع ولیحرر فان اصبت فمن ربی ولہ الحمد وان اخطأتُ فمنی ومن الشیطان÷ واللّٰہ ورسولہ عنہ بریاان÷ جل وعلا وصلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم÷ واللّٰہ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
تو اس کی مراجعت اور تنقیح کرلی جائے۔اگر میں نے ٹھیک بیان کیا تو میرے رب کی جانب سے ہے اور اگرمیں نے خطا کی تو یہ میری طرف سے اور شیطان کے وساوس سے ہے خدائے بزرگ وبرتر اور اس کے رسول انور ان پر خدائے برتر کی طرف سے سلام ورحمت ہو اس سے بری ہیں اور خدائے پاک وبرتر خوب جاننے والا ہے۔ (ت)
(عـہ۱)مطلقاً مبطل نماز نہ کہا کہ بصورتِ وعدہ یہ پانی دینا مبطل نماز نہ ہوگا کہ وہ خود ہی باطل تھی ۱۲ منہ غفرلہ(م)
(عـہ۲) یہ صورت وعدہ کو بھی شامل کہ وہ نماز خود ہی باطل تھی نہ کہ یہ پانی مبطل ۱۲ منہ غفرلہ (م)
مسئلہ ۱۰: منع(۲) کے بعد دینا مفید نہیں
کمافی الزیادات وصدر الشریعۃ والغنیۃ والبحر یاتی
(جیسا کہ زیادات، صدر الشریعۃ، غنیہ اور بحر نے ذکر کیا اور آگے بھی آئے گا۔ ت)
اقول: اس کی تفصیل یہ ہے کہ اگر اس نے نماز سے پہلے مانگااور اُس نے انکار کردیا پھر نماز سے پہلے ہی دے دیا خواہ بطور خود یا اس کے دوبارہ مانگنے پر خواہ یہ دوبارہ مانگناتیمم سے پہلے ہو یا بعد ہر حال میں یہ دینا مفیدومعتبر ہے کہ اس عطا نے اُس منع کو منسوخ کردیااگر تیمم کرچکا ہے ٹوٹ گیا وضو کرکے نماز پڑھے اور اگر نماز سے پہلے انکار کیا اور نماز کے بعد دیا آپ یا اس کے مانگے پر توجہ دینا معتبر نہیں کہ اُس کے انکار کے سبب عجزمتحقق اور تیمم جائز اور نماز صحیح ہوچکی اور قاعدہ شرعیہ ہے کہ من سعی فی نقض ماتم من جھتہ فسعیہ مردود علیہ(جو ایسے امر کو توڑنے کی کوشش کرے جو اس کی جانب سے مکمل ہوگیااس کی کوشش اسی پر پلٹ جائے گی۔ ت)جب انکارسابق ہے توعطائے لاحق قدرت سابقہ کیونکر ثابت کرسکتی ہے ہاں فی الحال قدرت ثابت ہوگی اب دیتے وقت تیمم ٹوٹے گا اور آئندہ کیلئے وضو کرے گا۔ اور اگر نماز سے پہلے انکار کیا اور عین نماز میں کہا لے لے نماز وتیمم دونوں جاتے رہے کہ اگرچہ قدرت سابقہ ثابت نہ ہوئی فی الحال تو ثابت ہُوئی اور وسط نمازمیں اگرچہ قعدہ اخیرہ کے بعد سلام سے پہلے متیمم کا پانی پر قادر ہونا نماز وتیمم کو باطل کرتا ہے کماتقدم عن الخانیۃ (جیسا کہ پہلے خانیہ کے حوالہ سے گزرا۔ ت)
مسئلہ۱۱: اقول(۱) دینے کے بعد منع مفید ہے اور اس کا فائدہ صرف اس قدر ہے کہ تیمم اگر بوجہ عطا ناجائز ہُوا تھا اب جائز ہوجائے اس سے زیادہ وہ عطا کے کسی اثر کو زائل نہیں کرتا مثلاً تیمم کے بعد اُس نے پانی دیاتیمم ٹوٹ گیا اب منع کرنے سے واپس نہ آئے گا یونہی اگر قبل تمامِ نماز دیا یابے سبقت منع بعد نماز وقت دیانمازجاتی رہی اب منع کرنے سے صحیح نہ ہوجائے گی۔ اور اگر اُس عطا سے تیمم خود ہی ممنوع ہوا تھا جب تو یہ منع کچھ بھی مفید نہ ہوگا کہ اس کا فائدہ اباحت تیمم تھا اور وہ پہلے سے حاصل ہے پھر اتنا فائدہ بھی اُس وقت ہے جب کہ پانی ابھی خرچ نہ ہُوا اور دینے والے کی ملک پر باقی ہو اور لینے والا اُس میں تصرف سے ممنوع نہ ہو مثلاً پانی بطور اباحت دیااگر یہ تیمم پہلے کرچُکا تھا جاتارہا ہنوز وضوء پُورا نہ کیا تھاکہ اس نے منع کردیا اب اسے پانی کا استعمال جائز نہ رہا یونہی اگر پانی ہبہ کیا تھا اور ابھی اس کا قبضہ نہ ہوا تھا کہ اس نے منع کردیا کہ ہبہ قبل قبضہ ناتمام تھا اور اس کو منع کا اختیار حاصل اور اس صورت میں بھی تیمم اگر پہلے کرچکا تھا زائل کہ مجرد اباحتِ آب بلکہ نراوعدہ ناقضِ تیمم ہے نہ کہ ہبہ ہاں اگر یہ قبضہ کر چُکا تو اب اُس کا منع بیکار ہے کہ اس کی ملک زائل ہوچکی اور بے رضا یا قضا اسے رجوع کا اختیار نہیں بخلاف اس صورت کے کہ پانی اُس کے ہاتھ بیچااور بائع نے اپنا خیار شرط کیاتھا اور یہ ابھی پانی استعمال نہ کرنے پایا تھاکہ اُس نے بیع فسخ کردی کہ یہاں اُسے اختیار تصرف پہلے ہی سے نہ تھا تیمم سابق باقی رہا کہ بیع(۲)میں جب بائع کا خیار شرط ہو مبیع نہ اُس کی ملک سے خارج ہو نہ مشتری کو اُس میں تصرف جائز اگرچہ باذن بائع قبضہ کرچکا ہو۔ ہدایہ میں ارشاد فرمایا:
خیار البائع یمنع خروج المبیع عن ملکہ ولایملک المشتری التصرف فیہ وان قبضہ باذن البائع ۱؎۔
بائع کاخیاراس کی ملک سے مبیع کے نکلنے سے مانع ہے اور اس میں مشتری تصرف کا مالک نہیں اگرچہ بائع کی اجازت سے اس پر قبضہ کرچکا ہو۔ (ت)
(۱؎ الہدایہ خیار شرط مکتبہ عربیہ کراچی ۲/۵۳ جز ۳)
اورجب وہ شرعاًاُس میں تصرف سے ممنوع ہے تو پانی پر قدرت ثابت نہ ہُوئی اور تیمم بحال رہا کما قدمنا فی نمرۃ ۱۴۷ و ۱۶۱(جیسا کہ نمبر ۱۴۷ و ۱۶۱ میں ہم نے بیان کیا۔ ت)تواس منع نے کوئی نیا فائدہ نہ دیا۔ فتح القدیر نواقض تیمم میں ہے:
والمراد من القدرۃ اعم من الشرعیۃ والحسیۃ حتی لو رأی ماء فی حب لاینتقض تیممہ وان تحققت قدرۃ حسیۃ لانہ انما ابیح للشرب ۱؎ اھ
(۱؎ فتح القدیر باب التیمم مکتبہ عربیہ کراچی ۱/۱۱۹)
قدرت سے مراد وہ ہے جو شرعی وحسّی دونوں کو عام ہو یہاں تک کہ اگر سبیل کا پانی پایا تو اس کا تیمم نہ ٹوٹے گا اگرچہ حسّی قدرت ثابت ہے اس لئے کہ وہ پانی صرف پینے کیلئے مباح ہوا ہے اھ۔
اقول: والمرادمایجمعھمامعاً ای لابدمن اجتماع کلا القدرتین کمایستغرق العام الاصولی افرادہ حتی لوکانت احدھما لم تکف وان کان(۱)المتبادر من تلک العبارۃ کفایۃ احدھما لان العام یتحقق فی ضمن ای خاص کان۔
اقول :مراد وہ ہے جو دونوں قدرتیں جمع کر دے یعنی دونوں ہی قدرتوں کا مجتمع ہونا ضروری ہے جیسے عامِّ اصولی اپنے تمام افراد کا احاطہ کرلیتا ہے یہاں تک کہ اگر صرف ایک قدرت ہو توکافی نہ ہوگی اگرچہ اس عبارت سے متبادر یہ ہوتا ہے کہ ایک بھی کافی ہو اس لئے کہ عام کسی بھی خاص کے ضمن میں متحقق ہوجاتا ہے۔ (ت)
فائدہ(۲): پانی پر قدرت ہوتے ہوئے بوجہ ممانعت شرعیہ حکم تیمم کی تین۳ صورتیں اُوپر گزریں سبیل کا پانی کہ پینے کیلئے ہے۔وہ پانی کہ کسی کو ہبہ کرکے اُس سے بطور امانت لے لیاوہ پانی کہ ملک فاسد سے اُس کا مالک ہُوا وہ دو امام محقق علی الاطلاق نے ذکر فرمائیں اور تیسری محقق زین نے بحر میں۔یہ چوتھی(عـہ) فقیر نے اضافہ کی کہ وہ پانی کہ بشرط خیار بائع خرید کر اُس پر باذن بائع قابض ہوا جب تک خیار جاکر بیع تام نہ ہوجائے اُس سے وضو وغیرہ کُچھ جائز نہیں۔
(عـہ)مگر اس نے پانی سے عجزکے نمبروں میں اضافہ کیا کہ یہ وہی نمبر۵۳ ملک غیر ہے۔ (م)
اقول: اور انہیں پر حصر نہیں گزشتہ نمبروں میں اس کی بہت صورتیں تھیں مثلاً(۱۱)فاسق کا خوف(۳۴) مال امانت پر خوف (۴۷ و ۴۸)کسی مسلمان یا جانور کی پیاس کا خیال(۵۰) نجاست دھونے کی ضرورت (۵۲) خاص لوگوں کی طہارت پر وقت اور یہ اُن میں نہیں(۵۳) ملک غیر جس میں یہ صورت چہارم بھی داخل (۵۴) نہانا ہے اور ستر نہیں (۵۵) عورت کو وضو کرنا ہے اور ستر نہیں (۶۳)پانی باہر ہے اور عورت کے پاس چادر نہیں(۸۴) سواری سے اتارنے چڑھانے کو محرم نہیں (۸۶) اُترنے سے زخم کا سیلان نماز میں رہے گا (۸۷) پانی سے طہارت کسی مؤکد کو بے بدل فوت کرے گی(۱۰۱) فاسق کے آجانے کا اندیشہ (۱۲۴)کپڑے بھیگ کر بے ستری ہوگی(۱۴۳) پانی مسجد میں ہے اور یہ جنب(۱۶۰ و ۱۶۱) مزاحمت پدر سے احتراز(۱۶۴ تا ۱۶۶) خنثی وانثی ومرد میت کا تیمم اکیس یہ اور تین وہ کہ نمبر(۵۱ و ۱۴۸ و تنبیہ بعد نمبر ۱۶۱) میں گزریں چوبیس۲۴ ہوئیں اور پچیسویں۲۵ یہ صورت کہ جنب نہایا اور بدن کا کچھ حصّہ دھونے سے رہ گیا پانی ختم ہوگیاتیمم کیا پھر حدث ہُوا اس کیلئے تیمم کیا اب اس پر دو واجب ہیں جو حصہ نہانے میں رہ گیا تھااس کا دھونا اور تیمم جنابت کے بعد حدث ہوا ہے لہذا اُس کیلئے وضو کرنا اب اس نے پانی پایا جس سے وہ حصّہ دُھل سکتا ہے یا وضو کرے تو وضو ہوسکتا ہے مگر مجموع کیلئے کافی نہیں اسے حکم ہے کہ وہ حصہ دھوئے اور امام ابویوسف کےنزدیک حدث کا تیمم نہ جائےگاکہ پانی اگرچہ اس کیلئے کافی تھا مگر شرعاً یہ اُس سے وضو نہ کرسکتا تھا کہ اُسے اس باقی حصے میں صرف کرنا واجب تھا۔ یہ مسئلہ ہم نے اپنے رسالہ ''الطلبۃ البدیعۃ'' کے آخر میں مفصّل ذکر کیا ہے وہاں دیکھا جائے وقد رجحنا فیھا قول محمد (اس میں ہم نے امام محمد کے قول کو ترجیح دی ہے۔ ت)
مسئلہ ۱۲: ضروریہ اقول یہاں(۱) دو۲ مسئلے ہیں ایک یہ کہ پانی قریب ہونے کا ظن غالب ہو تو طلب یعنی تلاش واجب ہے بے تلاش تیمم جائز نہیں دوسرا یہ کہ کسی کے پاس پانی معلوم ہوا اور ظن غالب ہے کہ مانگے سے دے دےگا تو طلب یعنی مانگنا واجب ہے بے مانگے تیمم جائز نہیں۔ پہلے مسئلہ کی نسبت شرح تعریف رضوی کے فائدہ پنجم میں ہم تحقیق کر آئے کہ یہ وجوب بمعنی اشتراط ہے یعنی تلاش کرینا شرط صحت تیمم ہے بے اس کے تیمم ونماز مطلقاً فی الحال باطل اگرچہ بعد کو یہی ظاہر ہو کہ پانی نہ تھا۔
وقداخذ بہ السادسۃ الجلۃ ابوالسعود وط وش فی حواشی الکنز والدر علی مانص علیہ فی المعتمدات ان لوصلی بتیمم وثمہ من یسألہ ثم اخبرہ بالماء اعاد والا لا۱؎ کمافی الدر
(۱؎ درمختار ، باب التیمم، مکتبہ مجتبائی دہلی،۱/۴۴)
سید ابو السعود، سید طحطاوی اور سید شامی نے کنز اور درمختار کے حواشی میں اسی کو لیا ہے جیسا کہ معتمد کتابوں میں اس کی تصریح آئی ہے کہ اگر تیمم سے نماز پڑھ لی جب کہ وہاں ایسا کوئی شخص موجود تھا جس سے یہ پانی کے بارے میں پُوچھ سکتا تھا پھر اس نے پانی کی خبر دی تو نماز کا اعادہ کرے ورنہ نہیں جیسا کہ درمختار میں ہے
وقدمنا فی المسألۃ السابعۃعزوہ للمحیط والحلیۃ والزیلعی والبدائع ایضا بان فی البحر عن السراج لوتیمم من غیر طلب وکان الطلب واجبا وصلی ثم طلب فلم یجدو جبت علیہ الاعادۃ ۱؎ اھ ومفادہ ان تجب الاعادۃ ھنا وان لم یخبرہ ۲؎ اھ ھذا لفظ ش ومثلہ فی ط وفتح اللّٰہ المعین۔
اور مسئلہ ہفتم میں ہم اس پر محیط، حلیہ، زیلعی اور بدائع کا بھی حوالہ دے چکے ہیں ان سادات محشین کا ماخذ یہ ہے کہ بحر میں سراج کے حوالہ سے ہے کہ: اگر بغیر تلاش کیے تیمم کرلیا جبکہ تلاش واجب تھی اور نماز پڑھ لی پھر تلاش کیا مگر پانی نہ ملا تو بھی اس پر اعادہ واجب ہے اھ یہ شامی کے الفاظ ہیں اور اسی کے مثل حاشیہ طحطاوی اور فتح اللہ المعین بھی ہے۔