اقول : مگر استعمال(۱)قرائن ضرور ہے وہ اُس وقت وحالتِ سائل ومسئول عنہ اور ان کے تعلقات سے اُن پر ظاہر ہوتے ہیں۔یہ تو سکوت ہے قول صریح میں استعمال قرائن لازم ہے ایک ہی بات حرف بحرف ایک ہی جملہ اور اُس سے کبھی اقرار مفہوم ہوتا ہے کبھی انکار۔ زید(۲) نے عمرو سے کہا تُو نے اپنی عورت کو طلاق دی اُس نے نرم آواز ودبے لہجے سے کہامیں نے طلاق دی۔ یہ اقرار ہے طلاق ہوگئی اور اگر اُس نے ترش وگرم ہوکر سخت آواز سے تعجب یا زجر وتوبیخ کے لہجے میں کہامیں نے طلاق دی۔ یہ انکار ہے طلاق نہ ہوئی۔ الفاظ بعینہا وہی ہیں اور حکم اثبات سے نفی تک بدل گیا۔ یوں(۳) ہی اگر عورت نے کہا مجھے طلاق دے اس نے نہ مانا عورت نے پوچھا دی،اس نے جھڑکنے کے لہجے میں سختی سے کہا ی، طلاق نہ ہوئی ورنہ ہوگئی۔
فتاوٰی امام قاضی خان میں ہے:
امرأۃ قالت لزوجھا طلقنی فابی فقالت دادی قال دادم ان کان فی قولہ دادم ادنی تثقیل لایقع الطلاق ۱؎۔
کسی عورت نے اپنے شوہر سے کہا ''مجھے طلاق دے دے'' اس نے انکار کیا۔ پھر عورت نے کہا ''تم نے دی'' اُس نے کہا ''میں نے دی''۔ اگر شوہر کے قول میں کُچھ گرا نباری ہو تو طلاق نہ ہوگی۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی قاضی خان کتاب الطلاق مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۲/۲۱۲)
یونہی(۴) شوہر نے گواہوں کے سامنے عورت سے کہا: اللہ تیرا بھلا کرے تُو نے مجھے مہر بخش دیا۔ وہ بولی ہاں میں نے بخشا(عـہ)ہاں میں نے بخشا، گواہوں نے کہا کیا ہم گواہ ہوجائیں کہ تُو نے مہر بخش دیا۔ بولی ہاں گواہ ہوجاؤ ہاں گواہو جاؤ ۔ علما فرماتے ہیں اس کے یہ الفاظ اقرار وانکار دونوں کو محتمل ہیں گواہ اس کی طرز سے پہچانیں گے کہ تحقیق مقصود ہے یا طنز سے کہہ رہی ہے۔
(عـہ)فتاویٰ نسفی پھر فتاوٰی ذخیرہ پھر فتاوٰی ہندیہ میں دو۲بار کی قید نہ لگائی اور گواہوں کے جواب میں عورت کا یہ قول بتایا کہ ہزار آدمی گواہ ہوجاؤ۔
اقول: یہ لفظ معنی طنز کی طرف زیادہ مائل ہے عالمگیری کی عبارت کتاب الٰہیہ باب ۱۱ میں یہ ہے:
فی فتاوی النسفی رجل قال لامرأتہ بین یدی الشھود غفر اللّٰہ لک حیث وھبت لی المھر الذی لک علی فقالت آرے بخشیدم فقال الشھود ھل نشھد علی ھبتک فقالت ہزارتن گواہ باشید قال یعرف الرد والتصدیق فی اثناء کلامھا فےحمل علی ماترون کذا فی الذخیرۃ ۱۲ منہ غفرلہ (م)
فتاوٰی امام نسفی میں ہے کہ ایک شخص نے گواہوں کے سامنے اپنی عورت سے کہا اللہ تیرا بھلا کرے کیا تُو نے مجھ پر لازم اپنا حق مہر بخش دیا؟ تو عورت نے کہا: ہاں میں نے بخش دیا۔ اس پر گواہوں نے کہاکیا ہم گواہ ہوجائیں کہ تُو نے اپنا حق مہر بخش دیا۔ عورت نے کہا ہزار آدمی گواہ ہوجاؤ۔ فرمایا اس صورت میں عورت کے طرزِ کلام سے انکار یا تصدیق کی پہچان ہوگی اس کو اس پر محمول کیا جائے گا جو تم غور کے بعد نتیجہ اخذ کرو ذخیرہ میں ایسے ہی ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
وجیز امام کردری کتاب النکاح فصل ۱۲ میں ہے: قال لھا عند الشھود جزاک اللّٰہ تعالٰی خیرا وھبت المھر فقالت ۱؎ آرے بخشیدم مرتین فقال الشھود لھا انشھد علی ھبتک فقالت مرتین ۲؎آرے گواہ باشید فھذایحتمل الردوالاجابۃ والشھود یعرفون ذلک ان قالت علی وجہ التقریر حملت علی الاجابۃ والاعلی الرد ۳؎۔
بیوی سے گواہوں کے سامنے کہا خدا تجھے جزائے خیر عطا فرمائے تُو نے مجھے مہر بخش دیا،وہ بولی ''ہاں میں نے بخش دیا'' دوبار کہا۔اس پر گواہوں نے کہا کہ کیا ہم گواہ ہوجائیں کہ تُو نے بخش دیا۔ وہ دو۲ بار بولی ''ہاں گواہ ہوجاؤ''۔ تو اس میں رَد وقبول دونوں کا احتمال ہے۔ گواہان اس کی شناخت کرسکیں گے۔ اگر اس نے بطور اثبات کہا تو قبول پر محمول ہوگا ورنہ رَد پر محمول ہوگا۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی بزازیۃ مع الہندیۃ الثانی عشر فی المہر مطبع نورانی کتب خانہ پشاور ۴/۱۳۲)
(۲؎ فتاوٰی بزازیۃ مع الہندیۃ الثانی عشر فی المہر مطبع نورانی کتب خانہ پشاور ۴/۱۳۲)
(؎ فتاوٰی الہندیۃ کتاب الھبۃ باب ۱۱ مطبع نورانی کتب خانہ پشاور ۴/۲۳۳)
فلہذااگر قرینہ سابقہ(۱)یا حاضرہ یا لاحقہ دلالت کرے کہ یہ سکوت بروجہ منع نہ تھا تو حکم انکار میں نہ ٹھہرے گا۔ قرینہ سابقہ یہ کہ اُس کی عادت معلوم ہے کہ سوال اگرچہ مانے سکوت کرتا اور کام کردیتا ہے تو جب تک نہ دینا متحقق نہ ہو ایسے کا سکوت دلیل منع نہ ہوگا۔قرینہ حاضرہ یہ ہے کہ اُس وقت وہ کسی امر عظیم میں مشغول ہے یا وظیفہ پڑھ رہا ہے یا پریشان ہے یا کسی بات پر سخت غصہ میں ہے کہ ان حالات کا سکوت دلیل منع نہیں ہوتا۔ قرینہ لاحقہ یہ کہ اُس وقت کی حالت سے تو کُچھ ظاہر نہ ہوا مگر تھوڑی دیر بعد وقت کے اندر وہ پانی لے آیااگرچہ یہ اتنی دیر میں جلدی کر کے اُس کی نگاہ سے جُدا نماز تیمم سے پڑھ چکا ہوکہ وقت پر دینا صریح اجابت ہے تو منع کہ سکوت سے مفہوم ہوتا تھا صریح کے معارض نہ ہوگا۔ فتاوٰی(۱) امام قاضی خان وغیرہا میں ہے: الصریح یفوق الدلالۃ ۱؎ (صریح، دلالت سے بڑھا ہوا ہے۔ ت)
(۱؎ درمختار کتاب الہبۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۲/۱۵۹)
اور یہ نہ ٹھہرائیں گے کہ وہ سکوت بفرض منع ہی تھا پھر رائے بدل گئی کہ یہ خلاف اصل ہے،
حلیہ میں ہے:فان قلت من الجائز تبدل حال المسئول قلت الاصل عدم التبدل فیجری علیہ مالم یتم الدلیل علی خلافہ ولم یوجد ۲؎۔
اگر یہ کہا جائے کہ ہوسکتا ہے جس سے سوال ہوا اس کی حالت بدل گئی ہو۔ میں کہوں گا۔ اصل عدم تبدل ہے تو وہ امر اسی پر جاری ہوگا جس کے خلاف پر دلیل تام نہ ہُوئی اور نہ پائی گئی۔ (ت)
(؎ حِلیۃ)
اقول: تفصیل(۲) مقام بتوفیق العلّام یہ ہے کہ سکوت کے بعدیاتو وہ اصلاً نہ دے گا یااس نماز کا وقت نکل جانے کے بعد دے گا یا وقت میں دے گا مگر بعد اس کے کہ یہ تیمم سے پڑھ چکا یوں کہ اسے تیمم کرتے اُس سے نماز پڑھتے دیکھا اور اُس وقت پانی نہ دیا یا اس پر مطلع نہ ہوکر دیا یا عین نماز میں دے گا یا نماز سے قبل۔ یہ چھ۶ صورتیں ہیں ان میں پہلی کا حکم تو ظاہر ہے کہ دلالت منع کا کوئی معارض نہ پایا گیا بلکہ اُس کا ثبوت ہوگیا تو نماز وتیمم دونوں صحیح رہے اور اخیر دو۲ بھی قابلِ بحث نہیں کہ جب ختم نماز سے پہلے پانی مل گیا آپ ہی وضو کرکے پڑھنے کا حکم اور چہارم کا حکم ابھی گزرا کہ اجابت ہے باقی دو۲ صورتیں رہیں دوم وسوم ان میں ظاہر یہی ہے کہ منع پر سکوت کی دلالت مستقر ہوگئی کوئی قرینہ اس کے معارض ہونا درکنار اُس کا مؤید پایا گیا نماز صحیح ہوئی اعادہ نہ ہوگا دوم میں یوں کہ حاجت ہر وقت متجدد ہوتی ہے جب اس حاجت کا وقت گزار دیااور مانگے نہ دیا معلوم ہوا کہ اس وقت دینا منظور نہ تھا دوسری حاجت کے وقت دینا نہ اس سوال کی اجابت کرے نہ اس کے وقت قدرت کے اثبات۔ اس وقت عجز ظاہر تھا اور وقتِ حاجت سوال پر سکوت نے ظن منع دیا تھا اس کی حاجت اس کا سوال اس کا ظن سب وقت حاضر کی نسبت تھے دوسرے وقت دینے نے اس ظن کو غلط نہ کیابلکہ ثابت ومحقق کردیااوریہاں
لاعبرۃ بالظن البین خطؤہ
(اس گمان کا اعتبار نہیں جس کی خطا واضح ہو۔) (ت)صادق نہ آیا ورنہ چاہے کہ وہ مہینہ بھر بعد دے تو اس کی یہ ڈیڑھ سو نمازیں سب باطل ہوجائیں کہ بعد وقت جیسا ایک وقت ویسے ہی ہزار یہ حرج ہے اور دفع حرج لازم اور اس کی طرف سے تقصیر نہیں کہ اس کے قابُو میں سوال ہی تھا یہ اسے بجا لاچکا محیط وبحر سے ابھی گزرا
جازت صلاتہ لانہ فعل ماعلیہ ۱؎
(اس کی نماز ہوگئی اس لئے کہ اس کے ذمہ جو تھا وہ بجالایا۔ ت)
(؎ البحرالرائق، شرح کنز الدقائق، باب التیمم ، ایچ ایم سعید کمپنی کراچی، ۱/۱۶۲)
حلیہ سے گزرا: فعل مافی وسعہ قبل الفعل فیقع جائزا دفعا للحرج فلاینقلب غیر جائز ۲؎۔
اس کے بس میں جو تھا فعل سے قبل بجا لایا تو دفع حرج کے پیش نظر اس کا عمل جائز ہی ادا ہوا تو اب ناجائز میں تبدیل نہ ہوگا۔ (ت)
( ۲؎ حلیہ)
اور سوم میں یوں کہ اس دینے سے بھی قدرت مقتصرہ ثابت ہوگی یعنی وقت عطا سے نہ مستندہ یعنی سابق سے کہ مانگنے پر اُس کا چُپ رہنا اور اسے تیمم کرتے اور نماز تیمم سے شروع کرتے دیکھنا اور اب بھی خاموش رہنا اس کے عجز کو مؤکد کرگیا اب قدرت جدیدہ اُسے نقض نہ کرے گی۔ولوالجیہ وحلیہ سے گزرا:
انہ اذا ابی تأکد العجز فلاتعتبر القدرۃ بعد ذلک ۳؎۔
اس نے جب انکار کردیا تو عجز مؤکد ہوگیا اب اس کے بعد قدرت ہونے کا اعتبار نہیں۔ (ت)
(۳؎ حلیۃ)
بدستور اس کے قابو میں سوال تھا اُسے بجا لایا اب اس پر الزام نہیں جیسا کہ ابھی محیط وبحر وحلیہ سے گزرا اگر کہیے وہ کہ مانگ کر چلا آیا اور جلدی کرکے اُس کی نگاہ سے جُدامثلاً اپنے خیمہ میں تیمم سے پڑھ لی اُس کے ذمہ بھی سوال ہی تھا جسے بجالایا اُس پر کیوں الزام ہے۔
اقول: سوال مطلوب بالذات ومنتہائے مقصد نہیں کہ سوال کرلیا اور عہدہ برآ ہوگئے جواب کچھ بھی ہو بلکہ وہ بغرض استکشاف حال ہے کہ جواب سے منع واجابت جو ظاہر ہو اُس پر عمل کیا جائے یہاں عطا بروقت سے اجابت ظاہر ہوئی کماتقدم(جیسا کہ گزرا۔ ت) تو مجرد سوال کرلینا اُسے بری الذمہ نہ کرےگا۔
الاتری ان الحلیۃ جعلت تاکدالعجز عبارۃ اخری عن ھذا المعنی اعنی فعل مافی وسعہ کماتقدم فی المسألۃ السابعۃ۔
دیکھئے کہ اس معنی اس کے بس میں جو تھا بجالایا کی دُوسری تعبیر حلیہ نے عجز مؤکد ہونے کے قرار دیا جیسا کہ مسئلہ ہفتم میں گزرا۔ (ت)
بخلاف صورت دوم وسوم کہ وہاں منع ظاہر ہوا،کماتقرر(جیسا کہ گزرا۔ ت) اور بخلاف اُس صورت کے کہ جسے پانی کی خبر ہونا گمان کیا اُس سے پُوچھا اُس نے سُنا اور جواب نہ دیا بعد نماز بتایا کہ سوال خبر پر جواب نہ دینا بعینہٖ ترک اخبار ہے اور سوال شَے پر سکوت بعینہٖ انکار عطا نہیں جس کی وجوہ اُوپر گزریں وباللہ التوفیق واللہ تعالٰی اعلم۔
ثمّ اقول یہ سب اُس صورت میں تھا کہ اُس نے مانگا اور اُس نے سکوت کیاتھا اور اگر اس(۱)نے پانی دیکھا اور اصلاً نہ مانگا اور اُسے بعد خروجِ وقت اس کی حاجت پر اطلاع ہُوئی اور پانی لایا اس صورت میں بلاشبہ مظنون ہے کہ اگر یہ مانگتا ضرور دیتا اور تقصیر اس کی طرف سے ہے کہ سوال نہ کیا تو ایک یا جتنی نمازیں پڑھیں سب کا اعادہ چاہے، نمبر ۱۵۹ میں محیط سے گزرا:
لم تجز صلاتہ لانہ کان قادرا علی استعمالہ بواسطۃ السؤال فاذالم یسألہ جاء التقصیر من قبلہ ۱؎۔
اس کی نماز نہ ہوئی اس لئے کہ وہ مانگ کر اس پانی کو استعمال کرسکتا تھا۔ نہ مانگا توکوتاہی اسی کی جانب سے ہوئی۔ (ت)
( ۱؎ محیط)
حلیہ سے ابھی گزرا: فانہ لم یستفرغ الوسع بالاستکشاف ۲؎۔
اس لئے کہ اس نے تفتیش کے ذریعہ اپنی پُوری کوشش صرف نہ کی۔ (ت)
۲؎ حلیہ
بلکہ(۲)اگر وہ اسے دیکھتا رہاکہ تیمم سے پڑھتا ہے اور باوصف اطلاع پانی نہ دیایا بعد وقت دیا جب بھی یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ مانگنے پر بھی نہ دیتاتو بلاسوال نہ دینا ظنِ منع کی تحقیق نہیں کرتا منع یہ ہے کہ مانگے سے نہ دے اور بارہا ہوتا ہے کہ لوگ بے مانگے خود پرواہ نہیں کرتے اور مانگا جائے تو دے دیں بلکہ یہاں دُوسرے وقت بے طلب دینے سے یہی پہلو رجحان پاتا ہے کہ مانگتا تو ضرور دیتا بخلاف صورت سکوت کہ یہ سوال کرچکا تھا اور اُس نے اُس وقت نہ دیا تو ظاہر ہوا کہ دینا منظور نہ تھا زیادات وجامع کرخی وبدائع وحلیہ میں ہے:
اذاغلب علی ظنہ انہ لایعطیہ اوشک مضی علی صلاتہ فاذافرغ سألہ فان اعطاہ توضأ واستقبل الصلاۃ لانہ ظھرانہ کان قادرالان البذل بعد الفراغ دلیل البذل قبلہ وان ابی فصلاتہ ماضیۃ لان العجز قدتقرر ۱؎ اھ۔
جب اسے غلبہ ظن ہوکہ نہ دے گایاشک کی صورت ہو تو اپنی نماز پر برقرار رہے جب فارغ ہوجائے اس سے مانگے۔اگر وہ دے دے وضو کرکے ازسرِنَو نماز ادا کرے۔ کیونکہ ظاہر ہوگیاکہ وہ قادر تھا اس لئے کہ نماز سے فارغ ہونے کے بعد دے دینا اس بات کی دلیل ہے کہ اس سے پہلے بھی دے دیتا۔ اور اگر انکار کرے تو اس کی نماز تام ہے اس لئے کہ عاجز ہونا ثابت ہوگیا۔ (ت)