تنبیہ چہارم: اقول(۱)ظاہراً وعدہ کی مثبت قدرت ماناگیا ہے اُس میں شرط ہے کہ یا تو مطلق ہو مثلاً دُوں گا یا وقت حاضر سے مقید مثلاً ابھی دیتا ہُوں نہ وہ کہ وقت آئندہ سے مقید ہو مثلاً کل دُوں گا یاشام کو لینایا گھنٹہ بھر بعدملے گا اور وقت میں نصف ہی گھنٹہ ہے ایسا وعدہ اصلاً مثبت قدرت نہ ہوگا قبل نماز ہو یا بعد کہ وہ حقیقۃً دو۲ چیزوں سے مرکب ہے وقت حاضر میں منع اور وقت آئندہ کیلئے امید دلانا تو وقت حاضر کیلئے منع ہی ہُوا نہ وعدہ ورنہ لازم ہوکہ اگر وہ کہے دس برس بعد دُوں گا تو دس برس تک اسے نماز سے معطل رہنے کا حکم ہو کماتقدم تقریرہ فی التنبیہ الثانی وھذاظاھرجدا (جیسا کہ تنبیہ دوم میں اس کی تقریر پیش ہُوئی اور یہ بہت واضح ہے۔ ت)
بالجملہ ایسا وعدہ بنظر وقت حاضر منع ہے تو اگر پہلے ظن عطا تھا اُس کی خطا ثابت ہوگی اور ظن منع تھا تو اس کی تصدیق ہوگی اور شک تھا تو علمِ منع سے بدل جائے گا واللہ تعالٰی اعلم اس وعدے کا نام وعدِ ابائی رکھئے اور مطلق یامقید بوقت حاضر کا نام وعدِ رجائی۔
تنبیہ پنجم:اقول(۱) وعدہ رجائی اگر قبل نماز ہو ضرور مطلقاً مؤثر ہے اگر تیمم سے پہلے ہے تیمم کا مانع ہوگا اور بعدہے تو اس کا ناقض اور عین نماز میں ہے تو اس کا مبطل اگرچہ وفا ہو یا نہ ہو یعنی وقت گزر جائے اور پانی نہ دے کہ ہمارے ائمہ نے انتظار واجب فرمایااگرچہ وقت نکل جائے لیکن(۲) اگر یہ وعدہ بعد نماز ہو خواہ یوں کہ اس نے مانگا ہی بعد یا اصلاً نہ مانگا اور اس نے بطورِ خود وعدہ کرلیایہاں دو۲ صورتیں ہیں اگر وقت کے اندر دے دیا ضرور اعادہ نماز کرے گا۔
فان العطاء فی الوقت مبطل مطلقا ولوبلا وعد ومازادہ الوعد الاتأییدا۔
اس لئے کہ وقت میں دے دینا مطلقاً باطل کردیتا ہے اگرچہ بلاوعدہ ہو۔وعدہ بھی ہوا تو اس کی اور زیادہ تائید ہی ہُوئی۔ (ت)
فان قلت کیف ولایخلوا لوعد عن منع فی الحال لان حاصلہ لااعطیک الاٰن بل بعد حین فان من یجیب من فورہ فیم یعد فھذا عطاء بعداباء فلایعتبر۔
اگر یہ سوال ہو کہ یہ کیسے جب کہ وعدہ حال میں منع سے خالی نہیں ہوتا اس لئے کہ اس کا حاصل یہ ہوتا ہے کہ تم کو ابھی نہ دُوں گا کچھ بعد میں دُوں گا، کیونکہ جو فوراً کام کردے وہ وعدہ کس بات کا کرے گا۔ تو یہ انکار کے بعد دیناہے لہذا اس کا اعتبار نہ ہوگا۔ (ت)
اقول: الوعد لوقت الحاجۃ لایعد منعاعرفاولاشرعا فمن حلف(۳) لایمنع زیدا کذا فسألہ زیدفوعدہ لوقت حاجتہ لایحنث قطعا وبہ تبین ان الوعد غیرالعطاء ایضا فلو(۱)حلف لایعطی لایحنث بمجرد الوعد ایضافھوامربین بین فکما لاتثبت ایضا احکام العطأ بل الرجاء کماذکرنا ولکن العبرۃ بالمنقول وان لم یظھر للعقول۔
اقول: (جواباً میں کہوں گا)ضرورت کے وقت دینے کا وعدہ عرفاً منع نہیں شمار ہوگا،نہ ہی شرعاً۔ اگر کسی نے قسم کھائی زید سے فلاں چیزکا انکار نہ کروں گا۔ اب زید نے اس سے وہ چیز طلب کی۔اس نے وعدہ کیا کہ جب ضرورت ہوگی دے دوں گا تو ہرگز اس کی قسم نہ ٹوٹے گی۔اسی سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ وعدہ اور ہے دینا اور۔ اگر قسم کھائی کہ فلاں چیز اسے نہ دے گا تو صرف وعدہ کرنے سے اس کی قسم نہ ٹوٹے گی۔ وعدہ ایک درمیانی امر ہے تو جیسے اس کیلئے منع کے احکام ثابت نہ ہوں گے ایسے ہی عطا کے احکام بھی نہ ثابت ہوں گے بلکہ رجا کے جیساکہ ہم نے بیان کیا۔ لیکن اعتبار منقول کا ہے اگرچہ عقلوں پر واضح نہ ہو۔ (ت)
اور اگر وقت میں نہ دیا تو دوصورتیں ہیں یا تو اس کا خُلف ظاہر ہوگا کہ وقت گزر گیا اور قصداً نہ دیا تو یہ وعدہ مؤثر نہ ہوگا۔
لانہ لم یعط ومااعطاہ الوعد من ظن الاعطاء زال بالخلاف ولاعبرۃ بالظن البین خطؤہ فان کان قبلہ یظن عطاء فقد خاب اومنعا فقدصدق اویشک فتبدل بعلم المنع۔
اس لئے کہ اس نے دیا نہیں اور وعدہ نے جو ظنِ عطا بخشا تھا وہ وعدہ خلافی سے ختم ہوگیا اور ایسے گمان کا اعتبار نہیں جس کی غلطی واضح ہو۔ اگر پہلے اسے عطا کا گمان تھا تو وہ ناکام ہوا،یا منع کا گمان تھا تو سچ ہوا،یا شک تھا تو وہ منع کے یقین سے بدل گیا۔ (ت)
اور اگر اُس کا خُلف ظاہر نہ ہوا، مثلاً وعدہ یوں تھا کہ دو۲ گھڑی بعد آکر لے جانایہ نہ گیا وقت کے اندر اسے یا اسے کہیں جانے کی ضرورت لاحق ہوئی یوں افتراق ہوگیا اور نہ دے سکا تو اس صورت میں ظاہر یہ ہے واللہ تعالٰی اعلم کہ مطلقاً اعادہ نماز کا حکم ہو۔
فان الحقیقۃ بقیت فی السترفدارالامرعلی الظن فان کان یظن العطاء فقدتضاعف بالوعدوان کان یظن المنع فقد تضعف بل اضمحل بہ لان الوعد یورث ظن العطاء قطعا کماقال الامام محمد ان الظاھر الوفاء ولاامکان لتعلق الظن الغالب بکلاالطرفین فاذا حدث ظن العطاء فقد زال ظن المنع وکذا الشک لان الرجحان یبطل التساوی فلم یبق ماتبنی علیہ صحۃ صلاتہ والاصل فی الماء الاباحۃ وقد تبین ان التقصیر منہ لترکہ السؤال لاجل ظن منع اوشک ظھر کونھما فی غیر المحل فتعاد الصلاۃ لتقع البراء ۃ بیقین÷ فان الصلاۃ من اجل مایحتاط لہ فی الدین÷ ھذاماظھرلی والعلم بالحق عند الحق المبین ۔
اس لئے کہ حقیقت تورُوپوش ہی رہ گئی اس لئے مدار امر ظن پر ہُوا اب اگر اسے عطا کا گمان تھا تو وہ وعدہ سے اور بڑھ گیا اور اگر منع کا گمان تھا تو وہ اس سے ضعیف بلکہ مضمحل ہوگیا اس لئے کہ وعدہ بلاشبہہ ظنِّ عطا پیدا کرتا ہے،جیسا کہ امام محمد رحمہ اللہ تعالٰی نے فرمایا کہ ''ظاہر وفا ہے'' اور یہ ممکن نہیں کہ ظن غالب کا تعلق دونوں ہی جانب سے ہو۔ تو جب ظن عطا پیدا ہوگا ظنِ منع ختم ہوجائے گا۔ یہی حال شک کا ہے اس لئے کہ جب ایک طرف رجحان پیدا ہوگا تو وہ دونوں جانب کی باہمی مساوات باطل کردے گا۔ اب ایسا کوئی امر باقی نہ رہا جس پر اس کی نماز کی صحت کی بنیاد رکھی جاسکے۔ اور پانی میں اصل اباحت ہے۔ اور واضح ہوگیا کہ کوتاہی اس کی ہے کہ اس نے سوال ہی نہ کیا اس ظن سے یا شک کے باعث جن(دونوں)کا بے جا ہونا عیاں ہوگیا تو نماز کا اعادہ کرنا ہوگا تاکہ یقینی طور پر عہدہ بر آ ہوجائے اس لئے کہ دین کے جن کاموں میں احتیاط برتی جاتی ہے ان میں نماز سب سے بزرگ ہے۔ یہ وہ ہے جو میرے ذہن میں آیا اور حق کا علم حق مبین کو ہے۔
وبالجملۃ لقدطال الکلام فی ھذہ المسألۃ الثامنۃ ولعمری لم یخل عن فائدۃ عائدۃ بل اشتمل ولوجہ ربی الحمد علی غرر درر لم تنظم ببنان البیان÷ ونفائس عرائس لم یطمثھن انس قبلی ولاجان÷ وحاصل ماقررنا فیہ ان الوعد الابائی لایؤثر مطلقا والرجائی مؤثر مطلقا الا اذاکان بعد الصلاۃ وظھر خلفہ واللّٰہ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
بالجملہ اس آٹھویں مسئلہ میں کلام طویل ہوگیا مگر نفع بخش فائدے سے خالی نہ رہا بلکہ ایسے آبدار گوہروں پر مشتمل ہُوا جو کبھی انگشتِ بیان سے پر وئے نہ گئے اور ایسی نفیس وحسین عروسوں پر جنہیں مجھ سے پہلے نہ کسی انسان نے ہاتھ لگایا نہ کسی جِن نے۔ اور ساری حمد میرے رب کی ذات کیلئے ہے۔ اور اس بارے میں ہم نے جو کچھ ثابت کیا اس کا حاصل یہ ہوا کہ وعدہ ابائی مطلقاً بے اثر ہے اور وعدہ رجائی مطلقاً مؤثر ہے مگر جب کہ ادائے نماز کے بعد ہو اور اس کا خلف ظاہر ہوجائے۔ اور خدائے پاک وبرتر خوب جاننے والا ہے۔ (ت)
یہ تمام مباحث وہ ہیں کہ ذہنِ فقیر پر فیضِ قدیر سے القا ہوئے۔ ہزار ہزار حسرت کہ کتب حاضرہ میں ان میں سے کسی صورت سے اصلاً تعرض نہ پایا یہی حال آئندہ مسئلہ سکوت کاہے ناچار دونوں میں ان ابحاث کی احتیاج نے مُنہ دکھایا یاحاشا احکام میں رائے زنی نہ ہمارامنصب نہ اس پر اعتبارتتبع اسفار وتلاحق انظار اولی الابصار ضرور درکار۔
اور خدا ہی سے مدد طلب کی جاتی ہے اور اسی پر بھروسہ ہے اور کوئی طاقت وقوت نہیں مگر خدائے برتر و باعظمت ہی سے۔ اور اللہ تعالٰی رحمت نازل فرمائے ہمارے آقا ومولٰی محمد اور ان کی آل واصحاب سب پر الٰہی قبول فرما۔ (ت)
مسئلہ ۹ منع یعنی دینے سے انکار دو۲ قسم ہے ایک صراحۃً کہ صاف کہہ دے نہ دُوں گا یا اور الفاظ کہ ان معنی کو مؤدی ہوں۔
اقول : منع ابائی کہ ہم نے ابھی تنبیہ چہارم میں ذکر کیا اسی قسم میں ہے کہ وہ خاص مدلولِ کلام ہے۔ دوسرا دلالۃً یعنی اور کوئی امر کہ منع پر دلالت کرے۔ درمختار میں اس کی مثال استہلاک سے دی یعنی پانی خرچ کرلینایا پھینک دینا کہ اب دینے کی صلاحیت ہی نہ رہی۔
حیث قال یطلبہ ممن ھو معہ فان منعہ ولودلالۃ بان استھلکہ تیمم ۱؎۔
ان کے الفاظ یہ ہیں: ''پانی اپنے ساتھی سے طلب کرے گا اگر وہ انکار کرے اگرچہ دلالۃً اس طرح کہ وہ پانی ختم کر ڈالے تو تیمم کرے''۔ (ت)
(۱؎ درمختار ، باب التیمم، مطبوعہ مجتبائی دہلی ، ۱/۴۴)
یونہی اگر بعض خرچ کردیا اور باقی طہارت مطلوبہ کو کافی نہ رہا طحطاوی میں ہے:
اواستھلک البعض والباقی غیرکاف ۲؎۔
یاکچھ ختم کر ڈالا اور جو بچا وہ ناکافی ہے۔ (ت)
(۲؎ طحطاوی علی الدرالمختار باب التیمم مطبوعہ بیروت، ۱/۱۳۲)
اقول : مطلوب کی قید ہم نے اس لئے لگائی کہ اگر نہا چکااور مثلاً پیٹھ پر اتنی جگہ خشک رہی جسے ایک چُلّو پانی درکار ہے تو اگر ایک ہی چُلّو باقی ہے طہارت غسل کو کافی ہے اور اگر پُورا نہانا ہے تو آدھا گھڑا بھی کافی نہیں۔ اور اگر اس نے مانگا اور اس نے اُسے نہ دیا زید کو دے دیا تو یہ بھی حکماً استہلاک اور دلالۃً منع ہوگا یا نہیں۔
اقول: لم ارہ واذکر ماظھرلی بتوفیقہ جل وعلا وارجو ان یکون صوابا ان شاء اللّٰہ تعالٰی۔
اقول: یہ میری نظر سے نہ گزرا،اب میں وہ بیان کرتا ہوں جو خدائے بزرگ وبرتر کی توفیق سے مجھ پر ظاہر ہوا اور مجھے امید ہے کہ اگر خدائے برتر نے چاہا تو درست ہی ہوگا۔ (ت)
اگر(۱) دوسرے کو اباحۃً دے دیا تو یہ منع ہے کہ صاف معلوم ہواکہ اسے دینا نہ چاہا اور جسے مباح کیا وہ اسے دے نہیں سکتاکہ وہ اباحت سے مالک نہ ہوا اور اگر اُس کے ہاتھ ہبہ تامہ بیع کردیا تو اگرچہ یہ اس خاص شخص کی طرف سے منع ہوامگر یہ مسئلہ کہ دوسرے کے پاس پانی پایا بدستور متوجہ ہے کہ اب جو اس کا مالک ہوا اگر ظن غالب ہوکر یہ مانگے سے دے دےگا تو اس سے مانگنا واجب ورنہ نہیں اور اب اس کے عطا ومنع میں وہ سب احکام عود کریں گے واللہ تعالٰی اعلم۔
ثم اقول: ظاہراً بلکہ اِن شاء اللہ المولٰی تعالٰی یقینا منع(۲) دلالۃً کی تیسری صورت سکوت بھی ہے اس نے مانگا اور اس نے صاف انکار تونہ کیا مگر چُپ رہا تو حاجت کے وقت سکوت سے یہی سمجھا جائےگا کہ دینا منظور نہیں
وقد تقدم قولھم فی من سألۃ المتیمم عن الماء فلم یخبرہ وھو یشمل السکوت وقد عبر منہ فی الحلیۃ بالاباء۔
حضرات علماء کرام کا کلام اُس سے متعلق گزر چکا جس سے تیمم والے نے پانی کے بارے میں پُوچھا تو اس نے خبر نہ دی یہ صورت سکوت کو بھی شامل ہے اور حلیہ میں اس کی تعبیر انکار سے کی ہے۔ (ت)
اس(۳) کی نظیر سکوت مدعا علیہ ہے جب بطلب مدعی اس پر حلف متوجہ ہوا اور قاضی نے اُس سے حلف طلب کیا وہ چُپ رہا یہ سکوت انکار سمجھا جائےگا جبکہ نہ سننے یانہ بول سکنے کے باعث نہ ہو ولہذا(۴)مستحب ہے کہ قاضی اس سے تین بار کہے اگر سکوت کرے حلف سے نکول ٹھہرا کر مدعی کو ڈگری دے دے تنویر الابصار ودرمختار میں ہے:
(قضی) القاضی (علیہ بنکولہ مرۃ) حقیقۃً (بقولہ لااحلف او) حکما کأن (سکت من غیر اٰفۃ) کخرس وطرش فی الصحیح سراج وعرض الیمین ثلثا ثم القضاء احوط ۱؎ اھ قال ش ای ندبا ۲؎۔
قاضی(قسم سے ایک بار انکار کی وجہ سے اس کے خلاف فیصلہ دے دے گا) یہ انکار حقیقۃً ہو(اس طرح کہ وہ کہے میں قسم نہ کھاؤں گا، یا) حکماًہو مثلاً وہ گونگے پن اور بہرے پن جیسی کسی معذوری و(آفت کے بغیر خاموش رہے)یہی صحیح قول ہے۔سراج۔ اور تین بار قسم پیش کرنا پھر فیصلہ دینا زیادہ محتاط طریقہ ہے اھ۔ علامہ شامی نے فرمایا: یعنی استحباباً۔ (ت)
(۱؎ الدرالمختار مع الشامی کتاب الدعوٰی مطبع مصطفی البابی مصر ۴/۴۷۱)
(۲؎ ردالمحتار کتاب الدعوٰی مطبع مصطفی البابی مصر ۴/۴۷۲)