Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۴(کتاب الطہارۃ)
17 - 2323
ثمّ اقول:  لعلک قدتفطنت مما القینا علیک ان الایرادالاخیراعنی علی صورۃ الیقین بمسألۃ البعدمیلا انما یرد علی ماعلل بہ فی الھدایۃ ظاھر الروایۃ اما نفس المسألۃ فلاغبار علیھامن جھتہ فان المذھب عدم وجوب التاخیرظاناکان اومستیقناکماتقدم التصریح بہ عن الخلاصۃ بنقل الائمۃ البخاری والکاکی والبابرتی والسیواسی وتقریرھم ایاہ نعم الایراد الاول علی صورۃ الظن بمسألۃ ظن القرب یرد علی التعلیل والمسألۃ معا للاحتیاج الی الفرق بینھما حیث لم یعتبروا ھھنا الظن بل ولا الیقین وقد منعو اثمہ لمحض غلبۃ الظن ولاجل ھذا قلت انھم استشکلوا المسألۃ والتعلیل معاوان کانوا انما وجھوا الکلام الی التعلیل ھذا۔
ثمّ اقول:  ہمارے بیان سے ناظرین نے یہ سمجھ لیاہوگاکہ دوسرا اعتراض یعنی ایک میل دُوری والے مسئلہ سے صورت یقین پر اعتراض صرف اس تعلیل پر وارد ہوتا ہے جو صاحبِ ہدایہ نے ظاہر الروایہ سے متعلق پیش کی۔ لیکن نفسِ مسئلہ پر جانب اعتراض سے کوئی غبار نہیں آتا اس لئے کہ مذہب یہی ہے کہ تاخیر  نماز واجب نہیں خواہ اسے ظن ہو یا یقین جیساکہ اس کی تشریح خلاصہ سے گزر چکی خلاصہ کا کلام امام بخاری، امام کاکی، امام بابرتی اور امام سیواسی نے نقل کیااور اسے برقرار رکھا ہاں پہلا اعتراض جو صورتِ ظن پر ظنِ قرب کے مسئلہ سے وارد ہوتا ہے وہ تعلیل اور مسئلہ دونوں ہی پر وارد ہوتا ہے اس لئے کہ دونوں میں فرق کرنے کی ضرورت ہے کہ یہاں پرکیوں ظن بلکہ یقین کا بھی اعتبار نہ کیااور وہاں محض غلبہ ظن کی وجہ سے منع کردیا۔ اس لئے میں نے کہاکہ حضرات علماء نے مسئلہ اور تعلیل دونوں ہی میں اشکال قرار دیا اگرچہ کلام کا رُخ صرف اس تعلیل کی جانب کیا۔ (ت)
ورأیت الامام ملک العلماء قررالمسألۃ فی البدائع بحیث لایتوجہ الیہ ھذاالاشکال ورفع الخلاف عن الظاھرۃ والنادرۃ فقال قدقال اصحابناان المسافران کان علی طمع من الماء فی اٰخرالوقت یؤخر التیمم الی اٰخر الوقت وان لم یکن لایؤخر ھکذا روی المعلی عن ابی حنیفۃ وابی یوسف رضی اللّٰہ تعالٰی عنہماوذکر فی الاصل احب الی ان یؤخرالی اٰخر الوقت ولم یفصل بین ما اذاکان یرجو الماء اولا یرجووھذا لایوجب اختلاف الروایۃ بل یجعل روایۃ المعلی تفسیرالما اطلقہ فی الاصل ولو تیمم اول الوقت وصلی ان کان عالما ان الماء قریب بان کان بینہ وبین الماء اقل من میل لم تجز صلاتہ بلاخلاف لانہ واجد للماء وان کان میلا فصاعد اجازت وان(۱) لم یکن عالما بقرب الماء اوبعدہ تجوز صلاتہ سواء کان یرجوا الماء فی اٰخر الوقت اولا سواء کان بعد الطلب اوقبلہ عندنا خلافا للشافعی لمامر ان العدم ثابت ظاھرا واحتمال الوجود احتمال لادلیل علیہ فلایعارض الظاھر ۱؎ اھ
میں نے دیکھاکہ امام ملک العلماء نے بدائع میں مسئلہ کی تقریر  اس طرح فرمائی ہے کہ اس پر یہ اشکال پیش نہیں آتا ۔ اور انہوں نے روایتِ ظاہرہ ونادرہ کا اختلاف بھی دور کردیا ہے،رقمطراز ہیں: ''ہمارے اصحاب نے فرمایاکہ مسافر کو اگر آخر وقت میں پانی کی امید ہو تو تیمم آخر وقت تک مؤخر کرے۔ اور اگر ایسی امید نہ ہو تو مؤخر نہ کرے۔ ایسے ہی معلی نے امام ابوحنیفہ اور امام ابویوسف رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی ہے۔ اور اصل (مبسوط) میں ذکر فرمایا ہے کہ میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ یہ ہے کہ آخر وقت تک مؤخر کرے۔اور پانی کی امید ہونے اور نہ ہونے کا فرق نہ بیان کیا۔ اس سے اختلافِ روایت لازم نہیں آتابلکہ معلی کی روایت مبسوط کے اطلاق کی تفسیر  قرار پاتی ہے۔ اور اگر اوّل وقت میں تیمم کرکے نماز پڑھ لی تو اگر اسے علم تھا کہ پانی قریب ہے اس طرح کہ اس کے اورپانی کے درمیان ایک میل سے کم فاصلہ ہے تو اس کی نماز جائز نہیں۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں اس لئے کہ پانی اس کیلئے دستیاب ہے۔ اور اگر ایک میل یا زیادہ کا فاصلہ ہو تو اس کی نماز ہوگئی۔ اور اگر اسے پانی کے قُرب وبُعد کا علم نہیں تو اس کی نماز جائز ہے خواہ آخر وقت میں پانی کی امیدہو یا نہ ہو خواہ پانی تلاش کرنے کے بعدہو یا پہلے ہو۔ یہ حکم امام شافعی کے برخلاف ہمارے نزدیک ہے اس کی وجہ گزر چکی کہ عدم ظاہراً ثابت ہے اورپانی ملنے کا احتمال ایسا احتمال ہے جس پر کوئی دلیل نہیں تو وہ ظاہر کے معارض نہ ہوگا''۔ (ت)
 (۱؎ بدائع الصنائع    فصل وامابیان وقت التیمم     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۵۴)
اقول: لکن(۱)للعبدالفقیر÷ توقف فی التعلیل الاخیر÷ فان من(۲) علم فی اول وقت الظھر اوالعشاء مثلا ان الماء من ھنا علی مسافۃ اقل من میلین اوثلٰثۃ امیال وعلم انہ یصل الیہ فی سعۃ الوقت ولم یعلم انہ علی فصل میل او اقل فصادق علیہ انہ لایعلم قرب الماء ولابعدہ وھویرجو الماء لاعن احتمال بلادلیل بل عن دلیل فیعارض الظاھرویمنع التیمم ولیس کذلک انما یمنع التیمم ظن ان الماء قریب÷ وھو منہ فی شک مریب ھذا۔
اقول: لیکن بندہ محتاج کو تعلیل اخیر  میں کچھ توقف ہے اس لئے کہ مثلاً جسے وقتِ ظہر یا وقتِ عشا کے شروع میں علم ہوا کہ پانی یہاں سے دو میل یا تین میل سے کم مسافت پر ہے اور اسے یہ بھی علم ہے کہ وقت میں وسعت رہتے ہوئے وہاں تک پہنچ جائے گااور اسے یہ معلوم نہیں کہ ایک میل کا فاصلہ ہے یاکم تو اس پر یہ صادق ہے کہ پانی کے قُرب وبُعدکا اسے علم نہیں۔اور اس کو پانی کی امید بلادلیل احتمال کے باعث نہیں بلکہ دلیل کے باعث ہے تو یہ احتمال ظاہرکے معارض اورتیمم سے مانع ہوجائےگا،حالانکہ ایسا نہیں۔تیمم سے مانع صرف اس بات کاگمان ہے کہ پانی قریب ہے اور اسی میں تو اسے پریشان کن شک درپیش ہے۔ یہ ذہن نشین رہے۔ (ت)
ولنعم حل الاشکال عن مسئلۃ الرجاء ماقررہ الامام الجلیل ابو البرکات رحمہ اللّٰہ تعالٰی فی الکافی حیث عدل عن تعلیل الھدایۃ÷وعلل بتعلیل حسن الی الغایۃاذقال مسافر غلب علی ظنہ ان بقربہ ماء وجب الطلب ولایجب بغیرغلبۃ الظن اواخبار لان العدم ثابت حقیقۃ وظاھراً لفوات الدلیل الدال علی الوجود من حیث الظاھر اذالظاھر فی المفاوزعدم الماء بخلاف العمرانات فانہ لوتیمم قبل الطلب فیھا لم یجز لان العدم وان کان ثابتاحقیقۃ لم یثبت ظاھراً لقیام الدلیل علیہ وھو العمارۃ اذقیامھا بالماء وکذا لوغلب علٰی ظنہ اواخبرہ مخبرلان غالب الرأی کالمتحقق فی حق وجوب العمل ولھذاوجب العمل باخبارالاٰحاد والاقیسۃوالاٰی المؤولۃ والمخصوصۃ والبینات فان قیل لوکان غالب الرأی کالمتحقق ھنا لوجب التاخیر  فیما اذا غلب علی ظنہ انہ یجد الماء فی اٰخرالوقت قلنا عن ابی حنیفۃ وابی یوسف رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما ان التاخیر  ختم ولان غلبۃ ظنہ ثم انہ سےصیر  بقرب الماء وھذا غلبۃ ظنہ انہ بقرب الماء ۲؎ اھ کلامہ الشریف،
مسئلہ امید کے اشکال کا بہترین حل وہ ہے جس کی تقریر  امام الجلیل ابو البرکات نسفی رحمہ اللہ تعالٰی نے کافی میں فرمائی۔انہوں نے ہدایہ کی تعلیل سے ہٹ کر خود ایک انتہائی عمدہ تعلیل پیش کی،فرماتے ہیں: ایک مسافر ہے جس کا غالب گمان یہ ہے کہ اس کے قریب پانی ہے تو تلاش کرنا واجب ہے۔ غلبہ ظن یا کسی کے بتائے بغیر  تلاش واجب نہیں اس لئے کہ پانی نہ ہونا حقیقۃًاور ظاہراً ثابت ہے کیونکہ بظاہر ایسی کوئی دلیل نہیں جو پانی ہونے کاپتادے اس لئے کہ بیابانوں میں ظاہر پانی کا نہ ہونا ہی ہے۔ آبادیوں کا حال اس کے برخلاف ہے۔اگر آبادیوں کے اندر پانی تلاش کرنے سے پہلے تیمم کرلے تو جائز نہیں۔اس لئے کہ نہ ہونااگرچہ حقیقۃً ثابت ہے مگر ظاہراً ثابت نہیں کیونکہ پانی ہونے کی دلیل آبادی-- موجود ہے وجہ یہ ہے کہ آبادیوں کا قیام پانی سے ہوتا ہے __اسی طرح اگر پانی کا غلبہ ظن ہو یا کوئی مخبر خبر دے (تو بھی پانی تلاش کرنے سے پہلے تیمم جائز نہیں)کیونکہ غالب رائے وجوبِ عمل کے حق میں یقینی ومتحقق کی حیثیت رکھتی ہے۔اسی لئے اخبار آحاد،قیاسات، تاویل وتخصیص یافتہ آیات اور بنیات وگواہان سے وجوبِ عمل ثابت ہوجاتا ہے۔اگر یہ سوال ہو کہ اگر غالب رائے کو یہاں متحقق کی حیثیت حاصل ہوئی تو اس صورت میں نماز کو مؤخر کرنا واجب ہوتا جب اسے اس بات کا غالب گمان ہوتاکہ آخر وقت میں اسے پانی مل جائے گا۔ تو ہم جواباً کہیں گے کہ یہ امام ابوحنیفہ وامام ابویوسف رضی اللہ تعالٰی عنہما سے ایک روایت ہے کہ نماز مؤخر کرناواجب ہے۔ اور وجہ یہ ہے کہ وہاں اس کا غلبہ ظن یہ ہے کہ وہ کچھ دیر  بعد پانی کے قریب ہوجائے گا اور یہاں اس کا غلبہ ظن یہ ہے کہ وہ بروقت پانی کے قریب ہے اھ امام نسفی کا مبارک کلام ختم ہوا۔
 (۱؎ کافی)

(۲؎ الکفایہ علی الہدایہ مع الفتح القدیر         باب التیمم        مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر        ۱/۱۲۵)
وھذا بحمداللّٰہ تعالٰی عین ماظھرللعبد الضعیف فیماذکرت ونحوہ فی الکفایۃ فقدظھران مسألۃ الرجاء لیس المراد فیھامن رجا لاجل القرب فانہ لایجوز لہ التیمم اجماعا بل من رجا الوصول فی اٰخر الوقت مع بعدہ الاٰن فھذا لیس بظن القرب بل ظن انہ سیقرب فلایعتبر(۱) ولایعکر علیہ بمسألۃ ظن القرب وقدصرح بکونھاموضوعۃ فی بعد المسافۃ فی غیر  ماکتاب معتمد ففی الدرایۃ ثم الشلبیۃ ھذاالاستجاب اذاکان بینہ وبین موضع یرجوہ میل اواکثر فان کان اقل لایجزیہ التیمم وان خاف فوت وقت الصلاۃ ۱؎ اھ
یہ بحمداللہ تعالٰی بعینہٖ وہی بات ہے جو بندہ ضعیف کے ذہن میں آئی جیسا کہ سابقاً ذکر کیا اسی کے ہم معنٰی کفایہ میں بھی ہے تو یہ واضح ہوگیاکہ مسئلہ امید میں یہ مراد نہیں کہ جسے قُربِ آب کی وجہ سے امید ہو کیونکہ اس کے لئے بالاجماع تیمم جائز نہیں بلکہ جسے امید ہے کہ آخر وقت میں پانی کے پاس پہنچ جائے گا باوجود یکہ اس وقت پانی سے دُور ہے تو اسے قرب آب کا گمان ہی نہیں بلکہ یہ گمان ہے کہ وہ آئندہ پانی کے قریب ہوجائےگاتو یہ گمان معتبر نہیں اور اس پر ظنِّ قرب کے مسئلہ سے کوئی گرد نہیں ڈالی جاسکتی۔ متعدد معتمد کتابوں میں اس بات کی تصریح موجود ہے کہ مسئلہ اُمید بُعدمسافت کی صورت میں رکھا گیا ہے۔ درایہ پھر شلبیہ میں ہے: ''یہ استحباب اُس وقت ہے جب اس کے درمیان اور اس جگہ کے درمیان جہاں پانی کی امیدہے ایک میل یا زیادہ کا فاصلہ ہو اگر اس سے کم ہو تو اس کیلئےتیمم جائز نہیں اگرچہ وقتِ نماز نکل جانے کا خطرہ ہو''۔
 (۱؎ الشلبی علی الکنز مع تبیین الحقائق        باب التیمم        مطبعۃ امیریہ مصر     ۱/۴۱)
ومثلہ فی البحرونحوہ فی الدروفی البنایۃھذا اذاکان الماء بعیداوان کان قریبا لایتیمم وان خاف خروج الوقت قال الفقیہ ابوجعفراجمع اصحابنا الثلثۃ علی ھذا ۲؎ اھ
اسی کے مثل بحر میں اور اس کے ہم معنیٰ دُرمختار میں ہے اور بنایہ میں اس طرح ہے: ''یہ اُس وقت ہے جب پانی دُور ہو۔ اگر قریب ہو تو تیمم نہ کرے اگرچہ اسے وقت نکل جانے کا اندیشہ ہو، فقیہ ابُو جعفر نے فرمایا: اس پر ہمارے تینوں اصحاب وائمہ کا اجماع ہے'' اھ۔
 (۲؎ البنایہ شرح ہدایہ              باب التیمم      ملک سنز فےصل آباد     ۱/۳۲۵)
ثم قال اعنی العینی وقیل اذاکان بینہ وبین موضع یرجوہ ۳؎ الٰی اٰخر ماقدمنا عن الدرایۃ۔
آگے علامہ عینی صاحبِ بنایہ لکھتے ہیں: ''اور کہاگیا جب اس کے اور اس جگہ کے درمیان جہاں اُسے پانی کی امیدہے اس کے آخر تک جو ہم نے درایہ کے حوالہ سے پیش کیا۔ (ت)
  (۲؎ البنایہ شرح ہدایہ             باب التیمم       مطبعۃالامدادمکۃالمکرمہ    ۱/۳۲۵)
اقول: (۱)ولاادری ماالفرق بینہ وبین ماقال ھذا اذاکان الماء بعیداالخ حتی جزم بذلک ومرّض ھذا وجعلہ قولا اٰخر مع انہ لاتفاوت الا فی اللفظ۔
اقول:  پتا نہیں ان کے کلام ''یہ اُس وقت ہے جب پانی دُور ہو الخ اور اس کلام میں فرق کیا ہے کہ انہوں نے اُس پر تو جزم کیااور قیل(کہا گیا)سے اس کی تمریض وتضعیف کی اور اسے ایک الگ قول بنادیا جب کہ دونوں میں سوائے الفاظ کے کوئی تفاوت نہیں۔ (ت)
اقول:(۱) وقد تقدم نص الخلاصۃوتقریر  الائمۃالجلۃ ان الظن والیقین فی ذلک سواء لا یجب علیہ التأخیر  وان تیقن بوجدان الماء فی اٰخر الوقت وتلک النادرۃ حیث اوجبت فی الظن فالیقین اولٰی فقدظھر ان الواقع من المحامل الاربعۃ ھو الثانی وان کان ابعد بالنظر الٰی ظاھر العبارۃاما قول النادرۃ غالب الرأی کالمتحقق قلنانعم ولوکان متحققالم یؤثر لانہ انما تیقن انہ سیقرب لاانہ قریب وبھذا یعوِزُ الاشکالُ علی تعلیل الھدایۃ لظاھر الروایۃ۔
اقول: خلاصہ کی عبارت اور بزرگ ائمہ کی تقریرپہلے گزر چکی کہ ظن ویقین اس بارے میں یکساں ہیں۔ اس پر نماز مؤخر کرناواجب نہیں اگرچہ آخر وقت میں پانی ملنے کایقین ہو اور اس روایت نادرہ نے جب ظن کی صورت میں واجب کیاتو یقین تو اس سے بڑھا ہُوا ہے۔اس سے واضح ہوا کہ امام بخاری کے پیش کردہ چاروں محملوں میں سے واقع محمل دوم ہے اگرچہ ظاہر عبارت کے لحاظ سے بعید تر معلوم ہوتا ہے اب رہا روایت نادرہ سے متعلق یہ قول کہ غالب رائے متحقق کی طرح ہے۔ ہم کہتے ہیں ہاں اور اگر یہ یقینی ومتحقق ہو جب بھی مؤثر نہیں اس لئے کہ اسے صرف اسی بات کا یقین ہُواکہ آئندہ وہ قریب ہوگا، اس کا نہیں کہ وہ قریب ہے۔ اسی سے ظاہر الروایہ سے متعلق ہدایہ کی تعلیل پر پیش آنے والا اشکال ختم ہوجاتا ہے۔ (ت)
اقول:  وایضا یمکن حملہ علی المحمل الرابع فان من جھل المسافۃجازلہ التیمم فی المفاوز وان کان یرجو الوصول الیہ فی اٰخر الوقت کماقدمناہ اٰنفا عن البدائع وذلک لان المانع عن التیمم ھو قرب الماء یقینا اوظنا غالبا وقد انتفیا والجواب عن دلیل النادرۃ والاشکالُ علی تعلیل الھدایۃ کماکان لان ھھنا ایضا یباح لہ التیمم وان تیقن الوصول الیہ فی اٰخرالوقت کما اسلفنا تقریرہ تحت عبارۃ البدائع المذکورۃ الٰی ھھنا ظھرانحلال الاشکال عن الحکم واستبان الفرق بین مسألتی الرجاء وظن القرب۔
اقول:  اسے محمل چہارم پر بھی محمول کیاجاسکتا ہے۔ اس لئے کہ جو مسافت سے ناواقف ہو اس کیلئے بیابانوں میں تیمم جائز ہے اگرچہ امید رکھتا ہو کہ آخر وقت میں پانی تک پہنچ جائے گا،اسے بدائع کے حوالہ سے ہم ابھی پیش کر آئے اس کی وجہ یہ ہے کہ تیمم سے مانع پانی کا قریب ہونا ہے بطور یقین یا بطور ظن غالب اور یہ دونوں ہی امر یہاں مفقود ہیں۔ اور روایت نادرہ کی دلیل کا جواب اور ہدایہ کی تعلیل پر اشکال جیسے پہلے تھا اب بھی رہے گا۔ اس لئے کہ یہاں بھی تیمم اس کیلئے مباح ہے اگرچہ آخر وقت میں پانی تک پہنچے گااسے یقین ہے جیسا کہ اس کی تقریر  ہم بدائع کی مذکورہ عبارت کے تحت کر آئے  یہاں تک دو باتیں طے ہوگئیں ایک تو حکم پر جو اشکال تھا اس کا حل واضح ہوگیا دوسرے مسئلہ امید اور مسئلہ ظنِ قرب کے درمیان فرق روشن ہوگیا۔ (ت)
اما تعلیل الھدایۃ فاقولالتأویل÷خیر  من التعطیل÷ یمکن ان یؤول بان المراد بالیقین ھو الیقین الفقھی الشامل لغلبۃ الظن فلیس المقصود التفرقۃ ھھنا بین الظن والیقن لماعلمت انھما سواء ھھنا علی کلتا الروایتین وانما المعنی انکار ان یکون لہ اثرھھنا وذلک ان العجز ثابت حقیقۃشرعا لانعدام الماء حقیقۃ وظاھراً لعدم الدلیل علی قربہ ان جھل المسافۃ وقیام الدلیل علی عدمہ ان علم اوظن البعد فلایزول حکمہ الثابت شرعا وھو جواز التیمم الابیقین فقھی مثلہ بان یحصل لہ ظن القرب واذلیس فلیس فانہ لاعبرۃ بظن انہ سیقرب ولاباستیقانہ وانماھذاھوالحاصل فی رجاء الوصول اوتیقنہ دون ظن القرب المانع عن التیمم المعارض للعجزالظاھرفھذا تقریرہ ولیس فی العبارۃ ماینکرہ فوجب الحمل علیہ فقد انحل الاشکال وللّٰہ الحمد عن مسألۃ الرجاء حکما وتعلیلا÷
اب رہا تعلیل ہدایہ کا معاملہ فاقول (تو میں کہتا ہوں) کسی کلام کی تاویل کرنا اسے لغو وبیکار کرنے سے بہتر ہے اس کی یہ تاویل ہوسکتی ہے کہ یقین سے مراد یقین فقہی ہے جو غلبہ ظن کو بھی شامل ہوتا ہے کہ یہاں ظن ویقین کے درمیان فرق کرنا مقصود نہیں اس لئے کہ معلوم ہوچکا کہ یہاں دونوں ہی روایتوں پر ظن ویقین یکساں ہیں مقصود صرف اس بات کا انکار ہے کہ یہاں وہ یقین کچھ اثر انداز ہے وہ اس لئے کہ عجز حقیقۃً ثابت ہے، شرعاً اس لئے کہ پانی حقیقت میں معدوم اور ظاہراً اس لئے کہ مسافت سے ناآشنائی کی صورت میں پانی کے قریب ہونے پر کوئی دلیل نہیں،اور دُوری کا یقین یا ظن غالب ہونے کی صورت میں اس کے عدم پر دلیل موجود ہے۔ تو اس کا حکم جواز تیمم جو شرعاً ثابت تھا زائل نہ ہوگا مگر ایسے یقین فقہی سے جو اسی کے مثل ہو اس طرح کہ اسے قرب کا ظن ہوجائے اور جب یہ نہیں تو وہ بھی نہیں (قرب کا ظن نہیں تو حکم عجز کا زوال یعنی عدم جوازِ تیمم بھی نہیں ۱۲م۔ الف) اس لئے کہ اس کا یہ گمان کا کہ وہ آئندہ قریب ہوجائے گا، کوئی اعتبار نہیں، نہ ہی اس کے یقین ہی کا کوئی اعتبار ہے اور پانی تک پہنچنے کی اُمید میں یہی گمان یا یقین پایا جاتا ہے۔ ہر وقت پانی قریب ہونے کا گمان جو تیمم سے مانع اور عجز ظاہر کا معارض ہے یہ نہیں پایا جاتا یہ اس تعلیل سے متعلق تاویل کی تقریر  ہوئی اور عبارت میں ایسا کوئی لفظ نہیں جو اس تاویل کی تردید کرتا ہو تو کلام کو اسی پر محمول کرنا لازم ہے۔ خدا ہی کیلئے ساری خُوبیاں ہیں اس سے مسئلہ امید کے حکم اور تعلیل دونوں ہی سے متعلق اشکال حل ہوگیا۔ (ت)
اقول:  وتم علی مسألۃ الوعد تفریعا وتاصیلا÷ فمعلوم قطعا بداھۃ ان الوعد لایحصّل وانما یرجّی وقد نقرر فی المذھب ان راجی الماء یجوز لہ التیمم ولایجب علیہ التأخیر  وان زعم الاٰن زاعم ان الوعد محصّل للشیئ فی الحال فقد صادم بداھۃ غیر  مکذوبۃ وای وعد مثل وعد اللّٰہ ورسولہ جل وعلا وصلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم وتلک الجنۃ قدوعدھا المتقون افتراھم دخلوھا الاٰن وتنعما بنعیمھا فی الدنیا وحصلوا الحور والقصور÷ والالبان والخمور÷ والحریر÷ والسریر÷ ھذہ سفسطۃ ظاھرۃ فاذا کان ھذا فی مواعید العباد÷ وبالجملۃ لم یصل فھمی القاصر الی کنہ ھذہ المسألۃ ولم ارمن تکلم فیھا لکشف خافیھا غیر  انہ لیس لنامع نص فی المذھب مجال مقال فالمسألۃ مسلمۃ قطعا لکونھا منصوصا علیھا فی الاصل کماعزاہ لہ فی الخلاصۃ لکن لادلالۃ لھا ولالشیئ مماعلمتُ من من فروع المذھب وتعلیلا تھا علی کون الوعد یثبت قدرۃ مستندۃ بل الذی لاح من الدلیل یقضی باقتصارھا کما علمت فانا استخیر  اللّٰہ تعالٰی فیہ وحاش للّٰہ لااقطع القول بہ ولااجعلہ حکما وانما اقول کماقلت ھذا ماظھر÷ فلیراجع ولیحرر÷ واللّٰہ سبحٰنہ ومولٰنا واٰلہ وصحبہٖ وسلم اٰمین۔
اقول:  اور تفریع وتاصیل کے لحاظ سے مسئلہ وعدہ یہاں پر تمام ہُوا اس لئے کہ قطعاً بداہۃً معلوم ہے کہ وعدہ پانی حاصل نہیں کرادیتا۔پانی حاصل ہونے کی صرف اُمید پیداکرتا ہے۔ اور مذہب میں یہ طے شدہ ہے کہ پانی کی امید رکھنے والے کیلئے تیمم کرلینا جائز ہے اور اس پر نماز مؤخر کرنا واجب نہیں اب اگر کوئی یہ خیال کرے کہ وعدہ فی الحال شیئ کو حاصل کرادےتا ہے تو وہ ناقابل تکذیب بداہت سے تصادم میں مبتلاہے خدائے بزرگ وبرتر اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے وعدے جیسا کون سا وعدہ ہوسکتا ہے اور متقیوں سے اس جنت کا وعدہ ہوا ہے توکیا وہ ابھی جنّت میں داخل ہوگئے اور اس کی آسائشوں کی لذت دنیاہی میں پاگئے اور حُور وقصور، شیر  وشراب، ریشم وتخت سب ابھی حاصل کرلئے یہ کھلا ہوا سفسطہ ہے تو جب یہ اس کے وعدہ کا معاملہ ہے جس سے وعدہ خلافی محال ہے تو بندوں کے وعدوں کا کیا حال ہوگا۔ المختصر میرافہم قاصر اس مسئلہ کی تَہ تک نہ پہنچ سکا نہ ہی کوئی ایسا نظر آتا جس نے اس مسئلہ کا راز سربستہ کھولنے کیلئے اس میں کلام کیا ہو مگر یہ نصّ مذہب ہوتے ہوئے ہمیں مجال کلام نہیں۔مسئلہ تو قطعاً مسلّم ہے کیوں کہ اصل میں اس پر نص موجود ہے جیسا کہ خلاصہ نے اس کا حوالہ دیا لیکن یہ مسئلہ اور مذہب کے جتنے بھی مسائل وجزئیات اور ان کی تعلیلات میرے علم میں آئیں کسی کی کوئی دلالت اس پر نہیں کہ وعدہ سے قدرت مستندہ ثابت ہوتی ہے کہ بلکہ دلیل سے جو کچھ ظاہر ہُوا وہ اسی کا مقتضی ہے کہ اس سے قدرت مقتصرہ ثابت ہوگی جیساکہ (تنبیہ سوم کے شروع میں)معلوم ہوا۔تومیں خداتعالی سے اس بارے میں استخارہ کرتا ہُوں اور خدا ہی کیلئے پاکی ہے،میں اس بارے میں قطعی قول نہیں کرتا،نہ ہی اسے کوئی حکم قرار دیتا۔میں اب بھی وہی کہتا ہوں جو پہلے کہہ چکاکہ یہ وہ ہے کہ جو میرے ذہن میں آیا تو اس کی مراجعت اور تنقیح وتحقیق کی ضرورت ہے اور خدائے پاک وبرتر ہی خُوب جاننے والا ہے۔اور اللہ تعالٰی درود وسلام نازل فرمائے ہمارے آقا ومولٰی اور ان کی آل واصحاب پر الٰہی! قبول فرما۔ (ت)
Flag Counter